Mushtaq Ahmad

Mushtaq Ahmad Follow This page

I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉
17/03/2024

I have reached 300 followers! Thank you for your continued support. I could not have done it without each of you. 🙏🤗🎉

A lumberjack went into a vast jungle where tall, shady trees spread their strong branches, and birds adorned the green l...
10/01/2024

A lumberjack went into a vast jungle where tall, shady trees spread their strong branches, and birds adorned the green leaves, enjoying the tranquil forest air. The lumberjack earnestly requested, "Oh, lush trees! I will be truly grateful if you permit me to cut enough wood for my ax to be satisfied." Without hesitation, the trees granted permission. The lumberjack saw this as an opportunity, quickly trimmed a small branch, and prepared his tool. As soon as the ax hit the handle, he unleashed his wrath, cutting down large trees by the roots and tossing them aside, initiating deforestation. The news of this calamity spread fear throughout the entire jungle. The remorseful trees lamented, saying there is no remedy now; We must bear the consequences of our own actions, as we allowed the ax to strike our own roots.

01/11/2023

ما شاءاللہ

22/04/2023

Eid Mubarak

#عيدالفطرالمبارك #عيدسعيد

17/04/2023

خيركم من تعلم القرآن وعلمه

*مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمة الله عليه*          تعارف و خدماتولادت: 1347ھ مطابق 1929ءوفات: 1444...
16/04/2023

*مفکر اسلام حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی رحمة الله عليه*
تعارف و خدمات
ولادت: 1347ھ مطابق 1929ء
وفات: 1444ھ مطابق 2023ء

✒️ *از: محمد حماد کریمی ندوی*
🏛️ ناظم المعہد الاسلامی العربی

*مختصر سوانحی خاکہ*
نام: محمد رابع حسنی
والد کا نام: سید رشید احمد حسنی
جائے پیدائش: تکیہ کلاں، رائے بریلی، اتر پردیش، انڈیا
تاریخ پیدائش: 1347ھ مطابق ۲۹ اکتوبر ۱۹۲۹ ء
ابتدائی تعلیم: مکتب رائے بریلی
ثانوی تعلیم: دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ
تکمیل: دار العلوم دیوبند
اہم ذمہ داریاں: ناظم ندوۃ العلماء، و صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ
والدہ کا نام : امۃ العزیز صاحبہ، ہمشیرۂ مفکر اسلام حضرت مولاناسید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ

