Noori Digital Studio

Noori Digital Studio Noori Digital Studio

08/12/2024

Sajjad Alam Razavi Sitamarhi | Islam Me Aurton Ki Ezzat | The position of women in Islam

مفتی سلمان ازھری صاحب کے ساتھ حکومت کا غیرمنصفانہ سلوک۔✍️✍️✍️تحریر: عرفان احمد ازہریIrfan Azhari رواں سال 2024 میں فروری...
23/02/2024

مفتی سلمان ازھری صاحب کے ساتھ حکومت کا غیرمنصفانہ سلوک۔

✍️✍️✍️تحریر: عرفان احمد ازہری
Irfan Azhari
رواں سال 2024 میں فروری کے پہلے ہفتے میں مفتی صاحب پر جب گجرات کے جونا گڑھ میں ایف آئی آر کے خبر ملی تو ذہن میں اسی وقت ایک سوال ابھرا تھا کہ مفتی صاحب کی تقریریں تو پورے ملک میں گزشتہ دو سالوں سے ہو رہی ہیں، گستاخ لعین یتی نرسمہانند کو للکارنے کے بعد ملنے والی شہرت نے مفتی سلمان ازہری صاحب کو ملک کا سب سے مقبول اور مصروف خطیب بنا دیا تھا۔ پورے ملک میں تقریریں سوشل میڈیا پر آن ریکارڈ ہونے کے باوجود ان پر مقدمہ صوبہ گجرات میں ہی کیوں درج کیا گیا؟ در اصل مفتی صاحب آر ایس ایس کے دماغوں کی منظم طور پر رچی ہوئی سازش کے شکار ہوئے کیوں کہ یتی نرسمہانند کو مباہلہ کے لیے للکارنے کے بعد انتہاپسندوں کو عوامی سطح پر شرمندگی اور فکری ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ مفتی صاحب پر لگایا گیا ایکٹ مرکزی ایکٹ نہیں ہے بل کہ صوبہ گجرات کا ایکٹ ہے جو صوبہ گجرات میں ہی نافذ ہو سکتا ہے۔
مفتی سلمان ازہری پر لگے PASA ایکٹ کے بارے میں اس ایکٹ کی تفصیلات سے آپ سمجھ سکتے ہیں کہ مفتی سلمان ازہری صاحب کو گجرات انتظامیہ نے کس طرح قانون سے کھلواڑ کرتے ہوئے قانونی حراست میں لیا ہے۔
یہ ایکٹ پورے ریاست گجرات سے تعلق رکھتا ہے، اس کو Gujrat Prevention of Anti Social Activities کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اردو میں اس کو "غیر سماجی سرگرمیوں کے خلاف احتیاطی قانون" سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ ریاست گجرات میں اس ایکٹ کو 27 مئی 1985 کو منظوری ملی۔
جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے یہ قانون غیر سماجی عناصر کی تخریبی کاروائیوں پر نکیل ڈالنے کے لیے بنایا گیا تھا جس کا مقصد شراب کا ناجائز کاروبار، منشیات کی پیداوار اور خرید وفروخت، غیرقانونی تعمیرات، غیر قانونی قبضہ اور ٹریفک قوانین کو توڑنے والے عادی مجرموں، اور مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث رہنے والے گروہوں سے تعلق رکھنے والے مجرموں کی مجرمانہ سرگرمی پر لگام لگانا تھا۔
پاسا ایکٹ کے تحت کسی بھی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے اس کے خلاف آئی پی سی اور دیگر ایکٹ کے تحت تین مقدمات درج کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد تھانہ انچارج فائل کو منظوری کے لیے کلکٹر کے پاس بھیجتا ہے۔ وہاں سے اطمینان حاصل کرنے کے بعد ملزم کو پاسا ایکٹ کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے۔ گرفتاری کے بعد تین ماہ سے ایک سال کی مدت تک حراست میں رکھا جاسکتا ہے۔
تصور کریں، PASAA ایکٹ کے تحت، خطرناک مجرموں، غیر قانونی شراب فروشوں، منشیات کے مجرموں، ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والوں اور جائیدادوں پر قبضہ کرنے والے جیسے سماج دشمن عناصر کو ان کی خطرناک سرگرمیوں سے روکنے کے لیے احتیاطی حراست میں لیے جانے والے قانون کو مفتی سلمان ازہری صاحب پر نافذ کیا گیا ہے۔
اب آپ خود سمجھ لیں کہ اقتدار کے نشے میں دھت حکومت جب کسی بھی فرد یا کمیونٹی پر انتظامی تشدد کرنے پر تلی ہو تو پھر قانون کا غلط استعمال کرنے کی مفتی سلمان ازہری کے کیس سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی۔
لیکن نظام کائنات ہے ہر ظلم کی انتہا ہوتی ہے۔ ظلم کی یہ ظلمت بھری رات بھی یقینی طور ختم ہوگی ان شاءاللہ
مکروا و مکراللہ واللہ ھو خیر الماکرین

