Seemanchal Press

Seemanchal Press Established in 2020, we serve as a vital link for the Seemanchal region.

Seemanchal Press is the authoritative media division of AsiaCore Elements, dedicated to bridging the information gap between global events and the grassroots level.

🚚 ग्रेमीन एक्सप्रेस अब Delhivery और India Post के साथ जुड़ चुका है! 🇮🇳अब आपके शहर, गांव और बाज़ार से पूरे भारत के विभिन्...
20/05/2026

🚚 ग्रेमीन एक्सप्रेस अब Delhivery और India Post के साथ जुड़ चुका है! 🇮🇳

अब आपके शहर, गांव और बाज़ार से पूरे भारत के विभिन्न राज्यों तक 🚛 Door Pickup और Door Delivery सुविधा उपलब्ध।

📦 पार्सल बुकिंग
🏠 घर से पार्सल पिकअप
🚪 घर तक सुरक्षित डिलीवरी
📍 गांव, हाट और लोकल मार्केट सेवा
📲 लाइव पार्सल ट्रैकिंग सुविधा

अब पार्सल भेजना हुआ और भी आसान!

📞 संपर्क करें: +91 7352666886
📍 Grameen Xpress – Rural Logistics Network

هذا هو الرجل الذي كان مختلفاً عن سلالة آل سعود الشريرة، مثل اليهود.یہ وہ آدمی ہے جو بد نسل ال سعود مثل یہود سے الگ تھا T...
10/05/2026

هذا هو الرجل الذي كان مختلفاً عن سلالة آل سعود الشريرة، مثل اليهود.
یہ وہ آدمی ہے جو بد نسل ال سعود مثل یہود سے الگ تھا
This is the man who was different from the evil lineage of Al Saud, like the Jews.
Mehboob Ur Rehman
Abdullah Zamzam Official

05/05/2026

آسام کے مسلمانوں کی بیوقوفی
آسام کے مسلمانوں نے پھر ایک بار اپنی بیوقوفی اور سیاسی بے خبری کا ثبوت دیاہے۔ آسام میں مسلم آبادی چالیس فی صد سے زیادہ ہے۔ لیکن ای وی ایم کی بدولت بی جے پی وہاں پھر جیت گئی۔ اس بار آسام کے مسلمانوں نے اپنی کانگریس غلامی کا ثبوت دیا۔ جس کی وجہ سے کانگریس کے 19 ایم ایل اے کامیاب ہوگئے، اور مولانا بدر الدین اجمل کی پارٹی جس کے 18 ممبر ہوتے تھے گھٹ کر صرف 2 رہ گئی۔ آسامی مسلمانوں کی عقل پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے کہ انہوں نے اپنی کھڑی قیادت کو ختم کردیا۔ اویسی صاحب جن کو بعض لوگ بی جے پی کی بی ٹیم بتاتے ہیں ان کی پارٹی نے آسام میں الیکشن نہیں لڑا اس باوجود بی جے پی جیت گئی۔ جو لوگ کانگریس اور دوسری سیکولر پارٹیوں کی ہار کا ٹھیکرا اویسی کے سر پھوڑتے ہیں۔ ان کے پاس اس شکست کی کوءی توجیہ ہے؟

04/05/2026

آسام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 35% فیصد ہے کانگریس کو تقریباً 80 فیصد مسلم ووٹ ملا پھر بھی بی جے پی جیت رہی ہے!
بنگال میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 30% فیصد ہے ٹی ایم سی کو تقریباً 98 فیصد مسلم ووٹ ملا پھر بھی بی جے پی جیت رہی ہے!
اب سوال یہ ہے کہ کیا مسلمان اس سے کچھ سیکھنا چاہتے ہیں یا ابھی بھی کچھ باقی ہے؟ سوچیں...
حقائق دیکھیں......

