Faiyaz ahamad ofcel naat page

Faiyaz ahamad ofcel naat page Hamre page KO follow karen achhi videos dekhne ke liye Shukriya🌹🌹🌹🌹🌹🏵️🏵️🏵️🏵️

Chand official info
Assalamu Alaikum Wa Rahmatullah ,,
Ye Channel Sirf Islamic progaram ke liye hai is par Naat , Taqreer , Aur Islamic Education se Related Videos Upload Kiye Jayenge
To AAP Sabhi Dosto Se Guzarish Hai K Zeyada Se Zeyada Mere Channel Ko Subscribe , Like & Share KareN.Aur page Ko Bhi like & Foliow Karen.

09/04/2026

Assalamualaikum rahmatullah

13/02/2026

ماہِ رمضان کی فضیلت

ماہِ رمضان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت اور رحمتوں والا مہینہ ہے۔ یہ صبر، عبادت، مغفرت اور جہنم سے نجات کا مہینہ ہے۔ اس مہینے میں نیکیاں کئی گنا بڑھا دی جاتی ہیں اور گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔

🌙 رمضان کی اہم فضیلتیں

1. قرآنِ پاک کا نزول
اسی مہینے میں قرآنِ مجید نازل ہوا، جو انسانیت کے لیے ہدایت ہے۔

2. روزے فرض کیے گئے
رمضان کے روزے اسلام کے پانچ ارکان میں سے ایک ہیں، جو انسان کو تقویٰ اور صبر سکھاتے ہیں۔

3. جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں
حدیث کے مطابق:

> جب رمضان آتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں، جہنم کے دروازے بند کر دیے جاتے ہیں اور شیاطین قید کر دیے جاتے ہیں۔

4. شبِ قدر
اس مہینے میں ایک رات شبِ قدر ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات کی عبادت کا اجر بہت زیادہ ہے۔

5. مغفرت اور بخشش
یہ مہینہ تین حصوں پر مشتمل ہے:

پہلا عشرہ: رحمت

دوسرا عشرہ: مغفرت

تیسرا عشرہ: جہنم سے نجات

6. نبی کریم ﷺ کی سنت
محمد صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں عبادت، تلاوتِ قرآن، صدقہ اور خیرات میں بہت زیادہ اضافہ فرماتے تھے۔

✨ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

پانچ وقت نماز کی پابندی

قرآن کی تلاوت

صدقہ و خیرات

دعا اور استغفار

روزہ دل، آنکھ اور زبان کا بھی رکھیں (گناہوں سے بچیں)

اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان کی قدر کرنے اور اس کی برکتیں سمیٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین 🤲

19/01/2026

سلطان محمود غزنوی کے دربار میں سائلوں اور درخواستگزاروں کی بھیڑ لگی ہوئی تھی کہ ایک شخص حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا "حضور! میری شکایت نہایت سنگین نوعیت کی ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا۔۔۔!!"
سلطان یہ سن کر فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سائل کو خلوت خانے میں لیجا کر پوچھا کہ "تمہیں کیا شکایت ہے۔۔۔۔؟"
اُس نے عرض کیا "حضور! ایک عرصے سے آپ کے بھانجے نے یہ طریقہ اختیار کر رکھا ہے کہ وہ مسلح ہو کر میرے مکان پر آتا ہے، مجھے مار پیٹ کر باہر نکال دیتا ہے اور خود جبراً میرے گھر میں گھس کر میری گھر والی کے ساتھ بدتمیزی کرتا ہے۔

غزنی کی کوئی عدالت ایسی نہیں، جس میں میں نے اس ظلم کی فریاد نہ کی ہو لیکن کسی جگہ مجھے انصاف نہ ملا۔ ہر کوئی آپ کے بھانجے کا سُن کر چپ کر جاتا ہے۔ جب میں ہر طرف سے مایوس ہوگیا تو آج مجبوراً جہاں پناہ کی بارگاہِ عالیہ میں انصاف کے لیے حاضر ہوا ہوں۔
آپ کی بے لاگ انصاف پروری، فریاد رسی، اور رعایا سے بے پناہ شفقت پر بھروسہ کر کے میں نے اپنا حال عرض کر دیا ہے۔ خالقِ حقیقی نے آپکو اپنی مخلوق کا محافظ و نگہبان بنایا ہے۔ قیامت میں رعایا اور کمزوروں پر مظالم کے نتیجے میں آپ خدائے قہار کے رو برو جوابدہ ہونگے۔ اگر آپ نے میرے حال پر رحم فرما کر انصاف کیا تو بہتر ہے ورنہ میں اس معاملے کو منتقم حقیقی کے سپرد کر کے انصاف کا انتظار کرونگا۔۔۔۔!"

