Mufti Maroof Rahi

Mufti Maroof Rahi in the name of Allah �

یومِ آزادی: آزادی کی تاریخ، علماءِ دیوبند کی قربانیاں اور ہماری آج کی ذمہ داریاںدار ارقم اسلامک انسٹیٹیوٹ، مہیشبتھنہ، ام...
15/08/2026

یومِ آزادی: آزادی کی تاریخ، علماءِ دیوبند کی قربانیاں اور ہماری آج کی ذمہ داریاں

دار ارقم اسلامک انسٹیٹیوٹ، مہیشبتھنہ، امور، پورنیہ، بہار میں آج یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقع پر تمام اہلِ وطن کو 80ویں یومِ آزادی کی دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔

یومِ آزادی صرف پرچم لہرانے، قومی ترانہ پڑھنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کا دن نہیں، بلکہ یہ ان بے شمار قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جن کی بدولت ہمارا ملک غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا۔

آزادی کی جدوجہد اور علماءِ دیوبند کا کردار

ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بہت طویل اور قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس جدوجہد میں علماء، طلبہ، کسان، مزدور، خواتین اور مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔

علماءِ دیوبند نے بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد اس کے وابستہ علماء نے صرف دینی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ ملک کی آزادی اور قومی بیداری کے لیے بھی جدوجہد کی۔

شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے برطانوی اقتدار کے خلاف منظم جدوجہد کی۔ ان کی تحریک کو تاریخ میں تحریکِ ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک جا کر بھی آزادی کی جدوجہد کے لیے کوششیں کیں اور مالٹا میں قید و مشقت برداشت کی۔

اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے آزادی کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے بیرونِ ملک سفر کیا اور ہندوستان کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانے کے لیے سیاسی و انقلابی جدوجہد میں حصہ لیا۔

مولانا حسین احمد مدنیؒ نے بھی برطانوی حکومت کی مخالفت کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہندوستان کی مشترکہ قومی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادی کی جنگ کسی ایک جماعت، ایک طبقے یا ایک مذہب کی جنگ نہیں تھی۔ ہندوستان کی آزادی مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ علماءِ دیوبند کی قربانیاں بھی اسی عظیم قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔

لیکن ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟

آج ہم سیاسی طور پر ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ ہمارا اپنا آئین ہے، ہماری اپنی حکومت ہے اور ہمیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ لیکن آزادی کا اصل مطلب صرف غیر ملکی حکمرانوں سے نجات نہیں۔

حقیقی آزادی تب مکمل ہوتی ہے جب ہر شہری کو عزت، انصاف، تعلیم، امن اور اپنے بنیادی حقوق میسر ہوں۔

اگر معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہو، ایک انسان دوسرے انسان کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہو، تشدد کو معمول سمجھا جانے لگے، غریب کو انصاف حاصل کرنے کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، بچوں کو معیاری تعلیم نہ ملے اور نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہوں تو ہمیں اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ آزادی کے اصل مقاصد کہاں تک پورے ہوئے ہیں؟

آزادی ہمیں یہ حق دیتی ہے کہ ہم سوال کریں، مگر اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔

آج کی سب سے بڑی ضرورت: تعلیم، امن اور انصاف

آج ہمارے ملک کو نفرت سے زیادہ محبت، تشدد سے زیادہ امن، جہالت سے زیادہ تعلیم اور ناانصافی سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔

خاص طور پر ہمارے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس قوم کے بچے تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت ہوں، اس قوم کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

ہمیں اپنے بچوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھانی بلکہ انہیں یہ بھی سکھانا ہے کہ اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، قانون کی پابندی کیوں ضروری ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار کیسے ادا کیا جاتا ہے۔

یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے، تشدد کی حمایت نہیں کریں گے، جھوٹ اور افواہوں کو آگے نہیں بڑھائیں گے اور اپنے ملک میں امن، بھائی چارے، تعلیم اور انصاف کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔

وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں؛ وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔

آئیے آج کے دن آزادی کے ان تمام گمنام اور معروف سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے اپنے وطن کے مستقبل کے لیے قربانیاں دیں، اور عہد کریں کہ ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے جہاں ہر شہری کو عزت، امن، تعلیم اور انصاف میسر ہو۔

تمام اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی دلی مبارک باد۔

خادم:
مفتی محمد معروف راہی
امیدوار، ضلع پریشد امور
علاقہ نمبر 29

مسلمانوں نے جنگ آزادی میں اس امید پر حصہ لیا تھا کہ ان کا مذہب، زبان اور تہذیب محفوظ رہیں گے ، لیکن انگریزوں کی پیدا کر ...
14/08/2026

مسلمانوں نے جنگ آزادی میں اس امید پر حصہ لیا تھا کہ ان کا مذہب، زبان اور تہذیب محفوظ رہیں گے ، لیکن انگریزوں کی پیدا کر دہ فرقہ پرستی آج اقتدار تک پہنچ چکی ہے۔ اب بر سر اقتدار طاقتیں مسلمانوں کو سیاسی، معاشی اور جانی طور پر کمزور کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا "ہندو کرن " کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تا کہ آنے والی نسلیں اپنے مذہب اور تہذیبی تشخص سے مکمل طور پر کٹ جائیں۔

مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ

مرادآباد عیدگاہ کا وہ دن جب نماز کے بیچ گولیاں چلیں، پھر شہر مہینوں فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں رہا—آخر اس سانحے کا پور...
13/08/2026

مرادآباد عیدگاہ کا وہ دن جب نماز کے بیچ گولیاں چلیں، پھر شہر مہینوں فرقہ وارانہ تشدد کی لپیٹ میں رہا—آخر اس سانحے کا پورا سچ کیا تھا؟

13 اگست 1980 کو اترپردیش کے مرادآباد کی عیدگاہ میں عید کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع تھے۔ نماز کے دوران ایک جانور کے عیدگاہ میں داخل ہونے کے بعد صورتحال کشیدہ ہوئی اور پھر پولیس و نمازیوں کے درمیان تصادم اور فائرنگ شروع ہوگئی۔ اس کے بعد مرادآباد اور آس پاس کے علاقوں میں فرقہ وارانہ تشدد پھیل گیا۔

اس سانحے کے ہلاکت خیز نتائج پر آج بھی مختلف اعداد و شمار ملتے ہیں۔ جسٹس ایم پی سکسینہ کمیشن کی رپورٹ میں 83 اموات اور 112 زخمیوں کا ذکر ہے، جبکہ اس وقت کے سرکاری بیانات اور مختلف ذرائع میں اس سے کہیں زیادہ اعداد بھی سامنے آئے تھے۔ اسی وجہ سے ’’400 سے زائد‘‘ یا ’’2500 سے زائد‘‘ اموات کو قطعی سرکاری تعداد کے طور پر بیان کرنا درست نہیں ہوگا۔

واقعے کے بعد اترپردیش حکومت نے ایک رکنی جسٹس ایم پی سکسینہ کمیشن قائم کیا۔ کمیشن نے 1983 میں اپنی رپورٹ حکومت کو سونپ دی، لیکن یہ رپورٹ کئی دہائیوں تک عوام کے سامنے نہیں لائی گئی۔ بالآخر اگست 2023 میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت نے اسے اترپردیش اسمبلی میں پیش کیا۔

رپورٹ کے مطابق تشدد کے پس منظر میں مسلم لیگ سے وابستہ ڈاکٹر شمیم احمد اور ڈاکٹر حامد حسین سمیت بعض مقامی سیاسی عناصر کو ذمہ دار قرار دیا گیا اور پولیس کی فائرنگ کو بھی رپورٹ نے قانونی طور پر درست قرار دیا۔ رپورٹ نے RSS، BJP اور عام ہندو و مسلمان آبادی کو فساد کی منصوبہ بندی کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔

تاہم اس کے باوجود مرادآباد کے متاثرین اور مقامی لوگوں کے درمیان پولیس کارروائی، ہلاکتوں اور انصاف میں تاخیر سے متعلق سوالات آج بھی موجود ہیں۔ 2023 میں رپورٹ منظرعام پر آنے کے بعد متاثرین کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ اتنے برسوں تک کمیشن کی رپورٹ کیوں چھپائی گئی اور متاثرہ خاندانوں کو کیا انصاف ملا۔

مرادآباد کا سانحہ صرف ایک دن کا واقعہ نہیں تھا؛ تشدد کے اثرات کئی ماہ تک مختلف علاقوں میں دیکھنے کو ملے۔ آج 13 اگست کو اس واقعے کی برسی پر مرادآباد کی عیدگاہ ایک بار پھر اس سوال کی یاد دلاتی ہے کہ فرقہ وارانہ تشدد میں جان گنوانے والوں اور متاثرہ خاندانوں کو حقیقی انصاف کب ملتا ہے؟

عمر خالد کو جیل میں 6 سال ہوگئے، ٹرائل اب تک شروع نہیں! والد سید قاسم رسول الیاس کا درد: ’’ان کی زندگی کے برباد سالوں کا...
13/08/2026

عمر خالد کو جیل میں 6 سال ہوگئے، ٹرائل اب تک شروع نہیں! والد سید قاسم رسول الیاس کا درد: ’’ان کی زندگی کے برباد سالوں کا حساب کون دے گا؟‘‘

جے این یو کے سابق طالب علم رہنما عمر خالد کو جیل میں تقریباً چھ سال مکمل ہو چکے ہیں اور وہ 2020 کے دہلی فسادات سے متعلق سازش کے مقدمے میں زیرِ حراست ہیں۔ تازہ رپورٹس کے مطابق اس طویل عرصے کے باوجود مقدمے کی باقاعدہ سماعت ابھی شروع نہیں ہوئی۔ جنوری 2026 میں سپریم کورٹ نے بھی ان کی ضمانت کی درخواست مسترد کی تھی۔

عمر خالد کے والد ڈاکٹر سید قاسم رسول الیاس نے اپنے بیٹے کی طویل قید پر شدید مایوسی اور غم کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کو برسوں تک جیل میں رکھا جائے اور مقدمے کی سماعت ہی شروع نہ ہو تو اس دوران گزرنے والی زندگی کا حساب کون دے گا؟

انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر عمر خالد چھ یا دس سال بعد بھی جیل سے باہر آتے ہیں تو ان کی جوانی کے وہ قیمتی سال جو واپس نہیں آسکتے، ان کا ازالہ کون کرے گا؟

عمر خالد کے معاملے میں طویل حراست کا معاملہ اس وقت مزید بحث میں آیا جب 2026 میں عدالتوں میں ضمانت کی درخواستوں اور مقدمے کی پیش رفت پر دوبارہ سماعت ہوئی۔ وہ اب بھی زیرِ سماعت ملزم (undertrial) ہیں، یعنی ان کے خلاف مقدمے میں حتمی سزا کا فیصلہ نہیں ہوا۔

چھ سال کسی انسان کی زندگی کا معمولی وقت نہیں ہوتا—یہ عمر کا وہ حصہ ہے جو گزر جائے تو دوبارہ واپس نہیں آتا۔

اتر پردیش کے نوئیڈا میں سیکٹر 49 تھانے کے علاقے برولا گاؤں میں واقع ایک پی جی میں آسام سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی م...
13/08/2026

اتر پردیش کے نوئیڈا میں سیکٹر 49 تھانے کے علاقے برولا گاؤں میں واقع ایک پی جی میں آسام سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ لڑکی مہک احمد کو قتل کر دیا گیا۔ اس کی لاش پی جی کی پہلی منزل پر ایک نوجوان کے بند کمرے سے برآمد ہوئی۔
پولیس کے مطابق مہک احمد آسام کے ڈبروگڑھ کی رہنے والی تھی اور تقریباً تین ہفتے قبل اپنے والدین کو بتائے بغیر نوئیڈا آئی تھی۔ یہاں وہ اپنی پرانی سہیلی سنجنا کے ساتھ پی جی میں رہ رہی تھی۔
اسی پی جی کی پہلی منزل پر بہار کے کٹیہار کا رہنے والا رمن بھی کرائے پر رہتا تھا۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش کے مطابق 8 اگست کی رات مہک اور اس کی سہیلی سنجنا پی جی کی راہداری میں موجود تھیں، جبکہ رمن اپنے کمرے کے باہر بیٹھ کر شراب پی رہا تھا۔ شراب پینے کے معاملے پر دونوں کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی۔
اگلے روز سنجنا کسی کام سے باہر گئی۔ واپس آنے پر مہک وہاں موجود نہیں تھی اور اس کا موبائل فون بھی بند آ رہا تھا۔ کئی گھنٹے تلاش کے بعد پی جی کے دیگر رہائشیوں کو رمن کے کمرے سے شدید بدبو آنے لگی۔ کمرے کے باہر تالا لگا ہوا تھا جبکہ رمن بھی غائب تھا۔
اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچی اور تالا توڑ کر کمرہ کھولا تو اندر مہک کی خون میں لت پت لاش پڑی تھی۔ اس کے جسم پر دھار دار ہتھیار سے کیے گئے کئی زخموں کے نشان پائے گئے۔
پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے رمن کی تلاش شروع کر دی ہے۔

مائیک سے مسئلہ، مسجد سے مسئلہ، مدرسے سے مسئلہ… مسلمان اسلام چھوڑ دے، کیا یہی مقصد ہے؟کھل کر بتاؤ مسلمانوں سے چاہتے کیا ہ...
12/08/2026

مائیک سے مسئلہ، مسجد سے مسئلہ، مدرسے سے مسئلہ… مسلمان اسلام چھوڑ دے، کیا یہی مقصد ہے؟کھل کر بتاؤ مسلمانوں سے چاہتے کیا ہو؟ ہماری قوم کا حوصلہ آج بھی بلند ہے۔
مفتی معصوم ثاقب قاسمی کا دوٹوک پیغام

مولانا معصوم ثاقب قاسمی نے ایک خطاب کے دوران مسلمانوں کے مذہبی معاملات اور مساجد و مدارس کو لے کر اٹھائے جانے والے اعتراضات پر سخت ردعمل ظاہر کیا۔

انہوں نے کہا کہ کبھی کہا جاتا ہے کہ مسئلہ مائیک سے ہے، کبھی مسجد کے نقشے یا مدرسوں سے۔ مولانا نے سوال اٹھایا کہ اگر ہر بار کسی نہ کسی بہانے سے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو نشانہ بنایا جائے تو اس کے پیچھے اصل مقصد کیا ہے؟

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اگر کسی کا مقصد مسلمانوں کو اسلام سے دور کرنا ہے تو اسے کھل کر کہنا چاہیے، کیونکہ مسلمان اپنے دین کو چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔

مولانا نے مسلمانوں کے حوصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حالات چاہے کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، قوم کے عام مسلمانوں کا حوصلہ آج بھی بلند ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کی آزادیٔ ہند اور ملک کی تعمیر و ترقی میں دی گئی خدمات کا بھی ذکر کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی قربانیوں اور خدمات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ آزادی کی جدوجہد سے لے کر ملک کی تعمیر و ترقی تک مسلمانوں نے اپنا کردار ادا کیا ہے۔