دنیا کا کوئی اور ملک ہوتا تو متحدہ عرب امارات کو نہ کر دیتا مگر یہ اسرائیل تھا اس لیے نہ نہیں کی۔ بات ہی کچھ ایسی ہے کہ ...
03/05/2026

دنیا کا کوئی اور ملک ہوتا تو متحدہ عرب امارات کو نہ کر دیتا مگر یہ اسرائیل تھا اس لیے نہ نہیں کی۔ بات ہی کچھ ایسی ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ ساتھ کئی اسلامی ممالک چونکنے پہ مجبور ہر گئے ہیں۔ اب جب کہ جنگ کی دھول بیٹھ چکی ہے تو کئی واقعات جو چھپے تھے سامنے آئے ہیں۔ سی این این کی رپورٹ کے مطابق جنگ کے دوران اماراتی صدر شیخ محمد بن زید النہیان نے اسرائیلی پرائم منسٹر نیتن یاہو کو کال کر کے آگاہ کیا کہ مجھے ایئر ڈیفینس چاہیے۔ جواب میں نیتن یاہو نے آئرن ڈوم کی ایک بیٹری اور اسرائیلی آپریٹرز دوبئی بھجوا دیے۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اسرائیل اس وقت خود ایرانی حملوں کی زد پہ تھا مگر متحدہ عرب امارات کو پھر بھی نہ نہیں کی۔
یہ صرف ایک خبر نہیں ہے بلکہ اس سے پتہ چلتا ہے کہ پسِ پردہ اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کی دوستی کتنی گہری ہے اور سعودی عرب کےلیے اس کا کیا مطلب ہے؟ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کے تعلقات آج کل سخت کشیدہ ہیں۔ ایک تو یمن میں ان علاقوں پہ یو اے ای نے فوج کشی کی تھی جن پہ سعودی عرب اپنی ملکیت جتاتا ہے۔ دوسرا صومالیہ کو توڑ کر ایک نئی ریاست اسرائیل نے بنائی ہے کچھ عرصہ پہلے، جسے دنیا میں سب سے پہلے اسرائیل نے تسلیم کیا،یو اے ای نے اس نئی اسرائیل نواز ریاست کے معاملے پر بھی سعودیہ کے بجائے اسرائیل کا ساتھ دیا۔ اور ریاست کی حمایت کر دی۔
یو اے ای کی پشت پہ اسرائیل اگر اتنی شدت کے ساتھ کھڑا ہے تو آنے والے کل میں اسرائیل یو اے ای کو کھل کر سعودیہ کے خلاف استعمال کر سکتا ہے۔ یو اے ای دراصل کیا ہے اور یہ بنا کیسے؟ یہ سوال ہی یہ واضح کرنے کےلیے کافی ہے کہ کسی برے وقت میں سعودیہ کے خلاف کھڑا کرنے کےلیے یہ ملک بنایا گیا تھا۔ یونائیڈ یعنی متحدہ عرب امارات دراصل کوئی ملک نہیں ہے۔ ہی سات نیم خود مختار ریاستوں یعنی ابو ظہبی، دبئی، شارجہ
عجمان، ام القوین، رأس الخیمہ اور فجیرہ کا مجموعہ ہے۔ 1968 میں برطانیہ نے یہاں سے نکلنے کا اعلان تو کر دیا۔ مگر اپنے بعد اس نے ایسے انتظامات کر دیے کہ آنے والے سربراہ سلطنتِ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں کے وفادار رہیں۔ جو لوگ تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ آل سعود کی سعودی عرب میں حکمرانی لانے کےلیے اور ترکی کی خلافت کو توڑنے کےلیے سب سے نمایاں کردار برطانیہ کا تھا۔
