خبردار

خبردار Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from خبردار, Mumbai.

📰 Ummah News | Current Affairs | Humanity First 🌍
🔹 सच बोलने का साहस, झूठ को बेनकाब करने का हौसला
🔹 उम्मत की आवाज़, इंसानियत की पुकार
🔹 ताज़ा खबरें | सही विश्लेषण | भरोसेमंद तथ्य

04/09/2025

🌊 पंजाब में आई बाढ़ – अब हमारी बारी है मदद करने की 🌊

जब भी देश पर कोई आपदा आती है, पंजाब के लोग हमेशा सबसे आगे खड़े होते हैं।
चाहे लंगर हो, राहत सामग्री हो या जान बचाने का काम,
ये लोग कभी धर्म, जात, मज़हब नहीं पूछते — बस इंसानियत के लिए दौड़ पड़ते हैं। ❤️

आज वही पंजाब भारी बाढ़ की मार झेल रहा है।
हज़ारों लोग बेघर हो गए हैं, बच्चे, बुज़ुर्ग, महिलाएँ सब कठिनाई में हैं।
अब हमारी बारी है कि हम भी इंसानियत का हाथ बढ़ाएँ।

🙏 आप भी आगे आइए — राहत सामग्री, आर्थिक मदद या अपनी दुआओं से उनका साथ दीजिए।

जब वे हमारे लिए खड़े थे,
तो क्या आज हम उनके लिए खड़े नहीं होंगे?

