15/09/2026
میرا مادرِ علمی آج آگ کی نذر ہو کر خاکستر ہو گیا… 💔
صبح سویرے جب دارالعلوم سیدنا عمر فاروق، رین چوگنڈ، ویریناگ، ضلع اننت ناگ کی دو منزلہ عمارت کے جل کر راکھ ہونے کی خبر سنی تو دل جیسے بیٹھ سا گیا، آنکھیں نم ہو گئیں اور ماضی کی بے شمار یادیں ایک ایک کر کے سامنے آنے لگیں۔
یہ صرف اینٹوں، پتھروں اور لکڑی سے بنی ہوئی ایک عمارت نہیں تھی؛ یہ ہماری زندگی کا وہ باب تھا جس میں ہمارا بچپن دفن تھا۔ جس طرح بچہ ماں کی کوکھ میں پرورش پاتا ہے، اسی طرح ہم اسی ادارے کی آغوش میں پلے، پڑھے، تربیت پائی اور جوان ہوئے۔
ان دیواروں سے ہمارے بزرگ اساتذہ کی شفقتیں، محترم مہتمم صاحب کی محنتیں، ساتھیوں کی رفاقتیں، سبق کی صدائیں، شرارتیں، دعائیں اور زندگی کے نہ جانے کتنے قیمتی لمحات وابستہ تھے۔
آج آگ نے عمارت کو تو جلا دیا، مگر اس کے ساتھ جڑی یادوں کو دل سے کون جلا سکتا ہے؟
عمارت تو ان شاء اللہ دوبارہ تعمیر ہو جائے گی، لیکن وہ بچپن، وہ دن، وہ اساتذہ، وہ ماحول اور وہ سنہری یادیں دوبارہ کبھی واپس نہیں آئیں گی۔
اللہ تعالیٰ اس عظیم نقصان کا بہترین نعم البدل عطا فرمائے، ہمارے مادرِ علمی کو پہلے سے زیادہ آباد فرمائے اور اس سے وابستہ ہر دل کو صبر عطا فرمائے۔
آج عمارت نہیں جلی، آج ہماری یادوں کا ایک پورا زمانہ راکھ ہو گیا ہے…! 🤲💔