AMIR RAZA

AMIR RAZA i'm AMIR RAZA, I like to speak of my mind. Just let me share and give, put a smile on people's faces and make their hearts feel happy

I observe things and speak out about them to creat awareness...
I'm just a person who wants to be honest and do good.

26/04/2026

"کیا آپ جانتے ہیں… بہاولنگر کے لوگوں سے ان کا بنیادی حق چھین لیا گیا ہے؟""اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ ریلوے اسٹیشن بحال ہو…
تو اس ویڈیو کو share کریں اور اپنی آواز بلند کریں!"

اس شہر کے ساتھ نا انصافی پر دل دکھتا ہے۔اور کچھ نادان ہمارے جذبات کو مذاق سمجھتے ہیں
26/04/2026

اس شہر کے ساتھ نا انصافی پر دل دکھتا ہے۔
اور کچھ نادان ہمارے جذبات کو مذاق سمجھتے ہیں

ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ اد...
25/04/2026

ایک ایسا شعبہ جس نے 32 سال میں پاکستان کو موت کے دہانے پر پہنچا دیا۔ وہ ہے IPPs۔ یعنی بجلی پیدا کرنے والے 90 پرائیویٹ ادارے۔
ان معاہدوں کی قاتلانہ شرائط سے آپ پہلے سے واقف ہیں لیکن آپ شاید یہ نہیں جانتے کہ ان کے مالک کون ہے؟
تو دل تھام لیجیے
28 فیصد شریف خاندان
16 فیصد ن لیگی رہنما
16 فیصد زرداری
8 فیصد پیپلز پارٹی رہنما
10 فیصد اسٹبلشمنٹ
8 فیصد چین کے سرمایہ کا
7 فیصد عرب کے سرمایہ کار ( قطری)
7 فیصد پاکستانی سرمایہ دار

یعنی 78 فیصد صرف تین گروپس ( شریف ، زرداری، اسٹبلشمنٹ) کی ملکیت ہیں۔

اس سے آگے کا المیہ بھی سن لیجیے۔
یہی وہ 90 لوگ یا گروپ ہیں جس کے پاس پاکستان کی تمام شوگر ملز، سٹیل ملز، سیمنٹ، کھاد، کپڑے، بنک، LPG اور گاڑیاں بنانے کے لائسنس ہیں۔

یہ بجلی گھر پاکستان کی کل ضرورت کا 125 فیصد پیدا کرنے کی صلاحیت بتا کر لگائے گئے ہیں لیکن دیتے صرف 48 فیصد ہیں۔
لیکن قیمت 125 فیصدی کی وصول کرتے آ رہے ہیں، لہذا پچھلے 5 سال میں 6 ہزار ارب دینے کے باوجود یہ ملک ان کا 2900 ارب کا مقروض ہے۔
یہ تحریر بہت قیمتی ہے۔۔۔ اس کو سمجھیں اور سیریس ہوجائیں، ورنہ ہمارے بچے قیامت کے دن ہمیں جہنم کی طرف دھکیلنے کے سبب بن جائیں گے، بلکہ اس راستہ پے بہت آگے نکل چکے ہیں۔

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن کے مطابق...
24/04/2026

وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 26 روپے 77 پیسے فی لٹر کا اضافہ کیا گیا ہے۔
اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 393 روپے 35 پیسے اور ڈیزل کی نئی قیمت 380 روپے 19 پیسے فی لٹر مقرر کی گئی ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کے نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا۔
ذرائع پٹرولیم ڈویژن کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرول پر لیوی میں اضافہ کر دیا، پٹرول پر لیوی 26 روپے 77 پیسے فی لیٹر بڑھادی گئی، پٹرول پر لیوی 107 روپے 38 پیسے فی لیٹر کر دی گئی۔

*بینک کےباہر میرے ساتھ ہونے والے منفرد  دھوکے  دہی کےجال کا احوال*تحریر: جاوید شیخ، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج لیہایک ل...
24/04/2026