18/02/2024

M***i Shamsuddin Makrana Rajasthan | Madhopur Taraiyta Saran Bihar India

15/02/2024

Qari Kausar Imam Chhapravi | Neqabat ki duniya ka naya Badshah

15/02/2024

Why is education important | M***i Shamsuddin Makrana Rajasthan India

14/02/2024

Maulana Shahabuddin Razvi Sitamarhi Bihar India

04/02/2024

Naqabat Ka Ek Rang Aisa Bhi | Maulana Shahabuddin Razvi Sitamarhi Bihar India

28/01/2024

Nizamat ka aisa rang aap ne nahi dekha hoga | Qari Ajaz Ahmad Qadri Siwani

25/01/2024
08/01/2024

Shahabuddin Razavi Sitamarhi | New Nizamat 2024 | Sitamarhi ka Be Baak Naqeeb |

08/01/2024

کنویں کے جنات اور بھائی


کہتے ہیں کہ ایک گاؤں کے کنوئیں پہ عجیب ماجرا ہوا کہ جو ڈول بھی کنوئیں میں ڈالا جاتا واپس نہ آتا جبکہ رسی واپس آجاتی، سارے لوگ خوفزدہ ہوگئے کہ اندر ضرور کوئی جن بھوت ہے جو یہ حرکت کرتا ہے
آخر اعلان کیا گیا کہ جو بندہ اس راز کا پتہ لگائے گا اس کو انعام دیا جائے گا.......... گاؤں کے ایک بہادر آدمی نے کہا کہ اس کو انعام کی کوئی ضرورت نہیں مگر وہ گاؤں والوں کی مصیبت کے ازالے کے لئے یہ قربانی دینے کو تیار ہے، مگر ایک شرط پر.......... شرط یہ ہے کہ کنوئیں میں اسی صورت اتروں گا جب رسہ پکڑنے والوں میں میرا بھائی بھی شامل ہو.......... اس کے بھائی کو بلایا گیا، پھر رسہ پکڑنے والوں نے رسہ پکڑا اور ایک ڈول میں بٹھا کر اس بندے کو کنوئیں میں اتار دیا گیا، اس بندے نے دیکھا کہ کنوئیں میں ایک مچھندر قسم کا بندر بیٹھا ہوا ہے جو ڈول سے فوراً رسی کھول دیتا ہے
اس بندے نے اپنی جیب کو چیک کیا تو اسے گڑ مل گیا، اس نے وہ گڑ اس بندر کو دیا، یوں بندر اس سے مانوس ہوگیا، پھر بندے نے کسی طرح اس بندر کو کندھے پر بٹھایا اور نیچے سے زور زور سے رسہ ہلایا۔۔۔گاؤں والوں نے رسہ کھینچنا شروع کیا اور جونہی ڈول اندھیرے سے روشنی میں آیا تو لوگ بندر کو دیکھ کر دھشت زدہ ھو گئے کہ یہ کوئی عفریت یا راکشس ہے، جس نے اس بندے کو کھا لیا ہے اور اب اوپر بھی چڑھ آیا ہے.......... اس دہشت میں سب رسہ چھوڑ کر سرپٹ بھاگے مگر اس بندے کا بھائی رسے کو مضبوطی سے تھامے اوپر کھینچنے کی کوشش کرتا رہا تا آنکہ وہ کنارے تک پہنچ گیا
کنوئیں سے نکل کر اس نے بندر کو نیچے اتارا اور لوگوں کو اس بندر کی کارستانی بتائی پھر کہا کہ میں نے اسی لئے اپنے بھائی کی شرط رکھی تھی کہ اگر میرے ساتھ کنوئیں میں کوئی ان ہونی ھوگئی تو تم سب بھاگ نکلو گے جبکہ بھائی کو خون کی محبت روکے رکھے گی
یاد رکھیں کوئی لاکھ اچھائی کرے مگر خونی رشتے آخرکار خون ہی کے رشتے ہوتے ہیں، ان کی قدر کریں
Copy-Paste

07/01/2024

Mai Chahta Hu Mera Khandan Naat Padhe |

Address

INDIA
Delhi
+91

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Noori Digital Studio posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share