Tasdeeque Urdu Daily

Tasdeeque Urdu Daily Newspaper/News and media website @ www.tasdeeque.com

           Samrat Choudhary Vijay Kumar Choudhary
15/04/2026



Samrat Choudhary Vijay Kumar Choudhary

14/04/2026

11/04/2026

05/04/2026

21/03/2026
كل حزب بما لديهم فرحونجناب حضور مولانا سید شاہ محمد آیت اللہ قادری مدظلہ العالی — زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف ...
19/03/2026

كل حزب بما لديهم فرحون

جناب حضور مولانا سید شاہ محمد آیت اللہ قادری مدظلہ العالی — زیب سجادہ خانقاہ مجیبیہ پھلواری شریف پٹنہ

رویت ہلال کا مسئلہ شریعت اسلامی کے نہایت حساس اور اہم مسائل میں سے ہے، جس کا تعلق براہِ راست عباداتِ اسلامیہ (رمضان، عیدالفطر اور عیدالاضحی وغير) سے ہے۔ اس لیے اس میں احتیاط، دیانت اور شرعی اصولوں کی پابندی بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ بھی ملحوظ رہنا چاہیے کہ اس مسئلہ کو امت کے درمیان اختلاف اور انتشار کا ذریعہ نہ بنایا جائے، بلکہ حکمت، وسعت نظر اور باہمی احترام کے ساتھ اسے دیکھا جائے۔
مولانا ابو الکلام قاسمي شمسی کی تحریر ابھی نظر سے گزری جس میں بہار کے تناظر میں صرف دو اداروں (امارت شرعیہ اور ادارہ شرعیہ) کو رویتِ ہلال کے اعلان کا واحد مجاز قرار دیا ہے، جو کئی اصولی اور عملی سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سب سے پہلے تاریخی پہلو قابل توجہ ہے۔ ہندوستان میں صدیوں سے مختلف علاقوں میں معتبر علما ومشائخ ،مفتیانِ کرام، خانقاہیں اور دینی ادارے شرعی اصولوں کے مطابق رویتِ ہلال کے اعلانات کرتے آئے ہیں۔ اگر آج یہ کہا جائے کہ صرف دو ادارے ہی اس معیار پر پورے اترتے ہیں، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ماضی کی پوری دینی روایت کو نظر انداز کر دیا جائے، جو نہ علمی دیانت کے مطابق ہے اور نہ ہی حقیقت حال کے۔
مزید یہ کہ ’’اتحاد‘‘کے نام پر اس طرح کی مرکزیت قائم کرنے کی کوشش دراصل ایک مخصوص دائرے کو برتر ثابت کرنے کی سعی معلوم ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ چند معتقدین کا حلقہ بنا لینا حقیقی قیادت نہیں، بلکہ ملت کی سربراہی اسی کو حاصل ہوتی ہے جسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے قبولیت، اخلاص اور غیبی مدد حاصل ہو۔
ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ کیا واقعی بہار کے تمام مسلمانوں کا ان دونوں اداروں پر کامل اور غیر مشروط اعتماد ہے؟ زمینی حقیقت یہ ہے کہ مختلف مکاتبِ فکر کے ماننے والے اپنے اپنے اکابر اور اداروں پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس لیے کسی ایک یا دو اداروں کو مطلق طور پر ’’واحد قابل قبول‘‘ قرار دینا خود اختلاف کو جنم دینے کے مترادف ہے۔
اسی طرح یہ بھی قابلِ غور ہے کہ کیا یہ دونوں ادارے تمام مسالک (دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ وغیرہ) کے نزدیک یکساں طور پر معتبر ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے، تو پھر ان کے اعلان کو حتمی اور فیصلہ کن قرار دینا عملی طور پر اتحاد کے بجائے مزید تقسیم کا سبب بن سکتا ہے۔
اگر ادارہ جاتی اصول کو معیار بنایا جائے تو پھر یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کیا خود امارت شرعیہ اور ادارہ شرعیہ باہمی طور پر ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو کر رویتِ ہلال کا اعلان کرتے ہیں؟ جب داخلی سطح پر ہی مکمل ہم آہنگی موجود نہیں، تو پوری ملت کو ایک مرکز پر جمع کرنے کا دعویٰ کس حد تک قابل عمل ہے؟
