News Digest

News Digest News Digest is basically a New Delhi based media monitor as it reproduces news/ stories/reports and

15/12/2023

*دیگ کا انتقال اور روپیے پر روپیا بنانے کی اسکیم*❇️

*جاوید چودھری*
میں نے ایک دن خواجہ صاحب سے عرض کیا ’’ہم لوگوں کے دھوکے سے کیسے بچ سکتے ہیں‘‘ فرمایا ’’یہ کام بہت آسان ہے‘ آپ لالچ ختم کر دو‘ دنیا کا کوئی شخص آپ کو دھوکا نہیں دے سکے گا‘‘ میں نے عرض کیا ’’جناب ذرا سی وضاحت کر دیں‘‘۔ فرمایا ’’ ہم دوسروں کے ہاتھوں دھوکا نہیں کھاتے‘ ہمیں ہمارا لالچ دھوکہ دیتا ہے‘ آپ اگر لالچی اور کنجوس ہیں تو آپ کو ہر روز دھوکہ دیا جائے گا اور آپ روز دھوکہ کھائیں گے بھی‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ یہ بات لالچ کی حد تک درست ہے کیونکہ لالچی کے طمع کی زبان ہر وقت باہر لٹکتی رہی ہے لیکن کنجوس تو اپنے پیسوں کو ہوا نہیں لگنے دیتا‘ یہ گرہ کھولے گا تو اس کے ساتھ دھوکہ ہو گا ناں‘‘۔ فرمایا ’’لالچ اور کنجوسی جڑواں بہنیں ہیں‘ یہ ہمیشہ اکٹھی رہتی ہیں‘ لالچی کنجوس ہوتا ہے اور کنجوس لالچی‘ دنیا کے تمام کنجوس دولت چھپانے کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں‘ یہ ایسے گھونسلے تلاش کرتے رہتے ہیں جہاں یہ اپنے اثاثوں کے انڈے رکھ سکیں‘ ان کی یہ تلاش انھیں فراڈیوں کے پاس لے جاتی ہے‘ فراڈیئے انھیں یقین دلا دیتے ہیں‘ ہمارے پاس نہ صرف آپ کا سرمایہ محفوظ رہے گا بلکہ یہ دوگنا اور چار گناہ بھی ہو جائے گا‘ یہ لوگ ان کے ٹریپ میں آتے ہیں اور یوں عمر بھر کے لیے کمائی سے محروم ہو جاتے ہیں.

چنانچہ آپ اگر دھوکے سے بچنا چاہتے ہیں تو کنجوسی ختم کر دیں‘ لالچ مٹا دیں‘ آپ کو کوئی شخص دھوکہ نہیں دے سکے گا‘‘۔ میں نے عرض کیا ’’ جناب دولت کا دھوکہ اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا جتنی اذیت ناک دوستی‘ رشتے داری اور تعلق دار کی چیٹنگ ہوتی ہے‘‘ خواجہ صاحب نے قہقہہ لگایا اور فرمایا ’’ دنیا کا جو بھی رشتہ لالچ پر مبنی ہو گا اس کا اختتام تکلیف پر ہو گا‘ آپ رشتوں میں سے لالچ نکال دو‘ بیٹے کوبیٹا رہنے دو‘ بیٹی کو بیٹی‘ ماں کو ماں‘ باپ کو باپ‘ بہن اور بھائی کو بھائی بہن اور دوست کو دوست رہنے دو‘ آپ کو کبھی تکلیف نہیں ہوگی‘ ہم جب بیٹے یا بیٹی کو انشورنس پالیسی بنانے کی کوشش کرتے ہیں یا والد صاحب کو تیل کا کنواں سمجھ بیٹھتے ہیں یا پھر دوستوں کو لاٹری ٹکٹ کی حیثیت دے دیتے ہیں تو ہماری توقعات کے جسم پر کانٹے نکل آتے ہیں اور یہ کانٹے ہمارے تن من کو زخمی کر دیتے ہیں‘ رشتے جب تک رشتوں کے خانوں میں رہتے ہیں یہ دھوکہ نہیں دیتے‘ یہ انسان کو زخمی نہیں کرتے‘ یہ جس دن خواہشوں اور توقعات کے جنگل میں جا گرتے ہیں‘ یہ اس دن ہمیں لہو لہان کر دیتے ہیں‘ یہ یاد رکھو دنیا کی ہر آسائش اور ہر تکلیف اللہ کی طرف سے آتی ہے‘ دنیا کا کوئی شخص ہمیں نواز سکتا ہے اور نہ ہی ہماری تکلیف کا ازالہ کر سکتا ہے‘ ہمیں جو ملتا ہے اللہ کی طرف سے ملتا ہے‘ جو چھن جاتا ہے‘ اللہ کی رضا سے چھینا جاتا ہے‘ ہمارا چھینا ہوا کوئی واپس دلا سکتا ہے اور نہ ہی کوئی شخص اللہ کی مرضی کے بغیر ہم سے کوئی چیز چھین سکتا ہے اور دنیا کے کسی شخص میں اتنی مجال نہیں وہ ہمیں اللہ کی مرضی کے بغیر نواز سکے‘ جب دیتا بھی وہ ہے اور لیتا بھی وہ ہے تو پھر لوگوں سے توقعات وابستہ کرنے کی کیا ضرورت؟‘‘۔

