Zakir Malik Bhallesi

Zakir Malik Bhallesi I try to connect people of present generation with Past through my videos on Heritage and History

Author of 7 Books (28 Publications)
Career Guidance / SAFARNAMA / History
Education Vlogs / Profile Writer
Bharat Gaurav Puraskar -2021
Jury, National Yuva Utsav
Republic Day Parade Delhi - 2001
A, B & C Certificate Holder
All India 🇮🇳 Best Cadet Award

باہو قلعہ جموں ✅دریائے توی کے کنارے جموں شہر میں  یہ قلعہ جموں خطے کی قدیم ترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے راجا باہول...
10/08/2026

باہو قلعہ جموں ✅
دریائے توی کے کنارے جموں شہر میں یہ قلعہ جموں خطے کی قدیم ترین عمارتوں میں شمار ہوتا ہے۔ اسے راجا باہولوچن نے تعمیر کروایا تھا۔یہاں پاس میں باغ بہو بھی ہے ۔ باہو قلعہ کے سامنے ایک اہم مذہبی مقام بھی ہے جہاں مہاکالی جی سےمنسوب ایک مندر واقع ہے یہ مندر مقامی طور پر ’’باوے والی ماتا‘‘ کے مندر کے نام سے مشہور ہے۔
باہو قلعے کے قریب قائم ایکویریم ہے جو مچھلی کی شکل میں بنایا گیا ہے۔ یہ ایکویریم ملک کے بڑے زیرِ زمین ایکویریئمز میں شمار ہوتا ہے، جہاں مختلف اقسام کی مچھلیوں کا متاثر کن ذخیرہ موجود ہے۔ یہ ایکویریم تقریباً 22 میٹر طویل ہے اور اس میں تقریباً 400 اقسام کی مچھلیاں نمائش کے لیے رکھی گئی ہیں۔
(ذاکر ملک بھلیسی)

316 سالہ تاریخ کی گواہ، جموں کی عظیم تاریخی عمارت - مبارک منڈی محل
10/08/2026

316 سالہ تاریخ کی گواہ، جموں کی عظیم تاریخی عمارت - مبارک منڈی محل

جموں شہر کا خوبصورت نظارہ ۔ توی پل، مولانا آزاد اسٹیڈیم , سپر اسپیشلٹی ہسپتال
10/08/2026

جموں شہر کا خوبصورت نظارہ ۔ توی پل، مولانا آزاد اسٹیڈیم , سپر اسپیشلٹی ہسپتال

ہری نواس محل جموں میں دریائے توی کے کنارے واقع ڈوگرہ شاہی دور کی ایک اہم تاریخی عمارت ہے۔ اسے مہاراجہ ہری سنگھ نے تعمیر ...
10/08/2026

ہری نواس محل جموں میں دریائے توی کے کنارے واقع ڈوگرہ شاہی دور کی ایک اہم تاریخی عمارت ہے۔ اسے مہاراجہ ہری سنگھ نے تعمیر کروایا اور 1925ء میں اپنی شاہی رہائش مبارک منڈی سے یہاں منتقل کی۔ محل اپنی خوبصورت طرزِ تعمیر، وسیع باغات اور شاہی تاریخ کے باعث آج بھی جموں کے اہم تاریخی ورثے میں شمار ہوتا ہے۔
(ذاکر ملک بھلیسی)

جموں کا سدراہ علاقہ ہے۔ ممبئی نہیں👍 مگر کم بھی نہیں
10/08/2026

جموں کا سدراہ علاقہ ہے۔ ممبئی نہیں👍 مگر کم بھی نہیں

کشتواڑ کے معروف سماجی کارکن محترم برہان احمد میر صاحب کے والدِ محترم جناب مشتاق احمد میر صاحب کے انتقال کی خبر سن کر دلی...
10/08/2026

