03/11/2025
📜 حکومت کا 27ویں آئینی ترمیم لانے کا فیصلہ — بڑی آئینی تبدیلیوں کا عندیہ!
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئین پاکستان میں 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ تیار کر لیا ہے، جس کے ذریعے ملک کے آئینی، انتظامی اور عدالتی ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔
ترمیم کے چند اہم نکات درج ذیل ہیں 👇
1️⃣ آئینی عدالت کا قیام:
مجوزہ ترمیم میں سپریم کورٹ کے آئینی اختیارات کو محدود کر کے ایک علیحدہ آئینی عدالت کے قیام کی تجویز دی گئی ہے، جو صرف آئینی نوعیت کے مقدمات سننے کی مجاز ہوگی۔
2️⃣ ایگزیکٹو مجسٹریٹس کی بحالی:
2001 کے بعد ختم ہونے والا نظام دوبارہ لانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے تحت انتظامی افسران (ACs, DCs) کو عدالتی اختیارات حاصل ہوں گے۔
اس سے عدلیہ اور انتظامیہ کے درمیان اختیارات کی لکیر دوبارہ دھندلی ہو سکتی ہے۔
3️⃣ ججوں کے تبادلے کا نیا نظام:
ججوں کے تبادلوں کے طریقہ کار میں ترمیم کی تجویز ہے تاکہ ہائی کورٹس کے ججوں کو مرکزی اتھارٹی کے ذریعے تبدیل کیا جا سکے — جو عدلیہ کی خودمختاری پر بحث چھیڑ سکتا ہے۔
4️⃣ این ایف سی ایوارڈ میں صوبائی حصے کا خاتمہ:
یہ نکتہ سب سے زیادہ متنازع قرار دیا جا رہا ہے۔ اگر این ایف سی میں صوبوں کے حصے کے تحفظ کی شق ختم کی گئی تو صوبائی حکومتوں کے اختیارات اور مالی خودمختاری متاثر ہو سکتی ہے۔
5️⃣ آرٹیکل 243 میں ترمیم:
یہ آرٹیکل پاک افواج کی کمان سے متعلق ہے۔ ترمیم کی صورت میں سول اور عسکری اختیارات کے توازن میں تبدیلی ممکن ہے۔
6️⃣ تعلیم اور آبادی کے اختیارات وفاق کو واپس:
18ویں ترمیم کے بعد یہ اختیارات صوبوں کو دیے گئے تھے، اب انہیں واپس وفاق کے پاس لانے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سے صوبائی خودمختاری پر ایک بار پھر سوال اٹھ سکتا ہے۔
7️⃣ الیکشن کمیشن کی تقرری میں نیا فارمولا:
وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے درمیان جاری تعطل ختم کرنے کے لیے ایک نیا میکنزم متعارف کرانے کی تجویز ہے تاکہ الیکشن کمیشن کی کارکردگی متاثر نہ ہو۔
یہ تمام تجاویز اگر پارلیمان سے منظور ہو جاتی ہیں تو آئین پاکستان کی روح، اختیارات کی تقسیم، اور وفاق و صوبوں کے تعلقات پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں، صوبائی حکومتیں اور وکلاء برادری اس ترمیمی مجوزہ بل پر کیا مؤقف اختیار کرتی ہیں۔
✍️ رائے دیں: کیا 27ویں آئینی ترمیم پاکستان کے لیے درست سمت ہے یا یہ 18ویں ترمیم کے ثمرات کو ختم کرنے کی کوشش؟