25/12/2025
کلانترا کنڈی ایک عظیم، ہمدرد اور باکردار شخصیت سے محروم
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُونَ
کنڈی کلانترا پایین، بارہمولہ آج ایک عظیم بیٹے، ایک مخلص خادمِ خلق اور ایک بے مثال انسان کی جدائی پر سراپا سوگ ہے۔ مرحوم ظہور احمد وانی صاحب کے انتقال نے نہ صرف ان کے اہلِ خانہ بلکہ کلانترا مارکیٹ، اطراف و اکناف کے دیہات اور پورے علاقے کو گہرے رنج و غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ ان کے بچھڑنے پر پورا علاقہ اشکبار ہے اور ہر دل غم سے بوجھل ہے۔
مرحوم کو شدید برین اسٹروک لاحق ہوا۔ ڈاکٹروں نے انہیں بچانے کی بھرپور اور انتھک کوشش کی، مگر زندگی و موت کا فیصلہ اللہ ربّ العزت کے ہاتھ میں ہے۔ بالآخر یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت تھی کہ وہ اس دارِ فانی سے رخصت ہو کر اپنے خالقِ حقیقی کے حضور حاضر ہو جائیں۔ ہم اس فیصلۂ الٰہی پر صبر، رضا اور تسلیم کا اظہار کرتے ہیں۔
اگرچہ مرحوم عمر کے اعتبار سے جوان تھے، مگر فہم و فراست، سنجیدگی، وقار اور سماجی شعور میں غیر معمولی مقام رکھتے تھے۔ وہ دو کمسن بچوں کے شفیق والد تھے، جن کے سروں سے شفقت کا سایہ اٹھ جانا اہلِ خانہ کے لیے نہایت دلخراش سانحہ ہے۔
پیشے کے لحاظ سے مرحوم میڈیکل شعبے سے وابستہ تھے اور علاقے میں SP Medicate کے نام سے مشہور تھے۔ تاہم وہ محض ایک دکاندار نہیں بلکہ انسانیت کے سچے خادم تھے۔ انہیں بیماریوں کی تشخیص کا بہترین فہم حاصل تھا، جس کے باعث بے شمار لوگ ڈاکٹروں کے پاس جانے کے بجائے ان کے مشوروں اور ادویات پر مکمل اعتماد کرتے تھے۔ وہ چوبیس گھنٹے عوام کی خدمت کے لیے دستیاب رہتے؛ دن ہو یا رات، مریض کی کال پر فوراً حاضر ہوتے اور دوا کے ساتھ ساتھ دلاسہ، رہنمائی اور اطمینان بھی فراہم کرتے تھے۔ خاص طور پر خواتین اور بزرگوں میں یہ یقین عام تھا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی باتوں میں شفا اور حکمت رکھی ہے۔
مرحوم کلانترا مارکیٹ کی پہچان اور روح سمجھے جاتے تھے۔ ان کی موجودگی ایک روشن چراغ کی مانند تھی جو ہر ایک کے لیے رہنمائی کا ذریعہ بنتی تھی۔ وہ سماجی، خاندانی اور معاشرتی معاملات میں لوگوں کو مشورہ دیتے، بگڑتے ہوئے رشتوں کو جوڑنے اور اختلافات کو سلجھانے کی ہمیشہ کوشش کرتے تھے۔ اخلاقیات، تعلیم، اتحاد، تعمیر و ترقی اور بہتری ان کی گفتگو کا مستقل موضوع رہتا تھا۔
مرحوم نہایت دین دار، خدا ترس اور بااخلاق انسان تھے۔ انہیں دینی تعلیم سے گہرا شغف تھا اور مفتیانِ کرام و ائمۂ مساجد کے ساتھ قریبی روابط رکھتے تھے۔ بالخصوص حضرت مفتی عاشق حسین صاحب—جامع مسجد کے سابق خطیب—کے ساتھ ان کا خصوصی اور قلبی تعلق رہا۔ مرحوم نے اپنی حیات ہی میں حضرت مفتی عاشق حسین صاحب کو اپنی نمازِ جنازہ پڑھانے کی پیشگی وصیت بھی کی تھی، جو ان کے ایمان، تقویٰ اور فکرِ آخرت کا واضح ثبوت ہے۔
یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ مرحوم نے ماضی میں جامع مسجد کلانترا پایین میں دینی خدمات بھی انجام دی تھیں اور عوام کی اخلاقی و روحانی تربیت میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
ظہور احمد وانی صاحب ایک ایسی عظیم شخصیت تھے جن کی پوری زندگی ہمدردی، اخلاص، خدمتِ انسانیت اور خیرخواہی سے عبارت تھی۔ ان کا نرم لہجہ، شفیق انداز، مخلصانہ مشورے اور بے لوث خدمات ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہیں گی، اور ان کا خلا مدتوں پُر نہیں ہو سکے گا۔
ہم مرحوم کے اہلِ خانہ، لواحقین اور تمام سوگواران سے دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہیں اور بارگاہِ الٰہی میں دعا گو ہیں کہ
اللہ تعالیٰ مرحوم کی کامل مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ ترین مقام عطا فرمائے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل، حوصلہ اور استقامت نصیب فرمائے۔
آمین یا ربّ العالمین۔