26/01/2026
بھارت کی آئین سازی میں علماء، جمعیت علماء ہند اور مسلم اراکینِ اسمبلی کا کردار
(دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مؤرخین کی روشنی میں)
مولانا مہدی حسن عینی قاسمی
انڈیا اسلامک اکیڈمی دیوبند
بھارت کا آئین محض قانونی دستاویز نہیں بلکہ مختلف مذاہب اور قومیتوں کے باہمی اعتماد کا معاہدہ ہے،اس کی تشکیل میں جہاں سیاسی قائدین کا کردار نمایاں ہے، وہیں مسلم علماء، جمعیت علماء ہند اور دیگر مسلم اراکینِ دستور ساز اسمبلی کی مدلل جدوجہد کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتادستور ساز اسمبلی کی کارروائیاں (Constituent Assembly Debates) اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ مذہبی آزادی، اقلیتوں کے حقوق اور سیکولر ریاست کا تصور مسلسل مسلم نمائندوں کے اصرار سے آئین کا حصہ بنا۔
سب سے پہلے مذہبی آزادی کے مسئلے کو لیا جائے تو مولانا حسرت موہانی نے واضح الفاظ میں کہا کہ ریاست کو شہری کے مذہب میں مداخلت کا کوئی اختیار نہیں ہونا چاہیے۔
حوالہ: CAD, Vol. 7, 6 December 1948
اس مطالبے کی اہمیت پر گرانوِل آسٹن لکھتے ہیں:
> “The insistence of minority members ensured that freedom of religion became a fundamental right.”
حوالہ: Granville Austin, The Indian Constitution: Cornerstone of a Nation, p. 65
اقلیتوں کے تعلیمی و مذہبی اداروں کے تحفظ پر مولانا محمد اسماعیل صدیقی نے کہا کہ مذہبی آزادی اسی وقت بامعنی ہوگی جب اقلیتوں کو اپنے ادارے قائم رکھنے اور چلانے کا حق ہوگا۔
حوالہ: CAD, Vol. 7, 8 December 1948
اسی نکتے پر ایچ۔ ایم۔ سیروائی لکھتے ہیں:
“Articles 29 and 30 are the result of sustained advocacy by minority representatives.”
حوالہ: H.M. Seervai, Constitutional Law of India, Vol. 1, p. 314
مسلم پرسنل لا کے تحفظ پر مولانا تجمل حسین نے واضح کیا کہ مذہبی قوانین میں ریاستی مداخلت مذہبی آزادی کے منافی ہوگی۔
حوالہ: CAD, Vol. 7, 23 November 1948
بی۔ شِوا راو لکھتے ہیں:
> “The debates clearly show anxiety of Muslim members to safeguard personal law.”
حوالہ: B. Shiva Rao, The Framing of India’s Constitution, Vol. 2, p. 451
اسی تناظر میں مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہارویؒ نے فرمایا کہ اسلام مسلمانوں کو وطن سے وفاداری سکھاتا ہے،بشرطیکہ مذہبی آزادی محفوظ رہے، اور اگر آئین یہ ضمانت دے تو مسلمان پورے اطمینان سے اسے قبول کریں گے۔
حوالہ: CAD, Vol. 7, 2 December 1948
مساوات کے اصول پر بیگم اعزاز رسول نے کہا کہ کسی شہری کو مذہب کی بنیاد پر کمتر یا برتر قرار دینا جمہوریت کی روح کے خلاف ہے۔
حوالہ: CAD, Vol. 3, 30 April 1947
ڈی۔ ڈی۔ باسو لکھتے ہیں:
“Equality irrespective of religion was shaped by minority intervention in debates.”
حوالہ: D.D. Basu, Introduction to the Constitution of India, p. 112
*ریاست کے سیکولر کردار پر مولانا حسرت موہانی نے کہا کہ ہندوستان کسی ایک مذہب کی ریاست نہیں ہو سکتا بلکہ سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔
حوالہ: CAD, Vol. 1, 15 November 1946
اس پر گرانوِل آسٹن لکھتے ہیں:
“Secularism in India emerged from the fear of religious domination voiced by minorities.”
