12/11/2025
*کيا صحابہ کرام - رضى الله عنهم - معيار حق ہیں ؟*
از : عرفان نصر فاروقی ندوی
يہ سوال تفصیل طلب ہے ، معيار حق كا مفهوم اگر يہ ہے کہ وه معصوم ہیں ، اور قرآن وسنت كى طرح ان ميں سے ہر فرد كو تشريعى حيثيت حاصل ہے ، تو اس معنى ميں وه ہرگز معيار حق نہيں ، اصلاً تشريعى حيثيت قرآن و سنت كو حاصل ہے ، صحابہ معصوم نہیں ہیں ، اور جب معصوم نہیں ہیں تو اس كا مطلب يہ ہے کہ ان سے خطاء كا صدور ممكن ہے ، اور جب خود ان سے خطاء سرزد ہو سكتى ہے اور ہوئی ہے تو وه معيار حق نہیں ہیں ، كيوں كہ ہم سے اللہ اور اس كے رسول کى طاعت كا مطالبہ كيا گيا ہے ، {قُلۡ أَطِیعُوا۟ ٱللَّهَ وَٱلرَّسُولَۖ فَإِن تَوَلَّوۡا۟ فَإِنَّ ٱللَّهَ لَا یُحِبُّ ٱلۡكَـٰفِرِینَ} (سوره آل عمران32)
کہہ دو کہ اللہ اور رسول کی اطاعت کرو ، پھر اگر وہ منہ موڑیں تو (جان لو کہ) اللہ کافروں کو پسند نہیں کرتا ۔
اس مفهوم كى متعدد آيات ہیں ،
اور آپ - صلى الله عليه وسلم - نے ہدايت كو قرآن وسنت كے ساتھ جوڑا ہے ، (تركتُ فيكم شيئَينِ، لن تضِلوا بعدهما : كتابَ اللهِ ، و سُنَّتي ، و لن يتفرَّقا حتى يَرِدا عليَّ الحوضَ) (رواه الحاكم والبزار وغيرهما وصححه الالبانى)
میں تمہارے درمیان دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ، ان کے ساتھ رہو گے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے ، اللہ کی کتاب ، اور میری سنت ، یہ دونوں کبھی جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض (کوثر) پر میرے پاس پہنچیں گے .
امام مالک كا مشهور قول ہے کہ آپ - صلى اللہ عليہ وسلم - كے علاوه ہر ايک كا قول اختيار بهى كيا جا سكتا ہے ، اور ترک بهى كيا جا سكتا ہے ،
قال الإمام مالك : "ما مِنَّا إلَّا رادٌّ ومردود عليه ، إلا صاحب هذا القبر ؛ يُشير إلى رسول اللَّه - صلى اللَّه عليه وسلم -"۔
(نسبةُ هذا الكلام إلى مالك هو المشهور عند المتأخرين ، وقد أخرجه ابن عبد البر في "جامع بيان العلم وفضله" (٢/ ٩٢٥)، وابن حزم في "أصول الأحكام" (٦/ ١٧٩) من قول الحكم بن عُتَيبة ومجاهد ، وأورده تقي الدين السبكي في "الفتاوى" (١/ ١٣٨) من قول ابن عباس - متعجبًا من حسنه - ثم قال : "وأخذ هذه الكلمة من ابن عباسٍ مجاهدٌ ، وأخذها منهما مالك - رضي اللَّه عنه - واشتهرت عنه")۔
قال الشافعي - رحمه الله - : ". . . لأن الله جل ثناؤه أقام على خلقه الحجة من وجهين ، أصلهما في الكتاب : كتابه ثم سنة نبيه (الرسالة، للشافعي، (ص ٢٢١).
شافعی - رحمہ اللہ - نے فرمایا :
"… کیونکہ اللہ - جل شانہٗ - نے اپنی مخلوق پر دو پہلوؤں سے حجت قائم کی ہے ، جس کی اصل کتاب (قرآن) میں ہے : ایک تو اللہ کی اپنی کتاب ، اور دوسرا اُس کے نبی ﷺ کی سنت۔"
قال أبو داود : سمعتُ أحمد يقولُ: ليس أحد إلا ويؤخذ من رأيه ويُترك ، يعني: ما خلا النبي - صلى اللَّه عليه وسلم - ۔ مسائل أبي داود" (١٧٨٦)
ابو داود کہتے ہیں: میں نے امام احمد کو یہ کہتے ہوئے سنا : "ایسا کوئی نہیں جس کی رائے سے کچھ لیا نہ جائے اور کچھ چھوڑا نہ جائے ـــ سوائے نبی کریم ﷺ کے۔
امام ابو حنيفہ كے پاس ايک شخص آيا :
ودخل شخص الكوفة بكتاب "دانيال" فكاد أبو حنيفة أن يقتله ، وقال له : أ كتاب ثَمَّ غير القرآن والحديث ؟ (قواعد التحديث 298)
ایک شخص کوفہ میں 'دانیال' - عليہ السلام - كى کتاب لے کر آیا تو قریب تھا کہ امام ابو حنیفہ اسے قتل کر دیں ، اور اس سے کہا : کیا قرآن وحدیث کے علاوہ بھی کوئی کتاب ہے؟"
شاه ولي اللہ محدّث دہلوى فرماتے ہیں : فَلم يبح الله تَعَالَى الرَّد عِنْد التَّنَازُع إِلَى أحد دون الْقُرْآن وَالسّنة ، وَحرّم بذلك الرَّد عِنْد التَّنَازُع إِلَى قَول قَائِل لِأَنَّهُ غير الْقُرْآن وَالسّنة ، وَقد صَحَّ إِجْمَاع الصَّحَابَة كلهم أَوَّلهمْ عَن آخِرهم ، وَإِجْمَاع التَّابِعين أَوَّلهمْ عَن آخِرهم على الِامْتِنَاع وَالْمَنْع من أَن يقْصد مِنْهُم (حجة الله البالغة 263/1)
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے نزاع اور اختلاف کی صورت میں رجوع کرنے کو قرآن و سنت کے علاوہ کسی اور کی طرف مباح (جائز) قرار نہیں دیا ، اور اس طرح یہ حرام قرار دیا کہ نزاع کی حالت میں کسی کے قول کی طرف رجوع کیا جائے ، کیونکہ وہ قرآن و سنت نہیں ہے ۔ اور اس پر تمام صحابہ کرامؓ کا ابتدا سے لے کر آخر تک اجماع ثابت ہے ، اور تابعین کا بھی ابتدا سے لے کر آخر تک اجماع ثابت ہے کہ ان میں سے کسی کا مقصد یہ نہ ہو کہ (قرآن و سنت کے مقابلے میں) کسی قول کی طرف رجوع کیا جائے۔“
اس مكمل تفصيل سے معلوم ہوا كہ قرآن وسنت كو ہى اصلاً تشريعى حيثيت حاصل ہے ، اور قرآن وسنت ہى معيار حق ہیں ، صحابہ كرام اس حيثيت سے معيار حق نہیں ہیں ۔
