26/02/2026
وَلۡتَكُنۡ مِّنۡكُمۡ أُمَّةٌ يَّدۡعُوۡنَ اِلَى الۡخَيۡرِ وَيَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَيَنۡهَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡكَرِۚ وَأُولَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُفۡلِحُونَ
(سورۃ آلِ عمران: 104)
ترجمہ:
“اور تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو بھلائی کی طرف بلائے، نیکی کا حکم دے اور برائی سے روکے، اور یہی لوگ کامیاب ہیں۔”
تبلیغی جماعت ایک دینی دعوتی تحریک ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنا، ایمان کو تازہ کرنا اور اعمال کی اصلاح کرنا ہے۔ یہ دراصل انبیاءِ کرام علیہم السلام کا مشن ہے کہ وہ انسانوں کو اللہ کی طرف بلائیں اور انہیں غفلت سے نکالیں۔
آج کا دور فتنوں، مصروفیات اور دینی غفلت کا دور ہے۔ مادّی ترقی کے باوجود دلوں میں بے سکونی اور دین سے دوری بڑھتی جا رہی ہے۔ ایسے حالات میں تبلیغ کا کام نہایت ضروری ہو جاتا ہے، کیونکہ یہ انسان کو دنیا کی دوڑ سے نکال کر چند دن اللہ کے لیے جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے۔
بچوں کے لیے تو مدارس موجود ہیں جہاں وہ قرآن و حدیث اور دینی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے بزرگ، تاجر، مزدور اور وہ افراد جن کی عمر ڈھل چکی ہے، ان کے لیے کوئی باقاعدہ مدرسہ نہیں جہاں وہ جا کر دین سیکھ سکیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تبلیغی جماعت ایک چلتا پھرتا مدرسہ ہے۔ جب وہ چند دن اللہ کے راستے میں نکلتے ہیں تو نماز کی پابندی، ذکر و تلاوت، سنتوں کی پیروی اور دینی ماحول کا عملی سبق سیکھتے ہیں۔
تبلیغی جماعت سیاست یا اختلاف کی بات نہیں کرتی بلکہ اصلاحِ نفس، اخلاص اور محبت کی دعوت دیتی ہے۔ اس کا پیغام یہ ہے کہ پہلے خود کو سنوارو اور پھر نرمی اور خیر خواہی کے ساتھ دوسروں کو بلاؤ۔
ہمیں چاہیے کہ تبلیغ سے نفرت نہ کریں بلکہ اس سے محبت رکھیں، کیونکہ جو کام لوگوں کو مسجد سے جوڑے، نماز کی طرف لائے اور اللہ کی یاد تازہ کرے وہ یقیناً خیر کا کام ہے۔ اگر ہر مسلمان تھوڑا وقت دین کے لیے نکال لے تو معاشرہ خود بخود بدل سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ، اخلاص اور دعوت و اصلاح کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمارے دلوں میں دین کی محبت پیدا فرمائے۔ آمین