حوالہ: Granville Austin, Working a Democratic Constitution, p. 39
یہی مولانا حسرت موہانی تھے جنہوں نے سب سے پہلے ہندوستان کو جمہوریہ (Republic) قرار دینے کی تجویز دی۔
حوالہ: CAD, Vol. 1, 15 November 1946
حوالہ: Granville Austin, The Indian Constitution: Cornerstone of a Nation, p. 53
مزید مسلم اراکین میں ڈاکٹر سید محمود نے کہا کہ اگر آئین میں اقلیتوں کے حقوق کو واضح طور پر محفوظ نہ کیا گیا تو جمہوری نظام کمزور ہو جائے گا،حوالہ: CAD, Vol. 7, 5 December 1948
شیخ عبداللہ (کشمیر) نے کہا کہ مذہبی آزادی اور علاقائی خود مختاری کے بغیر اتحاد محض ایک نعرہ ہوگا۔
حوالہ: CAD, Vol. 10, 17 October 1949
فرینک انتھونی (عیسائی نمائندہ، مگر اقلیتوں کی مشترکہ آواز) کی تائید سے مسلم اراکین کا موقف مضبوط ہوا کہ اقلیتوں کو آئینی ضمانت ضروری ہے۔
حوالہ: CAD, Vol. 7, 8 December 1948
ان عملی کرداروں کے پیچھے دو عظیم علماء کے نظریات بنیادی طور پر کارفرما تھے۔
شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کیا اور کہا:
“فی زمانه قومیں وطن سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں بنتیں۔”
حوالہ: مولانا حسین احمد مدنی، نقشِ حیات، جلد دوم، ص 281
مؤرخ مشیر الحسن لکھتے ہیں:
“Madani’s concept of composite nationalism deeply influenced Muslim participation in constitutional politics.”
حوالہ: Mushirul Hasan, Nationalism and Communal Politics in India, p. 184
اسی طرح مولانا ابوالکلام آزادؒ نے مذہب کی بنیاد پر سیاست کی مخالفت کی اور قومی اتحاد پر زور دیا۔ انہوں نے لکھا:
“If religion is used for politics in India, it will destroy its unity.”
حوالہ: Maulana Abul Kalam Azad, India Wins Freedom, p. 22
گرانوِل آسٹن کے مطابق:
“Azad’s vision of cultural pluralism was reflected in India’s secular Constitution.”
حوالہ: Granville Austin, The Indian Constitution: Cornerstone of a Nation, p. 52
ان تمام موقفوں کے پیچھے جمعیت علماء ہند کی فکری پشت پناہی نمایاں تھی۔ مشیر الحسن لکھتے ہیں:
“The Jamiat Ulama-e-Hind provided ideological support to composite nationalism which later reflected in constitutional secularism.”
حوالہ: Mushirul Hasan, Nationalism and Communal Politics in India, p. 187
دستور ساز اسمبلی کی بحثوں اور مؤرخین کی شہادت سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ بھارت کے آئین میں مذہبی آزادی،اقلیتوں کے تعلیمی و مذہبی حقوق،
مساوات،سیکولر ریاست اور جمہوریہ کا تصورکسی اتفاق کا نتیجہ نہیں بلکہ مولانا حسرت موہانی،مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی،مولانا تجمل حسین،مولانا محمد اسماعیل صدیقی،بیگم اعزاز رسول،ڈاکٹر سید محمود، شیخ عبداللہ اور جمعیت علماء ہند جیسے طبقات کی مسلسل اور مدلل جدوجہد کا حاصل ہے۔یہ کردار محض تاریخی باب نہیں بلکہ آج بھی آئین کی روح کو سمجھنے اور اس کے تحفظ کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے
26/01/2026