دارالقضاء کی موجودگی کو بنیاد بنا کر کسی ادارے کو خصوصی حیثیت دینا بھی محلِ نظر ہے، کیونکہ شریعت میں رویتِ ہلال کے لیے اصل بنیاد معتبر شہادت ہے، نہ کہ کسی مخصوص ادارہ جاتی ڈھانچے کا وجود۔ یہ ایک اجتہادی و انتظامی پہلو ہو سکتا ہے، مگر اسے شرعی لازمی شرط قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسی تسلسل میں اگر اس اصول کو عام کر دیا جائے تو پھر ملک کے دیگر عظیم اور تاریخی ادارے،جیسے فرنگی محل، جامع مسجد دہلی اور دیگر قدیم دینی مراکزکی تحقیقات و تصدیقات بھی ناقابلِ قبول قرار پائیں گی، کیونکہ ان کے پاس بھی ہر جگہ ذیلی دارالقضاء کا جال نہیں ہے۔ اس طرح کی رائے نہ صرف غیر معقول نتائج تک پہنچاتی ہے بلکہ ان اداروں سے وابستہ جلیل القدر علماء، مفتیانِ کرام اور اصحابِ قضا و افتاء کی علمی حیثیت اور خدمات کی صریح تنقیص اور توہین کا پہلو بھی اپنے اندر رکھتی ہے، جو کسی بھی طور پر مناسب نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ موجودہ وقت میں مختلف ادارے اپنے اپنے دائرۂ اثر میں اعلان کرتے ہیں، اور اکثر یہ اعلانات کسی بڑے یا مرکزی ادارے کی اتباع میں ہی ہوتے ہیں۔ اس لیے دیگر اداروں کو محض ’’خبر پہنچانے والا‘‘ قرار دینا ایک غیر منصفانہ اور سادہ کاری پر مبنی تعبیر ہے۔ ہر ادارہ اپنے ماننے والوں کی رہنمائی کا حق رکھتا ہے، اور یہی دینی روایت کا تسلسل بھی ہےکہ من قصد الینا وجب حقہ علینا۔
مزید برآں، اگر اصولی بات کی جائے تو رویتِ ہلال صرف رمضان اور عیدین تک محدود نہیں بلکہ ہر قمری مہینے سے متعلق ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا مذکورہ ادارے ہر مہینے اسی درجہ کے اہتمام کے ساتھ اعلان کرتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر اس اصول کی عمومیت خود محلِ نظر ہو جاتی ہے۔
افسوس کا پہلو یہ بھی ہے کہ اس قسم کی تحریریں، جنہیں بظاہر ’’اتحاد‘‘ کے نام پر پیش کیا جاتا ہے، درحقیقت عوام کے اندر مزید مسلکی حساسیت کو ابھارنے اور اداروں کے درمیان تلخی پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہیں۔ اس طرزِ فکر سے نہ صرف اختلاف بڑھتا ہے بلکہ باہمی اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔آج امت کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض افراد اللہ تعالیٰ کی نصرت اور روحانی قوت کے حصول کے بجائے سیاسی اثر و رسوخ کے ذریعے اپنی قیادت منوانا چاہتے ہیں۔ یہ نہایت افسوسناک رجحان ہے کہ ایمانی اور شرعی معاملات کو بھی دنیاوی طاقتوں اور عدالتوں کا محتاج بنایا جا رہا ہے، جو کہ دینی مزاج کے خلاف ہے۔
خلاصہ یہ کہ رویتِ ہلال کا مسئلہ واضح شرعی اصولوں پر قائم ہے: معتبر شہادت، ذمہ دار تحقیق اور دیانت دارانہ اعلان۔ یہ کسی ایک یا دو اداروں کی اجارہ داری نہیں بلکہ پوری امت کے اہلِ علم کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
ملت کی حقیقی قیادت نہ اداروں کی وسعت سے قائم ہوتی ہے، نہ عہدوں کی کثرت سے، بلکہ عوام کے اعتماد، علماء کی دیانت اور اللہ تعالیٰ کی نصرت سے قائم ہوتی ہے۔
اللہ تعالیٰ امتِ مسلمہ کو ہر قسم کے انتشار سے محفوظ رکھے، باہمی احترام، اتحاد اور اعتدال کی راہ پر قائم رکھے، اور ہمیں صحیح فہم کے ساتھ دینی معاملات انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Address

Patna

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tasdeeque Urdu Daily posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category