Araria Times

Araria Times Araria Times is an Indian News Portal publish in Urdu Language Owned by Araria Times Pvt.Ltd

   #یوگا  #ریختہ
20/06/2022

#یوگا #ریختہ

یوگ ایک روحانی و جسمانی پریکٹس ہے جو خالص ہندوستان کی پیداوار ہے۔ یہ تصوف کی ایک خاص اصطلاح مراقبہ کے ‌مماثل ہے۔ ہندوستان کی قدیم ترین اور کلاسکی زبان …

27/10/2021

गांव वाले इंतिज़ार में ही रहे

तारण पंचायत के मुखिया मेराज आलम ने रात 11 बजे मेरे चचा तबरेज़ आलम को फ़ोन किया कि कल विधायक Shahnawaz Alam - AIMIM शाहनवाज़ आलम रामरई गांव जायेंगे और दोपहर का खाना वहीं खाएंगे, सुबह सवेरे लोगों को विधायक महोदय जी की आने की लोगों को जानकारी दी गई , बाढ़ प्रभावित लोग और एक सड़क से वंचित गांव के वाले , और दूसरे समसस्याओं से झूझ रहे लोग पुरे दिन गांव के लोग विधायक महोदय और मुखिया मेराज आलम का इंतिज़ार करते रहे लेकिन विधायक महोदय की तरफ से न फ़ोन आया और न विधायक महोदय की तरफ से दौरा रद्द करने की बात बताई गई , बाद में सोशल मीडिया के माध्यम से मालूम हुवा की विधायक जी मझवा गांव से वापस चले गए

कुछ लोग बता रहे हैं कि विधायक महोदय और मुखिया मेराज आलम रास्ते में पानी और कीचड़ होने के कारण रामरई गांव नहीं आए और मझवा गांव से वापस चले गए , जो लोग रास्ते सही न होने के कारण विधायक जी के रामरई गांव दौरा रद्द होने की बात कर रहे हैं , मैं उन लोगों को थोड़ा पीछे इतिहास में ले जा कर बताना चाहता हूँ
1967 से जोकीहाट विधानसभा चुनाव हो रहा है, जोकीहाट के सबसे पहले विधायक नज़मुद्दीन साहिब हैं, 1969 से 1980 तक तीन टर्म लगातार तस्लीमुद्दीन साहिब विधायक रहे , उसके बाद मोईदूर रहमान , फिर तस्लीमुद्दीन और फिर एक टर्म मोईदूर रहमान, उसके बाद तस्लीमुद्दीन और सफराज़ आलम विधायक रहे ,इस बीच एक मंज़र आलम विधायक बने, उसके बाद फिर लगातार तस्लीमुद्दीन परिवार से ही पहले सरफ़राज़ फिर शाहनवाज़ आलम विधायक बनते चले आ रहे हैं ,जोकीहाट विधान सभा सीट पर इनमे से अलग अलग पार्टियों से चार लोग ही विधायक रहे हैं

1967 से 2021 तक कुल 54 साला मुद्दत रहा है , इनमे दो साल विधायक नज़मुद्दीन साहब , 10 साल मोईदूर रहमान और 5 साल मंज़र आलम विधायक रहे , 54 साल में से सिर्फ 17 साल दूसरे विधायक जोकीहाट पर राज किये , बाक़ी तस्लीमुद्दीन और उनके परिवार से 37 साल राज करते आ रहे हैं और रामरई गांव उसी जोकीहाट विधान सभा का हिस्सा रहा है और है लेकिन 17 सालों में नज़मुद्दीन , मोईदूर रहमान और मंज़र आलम की निगाह कभी रामरई पर पड़ी और सब से ज़ियादा राज करने वाले परिवार सुवर्गीय तस्लीमुद्दीन साहब परिवार ने कभी गांव विकास की नज़र से देखा , हालांकि गांव वालों ने हमेशा सुवर्गीय तस्लीमुद्दीन साहब और उनके बेटों को ही वोट किया है,