*پیدائش و خاندانی پس منظر*
آپ کی پیدائش ۱۳۴۷ھ مطابق۲۹ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو تکیہ کلاں رائے بریلی، اتر پردیش میں ہندوستان کے معزز سادات کے گھرانے میں ہوئی، یہ وہ گھرانہ ہے جس کو حضرت سید احمد شہیدؒ اور مولانا اسماعیل شہیدؒ کی داستانِ عزیمت وراثت میں ملی ہے، جو آج بھی اپنی زبان، اپنے نسب، اپنے عقیدہ نیز ساداتِ ہاشمی کی تمام خصوصیات کے ساتھ باقی ہے، جس کے بارے میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند نے فرمایا تھا کہ ــ ’’اگر یہ خانوادہ اور تحریک سید احمد شہید نہ ہوتی تو آج ہم مسلمان نہ ہوتے ‘‘، یہ خاندان دورِ عالمگیری سے لے کر آج تک اس تحتی بر اعظم میں دعوت و ارشاد کی اہم ذمہ داریوں کو ادا کرتا رہا ہے، پورے عالمِ اسلام میں پاکیزہ اسلامی خیالات اور توحید وسنت کے صاف ستھرے و صحیح تصورات قائم کرنے میں اس خانوادہ کا اہم رول رہا ہے۔
خاندان کی ان صالح اور قابل قدر روایات نے آپ کی شخصیت، ذہنیت اور صلاحیت کے بنانے میں بہت ہی موثر کردار ادا کیا، بالخصوص آپ نے صدی کی عظیم شخصیت، شیخ العرب و العجم، آفتابِ علم وعرفاں حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی نگہداشت اور سرپرستی میں علم و صلاح کی انتہائی بلند و بالا اور قابل رشک منازل طے کیں، آپ کی علمیت میں خاندانی شرافت، اودھ کی تہذیبی حلاوت، تاریخ و ادب کی حرارت اور ندوہ کی صدا ’’جدید نافع اور قدیم صالح ‘‘ کا ایسا زبردست اثر رہا کہ آپ عام سطح سے بہت بلند ہو گئے۔ (حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی: ایک عہد ساز شخصیت)
*تعلیمی مراحل*
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے خاندانی مکتب رائے بریلی میں حاصل کی، اس کے بعد دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں تعلیمی سلسلہ رہا، اور وہیں سے ۱۹۴۸ء میں سند فراغت حاصل کی، اس کے بعد ایک سال دارالعلوم دیوبند میں گذارا، وہاں فقہ، تفسیر، حدیث اور بعض فنون کی ایک ایک کتاب پڑھی، تعلیم کے سلسلہ میں چند روز مظاہر علوم سہارنپور میں رہنا ہوا، اعلیٰ تعلیم کے لئے حجاز کا بھی سفرکیا۔
*تزکیہ و تربیت*
آپ کی نیک بختی اور کامرانی یہ بھی ہے کہ آپ کو وقت کے عظیم اساتذہ اور کبار علماء سے استفادہ کا شرف بھی حاصل ہوا، جن میں نمایاں ترین حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوریؒ، شیخ الحدیث مولانا زکریا کاندھلویؒ، شیخ الاسلام حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمد احمد پرتاپ گڑھیؒ اور حضرت مولانا ابرارالحق صاحبؒ کے نام نامی ہیں، مگر خاص فیض آپ کو اپنے خالِ معظم حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت و صحبت سے حاصل ہوا، جس کے متعلق ڈاکٹر عبداللہ عباس ندویؒ فرماتے ہیں ’’مولانا رابع حسنی ندوی نے مولاناؒ کے نظریۂ تعلیم کو نہ صرف سمجھا بلکہ اس کو اپنے اندر جذب کر لیا ہے، وہ خود ایسی آنکھ بن گئے ہیں جس سے مولانا دیکھا کرتے تھے ‘‘۔
استاذِ محترم جناب مولانا الیاس صاحب ندوی بھٹکلی نے ایک مرتبہ طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: کہ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ ہر کام میں حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی دامت برکاتہم سے مشورہ لیا کرتے تھے، یہاں تک کے ندوہ میں حضرت مولانا کا جملہ ’’رابع سے پوچھو ایک اصطلاح بن گئی تھی‘‘۔
*تدریسی و انتظامی خدمات*
اس سلسلہ میں آپ کے برادر مکرم جناب مولانا سید محمد واضح رشید حسنی ندوی فرماتے ہیں ’’حضرت مولانا رابع حسنی ندوی چونکہ مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ سے سب سے زیادہ قریب رہے ہیں اور ان کے اسفار میں شریک رہے ہیں، جن میں اہم شخصیتوں اور حکمرانوں سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کا بھی کثرت سے موقع ملا، اس لئے مولانا کو حقیقت حال اور مسائل کی نزاکت سے واقفیت کا جو موقع ملا وہ بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے ‘‘۔
دارالعلوم دیوبند میں ایک سال گذارنے کے بعد ۱۹۴۹ ء میں آپ کا دارالعلوم ندوۃ العلماء کے شعبۂ ادبِ عربی میں بحیثیت معاون استاذ تقرر ہوا۔
۱۹۵۲ ء میں ندوہ کے ادیب دوم مقر ر ہوئے۔
۱۹۵۵ء میں صدر شعبۂ ادبِ عربی کے عہدہ پر فائز ہوئے۔
۱۹۷۰ء میں عمید کلیۃ اللغۃ العربیۃ (دارالعلوم ندوۃ العلماء) مقر ر ہوئے۔
۱۹۹۳ ء میں دارالعلوم ندوۃ العلماء کا منصب اہتمام آپ کے سپرد ہوا۔
۱۹۹۸ ء میں نائب ناظم مولانا معین اللہ صاحب ندویؒ کی خرابی صحت کی وجہ سے منصب اہتمام کے ساتھ بحیثیت معاون نائب ناظم کے بھی خدمات انجام دیتے رہے۔
اخیر میں ۳۱ دسمبر ۱۹۹۹ ء کو حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کے انتقال کے بعد جنوری ۲۰۰۰ء میں ندوۃ العلماء کی نظامت کا عہدۂ جلیلہ آپ کو تفویض ہوا، جس کو آپ بحسن و خوبی انجام دے رہے تھے، آپ کے خلوص کی وجہ سے ندوہ نہایت ہی تیزی، بہت ہی خوبصورتی اور بڑی کامیابی کے ساتھ شاہراہِ ترقی کی طرف رواں دواں رہا۔
اہم اور قابل شکر و شرف بات یہ ہے کہ حضرت اقدس مولانا علی میاںؒ جیسی عالمگیر عظمت و شہرت اور مقبولیت و محبوبیت کی حامل شخصیت کے تمام اہم کام و پیام کو لے کر آپ بڑی کامیابی کے ساتھ آگے بڑھ رہے تھے ۔
اس تمام عرصے میں آپ بحیثیت مدرس تدریسی خدمات بھی انجام دیتے رہے ۔
*ملی وسماجی خدمات*
عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ ایک مدرس کی کل کائنات اور اس کی کوششوں کا کل مرکز مدرسہ کی چہار دیواری ہوتی ہے، اور بہت کم ایسے ہوتے ہیں جو بیک وقت تدریسی خدمات کے ساتھ ملی وسماجی خدمات میں بھی نمایاں ہوں۔
حضرت مولانا اس سلسلہ میں ایک امتیازی شخصیت کے حامل رہے کہ ایک عالمی ادارہ کی تدریسی و انتظامی خدمات کے ساتھ ساتھ اس سے بھی وسیع پیمانے پر ہندوستانی مسلمانوں کے متحدہ پلیٹ فارم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذریعہ ملی وسماجی خدمات انجام دیتے رہے، جو ہندستان میں تمام مسلمانون کا متحدہ پلیٹ فارم ہے۔
۲۰۰۳ء میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے تیسرے صدر قاضی مجاہدالاسلام صاحب قاسمی کے وجود سے جب ملت اسلامیہ محروم ہو گئی، تو بیک وقت پورے ہندوستان کی نگاہیں آپ پر آ کر ٹِک گئیں، اور یہ حسن اتفاق ہے کہ آپ اپنے نام کی مناسبت سے بورڈ کے چوتھے صدر منتخب ہوئے، آپ کو خداوند قدوس نے جو اعلیٰ علمی فکری اور انتظامی صلاحیتیں عطا فرمائی تھیں، کسی دوسری جگہ ان کا وجود خال خال ہی نظر آتا ہے۔
ہندستان بلکہ عالم اسلام کے مشہور و معروف فقیہ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب دامت برکاتہم فرماتے ہیں :
’’مجھے مولانا کا جو وصف سب سے زیادہ متاثر کرتا ہے وہ ان کے اندر پایا جانے والا سمندر کا سا سکوت، زمین کا سا بچھاؤ اور جھکاؤ ہے، اس وقت ملت اسلامیہ جن مسائل سے دوچار ہے، ان کے حل کے لئے ایسی ہی قیادت مطلوب ہے، جو حضرت عثمان غنیؓ کی زبان میں اقوال سے زیادہ فعال ہو اور جوش سے زیادہ ہوش سے کام لیتی ہو ‘‘۔ (مسلم پرسنل لاء بورڈ کام اور پیام ص:۶، مرتب :الیاس ہاشمی)
*تصوف وسلوک میں آپ کی خدمات*
مولانا کو بہت سے بزرگوں کے علاوہ خود حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ سے بیعت و ارشاد کے سلسلے (قادریہ، نقشبندیہ، چشتیہ، سہروردیہ )کی اجازت و خلافت حاصل ہے، مولانا ہر وقت لوگوں کی اصلاح و فکر میں لگے رہتے تھے ، خاص طور پر طلبہ کی اصلاح کے حد درجہ فکرمند رہتے تھے ، اس سلسلے میں جب بھی ندوہ میں قیام ہوتا تھا تو بعد نماز عشاء مجلس لگتی تھی، جس میں اساتذہ و طلباء حاضر ہو کر مستفید ہوتے تھے، اس کے علاوہ سال میں ایک دوبار عمومی خطاب بھی طلبہ کے لئے ہوتا تھا، اس میں بھی اصلاحی باتیں ہوتی تھیں ، نیز رمضان کا پورا مہینہ اسی اصلاح کی فکر کے لئے وقف ہوتا تھا، آپ رمضان کا پورا مہینہ اپنے وطن رائے بریلی میں گزارتے تھے ، نیز آخری عشرہ کا اعتکاف بھی کرتے تھے ، مسجد میں ہر طبقہ کے لوگوں کی ایک کثیر تعداد حاضر ہوتی تھی ، اور پورا مہینہ افادہ واستفادہ کا سلسلہ جاری رہتا تھا ، اور آخری عشرے میں یہ تعداد کبھی ہزار تک پہنچ جاتی تھی ۔