کشتواڑ کے معروف سماجی کارکن محترم برہان احمد میر صاحب کے والدِ محترم جناب مشتاق احمد میر صاحب کے انتقال کی خبر سن کر دلی رنج و غم ہوا۔ اس غم کی گھڑی میں جناب برہان احمد میر صاحب اور ان کے تمام اہلِ خانہ سے دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔
میں نے ہمیشہ برہان احمد میر صاحب کو ضلع ہسپتال کشتواڑ میں مریضوں اور ضرورت مندوں کی خدمت میں مصروف دیکھا ہے۔ وہ بلا لحاظِ مذہب و ملت اللہ کی رضا کے لیے لوگوں کی مدد کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت اپنا خون تک عطیہ کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ انسانیت کی خدمت کا یہ جذبہ یقیناً قابلِ قدر ہے۔ جن کا بیٹا ایسا ہو وہ خود میں کس طرح کی شخصیت ہونگی اس کا اندازہ خود کرلیجئے۔
دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم مشتاق احمد میر صاحب کی کامل مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور ان کی قبر کو نور سے بھر دے۔ اللہ تعالیٰ جناب برہان احمد میر صاحب اور تمام سوگوار اہلِ خانہ کو یہ صدمہ صبر و حوصلے کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آنین
(ذاکر ملک بھلیسی)

مبارک منڈی جموں میں 316 سال پرانی تاریخ سے مل آیا ✅  ایک کتاب خریدنے کے لیے حالیہ دنوں پکا ڈنگہ، جموں جانا ہوا۔ کتاب کی ...
10/08/2026

مبارک منڈی جموں میں 316 سال پرانی تاریخ سے مل آیا ✅
ایک کتاب خریدنے کے لیے حالیہ دنوں پکا ڈنگہ، جموں جانا ہوا۔ کتاب کی تلاش تو اپنی جگہ تھی مگر دل نے کہا کہ جب جموں کے اس قدیم حصے تک آیا ہوں تو ساتھ ہی اُس مقام کو بھی دیکھ لیا جائے جہاں آج سے تقریباً 316 سال پہلے شاہی رونقیں بسا کرتی تھیں۔ چنانچہ قدم مبارک منڈی کی طرف اٹھ گئے۔
مبارک منڈی پہنچا تو سامنے پھیلا ہوا وسیع محل نما کمپلیکس دیکھ کر یوں محسوس ہوا جیسے وقت اچانک پیچھے کی طرف چل پڑا ہو۔ خاموش دیواریں، بلند محرابیں، گنبد، پرانے دروازے اور دریائے توی کی طرف دیکھتی ہوئی عمارتیں تاریخ کے اُن اوراق کی یاد دلا رہی تھیں جن میں جموں کے ڈوگرہ حکمرانوں کی شان و شوکت، دربار اور سیاسی عروج درج ہے۔
مبارک منڈی محل کی بنیاد راجہ دھرو دیو نے 1710ء میں رکھی تھی۔ بعد کے حکمرانوں نے وقتاً فوقتاً اس شاہی احاطے میں نئی عمارتیں شامل کیں اور اسے وسعت دی۔ بالخصوص مہاراجہ رنبیر سنگھ کے دور میں یہاں کئی اہم محلات اور عمارات تعمیر ہوئیں۔
1925ء تک مبارک منڈی ڈوگرہ مہاراجاؤں کی مرکزی شاہی رہائش گاہ رہی۔ اسی سال مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی رہائش ہری نواس پیلس منتقل کر لی، تاہم مبارک منڈی کی سیاسی اور تاریخی اہمیت برقرار رہی۔
آج مبارک منڈی کی کچھ عمارتیں وقت، زلزلوں، آتش زدگی اور طویل عرصے کی خستگی کے آثار لیے کھڑی ہیں۔ کچھ کو سرکار نے بہتر بنایا ہے اور محفوظ کرلیا ہے ۔ کہیں دیواروں پر ماضی کی شان باقی ہے اور کہیں شکستہ چھتیں گزرے ہوئے عہد کی خاموش گواہی دیتی ہیں۔ لیکن شاید تاریخ کی خوبصورتی بھی یہی ہے کہ وہ صرف شاندار عمارتوں میں نہیں، بلکہ وقت کے ہاتھوں زخمی دیواروں میں بھی سانس لیتی رہتی ہے۔
کتاب خریدنے کے لیے پکا ڈنگہ آیا تھا، مگر واپسی پر محسوس ہوا کہ آج ایک کتاب خریدنے کے ساتھ جموں کی تاریخ کا ایک زندہ باب پڑھ کر بھی لوٹ رہا ہوں۔
(ذاکر ملک بھلیسی)