اشتہار

خواجہ صاحب نے اس کے بعد ایک حکایت سنائی‘ ان کا کہنا تھا‘ کسی محلے میں ایک خاندان آ کر آباد ہوا‘ یہ سادہ سے لوگ تھے‘ ان لوگوں نے ایک دن ہمسائے سے چاول پکانے کے لیے دیگچہ مانگا‘ ہمسایوں نے دیگچہ دے دیا‘ ان لوگوں نے چاول پکائے‘ دیگچہ واپس کیا تو اس کے ساتھ جست کا ایک چھوٹا سا پیالہ بھی تھا‘ ہمسایوں نے کہا ’’ یہ پیالہ ہمارا نہیں‘‘ دیگچہ مانگنے والوں نے جواب دیا‘ آپ کے دیگچے نے رات بچہ دیا تھا‘ یہ پیالہ وہ بچہ ہے‘ یہ آپ کا حق ہے‘ ہم آپ کا حق نہیں مار سکتے‘ ہمسائے اس عجیب و غریب لاجک پر حیران رہ گئے لیکن انھوں نے نئے آباد ہونے والوں کو بے وقوف سمجھ کر پیالہ رکھ لیا‘ ان لوگوں نے چند دن بعد دیگچی مانگی‘ یہ دیگچی اگلے دن واپس آئی تو اس کے ساتھ ایک چھوٹی سی پلیٹ تھی‘ یہ پلیٹ اس دیگچی کی بچی تھی‘ ہمسایوں نے ان لوگوں کی بے وقوفی پر قہقہہ لگایا اور یہ پلیٹ بھی رکھ لی‘ اس کے بعد یہ سلسلہ چل نکلا‘ ہمسائے کوئی نہ کوئی برتن مانگتے اور واپسی پر اس کا کوئی نہ کوئی بچہ پیدا ہو جاتا‘ ہمسائے یہ بچہ خوشی خوشی قبول کر لیتے‘ ان لوگوں کو ایک دن دیگ کی ضرورت پڑ گئی‘ آج سے تیس سال قبل دیگ بڑی لگژری ہوتی تھی‘ یہ چند لوگوں کے پاس ہوتی تھی اور لوگ انھیں رشک کی نظروں سے دیکھتے تھے‘ لوگ اس زمانے میں اپنی بیٹیوں کو جہیز میں دیگیں بھی دیتے تھے‘ بہوؤں کی دیگوں کی تعداد ان کے میکوں کی خوشحالی کا ثبوت ہوتا تھا.