سلطان پر اس واقعہ کا اتنا گہرا اثر ہوا کہ وہ بے اختیار آبدیدہ ہو گئے اور سائل سے کہا "تم سب سے پہلے میرے پاس کیوں نہ آئے؟، تم نے ناحق اب تک یہ ظلم کیوں برداشت کیا۔۔؟"
سائل نے عرض کیا "حضور! میں کافی عرصے سے اس کوشش میں تھا کہ کسی طرح بارگاہِ سلطانی تک پہنچ پاؤں مگر دربانوں اور چوبداروں کی رکاوٹوں نے کامیاب نہ ہونے دیا۔ اللہ ہی جانتا ہے کہ آج بھی کس تدبیر سے یہاں تک پہنچا ہوں۔۔۔!!"

سلطان نے سائل کو اطمینان اور دلاسہ دے کر تاکید کی کہ "اس ملاقات اور گفتگو کا کسی سے ذکر نہ کرنا اور اب جس وقت بھی وہ شخص دوبارہ تمہارے گھر آئے اُسی وقت مجھے اس کی اطلاع کر دینا، میں اس کو ایسی عبرت ناک سزا دونگا کہ آئندہ دوسروں کو ایسے مظالم کرنیکی کی جرات نہ ہو سکے گی۔۔۔!!"
سائل نے عرض کیا "حضور! مجھ جیسے غریب کیلئے یہ کیسے ممکن ہو سکے گا کہ جب چاہوں بلا کسی مزاحمت کے خدمتِ سلطانی میں حاضر ہو جاﺅں اور مطلع کر سکوں۔۔۔۔!"

سلطان نے یہ سن کر دربانوں کو طلب کیا اور سائل کو ان سے روشناس کرا کے حکم دیا۔ "یہ شخص جس وقت بھی آئے، فوراً ہمارے پاس پہنچا دیا جائے اور کسی طرح کی مزاحمت نہ کی جائے۔۔۔۔!!"

اِس ملاقات کے بعد دو راتیں گزر گئیں مگر سائل نہ آیا۔ سلطان کو تشویش ہوئی کہ نہ معلوم اُس غریب کو کیا حادثہ پیش آیا ہوگا، وہ اسی فکر میں پریشان تھے کہ تیسری رات کو سائل دوڑتا ہوا آستانہ شاہی پر آ پہنچا۔ اطلاع ملتے ہی سلطان نے فی الفور سواری نکالی اور سائل کے ہمراہ اسکے گھر پہنچ کر اپنی آنکھوں سے وہ سب کچھ دیکھ لیا جو سائل نے انہیں بتلایا تھا۔ اُس کے بعد سلطان نے تین کام کیے۔۔۔!!

1 ۔ کمرے میں شمع جل رہی تھی۔ سلطان نے شمع گل کر دی اور خود خنجر نکال کر اُس بدکردار کا سر اڑا دیا۔
2 ۔ اس کے بعد شمع روشن کرائی مقتول کا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ سلطان کی زبان سے نکلا "الحمداللہ"۔۔!!
3 ۔ پھر سائل سے کہا کہ پانی لاؤ۔ سائل جلدی سے پانی لایا تو سلطان نے پانی پی کر سائل سے کہا کہ "اب تم اطمینان سے اپنے گھر میں آرام کرو، ان شاءاللہ اب کبھی بھی تمہیں کوئی تکلیف نہ پہنچے گی، میری وجہ سے اب تک تم پر جو ظلم ہوا خدا کے لیے اُسکے لیے مجھے معاف کر دینا۔۔۔!"
یہ کہہ کر سلطانِ محمود غزنوی رخصت ہونا ہی چاہتے تھا کہ سائل نے دامن پکڑ کر عرض کیا "جناب حضورِ والا! آپ نے جس طرح ایک مظلوم کیساتھ انصاف فرمایا حتیٰ کہ اپنی قرابت داری و خون کا بھی خیال نہ کیا، اللہ تعالیٰ آپ کو اسکی جزائے خیر عطا فرمائے اور اجرِ عظیم عنائت فرمائے۔
اگر اجازت مرحمت فرمائی جائے تو ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے پہلے شمع گل کروائی، پھر روشن کرا کر مقتول کا سر دیکھ کر "الحمداللہ" فرمایا اور اس کے فوراً بعد پانی طلب فرمایا اسکی کیا وجہ تھی۔۔۔؟"
سلطان نے ہر چند ٹالنا چاہا مگر سائل کے اصرار پر اسے بتلانا ہی پڑا۔۔۔!

