Mufti Maroof Rahi

Mufti Maroof Rahi in the name of Allah �

ہائے ظالموں کچھ تو سوچو
03/03/2026

ہائے ظالموں کچھ تو سوچو

سعودی عرب کی ایک سڑک پر دو افراد گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک ان کا آپس میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ایک شخص کی گاڑی مکمل طور پر تبا...
20/02/2026

سعودی عرب کی ایک سڑک پر دو افراد گاڑی چلا رہے تھے کہ اچانک ان کا آپس میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ ایک شخص کی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ اسے اس کا بہترین بدل عطا فرمائے، آمین۔

عام طور پر ایسے موقع پر توقع یہی ہوتی ہے کہ دونوں ڈرائیور غصے میں گاڑیوں سے نکلیں گے، لڑائی جھگڑا کریں گے، ہنگامہ کھڑا ہوگا، پولیس کو بلائیں گے اور بات کو بڑھا دیں گے۔ لیکن یہاں منظر بالکل مختلف تھا۔

دونوں فوراً گاڑی سے نکلے اور سب سے پہلے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی:
"آپ ٹھیک ہیں؟"
"جی الحمدللہ، میں ٹھیک ہوں۔"

پھر ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا:
"یہ آپ کی غلطی نہیں، غلطی میری ہے۔"

اسی لمحے مغرب کی اذان ہوگئی۔ دونوں نے جھگڑے کے بجائے ایک طرف ہو کر نماز ادا کی، اور نماز کے بعد آپس میں مصافحہ کیا… اور حیرت انگیز طور پر وہ دوست بن گئے۔

یہ کوئی فلمی یا ڈرامائی منظر نہیں تھا بلکہ حقیقی واقعہ تھا۔ اس کی ویڈیو ریکارڈ ہوئی اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ یہاں تک کہ آج ایک برطانوی اخبار نے اس پر سرخی لگائی:
"اسلام برداشت کا دین ہے"

یہ ویڈیو امریکہ، اسپین اور برطانیہ سمیت کئی ممالک کے میڈیا تک پہنچی اور لوگوں نے اس واقعے کو بہت پسند کیا۔ سب نے یہ بات محسوس کی کہ معافی واقعی عظمت ہے۔

اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو عزت و سربلندی عطا فرمائے۔ آمین۔

मुजफ्फरनगर के OYO में जिस्मफरोशी का धंधा चल रहा था। तीन B.A. की छात्राएं आपत्तिजनक हालत में पाई गईं। बताया जा रहा है कि ...
19/02/2026

मुजफ्फरनगर के OYO में जिस्मफरोशी का धंधा चल रहा था। तीन B.A. की छात्राएं आपत्तिजनक हालत में पाई गईं। बताया जा रहा है कि सभी छात्राएं 1500 रुपये में वहां आई थीं। पुलिस ने कार्रवाई करते हुए सभी को गिरफ्तार कर जेल भेज दिया। माननीय न्यायालय ने भी किसी को जमानत नहीं दी।

अब सवाल ये उठता है कि अगर समय पर बच्चों की शादी नहीं करोगे, बड़े फोन हाथ में दोगे, कमाने-खाने के सपने दिखाओगे, कहां जा रहे हैं–क्या कर रहे हैं कुछ पूछोगे नहीं, बच्चों पर कोई रोक-टोक नहीं रखोगे, तो फिर OYO नहीं तो क्या सत्संग में जाएंगे बच्चे?
Cpy

یہ تصویریں کسی زلزلے کی نہیں ہیں،نہ ہی کسی دہشت گردانہ حملے کی،نہ کسی سڑک حادثے کی،اور نہ ہی کسی باہمی لڑائی جھگڑے کی......
18/02/2026

