22/03/2026
عید کی خوشی اور باپ کی جدائی کا غم
عید الفطر ہو یا عید الاضحیٰ، یہ دن مسلمانوں کے لیے بے پناہ خوشی، مسرت اور شکرانے کا تہوار ہوتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب گھرانے ایک دسترخوان پر جمع ہوتے ہیں، نئے کپڑے پہنے جاتے ہیں، عیدی دی جاتی ہے اور ہر طرف رونق ہوتی ہے۔ لیکن اسی خوشی کے ہجوم میں کچھ دل ایسے بھی ہوتے ہیں جو ایک گہرے دکھ سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے سر سے باپ کا سایہ اٹھ چکا ہوتا ہے۔ جب ایک طرف عید کی خوشی ہو اور دوسری طرف باپ کی جدائی کا غم، تو انسان ایک عجیب جذباتی کشمکش کا شکار ہو جاتا ہے۔
باپ: تہواروں کی اصل رونق
باپ گھر کا وہ مضبوط ستون اور سائبان ہوتا ہے جس کے دم سے گھر میں خوشیاں آتی ہیں۔ بچپن کی عیدوں کا تصور کریں تو باپ کی انگلی پکڑ کر عیدگاہ جانا، نماز کے بعد ان کے گلے لگنا اور پھر ان سے عیدی وصول کرنا ہی عید کی اصل خوشی سمجھی جاتی تھی۔ باپ کے لائے ہوئے کپڑے اور ان کی مسکراہٹ عید کے دن کو مکمل کرتی ہے۔ جب وہ ہستی اس دنیا سے چلی جاتی ہے، تو تہواروں کی روح جیسے کہیں کھو سی جاتی ہے۔
خوشی اور اداسی کا سنگم
عید کی صبح ایک باپ سے محروم شخص کے لیے بہت کٹھن ہوتی ہے۔ جب محلے میں عید کی تکبیریں گونجتی ہیں اور لوگ ایک دوسرے کو گلے لگا کر 'عید مبارک' کہتے ہیں، تو یہ منظر آنکھوں میں آنسو لے آتا ہے۔
گھر کے دسترخوان پر باپ کی خالی کرسی دل کو اداس کر دیتی ہے۔
ہر دستک پر یہ وہم ہوتا ہے کہ شاید وہ آ گئے ہیں، مگر حقیقت کی دیوار اس وہم کو توڑ دیتی ہے۔
یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر دل کے اندر بہنے والے آنسوؤں کو چھپانا پڑتا ہے۔ باہر کی دنیا عید منا رہی ہوتی ہے، لیکن اندر کی دنیا میں باپ کی یادوں کا سوگ بپا ہوتا ہے۔
حقیقت کا ادراک اور صبر
انسان جذبات کا پتلا ہے، اور باپ کا غم ساری زندگی انسان کے ساتھ چلتا ہے۔ تاہم، اس دنیا کی سب سے بڑی اور اٹل حقیقت 'موت' ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ جو اس دنیا میں آیا ہے، اسے اپنے مقررہ وقت پر لوٹ کر جانا ہے۔ غم کو سینے سے لگا کر رکھنا فطری ہے، لیکن اس غم کو اپنی زندگی کا روگ بنا لینا اس باپ کی روح کو بھی تکلیف دے سکتا ہے جس نے اپنی ساری زندگی اپنی اولاد کی خوشیوں کے لیے وقف کر دی تھی۔
عید کے دن باپ کو یاد رکھنے کا بہترین طریقہ:
ایصالِ ثواب: عید کے دن ان کے لیے خصوصی دعائے مغفرت کریں اور ان کی طرف سے صدقہ و خیرات کریں۔
تعلقات نبھائیں: باپ کے دوستوں، عزیزوں اور رشتے داروں سے ملنے جائیں، کیونکہ اس سے باپ کی روح کو خوشی ملتی ہے۔
ان کی تربیت پر عمل: ان کی دی ہوئی نصیحتوں اور اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، یہی ان کے لیے بہترین خراجِ تحسین ہے۔
حرفِ آخر
باپ کے بغیر عید ایک ایسے پھول کی مانند ہے جس میں رنگ تو ہیں مگر خوشبو نہیں۔ عید کی خوشی اپنی جگہ ایک شرعی اور معاشرتی حقیقت ہے، لیکن باپ کی کمی کو دنیا کی کوئی خوشی پوری نہیں کر سکتی۔ ایسے موقع پر صبر، حوصلے اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے سے ہی دل کو سکون مل سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمام مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور جن کے والدین حیات ہیں، انہیں ان کی قدر کرنے کی توفیق عطا کرے۔