ليكن صحابہ كرام كى ايک دوسرى حيثيت بهى ہے ، انہوں نے قرآن كے نزول کا مشاہده كيا تها ،اور نبي كريم - صلى الله عليه وسلم - كى صحبت ميں رہے تھے ، اور آپ - صلى عليه وسلم - نے ان کى تعليم وتربيت فرمائی تهى، اس طرح وه نسل تيار ہوگئی تهى جو أنبياء - عليهم السلام - كے بعد سب سے معتبر اور مستند اور سب سے أفضل تهى ، قرآن وسنت كى تفہيم و تشريح اور ان مصادر كو صحيح طور پر سمجهنے ميں يہ جماعت معيار حق ہے ، یہ وہ حضرات ہیں جن پر شریعت کی نقل کا مدار ہے ، انہوں ہی نے ہمیں قرآنِ کریم کو ثابت اور صحیح متواتر قراءتوں کے ساتھ منتقل کیا ، اور وہی تھے جنہوں نے قرآن سیکھا ، سکھایا ، اور دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلایا۔ اسی طرح نبی کریم - صلی اللہ علیہ وسلم - کے بعد سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کے کلام کی وضاحت اور تفسیر کرنے والے بھی یہی صحابہ کرام تھے ، جیسے سیدنا عبداللہ بن عباس اور ابن مسعود رضی اللہ عنہم ۔ انہوں نے قرآن کے اسرار ، آداب اور احکام کو واضح کیا ۔
یہی حضرات اپنے علم ، عدالت ، اور مضبوط حافظے کے ذریعے سنتِ نبویہ بھی ہم تک لائے ، انہوں نے سنت کو لکھا ، اس پر صحیفے اور مجموعے تیار کئے ، اور کثیر روایات نقل کیں ، پھر وہ مختلف علاقوں اور شہروں میں پھیل گئے ، اور اس نورِ وحی کو اپنے ساتھ لے کر دنیا تک پہنچایا ، جس کے ذریعے دلوں کو منوّر کیا ، خطوں کو فتح کیا ، اور بندوں کی ہدایت کا ذریعہ بنے ، اس کى كچھ تفصيل ہم درج ذيل سطور ميں كرتے ہیں ۔
قرآن ميں ہے :
{ مُّحَمَّدࣱ رَّسُولُ ٱللَّهِۚ وَٱلَّذِینَ مَعَهُۥۤ أَشِدَّاۤءُ عَلَى ٱلۡكُفَّارِ رُحَمَاۤءُ بَیۡنَهُمۡۖ تَرَىٰهُمۡ رُكَّعࣰا سُجَّدࣰا یَبۡتَغُونَ فَضۡلࣰا مِّنَ ٱللَّهِ وَرِضۡوَ ٰنࣰاۖ سِیمَاهُمۡ فِی وُجُوهِهِم مِّنۡ أَثَرِ ٱلسُّجُودِۚ }
محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں پر سخت ، اور آپس میں نہایت رحم دل ہیں ، تم انہیں رکوع اور سجدے میں دیکھو گے ، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا چاہتے ہیں ، ان کے چہروں پر سجدے کے اثر سے ان کی پہچان ہے۔"
{ لَا یَسۡتَوِی مِنكُم مَّنۡ أَنفَقَ مِن قَبۡلِ ٱلۡفَتۡحِ وَقَـٰتَلَۚ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ أَعۡظَمُ دَرَجَةࣰ مِّنَ ٱلَّذِینَ أَنفَقُوا۟ مِنۢ بَعۡدُ وَقَـٰتَلُوا۟ۚ وَكُلࣰّا وَعَدَ ٱللَّهُ ٱلۡحُسۡنَىٰۚ وَٱللَّهُ بِمَا تَعۡمَلُونَ خَبِیرࣱ ﴾ [الحديد ١٠]
تم میں سے وہ لوگ (درجہ میں) برابر نہیں ہیں جنہوں نے فتح (مکہ) سے پہلے خرچ کیا اور قتال کیا ، وہ لوگ ان لوگوں سے درجہ میں زیادہ ہیں جنہوں نے بعد میں خرچ کیا ، اور قتال کیا ، اور اللہ نے سب سے حُسنىٰ کا وعدہ فرمایا ہے ، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب باخبر ہے ۔
يہ حُسنىٰ كيا هے ؟
{ إنَّ ٱلَّذِینَ سَبَقَتۡ لَهُم مِّنَّا ٱلۡحُسۡنَىٰۤ أُو۟لَـٰۤىِٕكَ عَنۡهَا مُبۡعَدُونَ ١٠١ لَا یَسۡمَعُونَ حَسِیسَهَاۖ وَهُمۡ فِی مَا ٱشۡتَهَتۡ أَنفُسُهُمۡ خَـٰلِدُونَ ١٠٢ }
بیشک جن لوگوں کے لیے پہلے ہی ہماری طرف سے حُسنىٰ مقرر ہو چکی ہے وہ اس (جہنم) سے دور رکھے جائیں گے ، وہ اس کی آہٹ بھی نہ سنیں گے ، اور وہ ان (نعمتوں) میں ہمیشہ رہیں گے ، جن کی ان کے دل خواہش کریں گے" .
معلوم ہوا کہ جميع صحابہ جنتى ہیں ۔
وقال أبو محمد بن حزم : "الصحابة كلهم من أهل الجنة قطعاً" . ( "الفصل" (٤/ ٢٢٥ - ٢٢٦)
علامہ ابن حزم مذكوره بالا آيتوں سے استدلال كرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابہ يقينى طور پر سب كے سب جنتى ہیں ۔
{ كُنتُمۡ خَیۡرَ أُمَّةٍ أُخۡرِجَتۡ لِلنَّاسِ تَأۡمُرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَتَنۡهَوۡنَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ وَتُؤۡمِنُونَ بِٱللَّهِۗ }
تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں کے لیے ظاہر کی گئی ہے ، تم نیک بات کا حکم دیتے ہو ، اور برائی سے روکتے ہو ، اور تم اللہ پر ایمان رکھتے ہو ۔
اس فضيلت كے أولين مصداق حضرات صحابہ ہیں ۔
{ وَكَذَ ٰلِكَ جَعَلۡنَـٰكُمۡ أُمَّةࣰ وَسَطࣰا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَاۤءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَیَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَیۡكُمۡ شَهِیدࣰاۗ }
اور اسی طرح ہم نے تمہیں ایک درمیانی امت بنایا ، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو ، اور رسول تم پر گواہ ہوں۔"
صحابہ كى مدح و توصيف ميں بہت سى آيتيں ہیں ، ایک دو احادیث بهى ذكر كرنا مناسبِ حال ہے :
(خَيْرُ النّاسِ قَرْنِي، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ) (بخارى6429)
آپ - صلى الله عليه وسلم - نے فرمايا : سب سے بہتر لوگ میرے زمانے کے ہیں ، پھر وہ لوگ جو ان کے بعد آئیں گے ، پھر وہ جو ان کے بعد آئیں گے۔"
(لا تَسُبُّوا أصْحابِي؛ فلوْ أنَّ أحَدَكُمْ أنْفَقَ مِثْلَ أُحُدٍ ذَهَبًا، ما بَلَغَ مُدَّ أحَدِهِمْ ولا نَصِيفَهُ) (بخارى 3637)