37 सालों एक बार भी गांव को विकास की नज़र से देखते और सड़कें बनवा देते तो आज विधायक महोदय मोटर साईकिल या चार चक्के से आने में कोई परेशानी नहीं होती ,
याद रहे कि इसमें सिर्फ सुवर्गीय तस्लीमुद्दीन साहब और उनके बेटों विधायक पीरियड के बारे में हैं हालांकि इस परिवार के संसदीय क्षेत्र में भी रामरई गांव रहा है , जब किशनगंज से सांसद होते तो ये गांव किशनगंज में था अब ये अररिया संसदीय क्षेत्र में है
आप को बता दें कि तारण पंचायत के रामरई के तीन तरफ से बकरा नदी है और एक तरफ से नदी नहीं है , उसी तरफ से गांव से निकलने का रास्ता है लेकिन कई सालों से टूटी हुइ कच्ची सड़क है , बाढ़ के दिनों में उस रास्ते पर छाती भर और हेला पानी रहता है , बाढ़ के दिनों में पैदल भी नहीं आना जाना कर सकते है , मोटर साईकिल और चार चक्के की बात ही करना ही छोड़ दीजिए ,गांव के लोग जान हथेली पर रख कर भंगिया की तरफ से नाव से आवाजाही करते हैं, नाव भी तीन साल पुराना है , प्रतिनिधियों की तरफ से न सड़क बन पाती है और न नाव मिलता है,

लेखक: राशिदुल इस्लाम

Intekhab Hasir Ashique Warsi Arif Equbal Shamsuzzaman Shamsuzzaman Ausaf Hasir Sharique Saim Badrul Hasan Akhtarul Iman Asaduddin Owaisi

20/10/2021


وائرل ویڈیو پر چندباتیں

راشدالاسلام

سوشل میڈیا پراکثروبیشترکئی ویڈیوز، آڈیو اورتصاویروائرل ہوجاتے ہیں جس سے سوشل سائٹس پر تہلکہ مچ جاتا ہے۔ کئی لوگوں کی زندگی ان سے متاثر ہوتی اورکئی بار بھروسہ بھی ٹوٹ جاتاہے۔پچھلے کچھ دنوں سے سوشل میڈیاپرایک ویڈیوتیزی سے وائرل ہورہاہے۔فیس بک پر ویڈیو کی اسکرین شاٹ اورواٹس ایپ پرویڈیوشیئر کئے جارہے ہیں۔دراصل ویڈیو میں غیرشادی شدہ جوڑے مباشرت کرتے نظرآرہے ہیں،سوشل میڈیا صارفین ویڈیو اور اسکرین شارٹ فیس بک شیئرکرنے کے ساتھ ساتھ تنقید بھی کر رہے ہیں۔بتایا جارہاہے کہ لڑکی اورلڑکے کا مذہب الگ الگ ہے۔

زناآپسی رضامندی سے ہو یا زبردستی سے دونوں ہی صورتیں ایک مہذب سماج میں ناقابل برداشت ہے۔وائرل ویڈیومیں جوڑے کی حرکت رضامندی سے ہے یازبردستی، یاکسی چیزکی لالچ و دیگر جھانسیں سے،یہ جانچ کے بعد ہی پتہ چلے گا۔آپ کوبتادیں کہ وائرل ویڈیوپرایف آئی آرہوئی ہے یانہیں،مجھے اس کی جانکاری نہیں ہے۔

یہ سچ ہے کہ زانی وزانیہ دونوں سخت سزاکے مرتکب ہیں۔قابل افسوس بات یہ بھی ہے کہ زناکرتے وقت جوڑے اپنی گندی حرکت کی ویڈیو بنائے ہیں۔اتناہی نہیں،لڑکا یالڑکی میں سے کسی نے اپنے دوستوں میں ویڈیوکووائرل بھی کردیا اوریہ ویڈیوسوشل میڈیا پرتیزی وائرل ہورہاہے۔فیس بک صارفین کے مطابق، وائرل ویڈیو ارریہ شہرمیں واقع ایک پرائیوٹ اسکول کے ٹیچر اورزیرتعلیم طالبہ کابتایاجارہاہے۔راقم الحروف زانی وزانیہ اوروائرل ویڈیوکی تصدیق نہیں کرتاہے۔قابل توجہ بات یہ لڑکے اورلڑکی نے جسمانی تعلقات بنائے اور سب سے بڑی غلطی یہ کہ دونوں نے اپنی بدفعلی کی ویڈیوبھی بنائی اوراسے وائرل کردیا۔

انسان (مردوخواتین) غلطیوں سے مرکب ہے۔ہرانسان کی ایک پرائیویسی ہوتی ہے۔کسی کی پرائیویسی پر کسی انسان کو دخل نہیں دیناچاہئے۔لیکن یہ تبھی ممکن ہوگا جب کوئی اپنی پرائیویسی اجاگرنہ کرے۔اگرآپ خود اپنی ذاتی زندگی کودوسروں سامنے یا پرپبلک پلیٹ فارم اجاگرکریں گے تو دوسرے لوگ تاک جھانک ضرورکریں گے اور اپنی رائے بھی دیں گے۔

