21/08/2025
مدرسہ بورڈ کی سو سالہ تقریب: تعلیم کا جشن یا سیاست کا کھیل؟
پٹنہ (نمائندہ خصوصی):
بہار اسٹیٹ مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی سو سالہ تقریب، جسے تعلیمی تاریخ کا ایک روشن باب ہونا چاہیے تھا، چیئرمین سلیم پرویز کی بدانتظامی اور سیاسی کھیل تماشے کی وجہ سے تنازع کا شکار ہو گئی۔
بدانتظامی اور افرا تفری
وزیرِاعلیٰ نتیش کمار کی موجودگی میں سامعین نے ہنگامہ کھڑا کر دیا، جس سے تقریب کا پورا ماحول بگڑ گیا۔ یہ بدنظمی اس بات کا ثبوت تھی کہ تقریب کی تیاری میں سنجیدگی اور منصوبہ بندی کا فقدان تھا۔ شرکاء کے مطابق چیئرمین سلیم پرویز نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی۔
دہرا کھیل: مدرسہ تقریب یا الپسنکھیک سمواد؟
یہ بھی انکشاف ہوا کہ جس تقریب کو عوامی طور پر "مدرسہ بورڈ کی سو سالہ تقریب" بتایا گیا، درحقیقت اسے جے ڈی یو کا "الپسنکھیک سمواد" قرار دیا گیا۔
مسلمانوں کو لالچ دیا گیا کہ مدارس کے مسائل حل ہوں گے، جبکہ پارٹی کے اراکین کو یقین دلایا گیا کہ یہ جے ڈی یو کا سیاسی پروگرام ہے۔ اس تضاد نے چیئرمین سلیم پرویز کے دہرے چہرے کو سب کے سامنے عیاں کر دیا۔
ٹوپی تنازع: نتیش کمار اور زماں خاں
تقریب کا سب سے متنازع لمحہ اُس وقت آیا جب وزیرِاعلیٰ نتیش کمار کو ٹوپی پہنائی گئی۔
انہوں نے خود پہننے سے انکار کرتے ہوئے وہ ٹوپی اپنے اقلیتی فلاح کے وزیر زماں خاں کو پہنا دی۔
یہ منظر دیکھ کر حاضرین میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں:
کیا یہ مسلمانوں کے جذبات سے بے اعتنائی تھی؟ یا محض ایک سیاسی مصلحت؟
زماں خاں کا کردار
زماں خاں بہار کے اقلیتی فلاح کے وزیر ہیں اور جے ڈی یو کے سینئر رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ سیوان ضلع سے تعلق رکھتے ہیں اور اقلیتی اسکیموں و مدارس کے حوالے سے وزارت کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔
ناقدین کے مطابق، اکثر مواقع پر وہ پارٹی لائن سے ہٹ کر کوئی موقف اختیار نہیں کرتے۔
تقریب میں ان کا ٹوپی پہننا بھی کئی مبصرین کے نزدیک اس بات کی علامت ہے کہ انہیں صرف نمائشی کردار دینے کے لیے آگے کیا گیا۔
عوامی ردعمل اور سوالات
سماجی و سیاسی حلقوں نے اس تقریب پر شدید ردعمل ظاہر کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ:
سو سالہ تقریب کو سیاسی مفاد کے لیے استعمال کیا گیا۔
مدارس کے مسائل پسِ پشت ڈال دیے گئے۔
چیئرمین سلیم پرویز کی نااہلی اور دہرا رویہ کھل کر سامنے آ گیا۔
🔎 نتیجہ
یہ تقریب، جو تعلیمی ورثے کو اجاگر کرنے اور مدارس کی خدمات کو سراہنے کے لیے ہونی چاہیے تھی، بدانتظامی، سیاسی چالوں اور نمائشی کرداروں کی نذر ہو گئی۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا مدرسہ بورڈ واقعی تعلیم کی خدمت کے لیے ہے یا محض سیاسی مفادات کا آلہ کار بن گیا ہے؟
📰 خصوصی کالم بشکریہ چیٹ جی پی ٹی