کنتھن چناب ریلوے پل  ریاسی کو عبور کرتی ہوئی وندے بھارت ایکسپریس جموں سے سری نگر کے حسین پہاڑی سفر کا ایک شاندار منظر
09/08/2026

کنتھن چناب ریلوے پل ریاسی کو عبور کرتی ہوئی وندے بھارت ایکسپریس جموں سے سری نگر کے حسین پہاڑی سفر کا ایک شاندار منظر

گرودوارہ صاحب چھٹی پادشاہی : ریناواری کی ایک یاد✅Shri Gurdawara Sahib Chathi Padshahiسال 2015ء کی بات ہے۔ مجھے کچھ ماہ  ...
09/08/2026

گرودوارہ صاحب چھٹی پادشاہی : ریناواری کی ایک یاد✅
Shri Gurdawara Sahib Chathi Padshahi
سال 2015ء کی بات ہے۔ مجھے کچھ ماہ ملازمت کے سلسلے میں سری نگر کے ریناواری علاقے میں گرودوارہ صاحب چھٹی پادشاہی کے قریب واقع اوقاف اسلامیہ کے گیسٹ ہاؤس میں قیام کرنے کا موقع ملا۔ یہ میرے لیے محض ایک رہائش نہیں تھی بلکہ سری نگر کے ایک ایسے تاریخی اور تہذیبی ماحول میں رہنے کا تجربہ تھا جہاں شہر کی گلیاں اپنے اندر صدیوں کی تاریخ سموئے ہوئے ہیں۔ گیسٹ ہاؤس کے بغل میں ہی گرودوارہ صاحب چھٹی پادشاہی واقع ہے۔ قیام کے دوران ایک دن مجھے اس تاریخی گرودوارے کے اندر جانے اور اسے قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ گرودوارے کی عمارت، اس کا ماحول اور اس سے وابستہ تاریخ نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ آج بھی جب ریناواری سے گزرتا ہوں اس گرودوارے کی وہ پہلی جھلک میری یادوں میں تازہ ہوجاتی ہے۔
گرودوارہ صاحب چھٹی پادشاہی، کاٹھی دروازہ، ریناواری، سری نگر، کشمیر کے اہم ترین تاریخی سکھ گرودواروں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ہری پربت قلعے کے جنوبی دروازے کے قریب واقع ہے- اس مقام کی تاریخی اہمیت سکھ مذہب کی تاریخ سے گہری وابستہ ہے۔ سکھ مذہب کے چھٹے گرو، شری گرو ہرگوبند صاحب نے کشمیر کا سفر کیا تھا۔ روایت ہے کہ وہ کشمیر کے مختلف علاقوں میں تشریف لے گئے، لوگوں سے ملاقات کی، سکھ مت کی تعلیمات بیان کیں اور بعض مقامات پر کئی دن قیام بھی فرمایا۔گرودوارے کے قریب ایک قدیم کنواں بھی موجود ہے۔ ایک صاحب نے بتایا کہُ یہ کنواں گرو ہرگوبند صاحب کے حکم پر کھدوایا گیا تھا۔

(ذاکر ملک بھلیسی)

راجوری شہر می مرکزی جامع مسجد عید گاہ راجوری
09/08/2026

راجوری شہر می مرکزی جامع مسجد عید گاہ راجوری

Address

Jammu

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zakir Malik Bhallesi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category