26/08/2025

میں ایک ڈرا ہوا مسلمان ہوں ! چیخنے پر بھی پابندی ہے⁣⁣

✍️تحریر:شفیع احمد

میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں…
اتنا ڈرا ہوا کہ
ظالم کے خلاف بولنے سے پہلے گلا خشک ہو جاتا ہے،
سچ کہنے سے پہلے زبان لڑکھڑا جاتی ہے،
میرا ایمان سچ پر نہیں،
مگر اس خوف پر قائم ہے کہ کہیں مجھے غدار نہ کہہ دیا جائے۔
میں ڈرا ہوا ہوں،
اس لیے ہر ظلم پر خاموش ہوں،
چاہے وہ فلسطین پر ہو یا میرے اپنے محلے پر،
میں اپنے بچوں کو سمجھاتا ہوں:
"بیٹا… سیاست پر بات نہ کرنا، جان کی خیر اسی میں ہے!"
کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہاں سوال کرنا جرم ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔
میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے
فرقے کا جھنڈا اٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہوں،
مگر امت کا پرچم میرے ہاتھوں سے گر چکا ہے۔
میں بھائی کو بھائی کا دشمن بناتا ہوں،
میں مسجد کو مسجد سے لڑواتا ہوں،
میں قرآن پڑھتا ہوں مگر اس کا پیغام نہیں سمجھتا،
کیوں کہ میری تلاوت ریاکاری کے شور میں دفن ہو چکی ہے۔
میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں…
اتنا ڈرا ہوا کہ
ظالم حکمران کی خوشامد میں اپنا ایمان بیچ دیتا ہوں،
اقتدار والوں کی ایک تصویر کے لیے اپنی غیرت کا سودا کر دیتا ہوں،
پولیس والے کے سامنے بھیگی بلی بن جاتا ہوں،
مگر غریب مزدور پر شیر بن کر دھاڑتا ہوں۔
میں ڈرا ہوا ہوں…
اس لیے سوشل میڈیا پر ہیش ٹیگ بدلتے ہی میرا نظریہ بھی بدل جاتا ہے،
ایک دن کسی کے حق میں پوسٹ کرتا ہوں،
دوسرے دن اس کے خلاف…
میرا عقیدہ نیوز چینلز کے بریکنگ نیوز پر چلتا ہے،
میرا ضمیر یوٹیوب کے ویڈیوز میں دفن ہو چکا ہے۔
میں ڈرا ہوا ہوں…
کیوں کہ میرے مولوی نے میرے دماغ پر تالے ڈال دیے ہیں،
میرا لیڈر میرے جذبات سے کھیل رہا ہے،
میرا میڈیا میرے دشمنوں کے چہرے بدلتا رہتا ہے،
اور میں بس چیختا ہوں، لڑتا ہوں، مرتا ہوں…
کیوں کہ میں سوچنا بھول چکا ہوں۔
میں ڈرا ہوا ہوں…
کیوں کہ اگر میں نے سچ کہا،
تو مجھے "فرقہ پرست" کہا جائے گا،
اگر میں نے سوال کیا،
تو مجھے "ایجنٹ" کہا جائے گا،
اگر میں نے حق کا ساتھ دیا،
تو مجھے "غدار" کہا جائے گا۔
میں ڈرا ہوا ہوں…
کیوں کہ میرا نبی ﷺ "رحمت اللعالمین" ہے،
مگر میں نے اسلام کو نفرت کا ہتھیار بنا دیا ہے۔
میں مسجد میں صفِ اوّل میں ہوں،
مگر یتیم کے حق پر خاموش ہوں،
میں نعرہ لگاتا ہوں "اسلام خطرے میں ہے!"
مگر دراصل اسلام نہیں، میرا ایمان خطرے میں ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔
پر اب…
اب جب میں اپنے بچوں کی آنکھوں میں خوف دیکھتا ہوں،
جب میں امت کے ٹکڑے دیکھتا ہوں،
جب میں مسجد کے دروازے پر خون کے دھبے دیکھتا ہوں،
جب میں قرآن کے نام پر سیاست ہوتے دیکھتا ہوں…
تو میرا دل چیخ اٹھتا ہے:
"اے ڈرے ہوئے مسلمان!
تو کب تک یوں غلام رہے گا؟
کب تک اپنی سوچ کرائے پر دیتا رہے گا؟
کب تک اپنے رب کا پیغام چھوڑ کر
ان بتوں کے سامنے جھکتا رہے گا
جو کرسی، اقتدار اور فرقوں کے نام پر تجھے بانٹ رہے ہیں؟"
اے ڈرے ہوئے مسلمان…
جاگ جا،
ورنہ آنے والی نسلیں تیرا جنازہ نہیں،
تیری بزدلی کا ماتم کریں گی۔

25/08/2025

*میں ایک ڈرا ہوا مسلمان ہوں…*

✍️تحریر: شفیع احمد

میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے شیعہ سے نفرت کرتا ہوں،
مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ گستاخِ صحابہ ہیں،
میں نے کبھی ان کے زخم نہیں دیکھے،
نہ ان کی دعاؤں میں لرزتی ہچکیاں و سسکیاں سنیں،
پر مجھے نفرت کا ہتھیار تھما دیا گیا ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میں سنیوں سے بھی خفا ہوں،
کیوں کہ وہ نبی ﷺ کو بشر مانتے ہیں،
بچپن سے میرے کانوں میں یہی بھرا گیا ہے کہ یہ گستاخی ہے،
سو میں نے سوچنے کا حق خود سے چھین لیا ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