مولانا نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو جذبات کے بجائے حوصلے، استقامت اور اپنے دین سے وابستگی کے ساتھ آگے بڑھنے کا پیغام بھی دیا۔

برا انجام ہو!📍 بریلی، اتر پردیش: 6سال کے تعلق کے بعد شادی سے انکار، اسے ’بھگوا لو ٹریپ‘ کیوں نہ کہا جائے؟ایک مسلم نوجوان...
11/08/2026

برا انجام ہو!
📍 بریلی، اتر پردیش: 6سال کے تعلق کے بعد شادی سے انکار، اسے ’بھگوا لو ٹریپ‘ کیوں نہ کہا جائے؟
ایک مسلم نوجوان لڑکی نے موہت کمار کنوجیا پر شادی کا جھانسہ دے کر مبینہ طور پر جسمانی، ذہنی اور مالی استحصال کرنے، فحش تصاویر اور ویڈیوز وائرل کرنے کی دھمکی دینے اور لاکھوں روپے کا مطالبہ کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔ لڑکی نے ایس ایس پی سے شکایت کرتے ہوئے کارروائی اور تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم، مجھے ایسی لڑکیوں سے کسی قسم کی کوئی ہمدردی نہیں ہے جو 6 سال تک تعلق میں رہنے کے بعد، تنازع سامنے آنے پر پولیس سے شکایت کرنے پہنچتی ہیں۔ الزامات درست ہیں یا غلط، اس کا فیصلہ تحقیقات کے بعد ہی ہوگا۔
#بھگوالوٹریپ

یہ ہرگز انسانیت کی خدمت نہیں، بلکہ مسلمانوں کی چاپلوسی اور مصلحت پسندی ہے۔۔یہ بھائی چارہ نہیں، بلکہ جان و مال کے خوف سے ...
10/08/2026

یہ ہرگز انسانیت کی خدمت نہیں، بلکہ مسلمانوں کی چاپلوسی اور مصلحت پسندی ہے۔۔یہ بھائی چارہ نہیں، بلکہ جان و مال کے خوف سے خوش رکھنے کی کوشش ہے۔۔محرم کے جلوس میں دیوبندی، بریلوی اور اہلِ حدیث ایک دوسرے کے ساتھ کیوں نہیں کھڑے ہوتے؟
مزاروں کے عرس پر دیوبندی پھول نچھاور کیوں نہیں کرتے؟
تبلیغی اجتماعات میں اہلِ حدیث ٹینٹ کیوں نہیں لگاتے؟
اور اگر امت میں کہیں پر فروعی اختلافات ہیں تو آپس میں بیٹھ کر سلجھانے کی کوشش کیوں نہیں کرتے؟
کیا وہاں انسانیت ختم ہوجاتی ہے؟ کیا وہاں بھائی چارے کی ضرورت نہیں رہتی؟
عجیب دوغلا پن ہے!
کانوڑیوں کے لیے اچانک جذبۂ انسانیت ایسا جوش مارتا ہے کہ گل پوشی، پھول باری اور استقبال کے لیے بے قرار ہوجاتے ہیں، مگر اپنے ہی دینی اختلاف رکھنے والوں کے ساتھ رواداری اور خیرخواہی کا مظاہرہ کرنے میں وہی جذبہ کہاں چلا جاتا ہے؟
یاد رکھو! انسانیت اور حسنِ سلوک اپنی جگہ، اور باطل عقیدے یا مذہبی عمل کی تائید اپنی جگہ۔ اسلام انسانوں کے ساتھ عدل، حسنِ سلوک اور بھلائی سے نہیں روکتا، لیکن کسی کے مذہبی شعائر کی خوشامد کو محض خوف یا مصلحت کے تحت انسانیت کا نام دینا درست نہیں۔
انسانیت کے نام پر اصول مت بیچو؛
بھائی چارے کے نام پر عقیدہ مت چھپاؤ؛
اور خوف کو محبت کا نام مت دو!
اچھا لگے تو ضرور شیئر کریں
#علم #مولانا

دوسروں کو گمراہ کہنے میں کیوں مزہ آتا ہے؟از:  ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
10/08/2026