آپ - صلى الله عليه وسلم - نے فرمايا : میرے صحابہ کو بُرا نہ کہو ، کیونکہ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ کے برابر سونا خرچ کرے تو بھی اُن کے ایک مُد (یعنی کھانے کی ایک چھوٹی پیمائش) بلکہ اُس کا آدھا بھی نہیں پہنچ سکتا۔"
(إنَّ اللَّهَ اختارَني ، واختارَ لي أصحابًا ، وجعلَ لي مِنهم وزراءَ وأنصارًا وأصهارًا ، فمن سبَّهم فعليهِ لعنةُ اللَّهِ والملائِكةِ والنّاسِ أجمعينَ لا يقبلُ اللَّهُ منهُ صَرفًا ولا عدلًا) (أخرجه الطبراني وغيره وحسنه الحافظ)
آپ - صلى الله عليه وسلم - نے فرمايا : بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے منتخب فرمایا ، اور میرے لئے ساتھی بھی منتخب فرمائے ، اور ان میں سے میرے وزراء ، مدد گار اور سسرالی رشتہ دار بنائے ، تو جس نے ان (میرے اصحاب) کو بُرا کہا ، اس پر اللہ کی لعنت ، فرشتوں کی لعنت ، اور تمام انسانوں کی لعنت ہے ، اللہ تعالیٰ اس سے نہ کوئی نفل عبادت قبول فرمائے گا ، اور نہ ہی کوئی فرض۔"
ان آيات اور احادیث صحيحہ كى روشنى ميں اس جماعت كے تعلق سے ايک خاكہ بنتا ہے کہ أنبياء - عليهم السلام - كے بعد سب سے أفضل جماعت اور سب سے خير والى جماعت صحابہ كى تهى ۔
*صحابہ إيمان كے بارے میں معيار ہیں :*
صحابہ كے إيمان كو اللہ تعالى نے معيار قرار ديا ، فرمايا :
{فَإِنۡ ءَامَنُوا۟ بِمِثۡلِ مَاۤ ءَامَنتُم بِهِۦ فَقَدِ ٱهۡتَدَوا۟ۖ}
پس اگر وہ بھی اسی طرح ایمان لائے جس طرح تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پا گئے۔"
علامہ قرطبي فرماتے ہیں :
قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنْتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوْا﴾ الْخِطَابُ لِمُحَمَّدٍ ﷺ وَأُمَّتِهِ ، الْمَعْنَى : فَإِنْ آمَنُوا مِثْلَ إِيمَانِكُمْ، وَصَدَّقُوا مِثْلَ تَصْدِيقِكُمْ فَقَدِ اهْتَدَوْا ، فَالْمُمَاثَلَةُ وَقَعَتْ بَيْنَ الْإِيمَانَيْنِ ( تفسير القرطبي)
اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿فَإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِهِ فَقَدِ اهْتَدَوا﴾ کا خطاب حضور اکرم ﷺ اور آپ کی امت سے ہے ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر وہ لوگ بھی اسی طرح ایمان لائیں جیسے تم ایمان لائے ہو اور تمہاری طرح تصدیق کریں ، تو وہ ہدایت پا جائیں گے ، پس یہاں مماثلت دونوں ایمانوں کے درمیان واقع ہوئی ہے۔"
اللہ اور اس كے رسول پر صحابہ كا إيمان معيارى تها ، هجرت ونصرت اور اپنا سب کچھ اس راستے ميں قربان كر دينا ان كو يہ بلند مقام عطا كرتا ہے ، وہ اس حديث - (لا يُؤْمِنُ أحَدُكُمْ، حتّى أكُونَ أحَبَّ إلَيْهِ مِن والِدِهِ ووَلَدِهِ والنّاسِ أجْمَعِينَ) (بخارى) تم میں سے کوئی شخص (کامل) مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کے نزدیک اس کے والد ، اس کی اولاد ، اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ بن جاؤں،،
وه اس حديث پر عامل ہى نہیں بلکہ اس کے مجسم پيكر تهے ۔
*اسماء وصفات اور الهيات كے باب ميں ملاحده نے جو بحثيں پيدا كر دى ہیں اس ميں بهى صحابہ كے قول كو مرجعيت حاصل رہے گى ۔*
امام أهل السنت أحمد بن حنبل سے منقول ہے :
"أصول السنة عندنا : التمسك بما كان عليه أصحاب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والاقتداء بهم ، وترك البدع وكل بدعة ، فهي ضلالة ، وترك الخصومات والجلوس مع أصحاب الأهواء ، وترك المراء والجدال والخصومات۔
والسنة عندنا آثار رسول الله - صلى الله عليه وسلم - والسنة تفسر القرآن ، وهي دلائل القرآن ، وليس في السنة قياس ، ولا تضرب لها الأمثال ، ولا تدرك بالعقول ولا الأهواء ، إنما هي الإتباع وترك الهوى، (السنة للالكائي (١/ ١٥٦)
وقال أيضا : "الإتباع أن يتبع الرجل ما جاء عن النبي - صلى الله عليه وسلم - وأصحابه ، ثم هو بعد مع التابعين مخير (إيقاظ همم أولي الأبصار (ص ١١٣)
امام السنت احمد بن حنبل نے فرمایا :
"ہمارے نزدیک سنت کے اصول یہ ہیں کہ آدمی اُن (طریقوں) پر قائم رہے جن پر رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کے صحابہ تھے ، اور ان کی اقتداء کرے ، اور بدعات کو ترک کرے ، کیونکہ ہر بدعت گمراہی ہے ، اور جھگڑوں کو ترک کرنا ، اور اہلِ خواہش وبدعت والوں کے پاس بیٹھنے سے بچنا ، اور کج بحثی ، جدال اور خصومت کو چھوڑ دینا .
اور ہمارے نزدیک سنت کے اصول رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کی آثار (احادیث) ہیں ، سنت قرآن کی تفسیر ہے ، اور سنت ہی قرآن کے دلائل ہیں ، سنت میں قیاس نہیں ہے ، نہ اس کے لیے مثالیں گھڑی جاتی ہیں ، نہ ہی عقلوں اور خواہشات سے اس کو سمجھا جاسکتا ہے ، سنت صرف اتباع ہے ، اور خواہشِ نفس کو چھوڑ دینا ہے۔"
(السنة للالكائي ١/ ١٥٦)
انہوں نے یہ بھی فرمایا :
"اتباع یہ ہے کہ آدمی اُس چیز کی پیروی کرے جو نبی - صلی اللہ علیہ وسلم - اور ان کے صحابہ سے آئی ہے ، پھر اس کے بعد تابعین کے معاملے میں وہ اختیار پر ہے (چاہے ان کی پیروی کرے یا نہ کرے)."