دیوبندیوں سے بھی دور ہوں،
اہلِ حدیث کے خلاف بھی میدان میں ہوں،
مولانا مودودی کے ماننے والوں کے لئے بھی میرے دل میں آگ ہے،
حالانکہ میں نے کبھی قرآن کا ترجمہ نہیں پڑھا نہ تفسیر پڑھی،
نہ کبھی سیرتِ نبی ﷺ کا مطالعہ کیا
پر میں ہر دوسرے کو کافر کہنے کا حق رکھتا ہوں…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے سیاسی جلسوں میں سب سے آگے کھڑا ہوتا ہوں،
اسٹیج پر چڑھنے کے لیے دوسروں کو دھکیل دیتا ہوں،
سیاسی رہنماؤں کی جھوٹی مسکراہٹ کے ساتھ سیلفی اور
اخباروں میں اپنی تصویر دیکھ کر میرے ایمان کو تقویت ملتی ہے،
میں سمجھتا ہوں یہ سب "خدمت خلق" ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے پولیس افسر کے قدموں میں سلام جھکاتا ہوں،
اقتدار والوں کے سامنے اپنی پیشانی زمین پر رکھتا ہوں،
جب مظلوم چیختے ہیں تو میں خاموش رہتا ہوں،
جب ظالم جیتتا ہے تب بھی احتجاج نہیں کرتا
کیوں کہ میرا دل انصاف سے خالی ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے ٹرینڈز بدلتے ہی میرا ایمان بھی ڈگمگا جاتا ہے،
آج میں فلاں کے ساتھ ہوں، کل فلاں کے خلاف،
میرا دین ووٹ بینک کے اعداد و شمار پر چلتا ہے،
میرا ضمیر سوشل میڈیا کی پوسٹ پر بک جاتا ہے،
میری غیرت لائکس اور کمنٹس میں چھپ جاتی ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میرے نبی ﷺ کا دین رحمت تھا،
مگر میں نے اسے انتقام بنا دیا،
میرے رب کا قرآن ہدایت ہے،
مگر میں نے اسے ہتھیار بنا لیا،
میں اپنے بھائی کا گلا کاٹنے میں فخر محسوس کرتا ہوں،
پر ظالم حکمرانوں کے قدموں میں خاموشی سے بیٹھا رہتا ہوں…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔

میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے سوال نہیں کرتا،
میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے سوچتا نہیں،
میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے بولتا نہیں،
میں ڈرا ہوا ہوں اس لیے مر رہا ہوں…
پر مرنے سے پہلے بھی فرقوں کے نعرے لگا رہا ہوں۔

ہاں… میں ایک ڈرا ہوا مسلمان ہوں،
جو حکمرانوں کی خوشامد میں قرآن بھول جاتا ہے،
جو اپنی نسلوں کے مستقبل کا سودا کر چکا ہے…
کیوں کہ میں ڈرا ہوا مسلمان ہوں۔
ہاں میں ایک ڈرا ہوا مسلمان ہوں!