دوسروں کو گمراہ کہنے میں کیوں مزہ آتا ہے؟

از: ڈاكٹر محمد اكرم ندوى، آكسفورڈ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان کو خدا نے عجیب و غریب ذوق عطا فرمائے ہیں۔ کسی کو شعر میں مزا آتا ہے، کسی کو شکار میں، کسی کو سیاست میں، کسی کو دوسروں کے عیب تلاش کرنے میں، اور بعض خوش نصیب ایسے بھی ہوتے ہیں جنہیں دوسروں کو گمراہ قرار دینے میں وہ لذت حاصل ہوتی ہے جو شاید کسی اور مشغلے میں میسر نہ آئے۔
گمراہ کہنا بھی ایک فن ہے؛ اور اگر یہ فن کسی صاحبِ فتویٰ کے ہاتھ لگ جائے تو پھر زبان شمشیر بن جاتی ہے، الزام تیر، اور سامنے بیٹھا ہوا مسلمان ہدفِ مشق۔
ایک روز مفتی صاحب تشریف لائے۔ حسبِ معمول چند لوگوں کو گمراہ قرار دیا۔ ان کے لہجے میں ایسا وثوق تھا جیسے آسمان کی تمام سمتوں سے فرشتے تصدیق کی مہر لگا کر ان کے پاس آئے ہوں، اور ان لوگوں کی گمراہی کا پروانہ خود ان کے ہاتھ میں تھما گئے ہوں۔
میں نے عرض کیا: مفتی صاحب! اگر آپ کو مسلمانوں کو گمراہ کہنے کا اتنا ہی شوق ہے تو کم از کم ان بے چارے معصوموں سے استفسار ہی کر لیا کرتے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ ان باتوں کے قائل ہی نہ ہوں جن کے الزامات آپ نے ان پر عائد فرما دیے ہیں۔
مفتی صاحب نے میری طرف اس نگاہ سے دیکھا جس میں ایک طرف علمی اطمینان تھا اور دوسری طرف یہ پیغام کہ ابھی علم کا ایک اور دریا بہنے والا ہے۔ فرمایا: میں کتنے سال سے انہیں گمراہ کہہ رہا ہوں، مگر اب تک ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں آیا۔ کیا یہ خود برهان قاطع اور دلیلِ ساطع نہیں کہ وہ لوگ گمراہ ہیں؟
میں نے دل میں سوچا کہ یہ تو عجب ترازو ہے جس میں خاموشی بھی الزام کا پلڑا بھاری کر دیتی ہے!
مفتی صاحب برسوں سے کسی کو گمراہ کہہ رہے ہیں؛ وہ جواب نہیں دیتے؛ لہٰذا ان کا جواب نہ دینا اس بات کی دلیل ہوگیا کہ مفتی صاحب کا الزام درست ہے۔
یعنی اگر کوئی شخص آپ کے دروازے کے باہر برسوں کھڑا ہو کر اعلان کرتا رہے کہ یہ شخص چور ہے، اور آپ دروازہ کھول کر اس سے بحث نہ کریں، تو آپ کی خاموشی چوری کا اقرار سمجھی جائے گی!
یہ منطق بھی خوب ہے کہ اگر ملزم بولے تو مصیبت، نہ بولے تو بھی مصیبت۔ بولے تو کہا جائے گا کہ اپنی صفائی پیش کر رہا ہے، ضرور کوئی راز ہے؛ خاموش رہے تو کہا جائے گا کہ جواب نہیں دے سکتا، اس لیے خاموش ہے۔
گویا عدالت پہلے قائم ہوچکی، فیصلہ پہلے لکھا جاچکا، اور اب صرف ملزم کی خاموشی سے اس پر دستخط کرانے باقی ہیں۔
میں نے میر صاحب کی طرف دیکھا۔ وہ خاموش بیٹھے تھے۔ ان کی خاموشی ایسی تھی جیسے کسی گہرے کنویں میں پتھر پھینکا جائے اور پانی کی تہہ سے جواب آنے میں کچھ دیر لگے۔ پھر میں نے پوچھا: میر صاحب! آخر بے گناہ لوگ اپنا دفاع کیوں نہیں کرتے؟ آپ دیکھتے نہیں کہ ان کی خاموشی کا فائدہ اٹھا کر مفتی صاحب کس قدر ڈھٹائی کے ساتھ ان پر الزام لگاتے جا رہے ہیں؟
میر صاحب نے قدرے توقف کیا، پھر مفکرانہ انداز میں فرمایا: مکھی کاٹتے نہیں تھکتی، البتہ مکھی کو بھگانا کارِ دگر ہے۔
میں نے عرض کیا: میر صاحب! اس کی وجہ کیا ہے؟ فرمایا: کیونکہ مکھی کو کاٹنے میں مزا آتا ہے، جب کہ مکھی کو بھگانے میں کوئی لذت نہیں۔
میر صاحب کا یہ مختصر سا جملہ میرے ذہن میں دیر تک گونجتا رہا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے انہوں نے ایک چھوٹی سی مکھی کے پروں میں انسانی طبیعت کا پورا فلسفہ باندھ دیا ہو۔
واقعی، مکھی کو کاٹنے میں کیا مزا ہے، یہ تو مکھی جانے؛ مگر اسے بھگانے والے کو یقیناً کوئی خاص مسرت حاصل نہیں ہوتی۔ مکھی اپنے حجم میں حقیر، مگر اپنے ارادے میں مستقل مزاج ہوتی ہے۔ آپ ہاتھ اٹھاتے ہیں، وہ اڑ جاتی ہے؛ ہاتھ نیچے کرتے ہیں، وہ پھر آ بیٹھتی ہے۔ آپ اسے بھگاتے ہیں، وہ آپ کی کوشش کو شاید اپنے لیے دعوتِ مباحثہ سمجھتی ہے۔