یہ تصویریں کسی زلزلے کی نہیں ہیں،
نہ ہی کسی دہشت گردانہ حملے کی،
نہ کسی سڑک حادثے کی،
اور نہ ہی کسی باہمی لڑائی جھگڑے کی...
​یہ مناظر یورپ میں پھیلی اس نشے کی وبا کے ہیں جو عام طور پر نظر نہیں آتی۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے نشے کے انجکشن اور ڈرگ اوور ڈوز کے باعث اپنا ہوش و حواس کھو دیا ہے اور انہیں یہ تک خبر نہیں کہ وہ کسی سڑک یا گلی کوچے میں پڑے ہوئے ہیں۔
​یہ وہی یورپ ہے جہاں جانے اور بسنے کی چاہت لوگوں میں کثرت سے پائی جاتی ہے؛ جسے ایک 'الٹرا ماڈرن' اور 'ترقی یافتہ' خطہ سمجھا جاتا ہے۔
​یاد رکھیے! حقیقی ترقی وہ نہیں جو انسان کو صرف ظاہری طور پر ماڈرن بنا دے، بلکہ اصل ترقی وہ طریقہ کار ہے جو آج سے 1400 سال پہلے طے کر دیا گیا تھا، پھر چاہے زمانہ کوئی بھی ہو۔
​اللہ کا بے انتہا احسان ہے کہ اس نے ہمیں صاحبِ ایمان کے گھر پیدا کیا اور ہمیں دولتِ ایمان سے نوازا ہے


Allah Ka Karam Hai Aaj Main Phir Se 10 Roza Taraveeh Ke Liye Siwan Nikal Chuka Hun Ahbaab Se Dua Ki Darkhast 🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
17/02/2026

Allah Ka Karam Hai Aaj Main Phir Se 10 Roza Taraveeh Ke Liye Siwan Nikal Chuka Hun Ahbaab Se Dua Ki Darkhast 🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲

Ya Allah Bhai Ki Rihai Ke Faisle Farma...🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲جب سپریم کورٹ نے میری ضمانت رد کر دی تو  جیل پہلے سے زیادہ بھیڑ ...
25/01/2026

Ya Allah Bhai Ki Rihai Ke Faisle Farma...🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲🤲
جب سپریم کورٹ نے میری ضمانت رد کر دی تو جیل پہلے سے زیادہ بھیڑ بھاڑ والی اور بے ترتیب ہو گئی۔ تنہائی کی جو تھوڑی بہت گنجائش تھی، وہ بھی ختم ہوتی محسوس ہونے لگی۔

قید کے دوران مجھے موسیقی سننے، کتابیں پڑھنے اور جانوروں کی دیکھ بھال کرنے میں سکون ملتا ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی عادتیں مجھے امید اور ذہنی طاقت دیتی ہیں۔

اس بار جب میں عبوری ضمانت کے بعد دوبارہ تہاڑ جیل لوٹا تو وہاں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ہماری بیرک میں تقریباً پچاس نئے قیدی ڈال دیے گئے تھے، حالانکہ یہ جگہ پہلے ہی بہت بھری ہوئی تھی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اب خاموشی اور کم ہو گئی تھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد یہ بے چینی اور بھی بڑھ گئی۔ میں ابھی میڈیا کے شور سے نکل ہی رہا تھا کہ اب ٹی وی اور اخباروں کی وجہ سے لوگ مجھے پہچاننے لگے تھے۔ ہر کوئی مجھ سے بات کرنا چاہتا تھا۔ کیوں؟ تجسس سے یا حیرت سے، کہنا مشکل ہے۔

میری کوٹھری اب مجھے اجنبی سی لگتی ہے۔ جب میں عبوری ضمانت پر گھر گیا تھا تو دل میں کہیں امید تھی کہ شاید فیصلہ ہمارے حق میں ہو جائے۔ اسی لیے میں اپنی ساری کتابیں، نوٹس، خط، تصویریں سب ساتھ لے گیا تھا۔ اب جب ضمانت رد ہو چکی ہے اور کم از کم اگلے سال تک رہائی کی کوئی امید نہیں، تو میری کوٹھری خالی کاغذ جیسی لگ رہی ہے۔

شاید یہ اچھی بات ہے۔ آخر یہ ایک نئی شروعات بھی تو ہے۔

فیصلے کے بعد کے پہلے دن بہت مشکل ہوتے ہیں۔ جس دن سپریم کورٹ نے میری ضمانت رد کی، میں ذہنی طور پر 2022 میں چلا گیا جب پہلی بار نچلی عدالت نے میری ضمانت رد کی تھی۔ وہ خبر میرے لیے بہت بڑا صدمہ تھی۔

پانچ سال جیل میں گزارنے کے بعد اور تین عدالتوں سے پانچ بار ضمانت رد ہونے کے بعد، اب مجھے بے بسی کی عادت سی ہو گئی ہے۔ سرد موسم اس اداسی کو اور بڑھا دیتا ہے۔ رات کو تیز ہوا آتی ہے اور سیمنٹ کے تختے پر سونا بہت مشکل ہو جاتا ہے۔