میرے عزیز دوستو! سلطان محمود غزنوی نے جو تاریخی جملے بولے آپ بھی پڑھیے اور سوچئیے کہ عدل و انصاف کے ترازو پر فیصلے کرنے والے جج اور حکمران اب کہاں چلے گئے۔۔؟
٭ "شمع گل کرنیکا مقصد یہ تھا کہ مبادا روشنی میں اس کا چہرہ دیکھ کر بہن کے خون کی محبت مجھے سزا دینے سے باز نہ رکھے۔

٭ اور "الحمداللہ" کہنے کا سبب یہ تھا کہ مقتول اپنے آپ کو میرا بھانجا بتا کر تمہیں شاہی تعلق سے مرعوب کر کے اپنی خواشاتِ نفسانی کو پورا کرنے کے لیے راستہ صاف کرتا رہا۔ خداوندِکریم کا ہزارہا شکر ہے کہ محمود غزنوی کے رشتے داروں کا اس شرمناک بے ہودگی سے کوئی تعلق نہیں ہے، یہ شخص میرا بھانجا تو درکنار، میرا رشتہ دار بھی نہیں ہے۔
٭ اور پانی مانگنے کی وجہ یہ تھی کہ جب سے تم نے اپنا واقعہ سنایا تھا میں نے عہد کر لیا تھا کہ جب تک تمہارا انصاف نہ کر لونگا آب و دانہ مجھ پر حرام ہے۔ اب چونکہ میں اپنے فرض سے سبکدوش ہو چکا تھا اور مجھ پر پیاس کا شدید غلبہ تھا اس لیے میں پانی مانگنے پر مجبور ہو گیا تھا۔۔۔!!"

یہ کہہ کر سلطان محمود غزنوی اس کے گھر سے نکل آئے اور اپنے اِس انصاف کی بدولت تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے امر ہوگئے

اگر آپ فیس بک کو فضول استعمال کر کے تھک چکے ھیں تو آئیے میرے ساتھ مل کر کچھ اچھا کریں، اور فیس بک پر اپنی اور دوسروں کی اصلاح کریں۔ میری اچھی اچھی پوسٹ پڑھیں اور اپنے دوستوں کو بھی دعوت دیں کہ وہ اچھی بات آگے پھیلائیں۔ جزاک اللہ خیراً ۔۔!

برائے مہربانی لائک اور فالو بھی کر لیں شُکریہ

Pesh Kash 👉 Faiyaz Ahmad ofcel naat paej

18/01/2026

*ایک عورت کے 200 ریال کھو گئے اس نے گلی میں
ایک کاغذ لٹکایا جس پر لکھا تھا:*

*“میرے 200 ریال کھو گئے ہیں* جسے ملیں وہ براہِ کرم یہ رقم اس پتے پر واپس کر دے: فلیٹ نمبر ‘…’. میری پنشن بہت کم ہے اور مجھے اس کی ضرورت ہے۔ میرے پاس روٹی خریدنے کے بھی پیسے نہیں۔”

ایک آدمی نے فیصلہ کیا کہ وہ اس عورت کی مدد کرے گا۔
اس نے اپنی جیب سے 200 ریال نکالے اور اس کے فلیٹ پر جا پہنچا۔
بوڑھی عورت نے رقم لی، رونے لگی اور کہا:

*“بیٹا! تم بارہویں آدمی ہو جو یہ کہہ کر میرے پاس آیا ہے کہ اُس نے میرے 200 ریال پائے ہیں۔”*

آدمی مسکرایا اور واپس جانے لگا۔
بوڑھی عورت نے اسے آواز دی اور کہا:
“بیٹا! اس اشتہار کو پھاڑ دو… میں لکھ نہیں سکتی، یہ میں نے نہیں لکھا۔”
وہ روتے ہوئے بولی:
*“تم لوگوں کی رحم دلی مجھے امید دیتی ہے اور دنیا کی خوبصورتی دکھاتی ہے۔”*

*کسی ضرورت مند کو خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ جبکہ تم نعمتوں میں ڈوبے ہوئے ہو۔*

