23/01/2026
ٹیکنالوجی اور جدید جرائم، بنیادی اسباب و محرکات
خطبہ: علامہ یوسف القرضاوی
بیسوی صدی عیسوی میں دنیاۓ انسانیت نے مختلف سائنسی ایکسپریمنٹس اور تجربات کے نتیجہ میں بہت سے جدید علوم و فنون کا انکشاف کیا اور ان کی تعمیر و ترقی کے لیے مسلسل تگ و دو کیا، مثلا سائنس و ٹیکنالوجی کا علم، بیالوجی و خلا نوردی کی معرفت، اطلاعات و مواصلات کا انقلاب، الیكٹرانک نالج اور جینیٹک انجینئرنگ(Genetic Engineering) اور اسی طرح جینوم انسانی (Human Genome) اور کلوننگ (Cloning) کی تازہ ترین تحقيق، یہ سب اس صدی کے حیرت انگیز کارنامے شمار ہوتے ہیں۔
یہ صدی اگرچہ سائنس و ٹیکنالوجی کی دنیا میں کامیاب و بامراد اور قابل مبارک باد ہے لیکن دین و ایمان اور اخلاق و روایات کے باب میں بالکل ناکام ہے اور زوال و انحطاط کی آخری حد کو پہنچ گئی ہے۔ اس صدی میں علم و تحقيق کو ایمان و اخلاق سے الگ کر دیا گیا جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں ایمان و اخلاق کا کوئی شائبہ باقی نہیں رہا، اور انسان دین و ایمان کے بغیر ایک ایسی مادی زندگی جینے لگا جس کا تقاضہ یہ ہے کہ انسان صرف اپنے لیے جئیے دوسروں سے بے رغبت ہو جائے، آج کی فکر کرے مستقبل کو بھول جاۓ، دنیا کی پرواہ کرے اور آخرت سے غافل ہو جائے، اور جب انسان اس طرح زندگی جینے لگا تو دنیا نے بے شمار متنوّع مصائب و آلام اور مختلف درد ناک حادثات و واقعات کا سامنا کیا، اور شاید یہ پہلا موقع ہے جب دنیا اس انداز میں جینے لگی۔
یہ کوئی مخفی بات نہیں، اگر اسی صدی کے زمانۂ ماضی کی ورق گردانی کی جاۓ تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ جب سے لوگوں نے علم کو ایمان و اخلاق سے جدا کیا، تو علم کو برے مقاصد کی انجام دہی کے لیے استعمال کیا گیا، اور اس کی مدد سے ایسے ایسے جوہری و کیمیائی ہتھیار بنائے گئے جن کے سہارے فرعون و ھامان اور قارون صفت موجودہ ظالموں نے کمزوروں کو دبایا اور ستایا اور ان کو اپنا غلام بنایا۔
آج جب ہم ماضی قریب کی تاریخ کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں تاریخ کا ہر ورق خون سے شرابور نظر آتا ہے، کہیں باہمی چپقلش اور خاندانی و قبائلی لڑائیوں کا ذکر ہوتا ہے تو کہیں خونریز انقلابات کا بیان ہوتا ہے، اور کہیں قومی و ملکی سطح پر ایسی تباہ کن جنگوں کا تذکرہ ملتا ہے جس نے سو دو سو نہیں بلکہ بیک وقت کئی لاکھ لوگوں کےخون سے خود کو سیراب کیا، اور اپنی جنگی پیاس بجھائی، کہا جاتا ہے کہ پہلی عالمی جنگ میں ۹۰/ لاکھ اور دوسری عالمی جنگ میں ٦/کروڑ ۱۰/لاکھ لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، یہ صرف دو جنگوں کا اعداد و شمار ہے، جب کہ ان کے علاوہ اور بہت ساری جنگیں ہوئیں تھیں، اور ان میں ۱۷/ کروڑ لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
لہذا ان جنگوں میں جانوں کا جتنا زیادہ نقصان ہوا، ماضی بعید کی کسی جنگ میں بلکہ تمام جنگوں میں وہ جانی نقصان اور خسارہ نہیں ہوا، گرچہ وہ جاہلیت کا زمانہ تھا، جنگ بسوس جو بنو بکر اور بنو تغلب کے درمیان ہوئی اور چالیس سال جاری رہی، لیکن اس میں کچھ سو دو سو جانیں گئیں، اسی طرح قبیلہ داحس و غبراء اور روم و فارس کے مابین جنگیں ہوئیں، لیکن ان میں وہ جانی ضیاع نہیں ہوا جو آج ہو رہا ہے۔ اور اگر ہم اس سے تھوڑا آگے بڑھ کر زمانۂ اسلام کے غزوات و سرایا کا جائزہ لیں اور دور حاضر کی جنگوں سے اس کا موازنہ کریں تو ہمیں معلوم ہوگا کہ آج کی جنگیں جنگیں نہیں بلکہ جنگوں کی شکل میں نسل کشی ہے اور دل میں موجود بغض و کینہ، اور عداوت و نفرت کا عملی مظہر ہے، ہم سب کے پیارے نبی، حبیب خدا جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ۲۷/ غزوات کئے اور ۵۵/ سرایا روانہ فرماۓ، اور ان میں صرف چار سو لوگ شہید و مقتول ہوئے، اور یہ وہ لوگ تھے جو جنگ میں شریک ہوئے اور لڑتے لڑتے اپنی جان گنوا بیٹھے، اور آج کی جنگوں کا یہ حال ہے کہ لڑنے والوں کو مارا ہی جاتا ہے، ان کے ساتھ ساتھ بچوں، بوڑھوں حتی کہ عورتوں کو بھی قتل کیا جاتا ہے، ان کے گھروں اور مسجدوں کو ڈھایا جاتا ہے، ان کے مدارس و مکاتب اور لائبریریوں کو تہس نہس کیا جاتا ہے، اور آہستہ آہستہ پورے ملک کو ویران اور قوم کو تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔
یقینا آج کی جنگوں میں جان و مال کا نقصان بہت زیادہ ہے، اور متعدی بھی ہے، دنیا کے کسی گوشہ اور خطہ میں جب کوئی جنگ چھڑ جاتی ہے تو پوری دنیا اس سے متاثر ہوتی ہے، لیکن گذشتہ زمانوں میں خصوصا زمانۂ اسلام کی جنگوں کا نقصان بہت کم نظر آتا ہے، اور اس کی دو سب سے بڑی وجہ ہے، اور وہ یہ ہے کہ آج کی جنگیں دو خاندان و قبیلہ کے درمیان نہیں ہوتی ہیں بلکہ دو ملک اور قوم کے درمیان ہوتی ہیں، اور پوری دنیا دو حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، اس لیے یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آج کی جنگیں بر اعظم کی سطح پر لڑی جاتی ہیں، اس لیے جنگ کے نقصان کا دائرہ وسیع ہوتا ہے، اور دوسری وجہ یہ ہے کہ آج جب علم کو ایمان و اخلاق سے دور کر دیا گیا تو لوگوں نے دنیا کمانے کی لالچ میں، اور غلط اثر و رسوخ حاصل کرنے کی حرص میں علم کا غلط استعمال کیا، اور ایسے ایٹمی و کیمیائی ہتھیاروں کو ایجاد کیا جو ایک ہی بار میں ہزاروں اور لاکھوں لوگوں کو مار گراتا ہے اور پل بھر میں گھروں کو مسمار اور شہروں کو کھنڈرات میں تبدیل کر دیتا ہے۔
اسی طرح انسان نے جب دین و ایمان سے خود کو آزاد کر لیا، اور اللہ تعالٰی سے پوری طرح بے نیاز ہوگیا، تو اللہ کی زمین میں فساد پھیلایا، اور خود اپنی ذات پر اور اپنے علاوہ دیگر مخلوقات پر خواہ وہ انسان و حیوان ہو یا نباتات و جمادات سب پر ظلم کیا، شیطان کے دام فریب میں آ کر اس نے اپنی ہوس طمع کی تکمیل کے لیے اللہ کی مخلوق کی اس فطرت کو بگاڑنے اور مسخ کرنے کا ارادہ کیا جس پر اللہ تعالٰی نے اپنی مخلوق کو پیدا فرمایا، اور ویسا ہی کیا جیسا کہ شیطان نے اللہ تعالٰی کے حضور دعوٰی کیا تھا، "وَّ لَاُضِلَّنَّہُمۡ وَ لَاُمَنِّیَنَّہُمۡ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُبَتِّکُنَّ اٰذَانَ الۡاَنۡعَامِ وَ لَاٰمُرَنَّہُمۡ فَلَیُغَیِّرُنَّ خَلۡقَ اللّٰہِ ؕ وَ مَنۡ یَّتَّخِذِ الشَّیۡطٰنَ وَلِیًّا مِّنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ فَقَدۡ خَسِرَ خُسۡرَانًا مُّبِیۡنًا" ﴿النساء: ۱۱۹﴾ ترجمہ:- "میں انھیں ضرور گمراہ کروں گا، امیدیں دلاؤں گا، اور انھیں حکم دوں گا تو وہ جانوروں کے کان چیرا کریں گے، اور انھیں حکم دوں گا تو وہ اللہ تعالٰی کی مخلوق کی (خلقت کو) بدل دیں گے، جو شخص اللہ تعالٰی کو نہیں بلکہ شیطان کو دوست بناۓ گا تو وہ یقینا خسارہ میں ہوگا"۔
