08/02/2026
*ایک انتہائی سبق آموز کہانی...!* 💔
*راستے سے گزرتے ایک بوڑھے آدمی کی ایک نوجوان سے تو تکرار ہو گئی.....*
تھوڑی دیر بحث مباحثہ کے بعد نوجوان وہاں سے چلا گیا ، بوڑھے آدمی کا غصہ اب بھی اپنی جگہ قائم تھا ۔ وہ کسی طرح اس سے اس لڑائی کا بدلہ لینا چاہتا تھا ۔ جسمانی طور پر کمزور ہونے کی وجہ سے وہ نوجوان سے مار پیٹ تو نہیں کر سکتا تھا لیکن اس نے اسکا ایک اور حل نکالا ۔۔۔
بوڑھے نے نوجوان کے بارے میں "افواہ" پھیلانا شروع کر دی کہ وہ "چور" ہے ۔ وہ ہر رہگزر سے یہی بات کرتا ۔ ۔ ۔ کئی لوگ اسکی بات کو ان سنا کرتے لیکن چند لوگ یقین بھی کر لیتے تھے ۔ کچھ دن گزرے تو پاس کے علاقے میں کسی کی چوری ہو گئی ۔ لوگوں کے دلوں میں بوڑھے نے پہلے ہی نوجوان کے خلاف شک ڈال دیا تھا ۔ چوری کے الزام میں نوجوان کو پکڑ لیا گیا ۔ ۔ لیکن چند ہی دنوں میں اصل چور کا پتا لگنے پر اسے کو رہائی مل گئی ۔ ۔
رہا ہوتے ہی اس نے علاقے کے سردار سے بوڑھے آدمی کی شکایت کی جس کی بنا پہ بوڑھے کو پنچائیت میں بلایا گیا ۔ ۔ ۔ بوڑھے نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے صفائی پیش کی ۔۔ سردار نے بوڑھے کو حکم دیا کہ اس نے جو جو افواہ نوجوان کے بارے میں پھیلائی ہے ۔ ۔ وہ سب ایک کاغذ پہ لکھے اور پھر اس کاغذ کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کر کے چوراہے میں جا کے ہوا میں اڑا دے ۔ ۔ اگلے دن بوڑھے کی قسمت کا فیصلہ ہونا تھا ۔۔
بوڑھا سر دار کا حکم بجا لیا ۔ ۔ کاغذ پہ سب کچھ لکھا اور اس کے ٹکڑے ہوا میں اڑا دیے ۔ اگلے دن جب پنچائیت لگی ۔۔ سبھی لوگ جمع ہوئے ۔ بوڑھے نے رحم کی استدعا کی ۔ ۔ سردار نے کہا کہ اگر وہ سزا سے بچنا چاہتا ہے تو کاغذ کے وہ سارے ٹکڑے جمع کر کے لائے جو کل اس نے ہوا میں اڑا دیے تھے ۔ بوڑھا پریشان ہو کے بولا کہ یہ تو نا ممکن سی بات ہے
سردار نے جواب دیا کہ تم نے نوجوان کے بارے میں اسی طرح ہوا میں "افواہ" پھیلائی ۔ ۔ تمہیں خود بھی اندازہ نہیں ہے کہ تمہاری یہ "افواہ " کہاں کہاں تک پہنچی ہوگی ۔ ۔ ۔ اگر تم کاغذ کے ٹکڑے واپس نہیں لا سکتے تو وہ "افواہ " کیسے واپس لاؤ گے جس کی وجہ سے نوجوان بدنام ہوا ہے ۔ بوڑھے نے ندامت سے سر جھکا لیا۔۔۔
یہ انگریزی زبان کا ایک چھوٹا سا قصہ ہے ۔ جس میں سمجھداروں کے لیے ایک بہت بڑا سبق موجود ہے ۔
کئی بار ہم بنا تصدیق کے لوگوں کے بارے میں "افواہیں " پھیلانا شروع کر دیتے ہیں ۔ ہماری بنا سوچے سمجھے کی گئی چھوٹی سے بات کسی اور کی زندگی پر کتنا اثر انداز ہو سکتی ہے اسکا شائد ہمیں اندازہ بھی نہیں ہے ۔
اس لیے منہ کھولنے سے پہلے تصدیق بہت ضروری ہے
منقول