ان لوگوں نے دیگ مانگی‘ دو دن گزر گئے لیکن دیگ واپس نہ آئی‘ تیسرے دن ہمسائے نے ان کا دروازہ بجایا‘ صاحب خانہ باہر نکلا‘ دیگ کے مالک نے اپنی دیگ کا مطالبہ کیا‘ ہمسائے نے افسوس سے سر جھکایا اور دکھی لہجے میں بولا ’’ کل رات آپ کی دیگ انتقال فرما گئی‘ ہم نے اسے قبرستان میں دفن کر دیا‘‘ دیگ کے مالک نے خیران ہو کر پوچھا ’’دیگ کیسے مر سکتی ہے‘‘ ہمسائے نے جواب دیا ’’جناب جیسے سارے برتن مرتے ہیں‘‘۔ دیگ کا مالک معاملے کو پنچایت میں لے گیا‘ پنچایت بیٹھی تو مدعی نے پنچایت کے ارکان سے کہا ’’ یہ شخص کہتا ہے‘ میری دیگ مر گئی‘ کیا دیگ مر سکتی ہے؟‘‘ پنچایت نے ملزم کی طرف دیکھا‘ ملزم نے نہایت ادب سے عرض کیا ’’ میں جب بھی اس سے کوئی برتن لیتا تھا‘ وہ برتن میرے گھر میں بچہ دے دیتا تھا‘ میں اس برتن کے ساتھ وہ بچہ بھی اس کے حوالے کر دیتا تھا‘ آپ اس سے پوچھئے کیا میری بات درست ہے؟‘‘ پنچایت نے مدعی کی طرف دیکھا‘ مدعی نے ہاں میں سر ہلا دیا‘ ملزم نے مسکرا کر عرض کیا ’’ جناب اگر کوئی برتن بچہ دے سکتا ہے تو وہ مر بھی سکتا ہے اور اس کی دیگ کل رات رضائے الٰہی سے انتقال فرما گئی‘‘ پنچایت نے قہقہہ لگایا اور کیس ڈس مس کر دیا‘ وہ ہمسایہ بیچارہ اپنے لالچ کے ہاتھوں مارا گیا تھا‘ برتن ادھار لینے والا بنیادی طور پر فراڈیا تھا اور یہ دوسرے فراڈیوں کی طرح ہمسائے کا لالچ بڑھاتا رہا یہاں تک کہ اس نے اپنا ٹارگٹ اچیو کر لیا۔

خواجہ صاحب نے بتایا ’’ دنیا بھر کے فراڈیئے لوگوں کو لالچ دیتے ہیں‘ یہ ہمیشہ چھوٹی سرمایہ کاری کا بڑا ریٹرن دیتے ہیں‘ آپ انھیں کھانا کھلاتے ہیں‘ چائے پلاتے ہیں اور یہ آپ کے بچوں کو پانچ دس ہزار روپے دے جاتے ہیں‘ آپ ان کے گھر چاول کی پلیٹ بھجواتے ہیں اور یہ آپ کے گھر کیک بھجوا دیں گے‘ یہ آپ سے سائیکل ادھار لیں گے اور جواب میں آپ کو نئی نکور گاڑی ادھار دے دیں گے‘ یہ آپ سے دس ہزار روپے قرض لیں گے اور بارہ ہزار واپس کریں گے‘ آپ اضافی دو ہزار روپے کے بارے میں پوچھیں گے تو یہ جواب دیں گے‘ میں نے آپ کے دس ہزار روپے فلاں کاروبار میں لگائے تھے‘ پانچ دن میں پانچ ہزار روپے منافع ہو گیا‘ میں نے تین ہزار روپے خود رکھ لیے‘ دو آپ کا حق ہے‘ آپ کو دے رہا ہوں‘ یوں آپ ان کی ایمانداری کے بھی قائل ہو جائیں گے‘ ان کے اخلاص اور نیکی کے بھی اور اس کاروبار کو بھی کریڈیبل سمجھ لیں گے جو دس ہزار روپے کی سرمایہ کاری پر پانچ دنوں میں پانچ ہزار روپے منافع دے دیتا ہے‘ یوں وہ شخص آپ کے دل میں لالچ کا پہلا بیج بونے میں کامیاب ہو جائے گا‘ وہ اس کے بعد آپ سے ادھار لیتا رہے گا‘ آپ کو منافع دیتا رہے گا یا وقت پر پیسے واپس کرتا رہے گا اور آپ کا اعتبار حاصل کرتا رہے گا یہاں تک کہ آپ اسے سرمایہ کے لیے خود رقم دینا شروع کر دیں گے‘ وہ آپ کی رقم پر آپ کو پورا منافع دے گا.