(إيقاظ همم أولي الأبصار ص ١١٣)
*صحابه كا مقام تفسير كے باب ميں :*
علامہ ابن تيميہ فرماتے ہیں، فإن قال قائل: فما أحسن طرق التفسير ؟
فالجواب : إن أصح الطرق في ذلك أن يُفسّر القرآن بالقرآن ، فما أُجمِل في مكان فإنه قد فُسِّر في موضع آخر، وما اختُصِر في مكان فقد بُسِطَ في موضع آخر ، فإن أعياك ذلك ، فعليك بالسنة ، فإنها شارحة للقرآن وموضحة له ،؛؛؛؛ وحينئذٍ إذا لم نجد التفسير في القرآن ولا في السنة رجعنا في ذلك إلى أقوال الصحابة ، فإنهم أدرى بذلك ، لما شاهدوه من القرآن ، والأحوال التي اختصوا بها ؛ ولما لهم من الفهم التامّ ، والعلم الصحيح ، والعمل الصالح ، لا سيما علماؤهم وكبراؤهم ؛ كالأئمة الأربعة الخلفاء الراشدين ، والأئمة المهديين ؛ مثل : عبدالله بن مسعود ؛؛؛ (مقدمة فى اصول التفسير لابن تيمية , ومقدمة القرآن العظيم لابن كثير والإتقان للسيوطى)
اور محققين كى جماعت جيسے ابن حجر وغيره فرماتے ہیں کہ صحابہ كے بعض تفسيرى اقوال كو حديث مرفوع كى حيثيت حاصل ہے ، وہ اس کے لیے دو شرطين عائد كرتے ہیں ۔
قال ابن حجر : على أن أقوال الصحابة في التفسير لها حكم المرفوع إلى النبي - صلى الله عليه وسلم - بشرطين ، الأول : أن يكون مما لا مجال للرأي فيه ، كأسباب النزول ، وأحوال القيامة ، واليوم الآخر ونحوها.
الثاني: ألا يكون الصحابي معروفاً بالأخذ عن أهل الكتاب الذين أسلموا ، أي غير معروف برواية الإسرائيليات. (نزهة النظر شح نخبة الفكر ص ٤٣)
يہ شكل اس وقت ہے ليكن جب وه أپنى جانب سے کوئی تفسير كريں ، اور وه نص كى مخالف نہ ہو ، اور صحابہ ميں سے كوئی قول اس كے خلاف مروى نہ ہو تو وه حجت ہوگا ،
وصورتها : أن لا يكون في المسألة نصٌّ يخالفه ، ويقول في الآية قولًا لا يخالفه فيه أحد من الصحابة، (أعلام الموقعين 635/4)
حاصل كلام يہ كہ تفسير كے باب ميں وه (ان شرطوں كے ساتھ) معيار ہیں ۔
*صحابہ نقلِ حدیث ميں معيار :*
جس طرح آپ - صلى اللہ عليه وسلم - نے اللہ تعالى كا پيغام صحابہ تک پہنچايا ، اور اس كو آگے تک پہنچانے کى ذمے دارى ان كے سپرد کى (بَلِّغُوا عَنِّي ولو آيَةً) میری طرف سے لوگوں کو پہنچا دو ، اگرچہ ایک آیت ہی ہو ۔(بخارى)
(خطبَ رسولُ اللَّهِ ﷺ يومَ النَّحرِ ، فقالَ : ليبلِّغِ الشّاهدُ الغائبَ ، فإنَّهُ رُبَّ مبلَّغٍ يبلغُهُ أوعى لهُ من سامعٍ)
رسول اللہ ﷺ نے یوم النحر (قربانی کے دن) خطبہ دیا اور فرمایا : "جو حاضر ہے وہ غائب تک (میرا پیغام) پہنچا دے ، کیونکہ بسا اوقات جسے بات پہنچائی جاتی ہے وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا اور سمجھنے والا ہوتا ہے"۔ (بخارى)
انہوں نے جس امانت و ديانت كے ساتھ اس كام كو انجام ديا كتب الحديث ، كتب السير المغازى اس پر شاہد ہیں ، اسى لئے نقلِ حدیث ميں امت نے ان كو ہر قسم كى جرح وقدح بلند تسليم كيا ، اهلسنت كے نزدیک وه عادل ہیں ، الصحابة كلهم عدول كا قاعده معروف ہے ۔
وقال الحافظ ابن حجر في الإصابة (١/١٧) : ((واتَّفق أهلُ السنَّة على أنَّ الجميعَ عدولٌ ، ولَم يخالف في ذلك إلاَّ شذوذ من المبتدعة))
اہل سنت کا اتفاق ہے کہ تمام صحابہؓ عادل ہیں ، اور اس میں صرف کچھ منحرف بدعتی مخالفت کرتے ہیں۔",
اس كے ساتھ ہی ان پر جرح كرنے كو زندقہ قرار ديا ، ويقول أبو زرعة الرازي - رحمه الله - : " إذا رأيت الرجلَ ينتقصُ أحداً من أصحاب رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فاعلم أنَّه زنديقٌ ؛ وذلك أنَّ رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عندنا حقٌّ ، والقرآن حقٌّ ، وإنَّما أدَّى إلينا هذا القرآنَ والسننَ أصحابُ رسول الله - صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وإنَّما يريدون أن يجرحوا شهودَنا ، ليُبطلوا الكتاب والسنة ، والجرحُ بهم أولى وهم زنادقةٌ" (الكفاية الخطيب)
امام ابو زرعہ رازی - رحمہ اللہ - نے فرمایا : "جب تم کسی شخص کو دیکھو کہ وہ رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - کے کسی صحابی کی تنقیص (گستاخی یا عیب جوئی) کرتا ہے تو جان لو کہ وہ شخص زندیق ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے نزدیک رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - حق ہیں ، اور قرآن حق ہے ، اور یہ قرآن اور سنت ہمیں صرف رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - کے صحابہ ہی نے پہنچائے ہیں ، تو جو لوگ صحابہ کرام پر طعن کرتے ہیں ، ان کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ہمارے گواہوں کو مجروح کریں ، تاکہ کتاب وسنت کو باطل کر سکیں ، اس لیے ایسے لوگوں پر جرح (اور برا کہنا) زیادہ موزوں ہے ، اور وہ حقیقت میں زندیق ہیں۔" ۔
*صحابہ اجتهاد اور راۓ ميں معيار :*
شريعت كے اصل مآخذ دو ہیں ، قرآن وسنت ، اور قرآن وسنت سے متفق عليہ طور پر دو دليليں اجماع اور قياس ثابت ہیں ، جن كے ذريعے سے ہر زمانے میں رہنمائی حاصل كى جاتى ہے ، حضرت معاذ بن جبل كو آپ - صلى عليه وسلم - نے جب يمن بهيجا تو ان سے دريافت كيا جس کا اس میں ذکر ہے : - أنَّ رسولَ اللَّهِ - صلّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ - لمّا بعثهُ إلى اليمنِ قالَ لهُ : كيفَ تقضي إذا عُرِضَ لك قضاءٌ ؟ قالَ : أقضي بكتابِ اللَّهِ قالَ : فإن لم تجِد في كتابِ اللَّهِ ؟ قالَ: فبِسُنَّةِ رسولِ اللَّهِ ، قالَ : فإن لم تجِد في كتابِ اللَّهِ ، ولا في سنَّةِ رسولِ اللَّهِ ؟ قالَ : أجتهِدُ رأيي ، ولا آلو ، قال : فضربَ رسولُ اللَّهِ - صلّى اللَّهُ عليهِ وسلَّمَ - صدرَهُ ، وقالَ : الحمدُ للَّهِ الَّذي وفَّقَ رسولَ رسولِ اللَّهِ لما يُرضي رسولَ اللَّهِ (أحمد وقال ابن كثير : حسن مشهور ، وقد ذكرت له طرقاً شواهد)