31/07/2025

*مالیگاؤں کیس میں بریت – انصاف ہوا یا سچ دفن ہوا*؟
*تجزیہ:شفیع احمد*

جولائی 2025 کو این آئی اے کی خصوصی عدالت نے 2008 مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں تمام سات ملزمان کو بری کر دیا۔ عدالت کا کہنا تھا کہ استغاثہ قابل اعتماد اور ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، اور ملزمان کے خلاف الزامات ثابت نہ ہو سکے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ثبوت نہیں تھے، یا ثبوت کو بے اثر بنایا گیا؟
اس کیس کی ابتدائی تفتیش مہاراشٹر اے ٹی ایس کے چیف ہیمنت کرکرے نے کی تھی، جو بعد میں ممبئی حملوں میں شہید ہو گئے۔ انہوں نے اس کیس میں 24 آڈیو اور ویڈیو ریکارڈنگز، دو لیپ ٹاپ اور دیگر اہم ڈیجیٹل شواہد عدالت میں پیش کیے تھے۔ ان کی تحقیق کے مطابق ملزمان کا تعلق شدت پسند گروپوں سے تھا اور ان کے پاس موجود ڈیٹا، کال ریکارڈز اور بیانات اس کی تصدیق کرتے تھے۔
اب جب عدالت یہ کہتی ہے کہ کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہیمنت کرکرے کی محنت، ان کے شواہد، اور ان کی شہادت کا کیا مطلب رہ گیا؟ کیا ان تمام شواہد کو نظرانداز کیا گیا یا جان بوجھ کر کمزور کیا گیا؟
اسی کیس کی سرکاری وکیل روہنی سالیان نے 2015 میں ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ مرکزی حکومت کے ایک افسر نے انہیں کہا کہ اس کیس میں زیادہ سرگرمی نہ دکھائی جائے۔ ان کے بقول این آئی اے پر سیاسی دباؤ تھا کہ کیس کو نرم کیا جائے۔ بعد میں انہیں مقدمے سے ہٹا دیا گیا اور ان کے انکشافات کو بھی دبایا گیا۔
جب آج سارے ملزمان بری ہو گئے ہیں تو یہ سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ آیا یہ فیصلہ حقیقت پر مبنی ہے یا سیاسی دباؤ کے تحت آیا؟
اس کیس میں 34 گواہوں نے عدالت میں اپنے بیانات بدل دیے۔ یو اے پی اے قانون کے تحت کیس کی قانونی منظوری میں خامیاں بتائی گئیں۔ سادھوی پرگیہ کی موٹر سائیکل، جس سے دھماکہ ہوا تھا، اس کو بھی ناقابل قبول ثبوت قرار دیا گیا۔
یہ سب صرف قانونی کمزوریاں ہیں یا دانستہ طور پر تفتیش کو اس نہج پر لے جایا گیا کہ سچ سامنے نہ آ سکے؟
متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر سب ملزمان بے قصور ہیں تو پھر ان کے پیاروں کو مارا کس نے؟ وہ معصوم لوگ جو 2008 میں مسجد کے قریب مارے گئے، ان کا خون کس کے سر ہے؟
عدالت نے اپنا کام قانون کے مطابق کیا، لیکن عوام کے دل میں یہ سوال باقی رہے گا کہ کیا انصاف ہوا یا سچ دفن ہوا؟
ہیمنت کرکرے کے سوال، روہنی سالیان کے الزامات، اور متاثرین کا درد آج بھی جواب مانگ رہا ہے۔ قانون نے فیصلہ سنا دیا، مگر ضمیر کی عدالت میں یہ کیس ابھی ختم نہیں ہوا۔

22/07/2025

بارہ زندگیاں، انیس برس قید — ایک اور کیس جس نے عدالتی نظام پر سوال اٹھا دیے

تحریر: شفیع احمد

ممبئی بم دھماکہ کیس میں گیارہ ملزمان کو باعزت بری کیے جانے کے بعد کئی سوالات ایک بار پھر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ان بارہ افراد (جن میں سے ایک دورانِ حراست فوت ہو چکا ہے) نے اپنی زندگی کے انیس قیمتی سال جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزار دیے۔ ہائی کورٹ کے مطابق استغاثہ ان پر الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ ماضی میں ایسے درجنوں مقدمات سامنے آ چکے ہیں جہاں مسلم نوجوانوں کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیا، برسوں بعد عدالت نے انہیں بے گناہ قرار دیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق ایسے 99 فیصد مقدمات میں آخر کار بے گناہی ثابت ہوتی ہے، لیکن وہ وقت، عزت اور زندگی کبھی واپس نہیں آتی۔
اسی تناظر میں سابق مہاراشٹر آئی جی پولیس ایس ایم مشرف نے اپنی معروف کتاب "Who Killed Karkare?" میں سنگین انکشافات کیے تھے۔ ان کے مطابق کئی معاملات میں انٹیلی جنس بیورو اور پولیس مل کر مخصوص طبقے، خاص طور پر مسلمانوں کو نشانہ بناتی ہے تاکہ دہشت گردی کے نام پر ایک خاص بیانیہ تیار کیا جا سکے اور سماج میں نفرت کو فروغ دیا جائے۔
ایس ایم مشرف نے اپنی کتاب میں واضح طور پر لکھا کہ ہیمنت کرکرے، جو مالیگاؤں دھماکوں کی تفتیش میں ہندوتوا شدت پسندوں کی طرف بڑھ رہے تھے، ان کی موت مشتبہ حالات میں ہوئی۔ کتاب میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ ہیمنت کرکرے سچ کے بہت قریب پہنچ چکے تھے، اور اُن کی شہادت کے بعد بہت سے سوالات دبا دیے گئے۔
آج جب عدالت نے ممبئی بم دھماکوں میں پھنسائے گئے نوجوانوں کو باعزت بری کیا ہے، تو اس فیصلے نے کئی زخم دوبارہ تازہ کر دیے ہیں۔ کیا صرف بے گناہی ثابت ہو جانا کافی ہے؟ ان انیس برسوں کا حساب کون دے گا؟ ان والدین، بہن بھائیوں، بیوی بچوں، اور معاشرے کی نگاہوں میں جو اذیت ان افراد نے جھیلی، اس کا انصاف کہاں ہے؟
یہ فیصلہ نہ صرف عدلیہ کے لیے، بلکہ پورے سسٹم کے لیے ایک آئینہ ہے — اور شاید ایک موقع بھی کہ مستقبل میں انصاف صرف فیصلہ دینے سے نہ ہو، بلکہ گرفتاری، تفتیش، اور میڈیا رپورٹنگ کے ہر مرحلے میں انصاف کو مقدم رکھا جائے۔