اور یہی معاملہ الزام کا ہے۔ کسی پر الزام لگانا آسان ہے؛ اس کے موقف کو سمجھنا مشکل۔ کسی کو گمراہ کہنا آسان ہے؛ اس سے پوچھنا مشکل کہ بھائی! تمہارا اصل موقف کیا ہے؟ کسی کے عقیدے پر حکم لگانا آسان ہے؛ اس کی کتاب پڑھنا مشکل۔ کسی کے خلاف فتویٰ صادر کرنا آسان ہے؛ اس کے حق میں موجود دلائل کو دیانت داری سے دیکھنا مشکل۔
الزام زبان کا ایسا پھل ہے جو بہت جلد پک جاتا ہے، مگر تحقیق کا درخت برسوں میں سایہ دیتا ہے۔
مفتی صاحب کے استدلال میں ایک اور عجیب بات تھی: میں برسوں سے انہیں گمراہ کہہ رہا ہوں، مگر ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں آیا۔
میں سوچنے لگا کہ آخر خاموشی کو دلیلِ گمراہی کس کتاب میں لکھا گیا ہے؟ خاموشی کے بھی تو کئی موسم ہوتے ہیں۔ کوئی اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ اسے فتنے سے بچنا ہے۔ کوئی اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ اسے معلوم ہے کہ جواب دینے سے سوال ختم نہیں ہوگا، بلکہ سوالوں کی نئی فصل اگ آئے گی۔ کوئی اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ وہ اپنے وقار کو بازارِ الزام میں نیلام نہیں کرنا چاہتا۔ اور کوئی شاید اس لیے خاموش ہوتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ سچ کو ہر شور کا جواب دینا ضروری نہیں۔
دریا اپنی گہرائی ثابت کرنے کے لیے شور نہیں کرتا؛ کنکر اچھالنے والے ہی زیادہ آواز پیدا کرتے ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے میں بعض اوقات خاموشی بھی جرم بن جاتی ہے۔ آپ جواب دیں تو کہا جاتا ہے کہ دیکھو، اپنی صفائی پیش کر رہا ہے! آپ جواب نہ دیں تو کہا جاتا ہے کہ دیکھو، جواب ہی نہیں ہے!
یعنی الزام لگانے والے کے ہاتھ میں ایسی چھلنی ہے جس میں ملزم کی کوئی حالت بھی محفوظ نہیں رہ سکتی۔ وہ بولے تو بھی مجرم، چپ رہے تو بھی مجرم!
میں نے میر صاحب کی طرف دیکھا تو محسوس ہوا کہ ان کے ذہن میں ابھی ایک اور مثال کروٹ لے رہی ہے۔ کچھ دیر بعد انہوں نے فرمایا: بیڑی پینے میں مزا آتا ہے، مگر بیڑی کے خطرات سے آگاہ کرنے میں کوئی مزا نہیں۔
یہ بات بھی دل میں اتر گئی۔ واقعی، نقصان دہ چیز استعمال کرنے میں فوری لذت ہوتی ہے، مگر اس کے نقصانات بیان کرنے میں نہ ذائقہ ہے، نہ سنسنی، نہ محفل کی داد۔
بیڑی کا کش لیا جائے تو فوراً ایک لذت محسوس ہوتی ہے؛ لیکن بیڑی کے مضر اثرات پر لیکچر دیا جائے تو نہ دھواں نکلتا ہے، نہ حلق میں ذائقہ آتا ہے، نہ دیکھنے والے کو کوئی خاص لطف۔
اور شاید یہی حال بعض مذہبی مجالس کا بھی ہے۔ کسی کے بارے میں یہ کہنا کہ اس سے اختلاف ہے، اس مسئلے میں اس کی یہ دلیل کمزور ہے، یہاں اس سے خطا ہوئی ہے، یہ سب کچھ بڑا خشک اور بے مزہ کام ہے۔
مگر یہ اعلان کر دینا کہ: فلاں گمراہ ہے! تو بس محفل میں جیسے اچانک چنگاری پڑ گئی۔ سامعین چونک گئے، کان کھڑے ہوگئے، آنکھوں میں چمک آگئی، اور مقرر صاحب کو بھی محسوس ہوا کہ آج کی مجلس ہاتھ سے نہیں گئی۔
تحقیق ایک چراغ ہے؛ اسے جلانے کے لیے تیل چاہیے، بتی چاہیے، وقت چاہیے۔
الزام آتش بازی ہے؛ ایک چنگاری دکھائی اور آسمان رنگین!
اسی لیے شاید بعض لوگوں کو دوسروں کو گمراہ کہنے میں اتنا مزا آتا ہے۔ اس میں محنت کم ہے، لذت زیادہ؛ تحقیق کم ہے، تاثر زیادہ؛ دلیل کم ہے، اعلان زیادہ۔
اصلاح کے لیے آدمی کو دوسرے کے دروازے تک جانا پڑتا ہے، مگر الزام کے لیے صرف اپنی زبان کافی ہے۔ اصلاح میں آدمی کو دوسرے کی بات سننی پڑتی ہے؛ الزام میں دوسرے کی آواز کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ اصلاح میں کبھی یہ امکان بھی پیدا ہوجاتا ہے کہ شاید ہم خود غلط سمجھے ہوں۔
