28/11/2025
وہ تخت پر جو شخص تھا ، نشیں رہا ؟ نہیں رہا
دلوں میں ایک روز بھی مکیں رہا ؟ نہیں رہا
گلی گلی یہ حادثے گھڑی گھڑی کے وسوسے
کسی کو اگلی سانس کا یقیں رہا ؟ نہیں رہا
نظر سے لوگ گر گئے ، ذرا عروج کیا ملا
جہاں پہ جس کا ظرف تھا وہیں رہا ؟ نہیں رہا
سنا ہے اہلِ حَکم میں سبھی تھے صادق و امیں
کوئی ہمارے درد کا امیں رہا ؟ نہیں رہا
✍ ڈاکٹر احمد خلیل