04/08/2026
*جلسوں میں بگاڑ*
*حضرت مولانا مفتی محمد سلمان صاحب منصورپوری مدّ ظلّہ العالی*
ہمارے معاشرے میں جہاں ہر شعبۂ زندگی میں بگاڑ آیا ہے، وہیں دینی جلسے بھی ظاہری اور باطنی بگاڑ سے محفوظ نہیں رہے۔ یہ بگاڑ مقررین میں بھی ہے، سامعین میں بھی، حتیٰ کہ اکثر منتظمین بھی اس وبا سے متاثر ہیں۔
سامعین اور منتظمین کا بگاڑ یہ ہے کہ انہوں نے دینی جلسوں کو مشاعروں کی صف میں کھڑا کر دیا ہے۔ جس طرح مشاعرے کی کامیابی کا دار و مدار مجمع کی کثرت اور شاعروں کے زیادہ سے زیادہ داد و تحسین وصول کرنے پر ہوتا ہے، اسی طرح دینی جلسوں کی کامیابی بھی انہوں نے اسی بھیڑ اور تحسین کو سمجھ لیا ہے۔ اسی نقطۂ نظر سے دینی جلسوں کے لیے ہزاروں، لاکھوں روپے محض سجاوٹ اور لائٹنگ پر خرچ کیے جاتے ہیں، اور ایسے مقررین بلائے اور سنے جاتے ہیں جو اپنی جوشیلی، دلچسپ اور زمین و آسمان کے قلابے ملانے والی تقریروں سے مجمع کو لوٹ پوٹ ہونے پر مجبور کر دیتے ہیں، چاہے ان کی باتوں کا باطنی اثر ہو یا نہ ہو۔
اسی وجہ سے اگر کوئی مقرر سادہ اور سنجیدہ تقریر شروع کر دے تو رفتہ رفتہ مجمع بھی چھٹنا شروع ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر منتظمین زیادہ چکاچوند انتظام نہ کر سکیں تو لوگوں کا جمع ہونا مشکل ہو جاتا ہے، اور پھر جلسے کے بعد اس پر بھرپور تنقیدی تبصرے ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں نہ سامعین کو سننے کا ثواب مل سکتا ہے اور نہ منتظمین کو انتظام کا۔ ثواب حاصل کرنے کے لیے یہ نیت ضروری ہے کہ ہم دینی باتیں سننے جا رہے ہیں اور دینی باتیں سنوانے کا انتظام کر رہے ہیں، تبھی ہم ثواب کے مستحق ہو سکتے ہیں۔
اس سے کہیں زیادہ بگاڑ طبقۂ مقررین میں ہے۔ چنانچہ اب تقریریں اگرچہ بظاہر اصلاح کے لیے ہوتی ہیں، مگر درپردہ ان کے ذریعے سستی شہرت مطلوب ہوتی ہے۔ اب تقریر کے وقت مقرر کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی سے زیادہ سامعین کی خوشنودی مطلوب ہوتی ہے کہ کہیں وہ ناخوش ہو کر جلسہ چھوڑ کر نہ چلے جائیں اور مقرر صاحب کی ناک نہ کٹ جائے۔ اگر تقریر اچھی ہو گئی تو دل خوش ہوتا ہے، اور اگر آواز بیٹھ جائے یا لوگ زیادہ تعریف نہ کریں تو طبیعت مکدر ہو جاتی ہے۔
اسی طرح بعض لوگ پیشے کے طور پر وعظ و نصیحت کا کام انجام دیتے ہیں۔ ان کی نظر میں سامعین نہیں بلکہ منتظمین کی خوشی سب سے زیادہ اہم ہوتی ہے، تاکہ انہیں زیادہ سے زیادہ نذرانہ پیش کیا جا سکے۔ اور بہت سے لوگ تو پہلے سے طے کر کے ہی تقریر کے لیے منظوری دیتے ہیں، اور اگر ان کے ساتھ مرضی کے مطابق معاملہ نہ کیا جائے تو دوبارہ اس جگہ آنا بھی پسند نہیں کرتے۔
ان سب خرابیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہزاروں جلسوں کے باوجود ان کے اصلاحی اثرات، جیسے نکلنے چاہییں تھے، ویسے نمودار نہیں ہو پاتے۔ اگر تقریر کی خدمت میں لگے ہوئے حضرات خود پکے عاملِ شریعت بن جائیں اور اخلاص و للّٰہیت سے کام کریں تو معاشرے کا رنگ بدل سکتا ہے اور اصلاح کی ٹہنیاں بارآور ہو سکتی ہیں۔
احادیثِ طیبہ میں بے عمل اور خود غرض مقرروں کے متعلق سخت ترین وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ ایک حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
"اللہ تعالیٰ اس فصاحت و بلاغت سے متصف شخص کو ناپسند فرماتا ہے جو تکلف کے ساتھ بنا سنوار کر گفتگو کرتا ہو۔"
ایک دوسری روایت میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی شب میں کچھ لوگوں کو دیکھا جن کے ہونٹوں کو جہنم کی قینچیوں سے کاٹا جا رہا تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا: "یہ کون لوگ ہیں؟" تو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے جواب دیا: "یہ آپ کی امت کے وہ مقرر ہیں جو دوسروں کو نصیحت کرتے تھے مگر خود ان نصیحتوں پر عمل نہیں کرتے تھے۔"
اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص اس لیے علمِ دین حاصل کرے کہ اس کے ذریعے تقریر کر کے لوگوں کے دلوں کو اپنے قابو میں کرے، تو قیامت کے روز نہ اس کی کوئی نفل عبادت قبول ہوگی اور نہ فرض۔"
(مشکوٰۃ شریف، ج ۱، ص ۱۰۲)
اس لیے ہمارا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو، ہمیں اپنی اصلاح کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر ہم خطیب ہیں تو خاص طور پر اخلاص اور رضائے خداوندی کے لیے کرسیِ خطابت پر جلوہ افروز ہوں، تاکہ یہ محنتیں بارآور ہوں اور سامعین میں سننے کے ساتھ ساتھ عمل کا جذبہ بھی بیدار ہو سکے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اخلاص، عمل اور اپنی رضا کے مطابق دین کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(ندائے شاہی، دسمبر ۱۹۹۴ء)