Sheikh Aijaz 786

Sheikh Aijaz 786 ░░░░F░O░L░L░O░W░MY░PAGE░LIKE░SHARE░COMMENT░

🇸🇦لَا إِلٰهٓ إِلَّا اللّٰهُ ﷴﷺرَسُولُ اللّٰهَ 🇸🇦وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ میرے نبیﷺ کا ذِکر ہمیشہ بُلند رہے گا❤️‏ﷴﷺ❤ان...
19/08/2026

🇸🇦لَا إِلٰهٓ إِلَّا اللّٰهُ ﷴﷺرَسُولُ اللّٰهَ 🇸🇦وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ
میرے نبیﷺ کا ذِکر ہمیشہ بُلند رہے گا❤️‏ﷴﷺ❤اناشاءاللہ❤️ آمین🇸🇦

19/08/2026

#ناڈ علی مظھر العجیب @ناد علی مظھر

18/08/2026


SHEIKH AIJAZ 786

17/08/2026

فقــیری درویشوں سے مت کرو

آپ ﷺ نے فرمایا ، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی ۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی ۔ اتفا...
17/08/2026

آپ ﷺ نے فرمایا ، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی ۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی ۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی ( اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے ) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو ، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ” اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے ۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا ۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا ۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا ۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی ۔ اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے ۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے ۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا ، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ دوسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے ۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو ۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی ، اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی ۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا ۔ تو وہ بولی ، اللہ سے ڈر ، اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے ( نکلنے کا ) راستہ بنا دے “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا ۔ تیسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا ۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا ۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا ( کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ خدا کے بندے مجھے میرا حق دے دے ۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو ۔ میں نے کہا ” میں مذاق ن

17/08/2026

آپ ﷺ نے فرمایا ، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی ۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی ۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی ( اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے ) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو ، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو ۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ” اے اللہ ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے ۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا ۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا ۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا ۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی ۔ اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے ۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے ۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی ۔ اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا ، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا ۔ دوسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے ۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو ۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی ، اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی ۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا ۔ تو وہ بولی ، اللہ سے ڈر ، اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا ۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے ( نکلنے کا ) راستہ بنا دے “ آنحضرت ﷺ نے فرمایا : چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا ۔ تیسرے شخص نے دعا کی ” اے اللہ ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا ۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا ۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا ( کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا ۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ خدا کے بندے مجھے میرا حق دے دے ۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں ۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو ۔ میں نے کہا ” میں مذاق نہیں کرتا ، واقعی یہ تمہارے ہی ہیں ۔ تو اے اللہ ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے ( اس چٹان کو ہٹا کر ) راستہ بنا دے ۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا اور وہ تینوں شخص باہر آ گئے ۔

17/08/2026

ابن جریج نے ابن ابی ملیکہ سے اور انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کی کہ نبی ﷺ نے فرمایا :’’ اگر لوگوں کو ان کے دعووں کے مطابق دے دیا جائے تو بہت سے لوگ دوسروں کے خون اور ان کے اموال پر دعویٰ کرنے لگیں گے لیکن قسم مدعا علیہ پر ہے ۔‘‘

17/08/2026

حضرت ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اللہ نے آدم ؑ کو اس کی صورت پر تخلیق فرمایا ، ان کا قد ساٹھ ہاتھ تھا ، جب اس نے انہیں پیدا کیا تو فرمایا : جاؤ اس جماعت کو سلام کرو ، اس جماعت میں چند فرشتے بیٹھے ہوئے تھے وہ آپ کو جو جواب دیں ، وہ غور سے سنیں ، چنانچہ وہی جواب تمہارا اور تمہاری اولاد کا ہو گا ، وہ گئے اور انہوں نے ان سے کہا : السلام علیکم ! انہوں نے کہا : السلام علیک و رحمۃ اللہ !‘‘ انہوں نے انہیں لفظ رحمۃ اللہ کا زائد جواب دیا ۔‘‘ فرمایا :’’ جنت میں جانے والا ہر شخص صورت آدم ؑ پر ہو گا ، اس کا قد ساٹھ ہاتھ ہو گا ، ان کے بعد پھر مسلسل اب تک قد و قامت میں کمی واقع ہوتی چلی آ رہی ہے ۔‘‘ متفق علیہ ۔

17/08/2026

حضرت حذیفہ ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ ہمیں خطاب فرمانے کے لیے ایک جگہ کھڑے ہوئے تو آپ نے اس وقت سے لے کر قیام قیامت تک ہونے والے تمام واقعات بیان فرمائے ، یاد رکھنے والوں نے اسے یاد رکھا ، اور بھولنے والے نے اسے بھلا دیا ، اور میرے یہ ساتھی اس سے خوب آگاہ ہیں ، اور ان (مذکورہ چیزوں) میں سے جب وہ چیز رونما ہوتی ہے جسے میں بھول چکا تھا تو اسے دیکھ کر میری یاد تازہ ہو جاتی ہے ، جس طرح آدمی کسی غائب ہو جانے والے آدمی کے چہرے کو یاد کرتا ہے ، پھر جب وہ اسے دیکھتا ہے تو وہ اسے پہچان لیتا ہے ۔ متفق علیہ ۔

Address

Budgam District
193411

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sheikh Aijaz 786 posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share