قارئین! ایک بڑی غلطی توجوڑے کی ہے،اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑی غلطی یہ ہے کہ سوشل میڈیا صارفین جوڑے کی عیب کو چھپانے اور پردہ ڈالنے کے بجائے ویڈیوکوشیئر کررہے ہیں۔اتناہی نہیں، لڑکی کی پہچان کی نشاندہی بھی کررہے ہیں کہ فلاں اسکول کی، فلاں جگہ، فلاں گاؤں، فلاں کی بیٹی، فلاں سوشل میڈیا پرفلاں ڈکاں نام سے پروفائل وچینل وغیرہ وغیرہ۔

ہونا تویہ چاہئے تھا کہ جس کوبھی پہلے پہلے ویڈیوہاتھ لگی وہ شخص ویڈیووائرل نہیں کرتے بلکہ وہ بندہ خود لڑکے اورلڑکی کے والدین یا اسکول کے ڈائریکٹر سے شکایت کرتے،سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے، پولس انتظامیہ سے شکایت کرتے۔لیکن ایسانہیں کیا۔بلکہ سوشل میڈیا پروائرل کرکے اپنے آپ کو بڑاہیرو سمجھنے لگ گئے۔کیا آپ کومعلوم نہیں ہے کہ سب سے بڑا انسان دوست وہ شخص ہوتاہے جو دوسروں کی عیبوں کوچھپاتا ہے اوراچھائیوں کواجاگرکرتاہے۔

زانی وزانیہ جوڑے اپنے گناہوں کے مرتکب توہیں ہی، لیکن اس سے بڑاگناہ کامرتکب سوشل میڈیا پرویڈیووائرل کرنے والے لوگ ہیں۔لڑکے اورلڑکی کی ایک غلطی کہ دونوں نے ناجائز جسمانی تعلقات بنانے کے ساتھ ساتھ اپنی گندی عمل کی ویڈیوبنائی اوروائرل کردیا۔اس سے بھی بڑی غلطی ان لوگوں کی جن جن لوگوں نے ویڈیوکوسوشل میڈیا پروائرل کیا۔

ویڈیووائرل کرنے والے صاحبان ذراغورکیجئے۔کیا کبھی سوچا ویڈیووائرل کرنے سے اس لڑکی پرکیا گذرے گی؟۔وہ لڑکی توخوداپنی کرتوت پرشرمندہ ہوگی۔لیکن ویڈیووائرل ہونے سے کس صدمے میں ہوگی؟کتنی ذہنی مشکلات میں سسک رہی ہوگی؟۔کیاکبھی آپ نے سوچا کہ پرائیویسی وائرل ہونے،آپ کے شیئرکرنے کوئی سخت قدم اٹھاسکتی ہے؟۔کوئی غلط قدم اٹھایا تواس کا ذمہ دارکون ہوگا؟۔
اگرکسی سے جانے اور انجانے میں پرائیویٹ ویڈیو یا کوئی پرائیویٹ چیز وائرل ہوجائے تو کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ پرائیویٹ ویڈیو اورتصاویروغیرہ کووائرل کرے۔ ہرگز نہیں، ہرگزنہیں آپ کو اختیارنہیں ہے۔
اگرآپ کے ذرائع ابلاغ بہت وسیع وکشادہ ہے توبہترہوتا کہ آپ لڑکی کے اہل خانہ سے ملتے، ان کے خاص لوگوں سے، سماج کے چند سرکردہ شخصیات سے مل کر لڑکے اورلڑکی پر سخت کارروائی کرواتے اورجوڑے کوتنبیہ کرتے۔ اگر ان کے والدین وائرل ویڈیومیں اپنے لڑکی کے ہونے یا ہونے پر کوئی ایکشن نہ لے تو بھی کسی کواختیار نہیں ہے کہ وہ ان کی ویڈیوکوشیئرکرے۔ہاں آپ خفیہ طورپرپولس میں شکایت کرکے ایسے بدکردارجوڑوں پر کارروائی کامطالبہ ضرورکریں۔ایک کہاوت مشہورہے کہ لڑکا لڑکی راضی تو کیاکرے قاضی، یاوالدین اوردیگرافراد۔اگرلڑکا اورلڑکی رضامندی یا غیررضامندی ناجائزجسمانی تعلقات بناتاہے توبھی کسی کوسوشل میڈیا وپبلک پلیٹ فارم پر تشہیر کرنے کا حق نہیں ہے۔