اور یہ امکان بعض لوگوں کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ برداشت ہوتا ہے۔ کیونکہ اپنے آپ سے یہ پوچھنا کہ کیا ممکن ہے کہ میں غلط ہوں؟ انسانی نفس کے لیے وہ سوال ہے جو آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر اپنے چہرے پر دھبہ تلاش کرنے کے مترادف ہے۔
دوسروں کے چہرے پر داغ دیکھنا بڑا آسان ہے؛ اپنے چہرے کا آئینہ صاف کرنا مشکل۔ اسی لیے بعض لوگ اصلاح کے بجائے الزام کو ترجیح دیتے ہیں۔ اصلاح میں خیرخواہی درکار ہے، صبر درکار ہے، علم درکار ہے، اور سب سے بڑھ کر عدل درکار ہے۔ الزام میں صرف ایک تیز زبان کافی ہے۔ اور زبان تو اللہ نے سب کو عطا فرمائی ہے۔
مسئلہ یہ ہے کہ بعض لوگ زبان کو ترازو کے بجائے تلوار بنا لیتے ہیں۔ پھر جس طرف ہاتھ اٹھتا ہے، فیصلہ صادر ہوجاتا ہے۔ ایک مسلمان کو گمراہ کہنا ایسا نہیں جیسے کسی کتاب پر تبصرہ کردیا گیا ہو۔ یہ کسی انسان کی عزت، اس کے دین، اس کی نیت اور اس کے معاشرتی مقام پر ایک بھاری پتھر پھینکنے کے مترادف ہے۔ پتھر پھینکنے والے کا ہاتھ شاید ایک لمحے میں ہل جائے، مگر جس کے سر پر وہ گرے، اس کے لیے درد دیر تک رہتا ہے۔
اس لیے کسی کو گمراہ کہنے سے پہلے کم از کم اتنا تو معلوم کر لینا چاہیے کہ وہ شخص واقعی اس بات کا قائل بھی ہے یا نہیں جس کے سبب اسے گمراہ کہا جا رہا ہے۔ ورنہ یہ بھی ممکن ہے کہ ہم جس شخص کو گمراہی کے اندھیرے میں کھڑا سمجھ رہے ہوں، وہ دراصل ہمارے اپنے فہم کے دھندلکے میں چھپا ہوا ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جس شخص کے ہاتھ میں ہم چراغ دیکھ کر اسے آگ سمجھ بیٹھے ہیں، وہاں روشنی ہو، آگ نہ ہو۔
مگر یہاں مسئلہ صرف علم کا نہیں، مزے کا بھی ہے۔ مکھی کو کاٹنے میں مزا آتا ہے؛ مکھی کو بھگانے میں کوئی مزا نہیں۔ بیڑی پینے میں مزا آتا ہے؛ بیڑی کے خطرات بیان کرنے میں کوئی مزا نہیں۔
اسی طرح کسی کو گمراہ کہنے میں مزا آتا ہے؛ اس کی بات سننے، اس کے موقف کو سمجھنے، اس کے دلائل کا انصاف کے ساتھ جائزہ لینے اور پھر اگر ضرورت ہو تو محبت سے اس کی اصلاح کرنے میں وہ فوری مزا کہاں؟
مگر شاید دین کا راستہ ہمیشہ مزے کا راستہ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی حق وہ کام ہوتا ہے جس میں نفس کو مزا نہیں آتا۔ کبھی زبان کو روکنا بھی عبادت بن جاتا ہے، کبھی فیصلہ مؤخر کرنا بھی دیانت، کبھی مجھے معلوم نہیں کہنا بھی علم، اور کبھی یہ کہنا بھی تقویٰ کہ: پہلے ان سے پوچھ لیتے ہیں کہ وہ کہتے کیا ہیں۔
مفتی صاحب کا کام شاید لوگوں کو گمراہ کہنا نہیں، بلکہ لوگوں کو ہدایت کی طرف بلانا ہونا چاہیے۔ کیونکہ چرواہا بھیڑوں کو یہ ثابت کرنے میں اپنی عمر نہیں گزارتا کہ تم بھٹکی ہوئی ہو؛ وہ راستہ دکھاتا ہے اور آواز دیتا ہے۔
راستہ دکھانے والا ہاتھ پکڑتا ہے؛ راستہ بھٹکنے والے پر پتھر نہیں برساتا۔ اور شاید یہی فرق ہے اصلاح اور الزام میں۔ اصلاح چراغ جلاتی ہے۔ الزام انگلی جلاتا ہے۔ اصلاح دل جیتتی ہے۔ الزام محفل جیتتا ہے۔ اصلاح کے بعد آدمی بہتر ہوجائے تو خوشی ہوتی ہے۔ الزام کے بعد صرف یہ اطمینان رہ جاتا ہے کہ میں نے کہہ دیا تھا۔ اور میں نے کہہ دیا تھا شاید انسانی نفس کی ان سب سے میٹھی لذتوں میں سے ایک ہے، جس کے لیے دلیل بعد میں تلاش کی جاتی ہے۔
مگر سچ یہ ہے کہ کسی مسلمان کو گمراہ کہنا بہت آسان ہے؛ یہ معلوم کرنا کہ وہ واقعی گمراہ ہے یا صرف ہماری نظر میں گمراہ دکھائی دیتا ہے، اصل امتحان ہے۔
مکھی کاٹتی ہے تو اسے مزا آتا ہے۔ مگر انسان کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیے کہ کہیں اس کے منہ کا ذائقہ کسی دوسرے کے زخم کا نمک تو نہیں بن گیا؟
اور اگر دوسروں کو گمراہ کہنے میں ہمیں واقعی اتنا مزا آتا ہے، تو شاید کبھی ہمیں یہ سوال بھی اپنے آپ سے پوچھ لینا چاہیے: کہیں اصل گمراہی یہ تو نہیں کہ ہمیں دوسروں کی گمراہی دیکھنے میں اتنا مزا آنے لگا ہے؟
8/8/2026