رسول اللہ ﷺ نے جب انہیں یمن کی طرف بھیجا تو فرمایا : "تم قضا (فیصلہ) کیسے کرو گے جب کوئی مقدمہ تمہارے سامنے آئے ؟"
حضرت معاذ - رضی اللہ عنہ - نے کہا : "میں اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا"
نبی ﷺ نے فرمایا : "اگر اللہ کی کتاب میں نہ پاؤ تو ؟"
انہوں نے کہا : "اللہ کے رسول کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔"
آپ ﷺ نے فرمایا : "اگر اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت میں (صاف) نہ پاؤ تو ؟"
انہوں نے کہا : "تو میں اپنی رائے سے اجتہاد کروں گا اور کوتاہی نہیں کروں گا۔"
رسول اللہ ﷺ نے اپنے دست مبارک کو ان کے سینے پر مارا اور فرمایا : "اللہ کا شکر ہے جس نے اللہ کے رسول کے قاصد کو اس بات کى رهنمائى كى جو اللہ کے رسول کو راضی کرتی ہے۔"
علامہ ابن تيميہ فرماتے ہیں :
فَإِنَّ الْكَلَامَ فِي أُصُولِ الْفِقْهِ وَتَقْسِيمِهَا إلَى : الْكِتَابِں؛ وَالسُّنَّةِ ؛ وَالْإِجْمَاعِ ؛ وَاجْتِهَادِ الرَّأْيِ ؛ وَالْكَلَامِ فِي وَجْهِ دَلَالَةِ الْأَدِلَّةِ الشَّرْعِيَّةِ عَلَى الْأَحْكَامِ : أَمْرٌ مَعْرُوفٌ مِنْ زَمَنِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَالتَّابِعِينَ لَهُمْ بِإِحْسَانِ ؛ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَهُمْ كَانُوا أَقْعَدَ بِهَذَا الْفَنِّ وَغَيْرِهِ مِنْ فُنُونِ الْعِلْمِ الدِّينِيَّةِ مِمَّنْ بَعْدَهُمْ وَقَدْ كَتَبَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - إلَى شريح: اقْضِ بِمَا فِي كِتَابِ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَبِمَا فِي سُنَّةِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَبِمَا اجْتَمَعَ عَلَيْهِ النَّاسُ - وَفِي لَفْظٍ - فَبِمَا قَضَى بِهِ الصَّالِحُونَ ، فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَإِنْ شِئْت أَنْ تَجْتَهِدَ رَأْيَك. وَكَذَلِكَ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَحَدِيثُ مُعَاذٍ مِنْ أَشْهَرِ الْأَحَادِيثِ عِنْدَ الْأُصُولِيِّينَ, (مجموع الفتاوى 401/20)
بیشک اصولِ فقہ اور ان کی تقسیم یعنی : کتاب (قرآن) ، سنت ، اجماع ، اور اجتہادِ رائے پر گفتگو ، اور شرعی دلائل کے احکام پر دلالت کرنے کے طریقے پر کلام ، یہ ایسا معروف امر ہے جو حضرت محمد - صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم - کے صحابہ کے زمانے سے چلا آتا ہے ، پھر ان کے بعد آنے والے تابعین اور ان کے بعد کے ائمۂ مسلمین بھی اسے اختیار کرتے رہے ، وہ ان کے بعد آنے والوں کی نسبت اس فن اور دوسرے دینی علوم میں کہیں زیادہ گہری بصیرت رکھنے والے تھے ، اور حضرت عمر بن خطاب - رضی اللہ عنہ - نے شریح (قاضی) کو لکھا : اللہ کی کتاب كے مطابق فيصلہ كرو ، اگر وہاں نہ ملے تو رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کی سنت کے مطابق فیصلہ کرو ، اور اگر وہ بھی نہ ملے تو جس پر مسلمانوں کا اجماع ہو ، اور ایک روایت میں (الفاظ اس طرح ہیں) : ’تو اُن فیصلوں کے مطابق فیصلہ کرنا جو نیک لوگوں نے کیا ہے ، اور اگر وہاں بھی نہ پائے تو اگر چاہو تو اپنی رائے سے اجتہاد کرو ، اور اسی طرح ابن مسعودؓ اور ابن عباسؓ سے بھی یہی بات منقول ہے ، اور معاذؓ کی حدیث اصولیوں کے نزدیک سب سے مشہور احادیث میں سے ہے ۔
صحابه كرام كا اگر کسی بات پر إجماعٌ ہو جائے تو بالاتفاق حجت ہے ، ليكن أگر ان کے يہاں اختلاف ہو تو أئمہ اربعہ كے يہاں كچھ اختلاف ہے ،
جس كو ہم ذيل ميں نقل كرتے ہیں ،
1. امام ابو حنيفہ :
نعيم بن حماد : ثنا ابنُ المبارك قال : سمعت أبا حنيفة يقول : إذا جاء عن النبي - صلى اللَّه عليه وسلم - فعلى الرأس والعين ، وإذا جاء عن الصحابة نختار من قولهم ، وإذا جاء عن التابعين زاحمناهم (رواه البيهقي في "المدخل" (رقم ٤٠) مقولة أبي حنيفة، وذكرها الذهبي فى مناقب أبى حنيفة وابن عبدالبر في "الانتقاء" (١٤٤)
نعیم بن حماد کہتے ہیں : عبداللہ بن المبارک نے بیان کیا ، انہوں نے کہا : میں نے امام ابو حنیفہ کو فرماتے ہوئے سنا : "جب (کوئی بات) رسول اللہ ﷺ کی طرف سے آئے تو وہ ہمارے سر اور آنکھوں پر ہے ، اور جب یہ (قول) صحابۂ کرام سے آئے تو ہم ان کے اقوال میں سے اختیار کرتے ہیں ، اور جب تابعین کی طرف سے (کوئی بات) آئے تو ہم بھی ان کے ساتھ اجتہاد میں شریک ہوتے ہیں (یعنی اُن کے ہم مرتبہ ہیں ، بلا مجبوری ان پر پابند نہیں ہیں)۔"
اور ايک روايت ميں ہے : ورُوِي عنه قوله : "آخذ بكتاب الله ، فما لم أجد فبسنة رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فإن لم أجد في كتاب الله ولا سنة أخذت بقول أصحابه ، آخذ بقول من شئت منهم ، وأدع قول من شئت منهم ، ولا أخرج من قولهم إلى قول غيرهم ...(المدخل إلى السنن (ص ٢٠٤)
اور ان سے یہ قول بھی روایت کیا گیا ہے : میں کتاب اللہ کو اختیار کرتا ہوں ، پھر جو بات اس میں نہ پاؤں تو رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کی سنت کو لیتا ہوں ، پھر اگر کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - میں نہ پاؤں تو صحابۂ کرام کے اقوال لیتا ہوں ، ان میں سے جس کا چاہوں قول اختیار کرتا ہوں ، اور جس کا چاہوں ترک کردیتا ہوں ، لیکن اُن کے اقوال سے ہٹ کر کسی اور کا قول نہیں لیتا۔“
(المدخل إلى السنن، ص 204)
امام سرخسى نے اس بابت اصول ميں ايک فصل قائم كى ہے، فصل فِي تَقْلِيد الصَّحَابِيّ إِذا قَالَ قولاً وَلَا يُعرف لَهُ مُخَالف .
