04/10/2026
🌿 صبح کی بات 🌿
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
«إِنَّ الْمُسْلِمَ إِذَا أَنْفَقَ عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةً يَحْتَسِبُهَا كَانَتْ لَهُ صَدَقَةً»(الترغیب والترہیب، حدیث 1647)
ترجمہ: بے شک مسلمان جب اپنے گھر والوں پر خرچ کرتا ہے اور اس سے اللہ تعالیٰ کا اجر چاہتا ہے تو وہ خرچ اس کے لیے صدقہ بن جاتا ہے۔
ہم عموماً صدقہ کا مطلب صرف یہ سمجھتے ہیں کہ کسی غریب کو پیسے دے دیے، کسی محتاج کو کھانا کھلا دیا یا کسی ضرورت مند کی مدد کر دی۔ یہ یقیناً صدقہ ہے، لیکن نبی ﷺ نے ہمیں ایک اور خوبصورت بات بتائی کہ اپنے گھر والوں پر حلال کمائی سے خرچ کرنا بھی صدقہ ہے، بشرطیکہ اللہ سے اجر کی نیت ہو۔
آج بعض لوگ باہر والوں پر خرچ کرنے میں تو خوب فراخ دلی دکھاتے ہیں، مگر اپنے ہی گھر والوں کی جائز ضروریات پوری کرتے ہوئے بوجھ محسوس کرتے ہیں۔ بیوی، بچوں، والدین اور زیرِ کفالت افراد پر خرچ کرنا کوئی معمولی خرچ نہیں؛ صحیح نیت کے ساتھ یہی خرچ عبادت بن سکتا ہے۔
اس لیے گھر کا راشن، بچوں کی ضروریات، بیوی کے جائز اخراجات، والدین کی خدمت ان سب کو صرف دنیاوی خرچ نہ سمجھیں۔ حلال کمائیں، اپنے گھر والوں پر خرچ کریں اور نیت کریں کہ میں اللہ کی رضا کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کر رہا ہوں۔
🌸 آج کا سبق:
اپنے گھر والوں پر خرچ کرتے وقت نیت درست کریں؛ یہی روزمرہ کا خرچ آپ کے لیے صدقہ بن سکتا ہے۔
🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں حلال رزق عطا فرمائے، اپنے اہل و عیال کے حقوق ادا کرنے کی توفیق دے اور ہماری ہر جائز کوشش کو صدقۂ جاریہ اور باعثِ اجر بنائے۔ آمین۔