صدقہ کرو کیونکہ کفن میں جیب نہیں ہوتی
آج کی سب سے خوبصورت باتوں میں سے ایک بات جو میں نے پڑھی:
*"صدقہ کرو، کفن میں جیب نہیں ہوتی"*

دل کو چھو لینے والی حقیقت۔
ایک چھوٹی بچی سجدے میں گر گئی جب اس نے آئس کریم کی گڈی دیکھی۔
لوگوں نے پوچھا: "سجدہ کیوں کیا؟"
*بچی نے کہا: "جب میری امی خوش ہوتی ہیں تو سجدہ کرتی ہیں۔"*
اپنے بچوں کی اچھی تربیت کریں۔
ایک مزدور مسجد کے اے سی ٹھیک کر رہا تھا۔
پھر اس نے اجرت لینے سے انکار کر دیا اور کہا:
*“میری ماں نے نصیحت کی تھی کہ مسجد کے کام کی مزدوری نہ لینا۔”*
لوگ اس کی ماں پر حیران رہ گئے، اور میں اس کے تقویٰ پر۔
ایک نیک انسان سے پوچھا گیا:
“اذان سے پہلے مسجد کیوں پہنچ جاتے ہو؟”

*اس نے جواب دیا*

*“اذان غافلوں کو جگانے کے لیے ہوتی ہے… اور میں امید کرتا ہوں کہ میں ان میں شامل نہ ہوں۔”*
(اللہ ہمیں محفوظ رکھے)
کسی نے پوچھا:
“تم مسجد میں پانی کیوں پیتے ہو جبکہ گھر میں بھی موجود ہے؟”
اس نے کہا:
*“تاکہ جس نے یہ پانی رکھا ہے اسے ثواب ملے۔”*
یہ ہوتی ہیں نفیس روحیں۔
سجدے میں تین دعاؤں کو کبھی نہ بھولو:
*اے اللہ! مجھے حسنِ خاتمہ عطا فرما۔*
*اے اللہ! موت سے پہلے سچی توبہ نصیب فرما۔*
*اے دلوں کے پھیرنے والے! میرے دل کو اپنے دین پر ثابت قدم رکھ۔*

اچھی باتیں کوئی بھی شیئر نہیں کرتا ناچ گانے اور گناہ کی باتیں شیئر کرتے ہیں برائے مہربانی لائک شیئر اور فالو کر لیں شُکریہ 18/01/2026

15/01/2026

شبِ معراج کا مکمل واقعہ — قسط 1

تمہید

شبِ معراج وہ بابرکت رات ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کو ایسا عظیم شرف عطا فرمایا جو کسی اور کو نصیب نہ ہوا۔ یہ واقعہ ایمان کو تازگی دیتا ہے، دل کو نور بخشتا ہے اور بندے کو رب سے جوڑ دیتا ہے۔

---

مشکل ترین دور اور رب کی تسلی

نبوت کے دسویں سال رسولِ اکرم ﷺ کی زندگی کا سب سے کٹھن زمانہ تھا۔

چچا حضرت ابو طالبؓ کا انتقال ہوا

زوجۂ محترمہ حضرت خدیجہؓ کا وصال ہوا

اہلِ مکہ کی اذیتیں بڑھ گئیں

طائف میں بھی سخت تکلیفیں اٹھائیں

ایسے وقت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو تسلی اور عزت دینے کے لیے شبِ معراج کا تحفہ عطا فرمایا۔

---

معراج کی رات کا آغاز

27 رجب کی رات، نبی کریم ﷺ حطیمِ کعبہ یا امِّ ہانیؓ کے گھر آرام فرما رہے تھے۔
اچانک حضرت جبرائیلؑ تشریف لائے۔
انہوں نے نبی ﷺ کا سینہ مبارک چاک کیا،
دلِ اطہر کو آبِ زمزم سے دھویا گیا
اور ایمان و حکمت سے بھر دیا گیا۔

یہ سب اس لیے تھا کہ محبوب ﷺ اس عظیم سفر کے لیے تیار ہو جائیں۔

---

براق کی سواری

پھر ایک نورانی سواری پیش کی گئی جس کا نام بُراق تھا۔

برق کی طرح تیز رفتار

ایک قدم حدِ نظر تک

انبیاءؑ کی سواری رہ چکی تھی

نبی کریم ﷺ براق پر سوار ہوئے اور حضرت جبرائیلؑ ہمراہ تھے۔

---

مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک (اسراء)

