15/08/2026
یومِ آزادی: آزادی کی تاریخ، علماءِ دیوبند کی قربانیاں اور ہماری آج کی ذمہ داریاں
دار ارقم اسلامک انسٹیٹیوٹ، مہیشبتھنہ، امور، پورنیہ، بہار میں آج یومِ آزادی کے موقع پر پرچم کشائی کی گئی۔ اس موقع پر تمام اہلِ وطن کو 80ویں یومِ آزادی کی دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
یومِ آزادی صرف پرچم لہرانے، قومی ترانہ پڑھنے اور مٹھائیاں تقسیم کرنے کا دن نہیں، بلکہ یہ ان بے شمار قربانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے جن کی بدولت ہمارا ملک غلامی کی زنجیروں سے آزاد ہوا۔
آزادی کی جدوجہد اور علماءِ دیوبند کا کردار
ہندوستان کی آزادی کی تاریخ بہت طویل اور قربانیوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس جدوجہد میں علماء، طلبہ، کسان، مزدور، خواتین اور مختلف مذاہب و طبقات سے تعلق رکھنے والے بے شمار لوگوں نے اپنا کردار ادا کیا۔
علماءِ دیوبند نے بھی آزادی کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔ دارالعلوم دیوبند کے قیام کے بعد اس کے وابستہ علماء نے صرف دینی تعلیم ہی نہیں دی بلکہ ملک کی آزادی اور قومی بیداری کے لیے بھی جدوجہد کی۔
شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے برطانوی اقتدار کے خلاف منظم جدوجہد کی۔ ان کی تحریک کو تاریخ میں تحریکِ ریشمی رومال کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ انہوں نے بیرونِ ملک جا کر بھی آزادی کی جدوجہد کے لیے کوششیں کیں اور مالٹا میں قید و مشقت برداشت کی۔
اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھیؒ نے آزادی کی تحریک کو منظم کرنے کے لیے بیرونِ ملک سفر کیا اور ہندوستان کو برطانوی اقتدار سے آزاد کرانے کے لیے سیاسی و انقلابی جدوجہد میں حصہ لیا۔
مولانا حسین احمد مدنیؒ نے بھی برطانوی حکومت کی مخالفت کی، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہندوستان کی مشترکہ قومی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا۔
یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ آزادی کی جنگ کسی ایک جماعت، ایک طبقے یا ایک مذہب کی جنگ نہیں تھی۔ ہندوستان کی آزادی مختلف طبقات اور مذاہب کے لوگوں کی مشترکہ قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ علماءِ دیوبند کی قربانیاں بھی اسی عظیم قومی تاریخ کا اہم حصہ ہیں۔
لیکن ایک سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے: کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟
آج ہم سیاسی طور پر ایک آزاد ملک کے شہری ہیں۔ ہمارا اپنا آئین ہے، ہماری اپنی حکومت ہے اور ہمیں ووٹ دینے کا حق حاصل ہے۔ لیکن آزادی کا اصل مطلب صرف غیر ملکی حکمرانوں سے نجات نہیں۔
حقیقی آزادی تب مکمل ہوتی ہے جب ہر شہری کو عزت، انصاف، تعلیم، امن اور اپنے بنیادی حقوق میسر ہوں۔
اگر معاشرے میں نفرت بڑھ رہی ہو، ایک انسان دوسرے انسان کو مذہب یا ذات کی بنیاد پر شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہو، تشدد کو معمول سمجھا جانے لگے، غریب کو انصاف حاصل کرنے کے لیے دروازے کھٹکھٹانے پڑیں، بچوں کو معیاری تعلیم نہ ملے اور نوجوان روزگار کے لیے پریشان ہوں تو ہمیں اپنے آپ سے ضرور پوچھنا چاہیے کہ آزادی کے اصل مقاصد کہاں تک پورے ہوئے ہیں؟
آزادی ہمیں یہ حق دیتی ہے کہ ہم سوال کریں، مگر اس کے ساتھ یہ ذمہ داری بھی دیتی ہے کہ ہم قانون کا احترام کریں، دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور اختلاف کو دشمنی میں تبدیل نہ کریں۔
آج کی سب سے بڑی ضرورت: تعلیم، امن اور انصاف
آج ہمارے ملک کو نفرت سے زیادہ محبت، تشدد سے زیادہ امن، جہالت سے زیادہ تعلیم اور ناانصافی سے زیادہ انصاف کی ضرورت ہے۔
خاص طور پر ہمارے بچوں کی تعلیم پر توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جس قوم کے بچے تعلیم یافتہ، باکردار اور باصلاحیت ہوں، اس قوم کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔
ہمیں اپنے بچوں کو صرف کتابیں نہیں پڑھانی بلکہ انہیں یہ بھی سکھانا ہے کہ اختلاف کے باوجود دوسروں کا احترام کیسے کیا جاتا ہے، قانون کی پابندی کیوں ضروری ہے اور ملک کی ترقی میں اپنا کردار کیسے ادا کیا جاتا ہے۔
یومِ آزادی کے موقع پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم نفرت نہیں پھیلائیں گے، تشدد کی حمایت نہیں کریں گے، جھوٹ اور افواہوں کو آگے نہیں بڑھائیں گے اور اپنے ملک میں امن، بھائی چارے، تعلیم اور انصاف کے لیے مثبت کردار ادا کریں گے۔
وطن سے محبت صرف نعروں کا نام نہیں؛ وطن سے محبت یہ بھی ہے کہ ہم اپنے معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کریں۔
آئیے آج کے دن آزادی کے ان تمام گمنام اور معروف سپاہیوں کو خراجِ عقیدت پیش کریں جنہوں نے اپنے وطن کے مستقبل کے لیے قربانیاں دیں، اور عہد کریں کہ ہم ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر میں اپنا حصہ ڈالیں گے جہاں ہر شہری کو عزت، امن، تعلیم اور انصاف میسر ہو۔
تمام اہلِ وطن کو یومِ آزادی کی دلی مبارک باد۔
خادم:
مفتی محمد معروف راہی
امیدوار، ضلع پریشد امور
علاقہ نمبر 29