20/09/2026
*مولانا مجیب اللہ ندوی رحمہ اللہ ایورڈ برائے ملی و سماجی خدمات*
مولانا مجیب اللہ ندوی ایک ممتاز عالم دین، فقیہ، ادیب، مصنف، مؤرخ اور صوفی بزرگ تھے۔ آپ کی ولادت 4 جنوری 1918ء کو اتر پردیش کے ضلع غازی پور کے گاؤں کسمی خورد میں ہوئی۔ ابتدائی تعلیم مدرسہ مظہر العلوم بنارس میں حاصل کی اور پھر دار العلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ سے 1944ء میں فضیلت کی سند حاصل کی۔
فراغت کے بعد دار المصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سے وابستہ ہو گئے۔ 1962ء میں اعظم گڑھ میں دینی درسگاہ جامعۃ الرشاد قائم کی، جو جلد ہی ایک اہم تعلیمی ادارہ بن گیا۔ اس میں عالمیت تک کی تعلیم، لڑکیوں کے لیے علیحدہ نظم، پرائمری و سیکنڈری اسکول، دار الافتاء، دار القضاء اور دار التالیف و الترجمہ قائم ہیں۔ آج بھی یہ ادارہ اپنی خدمات کے اعتباد سے شہر اعظم گڑھ کا قابل اعتماد ادارہ ہے۔
سلوک و احسان میں شیخ وصی اللہ الہ آبادی اور نقشبندی شیخ محمد احمد پرتاپ گڑھی سے استفادہ کیا اور مؤخر الذکر سے مجاز بیعت و ارشاد ہوئے۔
فقہ، حدیث، تاریخ اور ادب پر متعدد اہم تصانیف چھوڑیں، جن میں اسلامی فقہ (کئی حصے)، فقہ اسلامی اور دور جدید کے مسائل، فتاویٰ عالمگیری اور اس کے مولفین، اہل کتاب صحابہ و تابعین، خدمت حدیث میں خواتین کا حصہ، دینی مدارس اور ان کی ذمہ داریاں، افکار سلیمانی اور خطبہ نکاح وغیرہ شامل ہیں۔
آپ نے 12 مئی 2006ء کو طویل علالت کے بعد وفات پائی۔ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ آپ کی علمی و تعلیمی جدوجہد کی زندہ یادگار ہے۔