یہ سفر مسجدِ حرام (مکہ) سے
مسجدِ اقصیٰ (بیت المقدس) تک ہوا،
جسے قرآن نے یوں بیان فرمایا:

> "پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات مسجدِ حرام سے مسجدِ اقصیٰ تک لے گئی"
(سورۂ بنی اسرائیل)

راستے میں کئی مقامات آئے جہاں نبی ﷺ نے نماز ادا فرمائی۔

---

مسجدِ اقصیٰ میں انبیاءؑ کی امامت

مسجدِ اقصیٰ پہنچ کر
تمام انبیاء کرامؑ جمع تھے
اور رسولِ اکرم ﷺ نے ان کی امامت فرمائی۔

یہ اعلان تھا کہ

> محمد ﷺ تمام انبیاء کے امام اور سردار ہیں۔

---

قسط 1 کا اختتام

یہاں اسراء مکمل ہوئی
اور اب شروع ہونے والا تھا
آسمانوں کا سفر — معراج

---

اگلی قسط میں:

سات آسمانوں کا سفر

مختلف انبیاءؑ سے ملاقات

سدرۃ المنتہیٰ تک رسائی

ازقلم ۔ محمد فیاض احمد قادری

15/01/2026

Jitna chahe Dhoka kar lo logon ke sath par zarur ek din anjam ko pahuchega

دھوکے باز کا انجام

شہرِ نورپور میں راشد نام کا ایک شخص رہتا تھا۔ وہ زبان کا بڑا میٹھا اور باتوں کا جادوگر تھا، مگر اس کا دل فریب اور دھوکے سے بھرا ہوا تھا۔ وہ لوگوں کے اعتماد کو اپنی سیڑھی بناتا اور فائدہ اٹھا کر خاموشی سے پیچھے ہٹ جاتا۔

راشد نے اپنے دوست سلیم کے ساتھ کاروبار شروع کیا۔ سلیم سچا اور محنتی انسان تھا۔ راشد نے کاغذات میں ہیر پھیر کر کے سارا منافع اپنے نام کر لیا اور سلیم کو نقصان میں ڈال دیا۔ سلیم ٹوٹ گیا، مگر خاموش رہا اور اللہ پر چھوڑ دیا۔

وقت گزرتا گیا۔ راشد نے کئی لوگوں کو دھوکا دیا۔ دولت بڑھتی گئی مگر دل کا سکون کم ہوتا گیا۔ ایک دن اچانک اس کا سارا فریب کھل گیا۔ جن لوگوں نے اس پر بھروسہ کیا تھا وہ سب اس کے خلاف ہو گئے۔ عدالت میں مقدمہ چلا، شہرت مٹی میں مل گئی اور دولت ہاتھ سے نکل گئی۔

وہی راشد جو کبھی لوگوں کو حقیر سمجھتا تھا، آج اکیلا اور بے سہارا ہو گیا۔ نہ کوئی دوست رہا، نہ عزت۔ اسے تب سمجھ آیا کہ دھوکا وقتی فائدہ دیتا ہے مگر انجام بہت بھیانک ہوتا ہے۔

ادھر سلیم نے صبر، محنت اور ایمانداری سے دوبارہ آغاز کیا۔ اللہ نے اسے کامیابی دی اور عزت بھی۔

راشد نے آنسوؤں کے ساتھ مان لیا: “میں نے دوسروں کو نہیں، خود کو برباد کیا۔”

سبق:
دھوکہ دینے والا وقتی طور پر جیت جاتا ہے، مگر آخرکار سچ اور انصاف ہی غالب آتا ہے۔ دھوکے باز کا
انجام ہمیشہ رسوائی اور تنہائی ہوتا ہے۔

۔محمد فیاض احمد قادری

14/01/2026

ظلم کی انتہا

ایک چھوٹا سا شہر تھا، جہاں بظاہر امن تھا مگر اس امن کے پردے میں ظلم پل رہا تھا۔ شہر کا حاکم، میر جلال، طاقت کے نشے میں اندھا ہو چکا تھا۔ اس کے دربار میں انصاف نہیں، صرف ڈر بکتا تھا۔ غریب کی فریاد دیواروں سے ٹکرا کر لوٹ آتی اور ظالم کے قہقہے گونجتے رہتے۔