21/07/2025

ممبئی بم دھماکہ کیس میں ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، گیارہ ملزمان 19 سال بعد باعزت بری
تحریر:شفیع احمد
ممبئی ہائی کورٹ نے دو ہزار چھ کے ممبئی لوکل ٹرین بم دھماکوں کے کیس میں گیارہ ملزمان کو تمام الزامات سے باعزت بری کر دیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ استغاثہ اپنے الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ یہ فیصلہ ان افراد کے لیے بڑی راحت ہے جو گزشتہ انیس سال سے مختلف جیلوں میں قید تھے۔

گیارہ جولائی دو ہزار چھ کو ممبئی کی سات لوکل ٹرینوں میں بم دھماکے ہوئے تھے جن میں دو سو نو افراد جاں بحق اور سات سو سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اس کیس میں تیرہ افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے بارہ پر مقدمہ چلا جبکہ ایک ملزم کی دوران حراست موت ہو گئی۔

دو ہزار پندرہ میں ٹرائل کورٹ نے پانچ ملزمان کو سزائے موت اور سات کو عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ استغاثہ نے ان کے خلاف مکوکا کے تحت دیے گئے اقبالی بیانات، بعض عینی شاہدین کی گواہی، ٹیکسی ڈرائیورز کے بیانات اور بم سازی کے سامان کی برآمدگی کو بنیاد بنایا تھا۔

ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ اقبالی بیانات زبردستی اور تشدد کے ذریعے حاصل کیے گئے، گواہ دیر سے پیش ہوئے اور ان کے بیانات میں تضاد تھا، جبکہ برآمدگی کی کارروائیاں قانون کے مطابق نہیں تھیں۔ ان وجوہات کی بنیاد پر عدالت نے استغاثہ کے پورے مقدمے کو کمزور اور ناقابل اعتبار قرار دیتے ہوئے سبھی ملزمان کو بری کر دیا۔

ملزمان کے وکیل ایڈووکیٹ وہاب خان نے کہا کہ یہ فیصلہ انصاف کی جیت ہے۔ عدالت نے سچائی کو تسلیم کیا اور ان بے گناہ افراد کو انیس سال بعد آزادی ملی۔

عدالت نے حکم دیا ہے کہ تمام گیارہ ملزمان کو پرسنل بانڈ پر فوراً رہا کیا جائے، اور یہ فیصلہ آج شام تک ناگپور، یروڈہ، امراوتی اور ناسک کی جیلوں تک پہنچ جائے گا۔ ان میں سے صرف ایک ملزم فیصل اتاؤ الرحمان شیخ ایسا ہے جس پر ایک اور کیس زیر سماعت ہے، اس لیے وہ فی الحال رہا نہیں کیا جائے گا۔

