07/02/2022
اگر مسلم سماج کے پیسے والے حضرات دس ,بیس,پچاس اور سو اکٹھا کرکے مسلم لڑکیوں کے لیے اسکولز,کالجز اور یونیورسٹیز وغیرہ بنائے ہوتے تو آج ہماری لڑکیاں تعصب پسند عصری اداروں کے انتظامیہ کے تعصب کا شکار نہیں ہوتیں,حجاب اتارنے کے لیے مجبور نہیں کیا جاتا۔
جب ہم جب مالدار ہوتے ہیں تو سب سے پہلے فیشن کی سواری پر سوار ہوتے ہیں, لذیذ طعام کے لیے ہوٹل کھولتے ہیں ,متعدد شہروں میں اپنی ذاتی پراپرٹی بناتے ہیں ! نام و نمود اور شہرت کی جہاز پر سوار ہوتے ہیں , شادی بیاہ کے موقع پر لاکھوں روپئے خرچ کرتے ہیں,عالیشان بلنڈنگ بنواتے ہیں, ہیں ,لگژری گاڑی خرید یتے ہیں !!!!!!!!!!!!!
جب ہم عیاشی میں کئی لاکھ روپئے خرچ کر سکتے ہیں ,بڑے بڑے پروگرام کرا سکتے ہیں تو جو ہوا,پانی کی طرح ضروری اور بنیادی چیز #تعلیم ہے اس کے حوالے سے خاموش تماشائی کیوں بنے ہوئے ہیں؟؟؟؟؟! اگر ہماری قوم کے ذمہ دار عزم مصمم کر لیں تو مسلم لڑکیوں کے لیے ہر ضلع میں کم از کم ایک اچھا اسکول اور کالج بنا سکتے ہیں ۔
سچر کمیٹی کی رپورٹ کو آئے ہوئے کئی سال ہو گئے لیکن ہم بے حس بنے ہوئے ہیں!!! احساسِ ذمہ داری سے عاری ہیں !
ہم سب سے آسان یہ سمجھتے ہیں کہ اپنی غلطی کو سدھارنے کے بجائے دوسرے کو موردِ الزام ٹہرانا آسان سمجھتے ہیں, جس طرح دو پڑوسی ملک ہر سازش میں دشمن پڑوسی کا ہاتھ ہونے کا دعوی کرتے ہیں ,جس طرح ہر کام ہر گناہ میں شیطان کا نام لیتے ہیں اسی طرح اپنی ناکامیوں میں بھی ہم مخالف کی چال کہہ کر اپنی ذمہ داری سے دور بھاگتے ہیں!!!کب تک ہم بھاگتے رہیں گے ؟ کب تک خرافات ,غیر ضروری چیزوں میں وقت, پیسہ اور صلاحیت و قابلیت ضائع کریں گے ؟؟؟خدارا ! اب بس کرو اور ہوش کے ناخون لو
نا سنبھلوگے تو مٹ جاٶگے اے ہندی مسلمانوں۔تمہاری داستاں تک بھی نا ہوگی داستانوں میں