اسی شہر میں ایک کمزور مگر باہمت نوجوان رہتا تھا، نام تھا سلیم۔ اس کا جرم صرف اتنا تھا کہ وہ سچ بولتا تھا۔ ایک دن اس نے بازار میں حاکم کے کارندوں کو ایک بیوہ عورت سے ٹیکس کے نام پر آخری سکے بھی چھینتے دیکھا۔ سلیم نے آواز اٹھائی، اور یہی آواز اس کے لیے سزا بن گئی۔

اُسی رات سلیم کو قید خانے میں ڈال دیا گیا۔ کوڑے برسائے گئے، بھوک اور پیاس دی گئی، مگر سلیم کی زبان سے سچ کے سوا کچھ نہ نکلا۔ حاکم نے کہا: “یہی ہے ظلم کی انتہا، کہ میں چاہوں تو سچ بھی جھوٹ بن جائے۔”

دن گزرتے گئے، مگر قدرت خاموش نہ تھی۔ شہر کے لوگ سلیم کی ثابت قدمی دیکھ کر جاگنے لگے۔ جن آنکھوں میں خوف تھا، اُن میں سوال اُتر آیا۔ ایک دن پورا شہر دربار کے سامنے کھڑا تھا۔

میر جلال نے پہلی بار خود کو تنہا پایا۔ اس کے سپاہی بھی پیچھے ہٹ گئے۔ وہی ظلم جو اس کی طاقت تھا، اس کی کمزوری بن گیا۔ سلیم کو رہا کر دیا گیا، مگر اب بات صرف سلیم کی نہ رہی تھی۔

چند ہی دنوں میں میر جلال کا اقتدار ختم ہو گیا۔ شہر نے جان لیا تھا کہ
ظلم جب حد سے بڑھ جائے تو مٹ جاتا ہے،
اور صبر جب انتہا کو پہنچے تو انقلاب بن جاتا ہے۔

14/01/2026

भारत में यह प्रचार किया जा रहा है कि हिंदू खतरे में हैं और एक दिन कोई मुसलमान आकर आपको मार देगा...!! इसलिए मुसलमान के हाथों मरने के बजाय...
● आप सीवर का दूषित पानी पीकर मर जाइये,
● नकली कफ़ सीरप और जहरीली शराब पीकर मर जाइये,
● धार्मिक स्थलों पर होने वाली भगदड से मर जाइये,
● कोरोना में आक्सीजन न मिलने से मर जाइये,
● लाॅकडाऊन में पैदल चलकर मर जाइये,
● कुंभ मेले की अनियंत्रित भीड़ में कुचलकर मर जाइये,
● प्रदूषित हवा में घुटकर मर जाइये,
● नोटबंदी की लंबी-लंबी लाइन में लगकर मर जाइये,
● हवाई जहाज गिरने से मर जाइये,
● ट्रेन हादसों में मर जाइये,
● भ्रष्टाचार की भेंट चढ़े पुल गिरने से मर जाइये,
● खाद वितरण की लाइन में लगकर मर जाइये,
● पुलवामा, पहलगाम और लालकिला जैसी प्रायोजित आतंकी घटनाओं में मर जाइये,
● साम्प्रदायिक, जातीय या नस्लीय भेदभाव का शिकार होकर माॅबलिंचिंग से मर जाइये लेकिन...
शिक्षा, स्वास्थ्य, नागरिक सुरक्षा, महंगाई, बेरोजगारी, डीज़ल-पेट्रोल, रसोई गैस, कालाधन, महिला सुरक्षा, शुद्ध हवा-पानी और रुपये की गिरती कीमत पर सरकार से सवाल मत पूछिए,
वर्ना हिंदुत्व खतरे में आ जाएगा और आप देशद्रोही घोषित कर दिए जाएंगे...!!
लोकतंत्र/संविधान प्रेमी देशवासियों जरा सोचिए...
क्या आपने इसी तरह के विकास, अच्छे दिनों और तानाशाही शासन की कल्पना की थी...??
यदि नहीं तो विचार कीजिए और एकजुट होकर सत्ता को ललकारे कि हम जिसे सत्ता में बिठा सकते हैं, उसे सत्ता से उखाड़कर फेक भी सकते हैं...!!
जब सड़कें ख़ामोश हो जाती हैं तब शासक निरंकुश हो जाते हैं!

30/09/2025
28/09/2025

Matlabi Duniya # #

28/09/2025

Address

Bansimi
Deoghar
815353

Telephone

+918789765201

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Faiyaz ahamad ofcel naat page posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share