جنگ رکی، غیرت مر گئیتحریر: شفیع احمدمشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر خون بہا، چیخیں گونجیں، لاشیں گریں — اور پھر "امن" کے نام...
24/06/2025

جنگ رکی، غیرت مر گئی

تحریر: شفیع احمد

مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر خون بہا، چیخیں گونجیں، لاشیں گریں — اور پھر "امن" کے نام پر ایک عارضی جنگ بندی کر دی گئی۔
لیکن یہ جنگ بندی، حقیقت میں بندوقوں کا خاموش ہونا نہیں، بلکہ ضمیروں کی شکست ہے۔

ایران، جو میدانِ سیاست و مزاحمت میں اکیلا کھڑا نظر آتا ہے، ایک بار پھر ڈٹ گیا۔ اُس نے نہ صرف مزاحمتی قوتوں کو سہارا دیا، بلکہ دنیا کو دکھا دیا کہ فلسطین کے لیے اب بھی کوئی لڑنے والا باقی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تہران میں فتح کی خوشی منائی گئی، کیونکہ وہ نظریے کے ساتھ کھڑا تھا، مصلحتوں کے ساتھ نہیں۔

اس کے مقابل، اسرائیل کا خواب ایک بار پھر چکنا چور ہوا۔ وہ سمجھتا تھا کہ عرب خاموش رہیں گے — اور وہ رہے۔
فلسطین پھر تنہا لڑا، پھر خون دیا، پھر قربانیاں دیں، اور عرب… حسبِ روایت اجلاس، مذمتی بیانات اور بےحس خاموشی میں مصروف رہے۔

عرب دنیا کی قیادت کا لبادہ اوڑھے ہوئے حکمرانوں نے اس بار بھی صرف افسوس اور تشویش کا اظہار کیا۔
نہ کسی نے سفیر واپس بلایا، نہ کسی نے تجارتی معاہدہ توڑا، نہ ہی کسی نے میدانِ عمل میں کوئی اقدام اٹھایا۔
فلسطینی بچے مر رہے تھے، عرب ایوانوں میں قہوے کی خوشبو تھی۔

یہ عارضی جنگ بندی نہیں — یہ ضمیر کی مستقل شکست ہے۔

آج اگر ایران جشن منا رہا ہے، تو اس لیے نہیں کہ اس نے دشمن کو مکمل شکست دی، بلکہ اس لیے کہ اس نے کم از کم کھڑا ہونے کی جرأت تو کی۔
اور اگر اسرائیل خائف ہے، تو اس لیے نہیں کہ عرب کچھ کرنے والے ہیں، بلکہ اس لیے کہ وہ جانتا ہے کہ اصل خطرہ وہاں ہے، جہاں بے لوث مزاحمت زندہ ہے۔

اور اگر فلسطین تنہا ہے، تو صرف اسرائیلی حملوں کی وجہ سے نہیں — عربوں کی بےحسی اس کی اصل تنہائی ہے۔

https://youtu.be/SI_ZffzoHbg📌 फूड डिलीवरी के छुपे हुए ट्रिक्स जानने के लिए वीडियो को पूरा देखें!📢 Like, Share और Subscri...
07/03/2025

https://youtu.be/SI_ZffzoHbg
📌 फूड डिलीवरी के छुपे हुए ट्रिक्स जानने के लिए वीडियो को पूरा देखें!
📢 Like, Share और Subscribe करना न भूलें! 🔔
👉 क्या आपने कभी अपने फूड डिलीवरी या मेडिसिन बिल पर अजीब चार्ज देखा है? कमेंट में बताइए! 💬

क्या आपको पता है कि आपकी पसंदीदा फ़ूड डिलीवरी सर्विस कहीं आपकी जेब पर भारी तो नहीं पड़ रही? Swiggy, Zomato और अन्य डिलीवरी प्....

Address

Mumbai
400078

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when خبردار posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to خبردار:

Share