26/03/2026
تو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے
نشّۂ مے کو تعلّق نہیں پیمانے سے
ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنَم خانے سے
کشتیِ حق کا زمانے میں سہارا تُو ہے
عصرِ نَو رات ہے، دھُندلا سا ستارا تُو ہے
ہے جو ہنگامہ بپا یورشِ بلغاری کا
غافلوں کے لیے پیغام ہے بیداری کا
تُو سمجھتا ہے یہ ساماں ہے دل آزاری کا
امتحاں ہے ترے ایثار کا، خودداری کا
کیوں ہراساں ہے صَہیِلِ فرَسِ اعدا سے
نُورِ حق بُجھ نہ سکے گا نفَسِ اعدا سے