اور پھر ایک دن بڑی سرمایہ کاری کا موقع آ جائے گا‘ وہ پھولے ہوئے سانس کے ساتھ آپ کے پاس آئے گا اور آپ کو بتائے گا اس کی کمپنی جہاز خرید رہی ہے‘ یہ جہاز آدھی قیمت میں مل رہا ہے‘ کمپنی جہاز خرید لے گی‘ یہ جہاز چار دن میں پی آئی اے خرید لے گی‘ کمپنی کو سو فیصد منافع ہو گا اور یوں ہمارا سرمایہ چار دن میں دگنا ہو جائے گا‘ وہ آپ کو بتائے گا‘ ہم دس لوگ اس سودے میں سرمایہ کاری کر رہے ہیں‘ ہم ایک ایک کروڑ روپے ڈال رہے ہیں‘ یہ کروڑ روپے چار دن میں دو کروڑ روپے ہو جائیں گے اور یوں آپ اس کے اس ٹریپ میں آ جائیں گے جو اس نے مہینوں کی محنت سے آپ کے اردگرد بنا تھا‘ آپ زیورات بیچیں گے‘ گھر نیلام کریں گے‘ گاڑی فروخت کر دیں گے اور جیسے تیسے کروڑ روپے پورے کر کے اس کے حوالے کر دیں گے لیکن چند دن بعد آپ کی دیگ بھی انتقال کر جائے گی‘ وہ شخص آپ کے کروڑ روپے لے کر فرار ہو جائے گا یا پھر آپ کو ایک ہفتے بعد اس جہاز کے کریشن ہونے یا کمپنی کے دیوالیہ ہونے یا پھر گھر یا بینک میں ڈاکہ زنی کی اطلاع ملے گی‘ یہ آپ کی مرحومہ دیگ کی تدفین بھی کر دے گا اور آپ اس وقت کچھ بھی نہیں کر سکیں گے.

یہ دنیا کے تمام فراڈیوں کی تکنیک ہے‘ یہ کبھی سرمایہ کاری کے نام پر لوٹتے ہیں‘ یہ کبھی ڈبل شاہ بن جاتے ہیں‘ یہ کبھی اسلامی سرمایہ کاری یا مضاربہ کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں‘ یہ کبھی بانڈز کا کاروبار کرتے ہیں‘ یہ کبھی جعلی ڈالرز کے ذریعے لوگوں کو ان کے سرمائے سے محروم کر دیتے ہیں‘ کبھی سونے کی دیگ کی خوش خبری سناتے ہیں اور کبھی کسی مرحوم شہزادے کا خزانہ لے کر مارکیٹ میں آ جاتے ہیں اور اپنے اپنے حصے کے لالچی لوگوں تک پہنچ جاتے ہیں‘ یہ سب لوگ دیگچی کے بچے دے کر آپ کی دیگ کھانے کے ایکسپرٹ ہوتے ہیں‘ یہ لوگ جب بھی آپ کے سامنے آئیں‘ *آپ ایک بات ذہن میں رکھ لیں‘ اگر بادام کا کوئی درخت سڑک پر لگا ہو اور یہ درخت باداموں سے لدا ہوا ہو تو آپ جان لیں اس کے تمام بادام کڑوے ہیں کیونکہ بادام کا درخت اور اس کا میٹھا صرف آپ کا انتظار نہیں کر سکتا*۔

بشکریہ روزنامہ ' ایکسپریس

10/12/2023

Today hundreds of thousands took to the streets of London for Palestine.

We won’t stop marching until there’s a ceasefire and justice for the Palestinians

10/12/2023
08/12/2023

More than 10,000 opposition leaders and activists have been jailed for vandalism and arson, says the Human Rights Watch.