حكى أَبُو عَمْرو بن دانيكا الطَّبَرِيّ عَن أبي سعيد البردعي - رحمه الله - أَنه كَانَ يَقُول قَول الْوَاحِد من الصَّحَابَة مقدّم على الْقيَاس ، يُتْرك الْقيَاس بقوله ، وعَلى هَذَا أدركنا مَشَايِخنَا .
وَذكر أَبُو بكر الرَّازِيّ عَن أبي الْحسن الْكَرْخِي - رحمه الله - أَنه كَانَ يَقُول : أرى أَبَا يُوسُف يَقُول فِي بعض مسَائِله الْقيَاس كَذَا إِلَّا أَنِّي تركته للأثر ، وَذَلِكَ الْأَثر قَول وَاحِد من الصَّحَابَة .
فَهَذِهِ دلَالَة بَيِّنَة من مذْهبه على تَقْدِيم قَول الصَّحَابِيّ على الْقيَاس .
(اصول السرخسى 105/2)
وقال الإمام السرخسى بعد نقل الأمثلة : فعرفنَا أَن عمل عُلَمَائِنَا بِهَذَا فِي مسائلهم مُخْتَلف . (أيضا) .
فصل : صحابی کے قول کی تقلید کے بارے میں ، جب کسی صحابی کا قول ہو ، اور اس کے مخالف ميں كوئی نہ ہو ۔
ابو عمرو بن دانیكا الطبری نے ابو سعيد البردعی - رحمہ اللہ - سے نقل کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے :
"صحابی کے ایک فرد کا قول قیاس پر مقدم ہے ، اور اس کے قول کی وجہ سے قیاس ترک کر دیا جاتا ہے ، اور ہمارے مشائخ کو ہم نے اسی طریق پر پایا ہے ۔"
اور ابو بکر الرازی نے ابو الحسن الکرخی - رحمہ اللہ - سے نقل کیا ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے :
"میں دیکھتا ہوں کہ بعض مسائل میں ابو یوسف کا کہنا یہ ہوتا ہے کہ قیاس اس طرح ہے ، لیکن میں نے اسے ایک اثر کی وجہ سے چھوڑ دیا ، اور وہ اثر دراصل کسی ایک صحابی کا قول ہوتا تھا ۔"
پس یہ ان کے مذہب سے ایک بالکل واضح دلیل ہے کہ صحابی کے قول کو قیاس پر مقدم رکھتے تھے۔
(اصول السرخسی، جلد 2، ص 105)
اور امام سَرخَسی نے ان مثالوں کے ذکر کے بعد فرمایا :
"پس ہم نے جان لیا کہ ہمارے علماء کا عمل اس مسئلہ میں مختلف رہا ہے۔" (أيضاً)
امام السرخسى امام بردعى كے قول كى توجيه بيان كرتے ہیں :
وَجه مَا ذهب إِلَيْهِ أَبُو سعيد البردعي وَهُوَ الْأَصَح : أَن فَتْوَى الصَّحَابِيّ فِيهِ احْتِمَال الرِّوَايَة عَمَّن ينزل عَلَيْهِ الْوَحْي ، فقد ظهر من عَادَتهم أَن من كَانَ عِنْده نَص فَرُبمَا روى ، وَرُبمَا أفتى على مُوَافقَة النَّص مُطلقًا من غير الرِّوَايَة ، وَلَا شكّ أَن مَا فِيهِ احْتِمَال السماع من صَاحب الْوَحْي فَهُوَ مقدّم على مَحْض الرَّأْي ، فَمن هَذَا الْوَجْه تَقْدِيم قَول الصَّحَابِيّ على الرَّأْي بِمَنْزِلَة تَقْدِيم خبر الْوَاحِد على الْقيَاس ، وَلَئِن كَانَ قَوْله صادرا عَن الرَّأْي فرأيهم أقوى من رَأْي غَيرهم ، لأَنهم شاهدوا طَرِيق رَسُول الله - صلى الله عَلَيْهِ وَسلم - فِي بَيَان أَحْكَام الْحَوَادِث ، وشاهدوا الْأَحْوَال الَّتِي نزلت فِيهَا النُّصُوص ، والمحال الَّتِي تَتَغَيَّر باعتبارها الْأَحْكَام فبهذه الْمعَانِي يتَرَجَّح رَأْيهمْ على رَأْي من لم يُشَاهد شَيْئا من ذَلِك ، وَعند تعَارض الرأيين إِذا ظهر لأَحَدهمَا نوع تَرْجِيح وَجب الْأَخْذ بذلك ، فَكَذَلِك إِذا وَقع التَّعَارُض بَين رَأْي الْوَاحِد منا ورأي الْوَاحِد مِنْهُم يجب تَقْدِيم رَأْيه على رَأينَا لزِيَادَة قُوَّة فِي رَأْيه . (أصول السرخسى 108/2)
امام سرخسی (رحمۃ اللہ علیہ) فرماتے ہیں :
امام ابو سعید بردعی کا جو موقف ہے - اور وہی زیادہ صحیح ہے ـ اس کی وجہ یہ ہے کہ صحابی کا فتویٰ اس بات کا احتمال رکھتا ہے کہ وہ دراصل اس ہستی سے روایت کر رہے ہیں جن پر وحی نازل ہوتی تھی ، (یعنی رسول اللہ ﷺ)۔ کیونکہ ان کے معمول اور عادت سے معلوم ہوا ہے کہ جب ان کے پاس کوئی نص (واضح دلیل) ہوتی تو کبھی وہ روایت بیان کر دیتے ، اور کبھی بلا روایت محض فتویٰ دے دیتے ، جو بہرحال نص کے مطابق ہوتا ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ایسی بات جس میں احتمال ہو کہ یہ نبی ﷺ سے سننے کی بنیاد پر ہے ، وہ محض رائے پر مقدم ہوگی ۔ اسی وجہ سے صحابہ کے قول کو رائے پر اسی طرح ترجیح دی جاتی ہے جیسے خبر واحد کو قیاس پر مقدم کیا جاتا ہے ، اور اگر بالفرض ان کا قول رائے سے صادر ہوا ہے تو بھی ان کی رائے دوسروں کی رائے سے زیادہ قوی ہے ، کیوں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کا طریقہ دیکھا ہے کہ آپ ﷺ نئے پیش آنے والے مسائل کے احکام کو کس طرح بیان فرماتے تھے ، نیز وہ ان حالات کے گواہ ہیں جن میں نصوص نازل ہوئے اور ان جگہوں اور اسباب کو بھی جانتے تھے جو احکام کے بدلنے کا باعث بنتے ہیں ، پس ان تمام معانی کی بنیاد پر ان کی رائے دوسروں کی رائے پر راجح ہوگی ، اور جب دو آراء میں تعارض ہو تو جس میں کسی قسم کا ترجیحی پہلو ظاہر ہوجائے اُس کو لینا واجب ہوتا ہے ، لہٰذا جب ہمارے کسی ایک کی رائے اور ان (صحابہ) میں سے کسی ایک کی رائے میں تعارض واقع ہو تو ان کی رائے کو ہماری رائے پر ترجیح دینا واجب ہے ، کیوں کہ ان کی رائے میں زیادتی کی قوت موجود ہے ۔ (اصول السرخسي 2/108)
2 ۔ امام مالک :
وأما قول الصحابي فهو حجة عند مالك ، والشافعي في قوله القديم مطلقاً ۔ (شرح تنقيح الفصول للقرافى 445)
اور رہا صحابی کا قول (رائے دینا) تو امام مالک کے نزدیک اور امام شافعی کے قدیم قول کے مطابق مطلق طور پر حجت ہے۔"
(شرح تنقيح الفصول للقرافي، ص 445)
3. امام شافعى :
امام شافعى كے قول قديم كے مطابق مطلقاً حجت ہے ، اور جديد ميں دو قول ہیں ۔
قال الزركشي في "البحر المحيط" (٦/ ٦٠): "والحاصل عن الشافعي أقوال :
أحدها : إنه حجة مقدمة على القياس ، كما نص عليه في "اختلافه مع مالك"، وهو من الجديد .
