Yawar.Warsi

Yawar.Warsi Poet/Literareur/Critic/Graphics Designer

08/11/2025

مجھے بھی جاتے جاتے ساتھ لے لینا
کوئی پوچھے تو کہہ دینا مسافر ہے
یاوروارثی

ایک نئی غزل با ذوق سامعین کے لیے
08/12/2024

ایک نئی غزل با ذوق سامعین کے لیے

Sholgi ho dekhna ya ho sharara dekhna | Ghazal | Yawar Warsi YAWAR WARSIContact Us for Recording of Any Program Of Mushaira, N...

26/10/2023

غزل

چمک کلی کی گلوں کی ادا بھی کتنی دیر
بہار نغمہء باد صبا بھی کتنی دیر

ان آندھیوں کو بھی ضد ہے قدم نہ روکیں گی
رہے لبوں پہ کسی کے دعا بھی کتنی دیر

ہوا کی موج بھی کب تک کرے گی اپنا کام
جنوں مزاجی برگ نوا بھی کتنی دیر

کوئی تو دست تجسس پلٹ کے دیکھے گا
چھپے گا راز پس آئینہ بھی کتنی دیر

نہ کوئی قدموں کی آہٹ نہ اور کوئی آواز
جلے گا طاق پہ آخر دیا بھی کتنی دیر

متاع باغ تبسم بھی کتنی دیر کی ہے
ہتھیلیوں پہ ہے رنگ حنا بھی کتنی دیر

کہیں اِسے بھی ٹھہرنا پڑے گا اے یاور
چلے گا قافلہء نقش پا بھی کتنی دیر

یاور وارثی

29/09/2023

دنیا سے رابطے کا کوئی در کھلا نہ تھا
کتنے عجیب گھر تھے جہاں کھڑکیاں نہ تھیں
یاور وارثی

