30/05/2026
کیرالا کے رہنے والے عبدالرحیم اپنے مالی مشکلات کا شکار خاندان کی مدد کے لیے روزگار کی تلاش میں سعودی عرب گئے تھے۔ وہاں انہیں ایک* سالہ سعودی لڑکےکے ڈرائیور اور دیکھ بھال کرنے والے (کیئر ٹیکر) کی نوکری ملی۔ یہ لڑکا سانس لینے کے لیے ایک خاص مشین پر منحصر تھا۔
سال **2006** میں ایک سفر کے دوران مبینہ طور پر اس لڑکے کی سانس لینے والی مشین اچانک الگ ہو گئی، جس کی وجہ سے اس کی موت ہو گئی۔ عبدالرحیم کا کہنا تھا کہ یہ ایک **حادثہ** تھا، لیکن سعودی حکام نے انہیں گرفتار کر لیا اور بعد میں **سزائے موت** سنا دی۔ کئی اپیلوں کے باوجود یہ سزا برقرار رہی۔
کئی سال کی قانونی کوششوں کے بعد، **2024 میں مقتول کے خاندان نے تقریباً 34 کروڑ روپے بطور دیت (Blood Money)** وصول کرنے کے بعد عبدالرحیم کو معاف کر دیا۔ یہ رقم دنیا بھر کے کیرالا کے لوگوں نے چندہ جمع کرکے فراہم کی تھی۔
اگرچہ **سزائے موت ختم کر دی گئی**، لیکن عبدالرحیم کو اپنی باقی قید مکمل کرنی پڑی۔ تقریباً **20 سال سعودی جیل میں گزارنے کے بعد** وہ آخرکار کیرالا واپس پہنچے، جہاں ان کی اپنی والدہ اور خاندان سے جذباتی ملاقات نے لاکھوں لوگوں کو متاثر کیا۔