*مولانا بحیثیت واعظ و مقرر*
مولانا جس طرح ایک مدرس و منتظم اور مصلح و مرشد تھے، اسی طرح آپ واعظ و مقر ر بھی تھے ، آپ کی تقاریر اور بیانات حد درجہ تاثیر رکھتے تھے ، جس میں جوش سے زیادہ ہوش کی باتیں ہوتی تھیں ، مولانا کی ہر تقریر جامعیت اور معانی کی وسعت کا نمونہ ہوتی تھیں ، مولانا نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اسٹیج سے بحیثیت صدر اور پیام انسانیت کے اسٹیج سے بحیثیت سرپرست بارہا لاکھوں کے مجمع کے سامنے تقریر کی، جس میں آپ نے اپنا دل کھول کر لوگوں کے سامنے رکھ دیا، مولانا کے خطبات کا ایک مجموعہ خطبات رابع کے نام سے مرتب ہو کر شائع ہو چکا ہے۔
*ادبی خدمات*
مولانا بیک وقت اردو و عربی دونوں زبانوں کے ادیب تسلیم کئے گئے، موجودہ زمانے میں جبکہ ادب برائے نام ادب رہ گیا ہے، اور جو کسر باقی تھی مادیت نے اس کی بھی روح نکال کر رکھ دی ہے، اس وقت ایک ایسے ادب کی ضرورت ہے جو مادیت کے اثرات سے خالی اور ادب کے اعلیٰ معیار سے متصف ہو، مولانا کی تحریریں وتقریریں ادب کے سرمایہ میں ایک قیمتی اضافہ تھیں، خاص طور پر مولانا نے اپنی کتاب ’’منثورات‘‘ کے ذریعہ ثانوی درجات کے طلبہ کے لئے ایک بیش بہا مواد جمع کر دیا ہے، اس میں مولانا نے ان زندہ اور حسین اقتباسات کا انتخاب کیا ، جو زبان کے محاسن اور کلام کی بلاغت کے ساتھ، دینی واخلاقی تربیت کا کام بھی انجام دیتے ہیں، اس میں نثر قدیم کے ساتھ نظم قدیم کے نمونے بھی شامل ہیں، جو طلباء میں عربی ادب کا ذوق پیدا کرنے کے لئے معاون و مددگار ہیں، نیز معلم الانشاء (تیسرا حصہ ) کے ذریعہ طلباء کی ادب عربی کی طرف پیش رفت کرنے اور مختار الشعر (دو حصے ) کے ذریعے طلباء و عربی داں حضرات میں عربی اشعار کا ذوق پیدا کرنے کی قابل مبارکباد کوشش کی ہے۔
*صحافتی خدمات*
موجودہ زمانے میں صحافت کی اہمیت و افادیت سے کون صاحب بصیرت انکار کر سکتا ہے، مولانا نے عصر حاضر کے اسی تقاضے کے پیش نظر ایک پندرہ روزہ عربی صحیفہ ’’الرائد‘‘ جاری کیا، جو۱۹۵۹ء سے آج تک مسلسل شائع ہو رہا ہے، اب تک مولانا ہی اس کی سرپرستی فرما رہے تھے، جس میں مولانا کے قیمتی و وقیع مضامین بھی شائع ہوتے رہتے تھے، اور اب تک ہزاروں مضامین شائع ہو چکے ہیں، جس میں زمانے کی نبض شناسی اور امت کے موجودہ مسائل اور ان کا حل پیش کیا جاتا ہے۔
مولانا ندوۃ العلماء کے پندرہ روزہ رسالہ تعمیر حیات کے سرپرست اعلیٰ بھی تھے، اس میں بھی مولانا کے مضامین شائع ہوتے رہتے تھے، نیز مولانا کے اسفار کی روداد اور تقاریر کا خلاصہ بھی اس میں شائع ہوتا تھا، تعمیر حیات میں شائع شدہ مولانا کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’مجلس تحقیقات و نشریات اسلام ‘‘ لکھنؤسے بعنوان ’’عالم اسلام اور سامراجی نظام ‘‘مرتب ہو کر شائع ہو چکا ہے۔
اس کے علاوہ مولانا اردو کے پرچوں سہ ماہی ’’تعمیرِ افکار ‘‘ماہانہ ’’پیام عرفات‘‘ رائے بریلی، ماہنامہ ’’ ندائے حرم‘‘ احمد آباد گجرات، ندوہ سے شائع ہونے والے انگریزی کے سہ ماہی مجلہ ’’دی فریگرینس آف ایسٹ ‘‘((The Fragrance of east))اور ہندی ماہنامہ ’’سچاراہی ‘‘ کے سرپرست بھی تھے۔
لکھنؤ سے شائع ہونے والے اخبار ’’کاروانِ ادب ‘‘کے بھی آپ ہی ایڈیٹر تھے، اور ماہنامہ ’’ معارف‘‘ اعظم گڑھ کی مجلس ادارت کی رکنیت بھی آپ کو حاصل تھی۔
یہ آپ کی صحافتی خدمات کی ایک جھلک ہے، اس سلسلہ میں مولانا نے جو قربانیاں دی ہیں اس کی تفصیل کے لئے مستقل ایک مضمون درکار ہے۔
*تصنیفی خدمات*
مولانا تصنیفی دنیا میں بھی اپنی مثال آپ تھے، مولانا کی تصنیفات کا مطالعہ متنوع سمتوں میں ہماری رہنمائی کرتا ہے، مولانا نے بہت سے موضوعات پر کتابیں لکھیں، جن میں سیرت، تاریخ، ادب، جغرافیہ وغیرہ قابل ذکر ہیں، مولانا کی تحریریں آسان اسلوب اورشستگی و شگفتگی کا مرقع ہوتی ہیں، مولانا کا مخصوص طرز تحریر ہے جو دل ودماغ دونوں کی راحت کا باعث ہوتا ہے، اسلوب بالکل عام فہم، نفسِ مضمون سنجیدہ اور علمی بیان سادہ ہوتا ہے۔
مولانا کی تصانیف میں سیرت کے موضوع پر معرکۃ الآراء تصنیف ’’رہبر انسانیت ‘‘ہے، جو کئی زبانوں میں منتقل ہو کر منظر عام پر آ چکی ہے، اس کتاب کے متعلق مولا نا سید واضح رشید حسنی ندوی رحمة الله عليه یوں رقم طراز ہیں :
’’سیرت کی اس کتاب میں آپﷺ کی جامع تصویر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس کتاب سے اندازہ ہو گا کہ یورپی مصنفین نے کتنی بہتان تراشی اور کذب بیانی سے کام لیا ہے‘‘۔
اور ایک جگہ اس کتاب کی خصوصیت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
’’کتاب کی زبان سلیس اور استدلال بھی علمی و تحقیقی ہونے کے ساتھ ساتھ عام فہم ہے، اس میں معاندین و مخالفین کے ذہن کو سامنے رکھا گیا ہے، اس کتاب کے ذریعہ مولانا نے مسلمانوں کو تعلیماتِ نبوی اپنانے اور سیرت رسول کو ماڈل بنانے کی دعوت دی ‘‘۔ (مقدمہ رہبر انسانیت)
سیرت کے موضوع پر آپ کی دوسری تصنیف ’’نقوش سیرت ‘‘ہے۔
پروفیسر وصی احمد صدیقی مرحوم اسی کتاب کے صفحہ نمبر ۲۲ پر لکھتے ہیں :
’’پوری کتاب حضور کی اعلیٰ اور پاکیزہ زندگی سے مملو ہے ‘‘۔
اسی طرح مولانا کی جغرافیہ کے موضوع پر مشہور و معروف کتاب ’’جزیرۃ العرب ‘‘ہے، جس میں عربوں کی ثقافتی، حربی، معاشرتی، سماجی زندگی، زبان عربی اور جزیرۃ العرب کے جغرافیہ پر جامعیت کے ساتھ گفتگو کی گئی ، جو کہ جغرافیہ سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ایک نادر و نایاب تحفہ ہے، باوجود خشک موضوع ہونے کے مولانا نے جس اسلوب میں اس کو عام فہم بنا کر پیش کیا ، یہ مولانا کو اللہ کی طرف سے ودیعت کردہ ایک امتیازی خصوصیت ہے۔
مولانا کی تصانیف کی تعداد پچاس سے زیادہ ہے ، جن میں اردو و عربی کی تعداد تقریباً نصف نصف ہے۔
مولانا کی تصانیف کے نام درج ذیل ہیں :
*عربی کتب:*
(۱)الأمۃ الاسلامیۃ ومنجزاتہا، (۲)مقالات فی التربیۃ و المجتمع، (۳)منثورت من أدب العرب، (۴)الأدب العربی بین عرض ونقد، (۵)تاریخ الأدب العربی (العصر الاسلامی)، (۶)الأدب الاسلامی وصلتہ بالحیاۃ، (۷)الأدب الاسلامی فکرتہ ومنھاجہ، (۸)رسائل الأعلام، (۹)معلم الانشائ(تیسرا حصہ)، (۱۰)مختار الشعر (دو حصے )، (۱۱)واقع الثقافۃ الاسلامیۃ، (۱۲)التربیۃ و المجتمع، (۱۳)بین التصوف والحیاۃ، (۱۴)أضواء علی الادب الاسلامی، (۱۵) فی وطن الامام البخاری، (۱۶)العالم الاسلامی الیوم، (۱۷) فی ظلال السیرۃ، (۱۸)الفقہ الاسلامی، (۱۹) حرکۃ ندوۃ العلماء وفکرتھا ومنھاجھا۔
*اردو کتب :*
(۱)دین و ادب، (۲)جغرافیہ جزیرۃ العرب، (۳)حج و مقامات حج، (۴)مقامات مقدسہ، (۵)اسلامی شریعت: ایک محکم قانون اور انسانی زندگی کی ضرورت، (۶)امت مسلمہ :رہبر اور مثالی امت، (۷)امت اسلامیہ اور اس کی ثقافت، (۸)دو مہینے امریکہ میں، (۹)مسلمان اور تعلیم، (۱۰)سماج کی تعلم و تربیت، (۱۱)سمرقند و بخارا کی بازیافت، (۱۲) غبارِ کارواں، (۱۳) حالاتِ حاضرہ اور مسلمان، (۱۴) نقوشِ سیرت، (۱۵)عالم اسلام، اندیشے اور امکانات، (۱۶) مسلم سماج، (۱۷) رہبرِ انسانیت (اردو، ہندی، انگریزی )، (۱۸) قرآن مجید انسانی زندگی کے لئے رہبر کامل (اردو، عربی)۔
ان کے علاوہ اور بھی کئی کتابیں اور سینکڑوں اردو عربی مقالات و مضامین ہیں۔