چنانچہ استنساخ یعنی کلوننگ کی کوشش کی گئی، اور حرص و طمع کی پیاس بجھانے کی غرض سے اللہ کی بے زبان مخلوق کو ظلم و زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ پہلے ہی اللہ نے اسے انسان کے لیے نفع رساں بنایا، ارشاد ربانی ہے، "أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِمَّا عَمِلَتْ أَيْدِينَا أَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مَالِكُونَ ﴿یٰس: ۷۱﴾ وَذَلَّلْنَاهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوبُهُمْ وَمِنْهَا يَأْكُلُونَ ﴿یٰس: ۷۲﴾ وَلَهُمْ فِيهَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ أَفَلَا يَشْكُرُونَ ﴿یٰس: ۷۳﴾ ترجمہ:- کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے اپنی تخلیقی قدرت سے جانوروں کو پیدا کیا پھر انھیں ان کا مالک بنا دیا، اور ان جانوروں کو ان کی خدمت پر مامور کر دیا چنانچہ وہ کچھ کی سواری کرتے ہیں اور کچھ کو کھاتے ہیں، اس کے علاوہ ان جانوروں میں ان کے لیے اور بہت سے فوائد و مشروبات ہیں، کیا وہ (اس بات پر اللہ تعالٰی کا) شکر ادا نہیں کریں گے" اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کی حفاظت واہمیت اور ان کے ساتھ بہتر رویہ اختیار کرنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا، "اتَّقُوا اللهَ في هذه البهائمِ العجَماوات فاركَبُوها صالِحةً، وكُلوها صالِحةً" (رواه أحمد، ١٧٦٢٥) ترجمہ:- بے زبان جانوروں کے بارے میں اللہ سے ڈرو، ان کی سواری کرو جب کہ صحت مند ہوں، اور ان کو کھاؤ جب کہ ذبح کے قابل ہوں" اسی طرح اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جانوروں کے ساتھ بد سلوکی کی نفی کی اور فرمایا، "دخلت امرأة النار في هرة حبستها" (متفق عليه) ترجمہ:- ایک عورت جہنم میں صرف اس لیے داخل ہوئی کیونکہ اس نے ایک بلی کو قید کر لیا تھا۔
پس جب انسان نے فطرت کو بگاڑنے اور تبدیل کرنے کی جد و جہد کی تو نتیجتا ایسی مہلک بیماریاں ظاہر ہوئیں جس کا اس سے پہلے کوئی وجود نہیں تھا، مثال کے طور پر گاۓ کے پاگل پن کی بیماری (Mad Cow Disease)، ذرا سوچو! اللہ تعالٰی نے جس گاۓ کو انسان کے فائدے کے لیے پیدا کیا، انسان نے اسی گاۓ کی فطرت بدل ڈالی، گھاس کھانے والے جانور کو گوشت کھلایا اور پروٹین کا ایسا چارہ دیا جسے جانوروں کے فضلے سے تیار کیا گیا تھا، پھر وقت کے گزرنے کے ساتھ لوگوں پر بیماری کی شکل میں ایک عذاب مسلط ہوا اور اس نے پوری دنیا کو اپنی تکلیف سے متاثر کیا، اسی طرح اور دوسری بہت سی بیماریوں نے جنم لیا، جیسے رفٹ ویلی بخار (Rift Valley Fever)، یہ بیماری افریقہ میں کینیا کی رفٹ نامی ایک وادی میں پیدا ہوئی اور پھر پوری دنیا میں پھیل گئی، اسی طرح خُر دمہ یعنی پاؤں اور منھ کی بیماری (Foot and Mouth Disease) وجود میں آئی جس نے یورپ کی مویشیوں کی زندگی کو چیلنج کیا اور پھر یورپ سے دوسرے ممالک تک منتقل ہو گئی۔
اسی طرح علم کو ایمان و اخلاق سے دور کرنے کا ایک نقصان یہ ہوا کہ انسان نے زمین و آسمان اور ان کے مابین تمام چیزوں کو آلودہ اور ناپاک کردیا، اور اسی بات سے روکنے لئے اللہ تعالٰی نے انبیاء مبعوث فرماۓ، اور ہر نبی نے اپنی دعوت میں اس پر کافی زور دیا، حضرت صالح علیہ السلام اپنی قوم سے کہا " فَاذْكُرُوا آلَاءَ اللہ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ" ﴿الأعراف: 74﴾ ترجمہ:- اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو اور زمین میں فساد برپا نہ کرو، حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس انداز میں مخاطب کیا " يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَارْجُوا الْيَوْمَ الْآخِرَ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ" ﴿العنكبوت: 36﴾ ترجمہ:- اے میری قوم! اللہ کی بندگی کرو اور آخرت کے دن کی امید رکھو اور زمین میں فساد مچا کر اودھم نہ مچاؤ۔" حضرت موسی علیہ السلام نے یوں فرمایا "كُلُوا وَاشْرَبُوا مِن رِّزْقِ اللَّهِ وَلَا تَعْثَوْا فِي الْأَرْضِ مُفْسِدِينَ" ﴿البقرة: 60﴾ ترجمہ:- اللہ کا دیا کھاؤ اور پیو اور زمین میں فساد پھیلا کر ہنگامہ نہ کرو۔" اور سب سے آخری نبی جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری دنیا کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا "وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا وَادْعُوهُ خَوْفًا وَطَمَعًا ۚ إِنَّ رَحْمَتَ اللَّهِ قَرِيبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِينَ" ﴿الأعراف: 56﴾ ترجمہ:- زمین میں اس کے سنورنے کے بعد فساد نہ پھیلاؤ اور اللہ کو خوف اور امید کے ساتھ پکارو۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکوکاروں کے قریب ہے۔"
اللہ تعالٰی نے یہ زمین انسان کو بطور امانت دی اور اس پر اس کو اپنا جانشین بنایا، لیکن انسان نے امانت کی حفاظت کی، نہ جانشینی کا حق ادا کیا، بلکہ اس نے زمین میں ہر طرف فساد پھیلایا، زمین کو کوڑا کرکٹ کی گندگیوں سے آلودہ کیا اور ایٹمی فضلات کی تابکاری (radiation) سے زمین کی فضا اور آب و ہوا کو متاثر کیا، یہاں تک کہ سمندروں، دریاؤں اور جھیلوں کو بھی نہیں بخشا، ان کو بھی اپنی خباثت سے ناپاک کیا اور ان کے اندر رہنی والی اللہ کی بے شمار بے زبان مخلوق کو اپنی غلط حرکتوں کا نشانہ بنایا، آج لوگ شکایت کرتے ہیں کہ تیل کے دھبے آبی زندگیوں کے لیے مضر اور نقصان دہ ثابت ہو رہے ہیں، فیکٹریوں کے فضلات کی وجہ سے ندیاں بدبودار ہو رہی ہیں، دن بدن کینسر جیسی مہلک و جان لیوا ایسی نئی نئی بیماریاں پیدا ہو رہی ہیں جن کا علاج مشکل ہے، مثال کے طور ایڈز، یہ ایسی بیماری ہے جو کسی انسان کو زناکاری و بدکاری کے نتیجہ میں لاحق ہوتی ہے اور اس کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتی ہے، آج اس بیماری میں سب سے زیادہ مغربی ممالک کے لوگ مبتلا ہیں، کیونکہ یہ لوگ اللہ کے حلال کردہ امور کو حرام اور حرام اشیاء کو حلال قرار دے کر کثرت سے زناکاری و بدکاری کرتے ہیں، اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت عیسی علیہ السلام کے دین کی اتباع کا دعوٰی کرتے ہیں اور عیسائیت کو اپنی تہذیب کی بنیاد قرار دیتے ہیں، جبکہ یہ لوگ جھوٹے اور مکار ہیں، اور دجال اور اس کی دجالی و مادی تہذیب کے پیروکار ہیں، حضرت عیسٰی علیہ السلام نے کبھی بھی زنا کی اجازت نہیں دی، وہ ہمیشہ اس کے مخالف رہے، انجیل متّی میں آپ علیہ السلام نے فرمایا "تم سے پہلے لوگ کہتے تھے کہ زنا نہ کرو، اور میں تم لوگوں سے کہتا ہوں کہ جس نے امور زنا کو دیکھا تو اس نے زنا کیا" (٥/ ٢۸، ۲۹) یعنی حضرت عیسی علیہ السلام نے صرف حقیقی زنا کو حرام نہیں کہا بلکہ زنا پر ابھارنے والی چیزوں کو بھی حرام قرار دیا، اور اسی مفہوم کی وضاحت نبی آخر الزماں جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمائی "الْعَيْنَانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا النَّظَرُ,وَالْيَدَانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا اللَّمْسُ,وَالرِّجْلانِ تَزْنِيَانِ وَزِنَاهُمَا الْمَشْيُ,والنَّفْسُ تَتَمَنّٰى وَ تَشْتَهِي،وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذَلِكَ أَوْ يُكَذِّبُهُ" (متفق عليه) ترجمہ:- آنکھیں زنا کرتی ہیں اور ان کا زنا دیکھنا ہے، اور ہاتھ زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چھونا ہے، اور پاؤں زنا کرتے ہیں اور ان کا زنا چل کر (برائی کی طرف جانا) ہے، اور نفس (دل) تمنا اور خواہش کرتا ہے، اور شرمگاہ ان سب کی تصدیق یا تکذیب کرتی ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ آج دنیا بے بسی و بے چارگی کے عالم میں ہے، اور ہر طرف سے اس کو برائیوں اور گناہوں کی زنجیر میں جگڑ دیا گیا ہے، ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دنیا پریشانیوں اور تباہیوں کے دلدل میں اس طرح پھنس چکی ہے کہ اس سے نکلنے کا کوئی راستہ اس کو نظر نہیں آ رہا ہے، اور یہ سب اس غلط نظریہ و عقیدہ کی دین ہے جو علوم و فنون کو دین و ایمان اور اخلاق و روایات سے الگ کرنے کا قائل ہے، اور جب تک دنیا اس فاسد نظریہ پر قائم و دائم ہے، اس کی خلاصی اور نجات ناممکن ہے، جیسا کہ ارشاد ربانی ہے "وَمَنْ أَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ هَوَاهُ بِغَيْرِ هُدًى مِّنَ اللَّهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ" ﴿القصص: 50﴾ ترجمہ:- اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے، بے شک اللہ ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔ دوسری جگہ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا "أَفَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ وَأَضَلَّهُ اللَّهُ عَلَىٰ عِلْمٍ وَخَتَمَ عَلَىٰ سَمْعِهِ وَقَلْبِهِ وَجَعَلَ عَلَىٰ بَصَرِهِ غِشَاوَةً ۖ فَمَن يَهْدِيهِ مِن بَعْدِ اللَّهِ ۚ أَفَلَا تَذَكَّرُونَ" ﴿الجاثیہ: 23﴾ ترجمہ:-کیا تم نے اس کو دیکھا جس نے اپنی خواہش کو اپنا خدا بنا لیا اور اللہ نے اسے علم کے باوجود گمراہ کردیا اور اس کے کان اور دل پر مہر لگادی اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا، تو اللہ کے بعد کون ہے جو اسے ہدایت دے سکے؟ تو کیا تم نصیحت نہیں لیتے؟۔
لہٰذا دنیا کی نجات ابدی اور دائمی کامیابی و کامرانی کا راز یہ ہے کہ دنیا اللہ رب العزت کی وحدانیت اور اس کی الوہیت و ربوبیت کو تسلیم کرتے ہوئے اس سے اپنا تعلق استوار کرے، اور اسی راستہ پر چل پڑے جس پر اللہ تعالٰی نے اپنے محبوب جناب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو چلایا اور جس کی طرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی رہنمائی فرمائی، جس کے نتیجہ میں دنیا نے اپنی لاعلاج بیماری ظلم و ستم اور خوف و ہراس سے رہائی حاصل کی، اور ایک طویل عرصہ کے بعد عدل و انصاف اور امن و آمان کا مجسم شکل میں مشاہدہ کیا، اس کے علاوہ کوئی ایسی تدبیر اور طریقہ نہیں ہے جو دنیا کو اس کی تباہی و بربادی سے محفوظ رکھ سکے، اور یہی سچ ہے۔ اسی بات کو اللہ تبارک وتعالى یوں بیان فرمایا "وَإِنَّكَ لَتَهْدِي إِلَىٰ صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ صِرَاطِ اللَّهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ أَلَا إِلَى اللَّهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ" (الشورٰى: ٥٢ ، ٥٣) ترجمہ:- یقینا آپ سیدھے راستہ کی رہنمائی کرتے ہیں، اس اللہ کے راستہ کی طرف جس کے قبضۂ قدرت میں زمین و آسمان کی تمام چیزیں ہیں، سن لو! اللہ ہی کی طرف تمام امور لوٹتے ہیں۔