*بینک کےباہر میرے ساتھ ہونے والے منفرد دھوکے دہی کےجال کا احوال*
تحریر: جاوید شیخ، اسسٹنٹ پروفیسر گورنمنٹ کالج لیہ
ایک لفافہ، چار چہرے — اور ایک بچی ہوئی زندگی
لیہ کی اس تپتی دوپہر میں، جب میں میزان بینک کی ٹھنڈک سے نکل کر باہر آیا، تو مجھے گمان بھی نہ تھا کہ میں کسی فلمی اسکرپٹ کا حصہ بننے والا ہوں۔ بینک سے رقم جمع کروانے کے بعد میں ابھی اپنی بائیک کے پاس پہنچا ہی تھا کہ تقدیر نے ایک عجیب جال بننا شروع کر دیا۔
میں نے بائیک کو ان لاک کیا ہی تھا کہ ایک شخص اچانک میرے قدموں میں جھکا اور زمین سے کچھ اٹھاتے ہوئے بولا: "بھائی صاحب! میرے پیسے آپ کی بائیک کے پاس گرے تھے، شکر ہے مل گئے۔" میں نے اسے ایک عام واقعہ سمجھا اور مسکرا کر کہا، "ٹھیک ہے، اگر آپ کے ہیں تو رکھ لیں۔" وہ تیزی سے آگے بڑھ گیا، مگر اصل کھیل تو ابھی پردے کے پیچھے تھا۔
وہیں بینک کے باہر ایک دوسرا شخص کھڑا تھا۔جس کا لباس نہایت نفیس، ہاتھ میں چمکتی مہنگی گھڑی اور انداز کسی بڑے افسر جیسا باوقار تھا۔ اس نے بڑی رازداری سے مجھ سے پوچھا، "کہیں یہ پیسے آپ کے تو نہیں تھے؟" جب میں نے انکار کیا تو اس نے بڑے اعتماد سے کہا، "میں بھی ابھی بینک میں پیسے جمع کروا کے نکلا ہوں، یہ میرے بھی نہیں تھے۔" پھر اس نے دور جاتے اس پہلے شخص کی طرف اشارہ کیا اور شک ظاہر کیا کہ کیا یہ واقعی اسی کے پیسے تھے؟ میں نے جواب دیا، "اگر اس کے اپنے پیسے ہوتے تو وہ یوں بھاگ کر کیوں جا رہا ہے؟ اسے تو پرسکون انداز میں جانا چاہیے تھا۔" میری بات سن کر اس نے تائید کی، "واقعی، آپ ٹھیک کہتے ہیں، یہ اس کے پیسے نہیں لگتے۔"
ابھی ہماری یہ کھسر پھسر جاری تھی کہ ایک تیسرا آدمی بدحواس ہو کر وہاں پہنچا، اس کے چہرے پر پریشانی دیدنی تھی، وہ روہانسی آواز میں بولا، "بھائی!شاید میرے پیسے یہیں گرے ہیں، کیا آپ نے دیکھے ہیں؟" باوقار شخص نے فوراً مسیحا بن کر اسے بتایا کہ ایک آدمی ابھی پیسے اٹھا کر مشرق کی طرف بھاگا ہے۔ جیسے ہی وہ تیسرا آدمی اس سمت لپکا، اس سوٹڈ بوٹیڈ شخص نے ہمدردی جتاتے ہوئے مجھ سے کہا، "ہمیں اس غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ آپ موٹر سائیکل نکالیں، ہم اسے پکڑ کر اس کے پیسے واپس دلاتے ہیں۔"
انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت میں نے اسے بائیک پر بٹھایا اور ہم نے اس پہلے شخص کا پیچھا کیا۔ کچھ فاصلے پر اسے جا لیا۔ بائیک رکتے ہی اس باوقار شخص نے اس پر ایسا رعب ڈالا جیسے کوئی تجربہ کار شکاری اپنے شکار کو دبوچتا ہے۔ اس نے اسے ڈرایا، دھمکایا اور ایمان کا واسطہ دیتے ہوئے گرج کر بولا: "تم مسلمان ہو کر ایسی حرکت کر رہے ہو؟ کسی کا حق کھاؤ گے؟"
اس دباؤ پر وہ شخص فوراً ڈھیر ہو گیا اور گڑگڑانے لگا، "میں غریب ہوں... بھوکا ہوں.. مجھ سے غلطی ہو گئی۔ مجھے مزدوری نہیں ملی۔ میرے بچے بھوکے ہیں" اس نے پیسے نکال کر واپس کر دیے۔ ڈرامہ اتنا سحر انگیز تھا کہ اس باوقار شخص نے اس کی "ایمانداری" پر اسے انعام کے طور پر ایک ہزار روپے دیے۔ میرے کہنے پر کہ "ایک ہزار کم ہے، اسے مزید دیں"، اس نے فیاضی دکھاتے ہوئے ایک ہزار کا ایک اور نوٹ اسے دے دیا، یوں اسے کل دو ہزار روپے انعام مل گیا۔ میں اس باوقار شخص کی "نیکی" سے متاثر ہو رہا تھا، مگر حقیقت کا بھیانک چہرہ ابھی سامنے آنا باقی تھا۔
تبھی وہ تیسرا شخص (جس کے پیسے گرے تھے) وہاں پہنچ گیا، اور رقم وصول کرنے کے بعد اچانک اس نے ایک ایسا پینترا بدلا کہ میرے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔ وہ بولا: "پیسے تو ٹھیک ہیں... لیکن میری سونے کی چین بھی ساتھ تھی، وہ کہاں ہے؟"
اسی لمحے میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی اتنی زور سے بجی کہ سارا منظر نامہ واضح ہو گیا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ہمدردی کا لبادہ اوڑھے بھیڑیوں کا ایک منظم گروہ ہے جو اب مجھے ایک سنگین دلدل میں اتارنے والا ہے۔ میں نے پلک جھپکتے ہی پینترا بدلا اور دو ٹوک کہا، "یہ تصفیہ اب سڑک پر نہیں، بلکہ واپس بینک جا کر ہوگا تاکہ کیمروں کے سامنے حساب ہو اور کوئی اور دعویدار نہ بن سکے۔" اور میں نے بائیک بینک کر طرف تیزی سے موڑی۔
بینک کا نام سنتے ہی اس باوقار شخص کے چہرے سے شرافت کا نقاب اتر گیا۔ وہ چلتی بائیک سے چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور مجھ پر چلانے لگا کہ میں کسی پر اعتبار کیوں نہیں کرتا۔ اسی دوران ایک چوتھا شخص نمودار ہوا۔رعب دار شخصیت اور قد کوئی 6 فٹ سے اوپر، سفید لٹھے کا سوٹ اور شاندار موبائل کے ساتھ کلائی میں مہنگی گھڑی۔ اس نے خود کو پنجاب پولیس انسپکٹر ظاہر کیا اور مجھ پر رعب ڈالتے ہوئے غصے سے بولا: "تم معاملہ کیوں ختم نہیں کر رہے؟ تم کو تھانے لے چلوں؟"
وہ مجھے ڈرا کر خاموش کروانا چاہتے تھے، لیکن میں نے بغیر دیر کیے اپنے دوستوں کو فون گھما دیا۔ جیسے ہی میری فون پر بات شروع ہوئی، وہ چاروں ماہر اداکار اپنا اسٹیج چھوڑ کر گلیوں میں غائب ہو گئے۔
بعد میں ہم دوستوں نے ، جب بینک کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی تو میرا خون خشک ہو گیا۔ وہ پہلا آدمی پہلے سے ہاتھ میں پیسے چھپائے زمین سے اٹھانے کا ناٹک کر رہا تھا، اور وہ سوٹڈ بوٹیڈ شخص کبھی بینک کے اندر گیا ہی نہیں تھا بلکہ پچیس منٹ سے باہر کھڑا صرف انتظار کر رہا تھا کہ کسی کو ٹریپ کرے۔ بینک منیجر نے بتایا کہ یہ ایک ایسا گروہ ہے جو لوٹ مار اور اغوا جیسی وارداتیں کرتا ہے۔ یہ لوگ 5 سے 8 کے گروپ میں کام کرتے ہیں۔ یہ مجھے بھی ٹریپ کر رہے تھے۔ کہیں ویرانے میں لے جا کر موبائل فون اور بائیک چھین لیتے۔ اور اغوا برائے تاوان کا بھی چانس ہو سکتا تھا۔
آج جب میں اس واقعے کو یاد کرتا ہوں تو لرز اٹھتا ہوں۔ دنیا بدل چکی ہے؛ اب دھوکہ صرف چہروں میں نہیں بلکہ باوقار لہجوں اور نقلی ہمدردیوں میں چھپا ہوتا ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ میں اس منظم جال سے بچ گیا، ورنہ وہ ایک لمحہ میری زندگی بھر کا پچھتاوا بن سکتا تھا۔
سبق: ہوشیار رہیے، کیونکہ ہر وہ ہاتھ جو مدد کے لیے بڑھے، ضروری نہیں کہ وہ مخلص ہو۔ کبھی کبھی سب سے خوبصورت چہرہ ہی سب سے بڑا نقاب ہوتا ہے۔

22/04/2026

ایسا ناشتہ دیکھ کر بھوک لگ جائے 😋
صبح کا مزہ ہی ناشتے سے ہے 🍳

20/04/2026

حکومتِ پنجاب کی جانب سے جدید ریلوے منصوبوں کا آغاز خوش آئند ہے۔ ہم مریم نواز شریف اور محمد حنیف عباسی کے اس اقدام کو سراہتے ہیں۔
لیکن افسوس…
آج بھی بہاولنگر اس ترقی میں شامل نہیں…
2011 سے بند ریلوے اسٹیشن…
نہ کوئی ٹرین… نہ کوئی سہولت…
لوگ بسوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں،
مہنگے کرائے، اوور چارجنگ اور خطرناک سفر…
🚨 ہزاروں لوگ روڈ ایکسیڈنٹس میں جان گنوا چکے ہیں…
کیا بہاولنگر کے عوام پاکستانی نہیں؟
کیا ہم ترقی کے حق دار نہیں؟
📢 ہمارا مطالبہ:
✅ بہاولنگر ریلوے اسٹیشن فوری بحال کیا جائے
✅ لاہور تا کراچی مین روٹ میں شامل کیا جائے
✅ کم از کم 2 ٹرینیں (اپ + ڈاؤن) فوری چلائی جائیں
ہمیں وعدے نہیں… عملی اقدامات چاہئیں!
📢 “ترقی سب کے لیے… نہ کہ صرف بڑے شہروں کے لیے!”
📢 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری آواز حکام تک پہنچے!”

