Chsme-Ded

Chsme-Ded FOLLOW THIS PAGE

25/04/2024

24/04/2024

‏تجھ سے اب کے ہم کلام نہیں کرنے والے
کلام کیا،تجھے سلام نہیں کرنے والے

مری ہر صبح تیرے نام سے منسوب رہی
اب تیرے نام پہ اک شام نہیں کرنے والے

نادانی میں ہر رات تجھے سوچا ہے بہت
اب اپنی اک نیند بھی حرام نہیں کرنے والے

تیرے لہجے کی تلخیاں تیرے منہ پہ ماریں گے
اب اور تیرا احترام نہیں کرنے والے ✍
"ded

24/04/2024

بابا جی کہتے ہیں کہ
کسی بھی لڑکی کو گھورنا نہیں
سیدھا آنکھ مارو اگر ہنس پڑے تو جھولے لعل ورنہ منہ لال

23/04/2024



HNSYI JNAB

وہ جس کے لیے مجھے چھوڑ کے جانے

والا ہے
😂😂😂😂😂😂
وہ بھی میری فیک آی ڈی ہے

23/04/2024

راحتؔ اندوری
آنکھ میں پانی رکھو ہونٹوں پہ چنگاری رکھو
زندہ رہنا ہے تو ترکیبیں بہت ساری رکھو

راہ کے پتھر سے بڑھ کر کچھ نہیں ہیں منزلیں
راستے آواز دیتے ہیں سفر جاری رکھو

ایک ہی ندی کے ہیں یہ دو کنارے دوستو
دوستانہ زندگی سے موت سے یاری رکھو

آتے جاتے پل یہ کہتے ہیں ہمارے کان میں
کوچ کا اعلان ہونے کو ہے تیاری رکھو

یہ ضروری ہے کہ آنکھوں کا بھرم قائم رہے
نیند رکھو یا نہ رکھو خواب معیاری رکھو

یہ ہوائیں اڑ نہ جائیں لے کے کاغذ کا بدن
دوستو مجھ پر کوئی پتھر ذرا بھاری رکھو

لے تو آئے شاعری بازار میں راحتؔ میاں
کیا ضروری ہے کہ لہجے کو بھی بازاری رکھو

23/04/2024

مرزا غالب
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

ڈرے کیوں میرا قاتل کیا رہے گا اس کی گردن پر
وہ خوں جو چشم تر سے عمر بھر یوں دم بدم نکلے

نکلنا خلد سے آدم کا سنتے آئے ہیں لیکن
بہت بے آبرو ہو کر ترے کوچے سے ہم نکلے

بھرم کھل جائے ظالم تیرے قامت کی درازی کا
اگر اس طرۂ پر پیچ و خم کا پیچ و خم نکلے

مگر لکھوائے کوئی اس کو خط تو ہم سے لکھوائے
ہوئی صبح اور گھر سے کان پر رکھ کر قلم نکلے

ہوئی اس دور میں منسوب مجھ سے بادہ آشامی
پھر آیا وہ زمانہ جو جہاں میں جام جم نکلے

ہوئی جن سے توقع خستگی کی داد پانے کی
وہ ہم سے بھی زیادہ خستۂ تیغ ستم نکلے

محبت میں نہیں ہے فرق جینے اور مرنے کا
اسی کو دیکھ کر جیتے ہیں جس کافر پہ دم نکلے

کہاں مے خانہ کا دروازہ غالبؔ اور کہاں واعظ
پر اتنا جانتے ہیں کل وہ جاتا تھا کہ ہم نکلے

23/04/2024




23/04/2024

23/04/2024

Kalam- iqbal
دید تیری آنکھ کو اس حُسن کی منظور ہے

بن کے سوزِ زندگی ہر شے میں جو مستور ہے.

معانی: اس حسن: مراد محبوب حقیقی کا حسن ۔ منظور: پیشِ نظر ۔ سوزِ زندگی: زندگی کی حرارت ۔ ہرشے: کائنات کی ہر چیز ۔ مستور: چھپی ہوئی ۔
مطلب: تیری آنکھ اپنے محبوب حقیقی کے حسن کی طرف مائل ہے جو کائنات کی ہر شےمیں زندگی کی حرارت کی طرح چھپا ہوا ہے ۔

Address

Majhgaon

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chsme-Ded posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share