والثاني : إنه ليس بحجة مطلقًا ، وهو المشهور بين الأصحاب أنه الجديد.
الثالث : إنه حجة إذا انضم إليه قياس ، فيقدم حينئذ على قياس ليس معه قول صحابي ، كما أشار إليه في "الرسالة"، ثم ظاهر كلامه فيها أن يكون القياسان مستاويين".
زركشی نے "البحر المحیط" (ج 6، ص 60) میں تحرير كرتے ہیں :
"اور خلاصہ یہ ہے کہ امام شافعی سے تین اقوال منقول ہیں :
ایک یہ کہ صحابی کا قول حجت ہے ، اور قیاس پر مقدم ہوگا ، جیسا کہ انہوں نے "اختلافہ مع مالک" میں تصریح کی ہے ، اور یہ اُن کے نئے مسلک سے ہے ۔
دوسرا یہ کہ صحابی کا قول بالکل حجت نہیں ، اور یہی اصحاب شافعی کے درمیان مشہور ہے کہ یہی اُن کا نیا مسلک ہے ۔
تیسرا یہ کہ جب صحابی کے قول کے ساتھ قیاس بھی موجود ہو تو وہ حجت ہوگا ، اور اس صورت میں اُس کو ایسے قیاس پر ترجیح دی جائے گی جس کے ساتھ کوئی صحابی کا قول نہ ہو ، جیسا کہ انہوں نے "الرسالة" میں اس کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ پھر "الرسالة" کے ظاہر الفاظ اس پر دلالت کرتے ہیں کہ دونوں قیاس برابر کے درجے میں ہیں۔"
تنبيه : اجماع صحابہ سب كے نزديک حجت ہے ، ليكن اجماع سكوتى كے بارے میں مشهور يہ ہے کہ امام شافعى كے نزديک حجت نہیں ہے ، ليكن امام نووى اس كى ترديد فرماتے ہیں :
وَقَالَ النَّوَوِيُّ فِي شَرْحِ الْوَسِيطِ ": لَا تَغْتَرَّنَّ بِإِطْلَاقِ الْمُتَسَاهِلِ الْقَائِلِ بِأَنَّ الْإِجْمَاعَ السُّكُوتِيَّ لَيْسَ بِحُجَّةٍ عِنْدَ الشَّافِعِيِّ ، بَلْ الصَّوَابُ مِنْ مَذْهَبِ الشَّافِعِيِّ أَنَّهُ حُجَّةٌ ، وَإِجْمَاعٌ. وَهُوَ مَوْجُودٌ فِي كُتُبِ أَصْحَابِنَا الْعِرَاقِيِّينَ فِي الْأُصُولِ ، وَمُقَدِّمَاتِ كُتُبِهِمْ الْمَبْسُوطَةِ فِي الْفُرُوعِ ، كَتَعْلِيقَةِ " الشَّيْخِ أَبِي حَامِدٍ ، وَالْحَاوِي "، وَمَجْمُوعِ الْمَحَامِلِيِّ ". وَالشَّامِلِ " وَغَيْرِهِمْ. انْتَهَى. (البحر المحيط 458/6)
امام نوویؒ "شرح الوسیط" میں فرماتے ہیں :
"تم ہرگز اس متساہل قائل کے اس اطلاق سے دھوکہ نہ کھاؤ جس نے کہا ہے کہ امام شافعی کے نزدیک اجماعِ سکوتی حجت نہیں ہے ، بلکہ درست بات یہ ہے کہ امام شافعی کے مذہب میں یہ اجماع حجت ہے ، اور اجماع ہی ہے ، اور یہ بات ہمارے عراقی اصحاب کی اصول کی کتابوں میں صراحت کے ساتھ موجود ہے ، نیز ان کی فقہی تفصیلی کتابوں کے مقدمات میں بھی ، جیسے شیخ ابو حامد کی تعلیقہ ، اور 'الحاوی'، اور محاملی کی 'مجموع'، اور 'الشامل' وغیرہ میں۔"
اسى طرح امام شافعى كے قول جديد كے تعلق سے مشہور ہے کہ حجت نہیں ہے ، ليكن محققين كو اس رائے سے اختلاف ہے ۔
علامه زركشى فرماتے ہیں :
ثُمَّ قَالَ الشافعى : فَإِذَا لَمْ يُوجَدْ عَنْ الْأَئِمَّةِ فَأَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الدِّينِ فِي مَوْضِعِ الْأَمَانَةِ ، أَخَذْنَا بِقَوْلِهِمْ ، وَكَانَ اتِّبَاعُهُمْ أَوْلَى بِنَا مِنْ اتِّبَاعِ مَنْ بَعْدِهِمْ. وَالْعِلْمُ طَبَقَاتٌ : الْأُولَى: الْكِتَابُ ، وَالسُّنَّةُ إذَا ثَبَتَتْ السُّنَّةُ . وَالثَّانِيَةُ : الْإِجْمَاعُ مِمَّا لَيْسَ فِي كِتَابٍ وَلَا سُنَّةٍ . وَالثَّالِثَةُ : أَنْ يَقُولَ بَعْضُ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَلَا نَعْلَمُ لَهُ مُخَالِفًا فِيهِمْ . وَالرَّابِعَةُ : اخْتِلَافُ أَصْحَابِ الرَّسُولِ . وَالْخَامِسَةُ : الْقِيَاسُ عَلَى بَعْضِ هَذِهِ الطَّبَقَاتِ . وَلَا يُصَارُ إلَى شَيْءٍ غَيْرَ الْكِتَابِ وَالسُّنَّةِ وَهُمَا مَوْجُودَانِ ، وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ الْعِلْمُ مِنْ أَعْلَى . هَذَا نَصُّهُ بِحُرُوفِهِ . وَقَدْ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ عَنْ شُيُوخِهِ عَنْ الْأَصَمِّ عَنْ الرَّبِيعِ عَنْهُ . وَهَذَا صَرِيحٌ مِنْهُ فِي أَنَّ قَوْلَ الصَّحَابِيِّ عِنْدَهُ حُجَّةٌ مُقَدَّمَةٌ عَلَى الْقِيَاسِ ، كَمَا نَقَلَهُ عَنْهُ إمَامُ الْحَرَمَيْنِ ، فَيَكُونُ لَهُ قَوْلَانِ فِي الْجَدِيدِ ، وَأَحَدُهُمَا مُوَافِقٌ لِلْقَدِيمِ ، وَإِنْ كَانَ قَدْ غَفَلَ عَنْ نَقْلِهِ أَكْثَرُ الْأَصْحَابِ. (البحر المحيط 59/8)
پھر انہوں نے کہا : شافعی - رحمہ اللہ - نے فرمایا کہ اگر ہمیں کسی مسئلہ پر کوئی نص نہ ملے تو رسول اللہ - صلی اللہ علیہ وسلم - کے صحابہ دین کے معاملہ میں امانت کے مقام پر ہیں ، اس لئے ہم ان کے قول کو اختیار کریں گے ، اور ان کی پیروی کرنا ہمارے لئے بعد والوں کی پیروی سے زیادہ اولیٰ ہے ۔