*مولانا کی امتیازی خصوصیت*
باوجود اس کے کہ مولانا مختلف علمی و تصنیفی میدان میں دسترس رکھتے تھے، اور کسی ایک چیز کو دیکھنے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہی ان کا اصل موضوع ہے، لیکن مولانا کی امتیازی خصوصیت یہ ہے کہ مولانا عربی کے ادیب ونقاد تھے، اس کی سب سے بڑی دلیل مولانا کی کتاب ’’الأدب العربی بین عرض و نقد ‘‘ہے، اس میں مولانا نے مختصر اور جامع انداز میں ادب اور اس کی اقسام، نیز مختلف زبانوں میں ادب کی قسمیں و دیگر چیزوں کو واضح اور سہل انداز میں پیش کیا ہے، جو عربی زبان و ادب کے طلباء کے لئے گراں مایہ تحفہ ہے۔
*مولانا بحیثیت مفکر اسلام*
مولانا جس طرح بحیثیت ناظم ندوۃ العلماء اور اس کے لئے نیز بحیثیت صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ ہندوستانی مسلمانوں کے لئے فکر کرتے تھے، ان کو درپیش مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرتے تھے، اسی طرح بحیثیت مسلمان اور ایک عالم ہونے کے آپ کو ہر وقت عالمی سطح پر پوری امت مسلمہ کی بھی فکر ستاتی رہتی تھی، اس کی واضح مثال آپ کا رابطہ عالم اسلامی سے جڑے رہنا، اور رابطہ ادب اسلامی عالمی کے ذریعہ تمام عالم کے مسلمانوں کو جوڑنا تھا ، اس کے علاوہ آپ کے تعمیر حیات میں شائع شدہ مضامین بھی اس کے شاہد ہیں، ان ہی مضامین کے مجموعہ کی اشاعت کے متعلق عالم اسلامی، خصوصاً عالم عربی پر گہری نظر رکھنے والے، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ کے فائق استاذ جناب مولانا نذر الحفیظ صاحب ندوی ازہری رحمة الله عليه فرماتے ہیں :
’’عالم اسلام اور سامراجی نظام ‘‘حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کے ان مضامین کا مجموعہ ہے، جو انہوں نے عالمِ اسلام خصوصاً عرب ملکوں کے مسائل و مشکلات اور امت مسلمہ کو درپیش خطرات اور چیلنجز، اور مغربی ملکوں کی فکری یورش اور ان کی نسل کشی کی سازشوں کے بارے میں لکھے تھے، چونکہ بیشتر مضامین عرب ملکوں سے متعلق تھے، اس لئے وہ عربی میں براہِ راست لکھے گئے، پھر ان کا ترجمہ ’’تعمیر حیات‘‘ میں شائع ہوا، انھیں مجلس تحقیقات و نشریات اسلام کی طرف سے کتابی شکل میں شائع کیا گیا ، تاکہ برصغیر کے مسلمان عالم اسلام اور عرب ملکوں کو درپیش خطرات سے اچھی طرح واقف ہوں اور ان کا دینی وملی شعور بیدار ہو کہ وہ بھی اس عالمگیر ملت کا جزء ہیں۔
چونکہ یہ مضامین ایک درد مند دل کے قلم سے نکلے ، اور ان کا محرک بھی دینی جذبہ تھا ، اس لئے ایک ایک سطر سے دردو سوز اور عالم اسلام کے سیاسی قائدین کی بے دانشی بلکہ ضمیر فروشی اور ملت کی بے بسی اور بے حسی پر خون کے آنسو بہتے نظر آتے ہیں، اس وقت کے عالم اسلام کی تصویر کشی کا کام خون دل بہانے سے زیادہ مشکل ہے، بلکہ ترجمان حقیقت شیخ سعدی کے الفاظ میں سقوط بغداد پر آسمان بھی اگر خون کے آنسو بہائے تو اس کو یہ حق ہے۔
آسماں راحق بود گر خوں ببارد برز میں برزوال ملک مستعصم امیر المؤمنین
مشہور مؤرخ ابن کثیر ایک سال تک متردد رہے کہ زوالِ بغداد پر کیسے قلم اٹھائیں، لیکن مؤرخین کو ایسے دشوار گزار بلکہ دل گداز سانحوں کے بارے میں بھی دل پر پتھر رکھ کر لکھنا پڑا، مگر اس دور میں قلم اٹھانا تو خون دل بہانے سے زیادہ مشکل اور خطرناک ہے، بڑے سے بڑے مؤرخ اور تجزیہ نگار کے لئے یہ سمجھنا انتہائی مشکل ہے کہ اس صورت حال کی توجیہ کیا کرے، جب استعماری طاقتوں کا قبضہ مسلم ملکوں پر تھا تب تو استعمار کو برا کہنا اور مسلمانوں کی مظلومیت کی داستان بیان کرنا آسان تھا، اب جبکہ برسوں سے یہ ممالک آزاد ہو گئے اور دینی، سیاسی و اقتصادی اور تہذیبی ترقی میں رکاوٹ نہیں رہی، پھر ان کے پاس مادی و روحانی ترقی کے وہ سارے وسائل ہیں جو دشمنوں کے پاس نہیں، اس کے باوجود بھی مسلمان کیوں استعماری طاقتوں کی چیرہ دستی اور تہذیبی غلامی اور اعتقادی ارتداد کے شکار ہیں ؟ یہ تمام مسلم ممالک آزاد ہیں اور مسلمان ہی حکمراں ہیں، لیکن وہ اپنے دشمنوں سے نبرد آزما ہونے کے بجائے برادر کشی میں اپنی تمام توانائیاں صرف کر رہے ہیں، ترقی کے کمال سے لے کر جمال تک اور صدام سے حسنی مبارک تک اور بورقیبہ سے لے کر زین العابدین بن علی تک کے جائزے سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ استعماری طاقتوں نے مسلمان ملکوں پر وفادار ایجنٹوں کو مسلط کر دیا ہے، ہر روز نت نئی مشکلات سامنے آ رہی ہیں، عالم اسلام کی آزادی پر نصف صدی گزرنے کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ اسلامی دنیا کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے ؟ ‘‘
آگے لکھتے ہیں :
’’مولانا نے اس کتاب میں سب سے پہلے مسلمان ملکوں کی سنگین صورت حال کا جائزہ لے کر بتایا کہ امت اسلامیہ کا اصل ناسور کیا ہے، مغربی استعمار نے کس طرح فکری اور تہذیبی طور پر اسلامی معاشرہ کے شیرازہ کو بکھیر کر رکھ دیا ہے، لیکن ہمارا المیہ یہ ہے کہ نصف صدی ہماری آزادی پر گزرنے کے باوجود ہم ابھی تک بیدار تو کیا ہوتے مغربی احکام کے مسلط کئے ہوئے حکام کے شکنجے سے آزاد نہیں ہوئے، جاپان و چین اور ہندوستان نے پچاس سال کے عرصہ میں صنعت وسائنس کے میدان میں زبردست ترقی کی ہے، جاپان تو اپنی صنعتی ترقی کی وجہ سے خود سپر پاور امریکہ کو چیلنج دے رہا ہے، لیکن ہم تمام وسائل کا خود اپنے ہی ملک کے باشندوں کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، اس کے بنیادی اسباب کی نشاندہی کرتے ہوئے مصنف نے بتایا کہ اصل میں مستشرقین نے عالم اسلام کو تباہ و برباد کرنے کا جو منصوبہ بنایا تھا اس کے سہارے استعماری طاقتیں کامیاب رہیں، آج سے ایک صدی پہلے ان کا منصوبہ تھا کہ سب سے پہلے مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دیا جائے، وہ انھوں نے خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے پورا کیا، پھر انھوں نے یہ طے کیا کہ مسلمانوں کو سائنسی، صنعتی میدانوں میں ترقی نہیں کرنے دیں گے، تاکہ وہ ہمیشہ مغربی ملکوں کے دست نگر رہیں، اسرائیل کے خنجر کو عرب ملکوں کے قلب میں گاڑ کر ہمیشہ ان کی طاقت کو کمزور کرتے رہیں گے، تیسری طرف صحیح آزادی سے ان کو محروم کر کے اپنے تیار کردہ حاکموں کو بطور ڈکٹیٹر ان پر مسلط کیا جائے گا، دینی بنیادوں پر جماعتوں کے قیام کو روکا جائے گا، ان کے اندر انتشار و اختلاف کو ابھارا جائے گا، ان مقاصد کو استعماری طاقتوں نے کس طرح بروئے کار لانے کی کوشش کی، اس کا اندازہ کمال سے جمال تک اور قذافی سے صدام تک کے ڈکٹیٹرس کی پھیلائی ہوئی تباہی سے ہوتا ہے، استعماری طاقتوں نے اگرچہ سیاسی آزادی مسلمان ملکوں کو دے دی، لیکن ان کا مجرمانہ کردار نام نہاد مسلم حکمراں ادا کرتے رہے، اس کے نتیجہ میں اسرائیل کا ناسور پیدا ہوا، ہم بیت المقدس سے محروم ہوئے، گولان جیسا بہترین دفاعی قلعہ ہم نے دشمنوں کے حوالہ کر دیا، بلکہ اب تو ہم نے اپنا دفاعی نظام بھی اس کے حوالے کر دیا ہے، اس سے بڑا المیہ یہ ہے کہ ہماری تعلیم و تربیت کا نظام جو ہمارا آخری محاذ تھا اس کو بھی ہم نے دشمنوں کے قبضے میں دے دیا ہے، یہ سب باتیں اگرچہ دل شکن بلکہ ہمت شکن ہیں، لیکن مصنف اسلامی تاریخ میں پیش آنے والے حوادث سے قرآن مجید کی روشنی میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ یہ کوئی نیا واقعہ نہیں ہے، یہ ہوتا آیا ہے۔
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفوی سے شرارِ بولہبی