سوشل میڈیا پر اسکول انتظامیہ پر سوال اٹھایاجارہاہے کہ اسکول انتظامیہ کی عدم توجہی سے طالبہ گندی حرکتیں کررہی ہیں۔اسکول کے ذمہ داروں کواس پر دھیان دیناچاہئے۔مگرسوال یہ بھی ہے کہ بچے اوربچیاں اسکولوں میں محض چھ، سات یا آٹھ گھنٹے رہتی ہیں باقی وقتوں میں اپنے والدین پاس رہتے ہیں۔اسلئے اسکول انتظامیہ سے زیادہ والدین کواپنے بچے اوربچیوں کے نقل وحرکت توجہ دینا چاہئے۔ دوسری بات اسکول کے ذمہ داروں کو سو، دوسو، تین سو، چارسو یا اسے زیادہ بچوں کو سنبھالنا ہوتاہے جبکہ والدین کوایک، دو، تین یا اس سے کچھ زیادہ بچوں کی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔جب خود والدین دو، تین بچوں پرنظرنہیں رکھ سکتے ہیں توصرف اسکول انتظامیہ پرہی سوال کیوں؟

قابل توجہ بات یہ ہے کہ زنا بالجبر ہو یا زنابالرضا،دونوں صورتوں میں حرام اورگناہ کبیرہ ہے۔کسی بھی سماج میں زناکی اجازت نہیں ہے۔سماج میں زناکاری کی روک تھام اورلچّوں لفنگوں (مردوخواتین) پرلگام کسنے کیلئے پہلے سماج کے لوگوں اورپولس انتظامیہ کوآگے آناہوگا۔خاص طورپر والدین کواپنے بچوں پرسخت نظررکھنے ہوں گے۔

ناجائز تعلقات بنانے والے ایک ہی مذہب کے ہوں یا الگ الگ۔اس کا احتساب خود سے کرنا ہوگا کہ ہم اپنے بچے اوربچیوں کوکیسا ماحول میں رہنے دے رہے ہیں؟ کیسے ماحول میں جانے دے رہے ہیں؟۔اہم بات یہ بھی ہے کہ آج کل مذہبی علم ہونے کے باوجود کچھ بچے اور اوربچیاں خلاف توقع قدم اٹھالیتے ہیں، جس پروالدین پرحیران وپریشان ہیں۔

سوشل میڈیا پروائرل ویڈیوکے تعلق سے یہ چند باتیں بطورمشورہ فیس بک شیئرکیاہوں۔فیس بک اور واٹس ایپ صارفین سے اپیل ہے کہ کسی کی بھی پرائیویسی کوشیئرنہ کریں۔ بلکہ خفیہ طورپران کے گارجین یا پولس انتظامیہ یاکسی این جی اوز میں شکایت درج کراکے سخت کارروائی کا مطالبہ کریں۔

راشدالاسلام
9810863428

18/10/2021

رپورٹ: نشانت سکسینہ ترجمہ: محمد علی نعیم ڈبلیو ایچ او نے کوویڈ پر قابو پانے کے لیے کلائمیٹ سے متعلق دس اقدامات کا اعلان کیا ، گلوبل ہیلتھ ٹاسک فورس …

18/10/2021

حضورصلی اللہ علیہ وسلم کاعہدطفولیت نبی اکرم شفیع اعظم حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کاشجرہ اطہرباتفاق مفسرین ومحدثین ومورخین یہ ہے۔ حضرت محمدصلی علیہ وسلم بن عبداللہ...

18/10/2021

سب ہی جانتے ہیں اورجانناہی چاہئے،جنھوں نے جان لیاوہ خوش نصیب ٹھہرے اورجنھوں نے نہیں جانا”بدنصیب“ ہی کہلائے، ہم سب کے نبی،پوری کائنات کے نبی،اجنہ اورفرشتوں کے نبی س...

11/10/2021

”2050 تک فطرت سے ہم آہنگ زندگی“ کے ہدف کو لیکر آگے بڑھے گی کل سے چین میں شروع ہونے والی ورچوئل بائیو ڈائیورسٹی جنرل کانفرنس رپورٹ: ڈاکٹر سیما جاوید …

Address

Bairgachhi Chowk
Araria
854311

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Araria Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Araria Times:

Share