صبح کا وقت بہتر ہوتا ہے جب ہمیں دھوپ میں ٹہلنے دیا جاتا ہے۔ لیکن دوپہر تین بجے کے بعد جب دوبارہ بند کیا جاتا ہے تو دماغ سن ہونے لگتا ہے۔ میں سوچنے لگتا ہوں کہ کیا میں کبھی آزاد انسان کی طرح باہر نکل بھی پاؤں گا؟

اور اگر ضمانت مل بھی جائے تو؟ باہر بھی اتنی سخت شرطیں ہوتی ہیں کہ آزادی بھی جیل جیسی ہی لگتی ہے۔

اس بار ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ میرے پاس ٹی وی نہیں رہا۔ زیادہ تر فلمیں اور خبریں زہریلی ہیں۔ اب میری امید صرف ریڈیو پر ہے جس میں صرف گانے آتے ہیں۔ موسیقی اور خاموشی میرے مستقل ساتھی رہے ہیں۔

تہاڑ کے جانوروں نے بھی مجھے بہت سہارا دیا ہے۔ میں دو بلیوں شلپا اور شیام لال کو کھانا دیتا ہوں۔ شلپا کے دو بچے ہوئے جن کا نام میں نے بلیک پینتھر اور اسٹوارٹ لٹل رکھا۔ ان کی شرارتیں دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔

یہ عجیب بات ہے کہ جیل میں لوگ بلیوں، پرندوں، چھپکلیوں اور چیونٹیوں تک کو کھانا کھلاتے ہیں۔ یہاں یہ مانا جاتا ہے کہ جانوروں کو کھلانے سے ثواب ملتا ہے اور آزادی نصیب ہوتی ہے۔

اسی لیے بیرک میں اکثر روٹی یا چینی کے ٹکڑے بکھرے ہوتے ہیں تاکہ چیونٹیاں کھا سکیں۔ ایک قیدی روز ایک پودے کو پانی دیتا تھا، کچھ دن بعد اسے ضمانت مل گئی۔ پھر تین اور قیدی اسی پودے کو پانی دینے لگے۔

دیکھئے، امید کتنی ضدی ہوتی ہے، جیل میں بھی۔

اب میں پھر سے پڑھائی کی طرف لوٹ رہا ہوں۔ میرے ذہن میں کئی کتابوں کی فہرست ہے۔ آزادی کا انتظار اب پہلے سے زیادہ لمبا لگتا ہے۔

میڈیا اب مجھے "ملک دشمن" نہیں بلکہ "دہشت گرد" کہتا ہے۔ میں یہ نہیں بدل سکتا کہ لوگ مجھے کیسے دیکھتے ہیں۔ لیکن میں چاہتا ہوں کہ جو میرے ساتھ کھڑے ہیں وہ سمجھیں کہ میں اس ظلم کو قبول نہیں کرتا۔

یہ لڑائی صرف میری نہیں ہے۔ یہ اُن سب کے لیے ہے جو سوال پوچھنے کی ہمت کرتے ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے کے لیے لڑ رہے ہیں جہاں سب برابر ہوں۔ یہی یقین اس درد کو سہنے کے قابل بناتا ہے۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام یا بھگت سنگھ۔

میں روز بھگت سنگھ کی یہ لائنیں اپنی دیوار پر دیکھتا ہوں:

"راکھ کا ہر ذرہ میری حرارت کے ساتھ حرکت میں ہے
میں اتنا پاگل ہوں کہ جیل میں بھی آزاد ہوں۔"
(آؤٹ لک انگریزی سے ترجمہ شدہ)

Mujhe Lagta Hai Anuj Chaudhari Sb Ki Taqat SJM Sb Se Ziyada Hai Tabhi To.........
21/01/2026

Mujhe Lagta Hai Anuj Chaudhari Sb Ki Taqat SJM Sb Se Ziyada Hai
Tabhi To.........

19/01/2026

Surjapuri Bayan Mohd Maroof Rahi
Aam Faham Baat....

12/01/2026

بابا فرید الدین گنج شکر رحمت اللہ علیہ کا دلچسپ واقعہ
BaBa Fareeduddeen Ganj Shakar R. h Ka Waqia....
Mohd Maroof Rahi

10/01/2026

Heart ❤Touching Video

06/01/2026

بنگال کا اجتماع اور ہماری ذمہ داریاں
Hamari Qaum Ka Almiya.....

29/12/2025

ایک نظر ادھر بھی

Address

Purnea

Telephone

+918563858599

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Maroof Rahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share

Category