اس تاریک صورت حال سے مصنف مایوس نہیں، بلکہ پر امید تھے ، سب سے پہلے وہ اس جائزہ میں ترکی کی اسلامی بیداری پر روشنی ڈالتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ جس ملک کو استعماری طاقتوں نے مرد بیمار کہا تھا اور جس کو کمال نے ٹھکانے لگانے میں کوئی کسر نہیں رکھی تھی، وہ پھر بیدار ہو رہا ہے، اور یہ بیداری صرف ترکی تک نہیں، پورے عالم اسلام تک پھیل گئی ہے، یہ بات خوش کن ہے، لیکن اس کے ساتھ ہماری ذمہ داریاں اور تقاضے بھی ہیں، مغرب نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جو زبردست پروپیگنڈہ کر رکھا ہے اور مسلسل کر رہا ہے اس کے ازالہ کے لئے ہم کو کیا کرنا چاہئے ؟ مولانا نے چونکہ مشرق و مغرب کو بہت قریب سے دیکھا ہے اور وہاں کی سیاسی و دینی تحریکات سے ان کی واقفیت بڑی گہری تھی، وہ خود ’’ندوہ‘‘جیسی تحریک کے ذمہ دار اور ہندوستانی مسلمانوں کی معتبر تنظیم آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے سربراہ بھی تھے، عالم عربی سے گھر کی طرح واقف تھے، اس لئے وہ اپنی جچی تلی رائے بھی رکھتے تھے، ان کے نزدیک عالم اسلام کی قیادت کے لئے سیاست وقیادت کے امتزاج کی ضرورت ہے، مولانا قرآن مجید اور تاریخ کے مطالعہ سے یہ نتیجہ نکالتے تھے کہ پچھلے پچاس برسوں میں امت اسلامی نے اپنی نفسیاتی اورانسانی طاقت کا ایک ایسا جزء گنوایا ہے، جو ان کے ماضی کی تاریخ کے تمام ادوار میں ان کے پاس محفوظ رہا تھا، ان کی طاقت کا یہی جزء ان کی عظیم طاقت کی بنیاد اور کلید تھی، جس کے ذریعہ وہ ہر باہری حملہ کا مقابلہ کرتی تھی، اسی گم شدہ طاقت کو پھر سامنے لانے کی ضرورت ہے، اور اس کے آثار پائے جاتے ہیں اور امت کے عروج و زوال کی تاریخ کے مطالعہ پر اس کی پوری توقع کی جانی چاہئے۔
اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی اعتدال و توازن اور حقیقت پسندی اور ہر دور میں اسلام کی قیادت کی صلاحیت پر غیر متزلزل یقین ہے، اس کی بنیاد قرآن مجید، سیرت نبوی اور تاریخ کا گہرا مطالعہ ہے، اس میں عالم اسلام اور یورپ و امریکہ کے قریبی مشاہدہ کو بھی بڑا دخل ہے، ان کو یہ موقع مفکر اسلام حضرت مولانا ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی معیت میں ملا، اس کتاب میں سیرت کے گہرے مطالعہ کا عکس ہر ہر سطر میں ملے گا، اسی لئے امت مسلمہ کے ہر قضیہ کو انھوں نے دینی و اخلاقی نقطۂ نظر سے دیکھا ، اور اسی کسوٹی پر حوادث کو پرکھنے کی کوشش کی ، انسانی دنیا پر صرف مسلمان ہی وہ امت ہے جس کے دین کی خصوصیت احتساب کائنات اور سیادت و قیادت ہے، جب بھی مسلمان اس منصب سے ہٹے تو پوری انسانیت کے لئے خطرہ پیدا ہو گیا، اور ان کو برابر یہ سمجھنا چاہئے کہ یہ ذمہ داری ان کو انجام دینی ہے، اور اللہ تعالیٰ کی مدد کی پوری امید رکھنی چاہئے۔
۱۱ ستمبر کے بعد پوری دنیا میں جس طرح اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کے ساتھ مختلف طریقوں سے ان کی معنوی قوت کو کمزور کرنے اور ان کی ہمتوں کو توڑنے کی سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے، تاکہ مسلمان اپنے دین و مذہب سے مایوس و متنفر ہو جائیں اور جو غیر مسلم دین اسلام کو قبول کر رہے ہیں، ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی جائیں، اس کتاب کے مطالعہ سے انشاء اللہ یہ مایوسی دور ہو گی اور نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لئے مستقبل درخشاں اور تاباں نظر آئے گا۔
امید ہے یہ کتاب بیاباں کی شب تاریک میں قندیل رہبانی کا کام دے گی ‘‘۔ (مقدمہ عالم اسلام اور سامراجی نظام )
*اسفار*
سفر ہر زمانہ میں افادہ واستفادہ کا ایک اہم ذریعہ رہا ہے۔ پچھلے زمانہ میں جبکہ سفر کی موجودہ سہولیات معدوم تھیں، اس کے باوجود لوگ افادہ واستفادہ کے خاطر دور دراز کا سفر طے کرتے، مشقتیں برداشت کرتے، اس زمانہ میں سہولیات کی فراوانی کی بناء پر سفر زندگی کا جزء لاینفک بن کر رہ گیا ہے، اور مقاصد کی براری کا ایک مفید و مؤثر ذریعہ بھی ہے، مولانا نے اندرون ملک و بیرون ملک بہت سے علاقوں کے اسفار کئے، بیرونی ممالک میں اکثر ممالک اسلامیہ عربیہ، نیز بلاد یورپ و امریکہ، مشرق بعید جاپان، ملیشیا، افریقہ میں مراکش، مصر، تیونس، الجزائر، جنوبی افریقہ، پاکستان، بنگلہ دیش، متحدہ عرب امارات وغیرہ شامل ہیں، وہاں کی علمی و ادبی کانفرسوں میں شرکت کی اور مقالے پیش کئے۔
*عہدے و مناصب*
۱)ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ۔
۲)صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ۔
۳)نائب صدر عالمی رابطہ ادب اسلامی۔
۴)صدر مجلس تحقیقات و نشریات، لکھنؤ۔
۵)صدر دینی تعلیمی کونسل اتر پردیش، لکھنؤ۔
۶) صدر دار عرفات، رائے بریلی۔
۷) رکن تاسیسی رابطہ عالم اسلامی، مکہ مکرمہ۔
۸) رکن دار المصنفین اعظم گڑھ۔
۹) ٹرسٹی آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز، آکسفورڈ یونیورسٹی، برطانیہ۔
۱۰) سرپرست مولانا محمد ثانی حسنی میموریل سوسائٹی، رائے بریلی۔
۱۱) صدر مولانا عبدالباری سوسائٹی، لکھنؤ۔
۱۲) رکن مولانا ابوالکلام آزاد اکیڈمی، لکھنؤ۔
۱۳) سرپرست تحریک پیام انسانیت۔
۱۴) سرپرست مولانا ابوالحسن علی ندوی اکیڈمی، بھٹکل، کرناٹک۔
۱۵) سرپرست جامعہ اسلامیہ بھٹکل، کاروار، کرناٹک۔
*مولانا اور ندوۃ العلماء*
ندوۃ العلماء سے مولانا کا تعلق خاندانی بھی تھا اور ذاتی بھی، خاندانی اس طور پر کہ روزِ اول سے مولانا کے خاندان کے افراد اس تحریک سے وابستہ رہے اور اس کے اہم مناصب پر فائز رہ کر اس کے لئے قربانیاں دیں، اور ذاتی اس طور پر کہ مولانا نے یہیں تعلیم حاصل کی، ابتدائے وقت سے اب تک تدریسی خدمات انجام دیتے رہے، نیز مختلف حیثیتوں سے اس کی انتظامیہ میں شریک رہے، اور بحیثیت ناظم پوری ذمہ داری بحسن وخوبی انجام دے رہے تھے۔
اس سلسلے میں ڈاکٹر مسعود الحسن عثمانی صاحب (جنرل سکریٹری دینی تعلیمی کونسل، یوپی) لکھتے ہیں :
’’دارالعلوم ندوۃ العلماء کی شناخت محض ایک تعلیمی ادارہ کی نہیں ہے، اور خدا نہ کرے کہ مستقبل میں اس کی یہ پہچان بنے، اس کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اس وقت مدارس کے درمیان گل سر سبد ہے، وہ ایک تحریک اور فکری مرکز ہے، اس کے قیام کے ابتدائی تصور میں بھی یہ بات شامل تھی، اور الحمد للہ صدیوں کی علمی مسافت طے کرنے کے بعد آج بھی وہ اسی صراطِ مستقیم پر گامزن ہے، علم کا ایک مخصوص چشمۂ فیض ہے جو دل و نگاہ ونفس کی آبیاری کا فریضہ انجام دے رہا ہے، مفکر اسلام حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ کی شخصیت، ان کے مزاج اور طرزِ عمل، ان کی علمی عظمت اور ملک و ملت کے تعلق سے بین الاقوامی سطح پر ان کی فکری بلندی نے ندوہ کی تحریک و امتیاز میں چار چاند لگائے اور یہ ادارہ اپنی مقبولیت کے اعتبار سے برصغیر کی فضاؤں سے نکل کر عالمی سطح پر عرب و عجم کی توجہ کا مرکز بن گیا۔
مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی صاحب رحمة الله عليه اس وقت اس کی فکری وراثت کے امین اور ایک جہاندیدہ، مخلص، صاحبِ بصیرت محافظ کی حیثیت سے علمی اور دینی حلقوں میں محبوب و مقبول تھے ، مولانا علی میاںؒ کی شخصیت کا ایک خوبصورت عکس جمیل، ان کے فکری توازن، تواضع اور انکسار و محبت، روا داری اور مروت، طرزِ گفتگو کا دلنشیں انداز و اظہار اس بات کی علامت تھا کہ وہ مولانا علی میاںؒ اور ندوۃ العلماء کی تحریک و دعوت دونوں کے بہترین ترجمان اور اس پورے اثاثے کے ذمہ دار و نگہبان تھے ‘‘۔ (حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی: ایک عہد ساز شخصیت)
*وفات*
بروز جمعرات بتاریخ 21/ رمضان المبارک 1444ھ مطابق 13/ اپریل 2023ء
٭٭٭
*مزید تفصیلات کے لئے*
(۱)حضرت مولانا سید محمد رابع حسنی: ایک عہد ساز شخصیت (مضامین کا مجموعہ)
(۲) مولانا محمود حسنی ندوی رحمة الله عليه کی تحریریں اور زبانی معلومات۔
(۳) مولانا کی تصنیفات اور ان پر لکھے گئے مقدمات۔
٭٭٭
*روشن چراغ، ص: 56 - 76*
کاپی ۔

اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت۔نوجوان مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنھیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک ...
09/04/2023

اولاد کی ظاہری وباطنی تربیت۔

نوجوان مستقبل میں قوم کے معمار ہوتے ہیں، اگر اُنھیں صحیح تربیت دی جائے تو اس کا مطلب ہے ایک اچھے اور مضبوط معاشرے کے لیے ایک صحیح بنیاد ڈال دی گئی۔بچوں کی اچھی تربیت سے ایک مثالی معاشرہ وجود میں آتا ہے؛ اس لیے کہ ایک اچھا پودا ہی مستقبل میں تناور درخت بن سکتا ہے۔

بچپن کی تربیت نقش علی الحجرکی طرح ہوتی ہے، بچپن میں ہی اگر بچہ کی صحیح دینی واخلاقی تربیت اور اصلاح کی جائے توبڑے ہونے کے بعد بھی وہ ان پر عمل پیرا رہے گا۔ اس کے برخلاف اگر درست طریقہ سے ان کی تربیت نہ کی گئی تو بلوغت کے بعد ان سے بھلائی کی زیادہ توقع نہیں کی جاسکتی، نیزبلوغت کے بعد وہ جن برے اخلاق واعمال کا مرتکب ہوگا، اس کے ذمہ دار اور قصور وار والدین ہی ہوں گے، جنہوں نے ابتدا سے ہی ان کی صحیح رہنمائی نہیں کی۔نیز! اولاد کی اچھی اور دینی تربیت دنیا میں والدین کے لیے نیک نامی کا باعث اور آخرت میں کامیابی کا سبب ہے؛ جب کہ نافرمان وبے تربیت اولاد دنیا میں بھی والدین کے لیے وبالِ جان ہو گی اور آخرت میں بھی رسوائی کا سبب بنے گی۔