07/09/2023

ایک غزل خوش ذوق سماعتوں کے حوالے

31/08/2023

غزل

حرف سوئے لب اظہار نکل ہی آیا
خانۂ قید سے عیار نکل ہی آیا

دستکوں میں وہی انداز تھا وقفہ تھا وہی
حلقۂ درد سے بیمار نکل ہی آیا

پوچھنے آیا ہے وہ آخری خواہش میری
آخرش موقعۂ اظہار نکل ہی آیا

تنگ تھا لمحۂ عشرت کی رجز خوانی سے
غم سنبھالے ہوئے تلوار نکل ہی آیا

رخنہ انداز ہوئی شورشِ زنجیر بہت
پھر بھی میں توڑ کے دیوار نکل ہی آیا

سوچتے ہی نہیں اربابِ جنوں اس کے سوا
ذکر لعل لب و رخسار نکل ہی آیا

میں نہ کہتا تھا کہ ہوجائیں گی آنکھیں پتھر
آئنہ جانب بازار نکل ہی آیا

شاخِ گل تک تھی بظاہر تو کوئی روک نہ ٹوک
بڑھ گئے ہاتھ تو اک خار نکل ہی آیا

یاور وارثی

27/08/2023

ایک شعر سخن فہم احباب کی نذر

میں اپنے حجرہء احساس میں مقید ہوں
میان وادی شب خوشبوؤں کے ڈیرے ہیں

یاور وارثی

26/08/2023

غزل

دشت ہو سے تو کبھی باغ نوا سے گزرا
روز میں ایک نئی آب و ہوا سے گزرا

تھرتھراتی تھی زمیں کانپ رہے تھے افلاک
سانحہ ہو کے مرے دست دعا سے گزرا

باغ میں باد صبا آگ لگاتی گزری
شعلۂ ہجر دلِ بادِ صبا سے گزرا

انگلیوں میں تری آباد ہے اک شہر ہنر
یہ گماں بھی ترے نقش کف پا سے گزرا

کس لیے چاند ستاروں نے کیا میرا طواف
کون یہ آج مرے غار حرا سے گزرا

میری آنکھوں میں شراروں نے کیا آ کے ہجوم
جب مرا شوق زیاں کالی گھٹا سے گزرا

وہ گلی تھی تری ، ہاں تیری گلی تھی شاید
ایسا محسوس ہوا کوئے شفا سے گزرا

وقت نے کاٹ دئیے تھے پر پرواز مرے
دست و پا مارتا سفاک خلا سے گزرا

اس زمیں پر نہ کوئی در ہے نہ دروازہ مگر
جو بھی گزرا ہے یہاں سے لیے کاسے گزرا

میں ہی میں خود کو نظر آیا وہاں پر یاورؔ
جب تجسس مرا کہسار ندا سے گزرا

یاور وارثی

25/08/2023

غزل

کل راستے میں ایک عجب واقعہ ہوا
وہ پہلی بار گزرا مجھے دیکھتا ہوا

اے خامہ نوا ہے اگر واقعی ہنر
دیوارِ جاں پہ نقش بنا بولتا ہوا

گم ہوگئیں کہاں وہ پری چہرہ تتلیاں
کرتا ہے انتظار دریچہ کھلا ہوا

خوشیاں اداس ہوگئیں چہرے اتر گئے
سب کچھ تھا ٹھیک ٹھاک یہ لمحوں میں کیا ہوا

کیوں آسماں نے کھینچ لی تلوار دفعتا
کیا کہہ رہا تھا دست دعا کانپتا ہوا

چہرے کی ہر خراش نے کی مجھ سے گفتگو
جب ایک آئینے سے مرا سامنا ہوا

یاور ابھی سمیٹ لو کشکول چشم میں
باقی نہ پھر بچے گا گلوں پر لکھا ہوا

یاور وارثی

24/08/2023

میرا وطن میرے بزرگوں کا وطن "نارا"

٭

ایک ایک ذرہ جس کا ہے رشک دُرِ عدن
ایک ایک گوشہ جس کا ہے آئینۂ چمن

تھا جس کا اک گھرانہ ولایت کی انجمن
رہتی تھی صبح و شام جہاں بحث علم و فن

کرتا ہوں اس کے چند چراغوں کا تذکرہ
ہے جن کی روشنی سے منور یہ دل مرا

سادات کے گھرانے سے جس کا اٹھا خمیر
تھا ناولوں کے فن میں قلم جس کا بے نظیر

رومانوی ادب کا چمکتا ستارا تھا
عادل رشید نارے کا ہی ماہ پارا تھا

تحریر جو بھی ہو کے قلم سے گزر گئی
قاری کے ذہن و دل کو غلام اپنا کر گئی

اردو زباں کو جس نے عطا کی ہے دلکشی
جاسوسی ناولوں کو ملی جس سے زندگی

جس کے قلم نے طاق تبسم جگا دئیے
جس کے قلم کی نوک نے روتے ہنسا دئیے

ابن صفی وہ سلطنت فن کا بادشاہ
جس کے لئے نگاہ زمانہ تھی فرش راہ

نارے کی سر زمین کا چشم و چراغ تھا
اس کے سبب بہار سراپا یہ باغ تھا

جو نوحؔ ناروی کا تھا گہوارۂ سخن
وہ میر اگھر ہے، میرے بزرگوں کا ہے وطن

رکھتا تھا کانپور جو قبضے میں بالیقیں
ایمان ہے مرا کہ تھا محبوب شاہ دیں

افسر ہے جس کا نام جو تھا ماہر سخن
اس کے ہی صلب سے ہے مری ذات کا چمن

عرفان و آگہی کا منارا کہیں جسے
کوشامبی کا قصبۂ نارا کہیں جسے

رہتا نہیں وہاں پہ مگر دل ہے وہ مرا
منجدھار کانپور ہے ساحل ہے وہ مرا

یاورؔ ہے شاعرانہ تخلص مرے لئے
پہچان اور شناخت کے اس سے ہیں سلسلے

تاجِ سخن وری ہے مرا تاجور ہوں میں
ادنیٰ سا اک غلامِ شہِ بحر و بر ہوں میں

یاور وارثی

Address

Kanpur
Kanpur Cantonment
208001

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm

Telephone

+919455306981

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Yawar.Warsi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Yawar.Warsi:

Share