اور علم کی درجے (یا طبقات) ہیں :
پہلا درجہ : کتاب اللہ۔ و سنت ، جب سنت ثابت ہو جائے ۔
دوسرا درجہ : اجماع ، ایسی چیز میں جو کتاب یا سنت میں نہ ہو ۔
تیسرا درجہ : یہ کہ نبی - صلی اللہ علیہ وسلم - کے بعض اصحاب کوئی قول کہیں ، اور ہمیں ان میں سے کسی کا اس کی مخالفت کرنا معلوم نہ ہو ۔
چوتھا درجہ : اگر صحابہ کے درمیان اختلاف ہو ۔
پانچواں درجہ : قیاس کرنا ، ان میں سے کسی درجہ پر ۔
کتاب اور سنت موجود ہونے کے باوجود کسی اور چیز کی طرف رجوع نہیں کیا جاتا ، اور علم ہمیشہ اعلیٰ درجے سے لیا جاتا ہے۔ ۔ اور امام بیہقی نے اسے اپنے مشائخ سے ، انہوں نے اصم سے ، انہوں نے ربیع سے ، انہوں نے شافعی سے روایت کیا ہے۔
یہ ان کی صریح عبارت ہے کہ ان کے نزدیک صحابی کا قول حجت ہے ، جو قیاس پر مقدم ہے ، جیسا کہ امام الحرمین نے ان سے نقل کیا ہے ۔ لہٰذا ان کے نئے قول میں دو رائے ہوں گی ، اور ان میں سے ایک رائے پرانے قول کے موافق ہو گی ، اگرچہ اکثر اصحاب نے اس کی نقل سے غفلت برتی ہے ۔ (البحر المحیط، ج 8، ص 59)
الموافقات للشاطبى كے محقق فرماتے ہیں :
قال المحقق أبو عبيدة مشهور بن حسن آل سلمان :
انظر مسلك الشافعي في حجية قول الصحابي في "الأم" "٧/ ٢٤٦"، و"الرسالة" "ص٥٩٧-٥٩٨"، وكذا كتاب أبو زهرة "الإمام الشافعي" "٣٠٨-٣٠٩"، و"الإمام الشافعي وأثره في أصول الفقه" "٢/ ٧٦٣ وما بعدها"، ومنه يستفاد أن قول الصحابي عنده حجة في مذهبيه القديم والجديد ، وهذا ما نصره ابن القيم في "إعلام الموقعين" "٤/ ١٢٢"؛ فقال بعد أن نقل كلام البيهقي في "المعرفة" "١/ ١٠٦, ط صقر" و"المدخل" "ص١٠٩-١١٠": "فهذا كلام الشافعي - رحمه الله ورضي عنه - بنصه ، ونحن نشهد بالله أنه لم يرجع ، بل كلامه في الجديد مطابق لهذا موافق له". (الهامش على الموافقات 458/4)
محقق ابو عبیدہ ، مشہور بن حسن آل سلمان نے کہا :
شافعی کے مسلک میں صحابی کے قول کی حجیت کے بارے میں دیکھئے "الأم" (7/246)، اور "الرسالة" (ص 597-598)، اسی طرح ابو زہرہ کی کتاب "الإمام الشافعي" (ص 308-309) اور "الإمام الشافعي وأثره في أصول الفقه" (2/763 اور اس کے بعد)۔ ان سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ شافعی کے نزدیک صحابی کا قول ان کے دونوں مذہبوں (قدیم اور جدید) میں حجت ہے ۔ اور یہی بات ابن القیم نے "إعلام الموقعين" (4/122) میں ثابت کی ہے ؛ انہوں نے بیہقی کے "المعرفة" (1/106، طبع صقر) اور "المدخل" (ص 109-110) سے کلام نقل کرنے کے بعد کہا :
"یہ امام شافعی کا اپنا صریح کلام ہے ، اور ہم اللہ کی قسم کھا کر گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے اس سے رجوع نہیں کیا ، بلکہ ان کے نئے قول میں بھی یہی بات اس کے عین مطابق اور ہم آہنگ ہے۔"
(حاشیہ بر کتاب "الموافقات" 4/458)
4. إمام احمد :
امام أحمد کے نزديک صحابہ كا قول حجت ہے ، اور اگر کسی مسئلہ ميں صحابہ كے دو قول ہیں تو تيسرا قول اختيار كرنا جائز نہيں ہے ،
إذْ مِنْ أَصْلِ الْإِمَامِ أَحْمَدَ الَّذِي لَا خِلَافَ عَنْهُ فِيهِ : أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْخُرُوجُ عَنْ أَقْوَالِ الصَّحَابَةِ (الإنصاف فى معرفة الراجح من الخلاف 298/8)
امام احمد کے اصول میں ہے ، جس میں کوئی اختلاف نہیں ، یہ ہے کہ صحابہ کے اقوال سے ہٹنا جائز نہیں ہے۔"
فقد سُئل الإمام أحمد عن رجل يقول : إذا اختلف الصحابة على قولين فنخرج عن قوليهم ، قال: هذا قولٌ خبيثٌ ، هذا قول أهل البدع ۔ (المسودة ص ٣١٥ و العدة لأبي يعلى (٤/ ١٠٥٩).
امام احمد سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو یہ کہتا ہے: جب صحابہ دو قول میں اختلاف کریں تو ہم دونوں سے باہر نکل جاتے ہیں ، امام احمد نے فرمایا : یہ ایک خبیث قول ہے ، یہ اہلِ بدعت کا قول ہے ۔
ليكن اس كا يہ مطلب نہیں ہے کہ ان ائمہ كے يہاں کچھ تفصيل نہیں ہے ، اور يہ كہ كچھ حضرات اس سے اختلاف نہیں ركهتے ، مقصود يہ كہ فى الجملہ ائمہ اربعہ كے يہاں اقوال صحابہ حجت ہیں ، علامہ ابن القيم نے أعلام الموقعين ميں 46 وجوه سے آثار صحابہ كى حجيت كو ثابت كيا ہے ۔
*ہم ايک جملہ میں يہ كہہ سكتے ہیں : کہ بحيثيتِ شارع وه معيار نہیں ہیں ، ليكن بحيثيتِ شارح وه معيار ہیں ۔*