لفظِ ”تربیت“ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ ہے، اس لفظ کے تحت افراد کی تربیت، خاندان کی تربیت، معاشرہ اور سوسائٹی کی تربیت، پھر ان قسموں میں بہت سی ذیلی اقسام داخل ہیں۔ ان سب اقسام کی تربیت کا اصل مقصد وغرض‘ عمدہ، پاکیزہ، بااخلاق اور باکردار معاشرہ کا قیام ہے۔ تربیت ِ اولاد بھی اُنھیں اقسام میں سے ایک اہم قسم ہے۔

آسان الفاظ میں ”تربیت“ کی تعریف یوں کی جاسکتی ہے کہ:” برے اخلاق وعادات اور غلط ماحول کو اچھے اخلاق وعادات اور ایک صالح ،پاکیزہ ماحول سے تبدیل کرنے کا نام ”تربیت“ ہے۔ “

تربیت کی قسمیں:

تربیت دو قسم کی ہوتی ہے:
(۱)ظاہری تربیت،(۲)باطنی تربیت۔

ظاہری اعتبار سے تربیت میں اولاد کی ظاہری وضع قطع، لباس، کھانے، پینے، نشست وبرخاست، میل جول ،اس کے دوست واحباب اور تعلقات و مشاغل کو نظر میں رکھنا،اس کے تعلیمی کوائف کی جانکاری اور بلوغت کے بعد ان کے ذرائع معاش کی نگرانی وغیرہ امور شامل ہیں، یہ تمام امور اولاد کی ظاہری تربیت میں داخل ہیں۔اور باطنی تربیت سے مراد اُن کے عقیدہ اور اخلاق کی اصلاح ودرستگی ہے۔

اولاد کی ظاہری اور باطنی دونوں قسم کی تربیت والدین کے ذمہ فرض ہے۔ ماں باپ کے دل میں اپنی اولاد کے لیے بے حد رحمت وشفقت کا فطری جذبہ اور احساس پایا جاتا ہے۔ یہی پدری ومادری فطری جذبات واحساسات ہی ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال، تربیت اور اُن کی ضروریات کی کفالت پر اُنھیں اُبھارتے ہیں۔ماں باپ کے دل میں یہ جذبات راسخ ہوں اور ساتھ ساتھ اپنی دینی ذمہ داریوں کا بھی احساس ہو تو وہ اپنے فرائض اور ذمہ داریاں احسن طریقہ سے اخلاص کے ساتھ پوری کرسکتے ہیں۔

قرآن مجید اور احادیث نبویہ میں اولاد کی تربیت کے بارے میں واضح ارشادات موجود ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

” قُوْا أَنْفُسَکُمْ وَأَھْلِیْکُمْ نَارًا وَّقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ“․(التحریم:۶)

ترجمہ:”اپنے آپ کو اور اپنی اولاد کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں“۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اس آیت کی تفسیر وتشریح میں فرمایا کہ:

”علموھم وأدِّبوھم“․

ترجمہ:”ان (اپنی ولاد )کو تعلیم دو اور ان کو ادب سکھاؤ“۔

فقہاء کرام نے لکھا ہے کہ ہر شخص پر فرض ہے کہ اپنے بیوی بچوں کو فرائض شرعیہ اور حلال وحرام کے احکام کی تعلیم دے اور اس پر عمل کرانے کے لیے کوشش کرے۔

اولاد کی تربیت کی اہمیت کا اندازہ ان احادیث سے بھی ہوتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

۱- ”مَانَحَلَ والدٌ أفضلَ مِنْ أدبٍ حسنٍ“․ (بخاری، جلد:۱،ص:۴۲۲)

ترجمہ:”کوئی باپ اپنی اولاد کو اس سے بہتر عطیہ نہیں دے سکتا کہ اس کو اچھے آداب سکھادے“۔

یعنی اچھی تربیت کرنا اور اچھے آداب سکھانا اولاد کے لیے سب سے بہترین عطیہ ہے۔

۲- ”عن ابن عباس․․․․․․قالوا: یارسول اللہ! قد علمنا ما حق الوالد فماحق الولد؟ قال: أن یحسن اسمہ ویحسن أدبہ“․ (سنن بیہقی)

ترجمہ:”حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، صحابہٴ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یارسول اللہ! والدین کے حقوق تو ہم نے جان لیے، اولاد کے کیا حقوق ہیں؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ اس کا نام اچھا رکھے اور اس کی اچھی تربیت کرے “۔

۳- ”یہ بہت بڑا گناہ ہے کہ انسان جن کا ذمہ دارورکھوالا ہے، اُنھیں ضائع کردے، ان کی تربیت نہ کرے“۔

یہ بھی ضائع کرنا ہے کہ بچوں کو یونہی چھوڑدینا کہ وہ بھٹکتے پھریں، صحیح راستہ سے ہٹ جائیں، ان کے عقائد واخلاق برباد ہوجائیں۔نیز اسلام کی نظر میں ناواقفیت کوئی عذر نہیں ہے، بچوں کی تربیت کے سلسلہ میں جن امور کا جاننا ضروری ہے، اُس میں کوتاہی کرنا قیامت کی باز پرس سے نہیں بچا سکتا۔

حضرت عبد اللہ بن عمررضی اللہ عنہ کا ارشاد ہے:

”اپنی اولاد کوادب سکھلاوٴ، قیامت والے دن تم سے تمہاری اولاد کے بارے میں پوچھا جائے گاکہ تم نے اسے کیا ادب سکھلایا؟ اور کس علم کی تعلیم دی؟۔“ (شعب الإیمان للبیہقی)

بچوں کی حوصلہ افزائی۔

بچہ نرم گیلی مٹی کی طرح ہوتا ہے، ہم اس سے جس طرح پیش آئیں گے، اس کی شکل ویسی ہی بن جائے گی۔بچہ اگر کوئی اچھا کام کرے تو اس کی حوصلہ افزائی کے لیے اس کی تعریف سے دریغ نہیں کرنا چاہیے اور اس پر اُسے شاباش اورکوئی ایسا تحفہ وغیرہ دینا چاہیے جس سے بچہ خوش ہوجائے اور آئندہ بھی اچھے کام کا جذبہ اور شوق اس کے دل میں پیدا ہوجائے۔

بچوں کی غلطی پرتنبیہ کا حکیمانہ انداز۔

بچوں کو کسی غلط کام پر باربار اور مسلسل ٹوکنا اُن کی طبیعت میں غلط چیز راسخ ہونے سے حفاظت کا سبب بنتا ہے،جس سے اگر غفلت نہ برتی گئی تو اس میں شک نہیں کہ بچوں اور بچیوں میں غلط افکار جڑپکڑنے سے پہلے کامل طریقہ سے ان کی بیخ کنی ہوگی ۔بچے سے خطا ہوجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے، غلطی تو بڑوں سے بھی ہوجاتی ہے۔ ماحول کا بچوں پر اثر ہوتا ہے، ممکن ہے کہ غلط ماحول کی وجہ سے بچہ کوئی غلطی کربیٹھے، تو اس صورت حال کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے کہ بچے سے غلطی کس سبب سے ہوئی؟ اسی اعتبار سے اسے سمجھایا جائے۔تربیت میں میانہ روی اور اعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، مربی کو اس بات سے باخبر ہونا چاہیے کہ اس وقت بچہ کے لیے نصیحت کارگر ہے یا سزا؟ تو جہاں جس قدر سختی اور نرمی کی ضرورت ہو اسی قدر کی جائے۔ بہت زیادہ سختی اور بہت زیادہ نرمی بھی بعض اوقات بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔

تربیت میں تدریجی انداز اختیار کرنا چاہیے؛ چنانچہ غلطی پر تنبیہ کی ترتیب یوں ہونی چاہیے : ۱-سمجھانا۔۲-ڈانٹ ڈپٹ کرنا۔۳-مارکے علاوہ کوئی سزا دینا۔۴-مارنا۔۵- قطع تعلق کرنا۔ یعنی غلطی ہوجانے پر بچوں کی تربیت حکمت کے ساتھ کی جائے، اگر پہلی مرتبہ غلطی ہو تو اولاً اُسے اشاروں اور کنایوں سے سمجھایا جائے، صراحةً برائی کا ذکر کرنا ضروری نہیں۔ اگربچہ بار بار ایک ہی غلطی کرتا ہے تو اس کے دل میں یہ بات بٹھائیں کہ اگر دوبارہ ایسا کیا تو اس کے ساتھ سختی برتی جائے گی، اس وقت بھی ڈانٹ ڈپٹ کی ضرورت نہیں ہے، نصیحت اور پیار سے اُسے غلطی کا احساس دلایاجائے ۔

پیارومحبت سے بچوں کی تربیت واصلاح کا ایک واقعہ حضرت عمر بن ابی سلمہ سے منقول ہے، فرماتے ہیں کہ میں بچپن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زیرتربیت اور زیرکفالت تھا، میرا ہاتھ کھانے کے برتن میں اِدھر اُدھر گھوم رہا تھا، یہ دیکھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ”یا غلامُ سَمِّ اللہ! وکل بیمینک وکل ممایلیک“ ․․․․”اے لڑکے! اللہ کا نام لے کر کھانا شروع کرو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور اپنی طرف سے کھاؤ۔“

اگر نصیحت اور آرام سے سمجھانے کے بعد بھی بچہ غلطی کرے تو اُسے تنہائی میں ڈانٹا جائے اور اس کام کی برائی بتائی جائے اور آئندہ ایسا نہ کرنے کو کہا جائے۔ پھر بھی اگر باز نہ آئے تو تھوڑی پٹائی بھی کی جاسکتی ہے۔ تربیت کے یہ طریقے نوعمر بچوں کے لیے ہیں؛لیکن بلوغت کے بعد تربیت کے طریقے مختلف ہیں، اگر اس وقت نصیحت سے نہ سمجھے تو جب تک وہ اپنی برائی سے باز نہ آئے اس سے قطع تعلق بھی کیا جاسکتا ہے، جو شرعاً درست ہے اور کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہمکے عمل سے ثابت ہے۔ حضرت عبداللہ بن مغفل کے ایک رشتہ دار تھے جو ابھی بالغ نہ ہوئے تھے، انھوں نے کنکر پھینکا تو حضرت عبداللہ نے منع کیا اور فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکر مارنے سے منع فرمایا ہے اور فرمایا ہے کہ: ”إنّھا لاتصید صیدًا“ اس سے کوئی جانور شکار نہیں ہوسکتا، اس نے پھر کنکر پھینکا تو انھوں نے غصہ سے فرمایا کہ میں تمہیں بتلارہا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور تم پھر دوبارہ ایسا ہی کررہے ہو؟ میں تم سے ہرگز بات نہیں کروں گا۔اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر نے بھی اپنے بیٹے سے ایک موقع سے قطع تعلق کیا تھا اور مرتے دم تک اس سے بات نہ کی۔

بچوں کو ڈانٹنے اور مارنے کی حد ،

بچوں کی تربیت کے لیے ماں باپ یا استادکااُنھیں تھوڑابہت، ہلکا پھلکا مارنا نہ صرف یہ کہ جائز ہے؛بلکہ بعض اوقات ضروری ہوجاتا ہے۔اس معاملہ میں افراط وتفریط کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ غصہ میں بے قابو ہوجانا اور حد سے زیادہ مارنایا بچوں کے مارنے ہی کو غلط سمجھنا دونوں باتیں غلط ہیں۔ پہلی صورت میں افراط ہے اور دوسری میں تفریط ہے۔اعتدال کا راستہ وہ ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا کہ”اپنے بچوں کو نماز کا حکم دو؛ جب کہ وہ سات سال کے ہوجائیں اور ان کو نماز نہ پڑھنے پر مارو؛ جب کہ وہ دس سال کے ہوجائیں“۔ (مشکوٰة) اس حدیث سے مناسب موقع پر حسبِ ضرورت مارنے کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔

مارنے میں اس بات کا بھی خیال رکھا جائے کہ اس حد تک نہ ماراجائے کہ جسم پر مار کا نشان پڑجائے۔ نیز جس وقت غصہ آرہا ہو، اس وقت بھی نہ مارا جائے؛ بلکہ بعد میں جب غصہ ٹھنڈا ہوجائے تو اس وقت مصنوعی غصہ ظاہر کرکے ماراجائے؛کیونکہ طبعی غصہ کے وقت مارنے میں حد سے تجاوز کرجانے کا خطرہ ہوتا ہے اور مصنوعی غصہ میں یہ خطرہ نہیں ہوتا، مقصد بھی حاصل ہوجاتا ہے اور تجاوز بھی نہیں ہوتا۔

لڑکوں کو لڑکیوں پر ترجیح دینا گناہ ہے ۔

اولاد اللہ تعالیٰ کی بیش بہا نعمت اورتحفہ ہے،خواہ لڑکا ہو یا لڑکی۔اسلامی تعلیمات کی رو سے بچوں پر رحم وشفقت کے معاملہ میں مذکر ومؤنث میں کوئی تفریق نہیں ہے۔ جو والدین لڑکے کی بہ نسبت لڑکی سے امتیازی سلوک کرتے ہیں، وہ جاہلیت کی پرانی برائی میں مبتلا ہیں، اس طرح کی سوچ اور عمل کا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے؛ بلکہ دینی اعتبار سے تو اس پر سخت وعید یں وارد ہوئی ہیں۔ لڑکی کو کمتر سمجھنے والا درحقیقت اللہ تعالیٰ کے اس فیصلے سے ناخوشی کا اظہار کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اُسے لڑکی دے کر کیا ہے، ایسے آدمی کو سمجھ لینا چاہیے کہ وہ تو کیا پوری دنیا بھی مل کراللہ تعالیٰ کے اس اٹل فیصلہ کو تبدیل نہیں کرسکتی۔یہ درحقیقت زمانہٴ جاہلیت کی فرسودہ اورقبیح سوچ ہے، جس کو ختم کرنے کے لیے رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے والدین اور تربیت کرنے والوں کو لڑکیوں کے ساتھ اچھے برتاؤاوران کی ضروریات کا خیال رکھنے کی باربار نصیحت کی۔

اولاد کے درمیان برابری اور عدل ۔

ابوداؤد شریف میں حضرت نعمان بن بشیر  کی حدیث ہے:

”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم اعدلوا بین أبنائکم“․(ابوداؤد،جلد:۲،ص:۱۴۴)

ترجمہ:”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو، اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو،اپنی اولاد کے درمیان برابری کرو“۔

مطلب یہ ہے کہ ظاہری تقسیم کے اعتبار سے سب بچوں میں برابری کرنی چاہیے؛کیونکہ اگر برابری نہ ہو تو بچوں کی دل شکنی ہوتی ہے۔ہاں! فطری طور پر کسی بچے سے دلی طور پر زیادہ محبت ہو تواس پر کوئی پکڑ نہیں؛بشرطیکہ ظاہری طور پر برابری رکھے۔ حدیث میں تین بارمکرر برابری کی تاکیدآئی ہے جو اس کے واجب ہونے پر دلالت کرتی ہے، یعنی اولاد کے درمیان برابری کرنا واجب ہے، اور برابری نہ کرنا ظلم شمار ہوگا۔اور اس کا خیال نہ رکھنا اولاد میں احساسِ کمتری اور باغیانہ سوچ کو جنم دیتا ہے، جس کے بعد بھیانک نتائج سامنے آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ تمام مسلمان والدین کو اپنی اولاد سے متعلق ذمہ داریاں احسن طریقہ سے نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
#رمضان

Address

Delhi

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mushtaq Ahmad posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mushtaq Ahmad:

Share