Read full article here: https://scroll.in/article/1059939/

Renowned Indian American author and educator Dr. Abidullah Ghazi passes away in Chicago
11/04/2021

Renowned Indian American author and educator Dr. Abidullah Ghazi passes away in Chicago

News and views across the globe. News Digest Daily is a media monitoring portal. Gives latest news and updates.

Live: Online launching ceremony of English women E-Magazine ‘AURA’
02/03/2021

Live: Online launching ceremony of English women E-Magazine ‘AURA’

  New Delhi, 2nd March 2021: An online launching ceremony of the monthly English language e-magazine ‘AURA’, an initiative of the Jamaat-e-Islami Hind Women’s Department is being held on Tue…

Constitution guarantees reservation but 0% OBC professors in central universities, data shows
24/02/2021

Constitution guarantees reservation but 0% OBC professors in central universities, data shows

In ‘The Shudras’, Kancha Ilaiah Shepherd & Karthik Raja Karuppusamy write about the aftermath of the Mandal and the predicament of India’s productive castes.

International webinar on Feb 20 at 7pm on ‘STRONG FAMILY STRONG SOCIETY’
20/02/2021

International webinar on Feb 20 at 7pm on ‘STRONG FAMILY STRONG SOCIETY’

  Jamaat-e-Islami Hind’s Women’s Wing is holding an international webinar on Saturday evening (20 Feb. 2021) on the central theme of its 10-day nationwide campaign ‘‘STRONG FAMILY STRONG SOCIE…

02/01/2021

PRESS MEET

Jamaat-e-Islami Hind (JIH) is convening a press meet today, on Saturday, 2 January 2021 at 11:30am.

JIH President Syed Sadatullah Hussaini along with other top leaders, will talk to the media on following issues - appraisal of the major events of the preceding year, farmers agitation and fatwa on covid vaccine.

The schedule is as follows:
Date : 2-1-2021, Saturday
Time : 11:30 A.M. sharp.
Venue : Jamaat-e-Islami Hind (HQ), D-321, Abul Fazl Enclave, Jamia Nagar, Okhla, New Delhi-25

Followed by lunch

Media persons are requested to come to cover the same and oblige.

Journalists/media persons may also virtually join using the ZOOM app; link below.
______________

Join Zoom Meeting
https://us02web.zoom.us/j/89357873701?pwd=SHBSdEk4blZHam1ZZUcwQ2JvN0dOQT09

Meeting ID: 893 5787 3701
Passcode: 972936

Zoom is the leader in modern enterprise video communications, with an easy, reliable cloud platform for video and audio conferencing, chat, and webinars across mobile, desktop, and room systems. Zoom Rooms is the original software-based conference room solution used around the world in board, confer...

Abul Fazal Enclave resident Qazi makes Okhla proudOkhla resident Qazi Muhammad Miyan was honored with International Edux...
30/12/2020

Abul Fazal Enclave resident Qazi makes Okhla proud

Okhla resident Qazi Muhammad Miyan was honored with International Edux Award 2020 for being outstanding young school administrator of the year 2020 on December 27, 2020 during a virtual international conference and award ceremony by SK Educare India registered under Ministry of MSME (Govt of India).

https://www.theokhlatimes.com/qazi-muhammad-miyan/?fbclid=IwAR0kwIVHgmLKVGifaJjyrq9SkUNMnf8VL8lLEG2W6NWtwCqLL4v-yByhd1c

Abul Fazal Enclave resident Qazi makes Okhla proud theokhlatimes December 29, 2020 Abul Fazal Enclave resident Qazi makes Okhla proud Okhla resident Qazi Muhammad Miyan was honored with International Edux Award 2020 for being outstanding young school administrator of the year 20202 on December 22, 2...

Online programme on ‘Year 2020 introspection and the way ahead’ tomorrow at 6.30 pm
29/12/2020

Online programme on ‘Year 2020 introspection and the way ahead’ tomorrow at 6.30 pm

Jamaat-e-Islami Hind (JIH) is holding an online programme on ‘Year 2020 introspection and the way ahead’ tomorrow (30th Dec. 2020) at 6.30 p.m. Former chairman of Delhi Minority Commiss…

Address

Jamia Nagar, Okhla
New Delhi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Digest posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to News Digest:

Share