17 سالہ سمیر کی موت: کیا انصاف سب کے لیے برابر ہوگا؟اتر پردیش کے غازی آباد، صاحب آباد تھانہ علاقے کے ارتھلا میں 17 سالہ ...
09/08/2026

17 سالہ سمیر کی موت: کیا انصاف سب کے لیے برابر ہوگا؟

اتر پردیش کے غازی آباد، صاحب آباد تھانہ علاقے کے ارتھلا میں 17 سالہ نوجوان سمیر کو گولی مار کر قتل کیے جانے کی خبر نے ایک بار پھر کئی سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق سمیر اپنے دوستوں کے ساتھ ارتھلا میں زیرِ تعمیر پارشو ناتھ بلڈنگ میں انسٹاگرام ریل بنانے گیا تھا۔ اہلِ خانہ کا الزام ہے کہ وہاں موجود سکیورٹی گارڈ وویک یادو اور اس کے ساتھیوں نے سمیر اور اس کے دوستوں کو چور سمجھ لیا، جس کے بعد ان کے ساتھ مبینہ طور پر مارپیٹ کی گئی اور سمیر کو گولی مار دی گئی۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر سکیورٹی گارڈ کو حراست میں لیا اور اس کا لائسنس یافتہ اسلحہ بھی قبضے میں لیا ہے۔
اگر تحقیقات میں یہ الزام درست ثابت ہوتا ہے کہ ایک 17 سالہ نوجوان کو محض شک کی بنیاد پر مارپیٹ کے بعد گولی ماری گئی، تو یہ انتہائی سنگین معاملہ ہے۔ ایک نوجوان کی جان چلی گئی، ایک خاندان کا چراغ بجھ گیا اور ایک ماں باپ اپنے بچے سے محروم ہوگئے۔
لیکن یہاں سوال صرف سمیر کے قتل کا نہیں، قانون کے یکساں نفاذ کا بھی ہے۔
اتر پردیش میں حکومت کی جانب سے غیر قانونی تعمیرات اور جرائم سے وابستہ افراد کے خلاف بلڈوزر کارروائی کو لے کر ملک بھر میں بحث ہوتی رہی ہے۔ ایسے میں عوام یہ سوال پوچھنے پر مجبور ہیں کہ اگر کسی بااثر یا طاقتور شخص پر سنگین جرم کا الزام ہو تو کیا قانون اسی شدت سے حرکت میں آئے گا؟ یا بلڈوزر کی کارروائی بھی شخص، مذہب، حیثیت اور سیاسی اثر و رسوخ دیکھ کر ہوگی؟
میرا سوال حکومت سے بالکل سیدھا ہے:
اگر تحقیقات اور عدالت کے ذریعے وویک یادو کے خلاف جرم ثابت ہوتا ہے، تو کیا اس کے خلاف بھی قانون کے مطابق وہی کارروائی ہوگی جو دوسروں کے خلاف کی جاتی ہے؟
ہم کسی مجرم کو بچانے کی بات نہیں کر رہے، نہ ہی کسی بے گناہ کو سزا دینے کی حمایت کرتے ہیں۔ ہمارا مطالبہ صرف یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہو۔
اگر کسی نے قانون اپنے ہاتھ میں لے کر ایک کم عمر نوجوان کی جان لی ہے تو اسے قانون کے مطابق سخت سزا ملنی چاہیے۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ کسی کے گھر پر صرف الزام کی بنیاد پر غیر قانونی کارروائی نہ ہو۔ بلڈوزر اگر چلانا ہے تو قانونی ضابطے اور ثابت شدہ غیر قانونی تعمیرات کی بنیاد پر چلے، نہ کہ انتقام یا امتیاز کی بنیاد پر۔
سمیر واپس نہیں آسکتا، لیکن اس کی موت ایک سوال ضرور چھوڑ گئی ہے:
کیا انصاف واقعی سب کے لیے برابر ہے؟
حکومت سے اپیل ہے کہ اس معاملے کی شفاف اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائے، ملزم کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہو، اور متاثرہ خاندان کو انصاف دلایا جائے۔
کیونکہ انصاف کا اصل امتحان یہ نہیں کہ کمزور کے ساتھ کیا سلوک ہوا، بلکہ یہ ہے کہ طاقتور یا بااثر شخص کے خلاف قانون کس حد تک بے خوف ہو کر کھڑا ہوتا ہے۔
خامہ بقلم:
مفتی محمد معروف راہی
امیدوار، ضلع پریشد امور
علاقہ نمبر 29

Address

Purnea

Telephone

+918563858599

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Maroof Rahi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category