19/04/2026

“MPA اور MNA
سے اپیل: بہاولنگر کو اس کا حق دلائیں 😔🚆”
بہاولنگر میں دوبارہ مسافر ٹرین سروس بحال کی جائے
تاکہ عوام کو آسانی ہو
اور شہر ترقی کرے 🚆✨
حکومتِ پنجاب کی جانب سے جدید ریلوے منصوبوں کا آغاز خوش آئند ہے۔ ہم مریم نواز شریف اور محمد حنیف عباسی کے اس اقدام کو سراہتے ہیں۔
لیکن افسوس…
آج بھی بہاولنگر اس ترقی میں شامل نہیں…
2011 سے بند ریلوے اسٹیشن…
نہ کوئی ٹرین… نہ کوئی سہولت…
لوگ بسوں پر سفر کرنے پر مجبور ہیں،
مہنگے کرائے، اوور چارجنگ اور خطرناک سفر…
🚨 ہزاروں لوگ روڈ ایکسیڈنٹس میں جان گنوا چکے ہیں…
کیا بہاولنگر کے عوام پاکستانی نہیں؟
کیا ہم ترقی کے حق دار نہیں؟
📢 ہمارا مطالبہ:
✅ بہاولنگر ریلوے اسٹیشن فوری بحال کیا جائے
✅ لاہور تا کراچی مین روٹ میں شامل کیا جائے
✅ کم از کم 2 ٹرینیں (اپ + ڈاؤن) فوری چلائی جائیں
ہمیں وعدے نہیں… عملی اقدامات چاہئیں!
📢 “ترقی سب کے لیے… نہ کہ صرف بڑے شہروں کے لیے!”
📢 اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری آواز حکام تک پہنچے!”

18/04/2026

“Street light لگ گئی… لیکن مہینوں سے بند کیوں ہے؟ 🤔”

ریلوے کی بحالی، ضلع بہاولنگر کی خوشحالیاگر بہاولنگر سے امروکہ تا حویلی وساوے تک محض 17 میل کا ریلوے ٹریک بچھا دیا جائے—ج...
18/04/2026

ریلوے کی بحالی، ضلع بہاولنگر کی خوشحالی

اگر بہاولنگر سے امروکہ تا حویلی وساوے تک محض 17 میل کا ریلوے ٹریک بچھا دیا جائے—جبکہ دریائے ستلج پر پہلے سے ٹریک موجود ہے—تو ذرا تصور کریں کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔
بہاولنگر جنکشن سے مغرب کی جانب سمہ سٹہ کے ذریعے کراچی، کوئٹہ اور گوادر (ایران تک رسائی) ممکن ہو جائے گی۔ شمال کی طرف لاہور اور راولپنڈی (چین تک تجارتی راہداری) سے رابطہ مضبوط ہوگا۔ اگر مستقبل میں حالات سازگار ہوئے تو مشرق کی جانب منچن آباد کے راستے دہلی تک بھی ریل رابطہ بحال ہو سکتا ہے۔ اسی طرح جنوب میں فورٹ عباس اور ہارون آباد تک مال بردار اور مسافر ٹرینوں کی روانی شروع ہو جائے گی۔
یہ صرف ٹرینوں کی آمد و رفت نہیں ہوگی بلکہ ایک پسماندہ ضلع کے لیے ترقی، تجارت اور خوشحالی کا نیا دروازہ کھلے گا۔
1.
“17 میل کا ٹریک — بہاولنگر کی تقدیر بدل دے گا”
2.
“ریلوے بحال، بہاولنگر خوشحال”
3.
“پٹری بچھے گی، ترقی دوڑے گی”
4.
“بہاولنگر کو ریل دو، معیشت کو رفتار دو”
5.
“ایک ٹریک نہیں، ترقی کا انقلاب ہے”
6.
“بہاولنگر سے دنیا تک — ریل ہی راستہ ہے”

15/04/2026

"جلد آ رہی ہے ایک زبردست سیریز جس میں ہم Bahawalnagar کے ہر کونے کو explore کریں گے 🚀
بازار، سڑکیں، فوڈ پوائنٹس اور لوگوں سے بات چیت سب کچھ دیکھنے کو ملے گا!
آپ بھی کمنٹ میں بتائیں کون سی جگہ ضرور دکھاؤں 👇❤️"

Address

MADNI COLONY Street 04
Bhavnagar
62300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AMIR RAZA posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share