اسی طرح سنہ 1971 جب متحدہ عرب امارات کی سات ریاستوں نے ملک کر اتحاد کا اعلان کیا اور اپنے آپ کو ایک ملک ڈیکلیئر کیا تو اس اتحاد کے پیچھے برطانیہ کا کردار سب سے مین تھا۔ شیخوں کی ملاقاتیں کروانے، انہیں اتفاق پہ برقرار رکھنے، داخلی خانہ جنگی سے بچانے، ساتوں ریاستوں کے شیخ آپس میں لڑ نا پڑیں، متنازعہ اور اختلافی مسائل کا حل نکالنے کےلیے ہر معاملے پر برطانیہ نے لیڈنگ رول ادا کیا۔ یوں متحدہ عرب امارات وجود میں آیا۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ برطانیہ ایک جانب سعودی عرب میں آلِ سعود کو حکمرانی دے چکا تھا۔ اسے سعودیہ کے مقابلے پر عربوں کے اندر سے ایک ایسی قیادت چاہیے تھی جو آنے والے کل میں، یعنی آج کل کے وقتوں میں سعودی عرب کے خلاف کھڑی ہو سکے۔
آپ نے سنا ہو گا کہ گورا یعنی انگریز پچاس سے سو سال آگے آنے والے وقت کو سامنے رکھ کر پلاننگ کرتا ہے۔ انگریز انگلینڈ کے رہنے والے کو کہتے ہیں۔ انگلینڈ یعنی برطانیہ۔ تو گورا یہ سوچ رہا تھا کہ آنے والے کل میں جب سعودی عرب ہمارے سامنے سر اٹھائے گا تو اس کے مقابلے پر ایک ایسی ریاست ہونی چاہیے جو ہمارے سامنے اس کا سر نیچا کیے رکھے۔ یہ ریاست متحدہ عرب امارات کی صورت میں سات ریاستوں کو ملا کر بنائی گئی۔ اب وہ وقت نزدیک ہے۔
آپ دیکھ لیں کہ دوبئی کی کسی کے ساتھ دشمنی نہیں ہے۔ اس کے باوجود دوبئی کا حالیہ سالانہ دفاعی بجٹ 24.8 ارب ڈالر یعنی سات ہزار ارب روپے ہے۔ اپنے قیام سے لیکر آج تک، اوسط بجٹ نکالیں تو یو اے ای اپنے دفاع پر تقریبا نو سو ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ پاکستانی روپے میں یہ 250 کھرب یعنی دو لاکھ پچاس ہزار ارب روپے بنتے ہیں۔ کس لیے؟ اتنا بھاری خرچہ دوبئی کس لیے کرتا آیا ہے؟ ایران کےلیے؟ مگر اس سے پہلے تو ایران نے کبھی حملہ نہیں کیا تھا دوبئی پر اور اب جب حملہ کیا تو دوبئی کو اسرائیل سے مدد مانگنی پڑی۔ پھر یہ خرچہ کیوں؟ یہ خرچہ سعودی عرب کےلیے کیا جاتا رہا ہے۔
سعودی عرب جب تک فرمانبردار ہے امریکہ اور برطانیہ کا تب تک سب ٹھیک رہے گا۔ جس دن سعودی عرب فلسطین کی بات کرے گا، امت مسلمہ کے حقیقی اتحاد کی بات کرے گا، اسلامی دنیا میں کامن کرنسی کی بات کرے گا، ڈالر میں تیل بیچنے سے انکار کرے گا، یا کوئی بھی ایسا کام جو امریکہ کی مرضی کے خلاف ہو، اسی دن متحدہ عرب امارات کی ساتوں کی سات ریاستیں آپ کو سعودی عرب کے خلاف ہتھیار بند نظر آئیں گی۔

نوٹ: متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں مقیم پاکستانی اور انڈین ساتھی اس پوسٹ کو لائیک یا شیئر مت کریں۔ شکریہ
Copped
#مسلمہ
Main Media/मैं मीडिया

کیا شام میں ایران اور اسکی پروکسیز نے سنیوں کا قتل عام کیا ؟کیا سلفی , دیوبندی بھی سنی ہیں ؟حقیقت کیا ہے عوام کو نہیں پت...
27/04/2026

کیا شام میں ایران اور اسکی پروکسیز نے سنیوں کا قتل عام کیا ؟

کیا سلفی , دیوبندی بھی سنی ہیں ؟

حقیقت کیا ہے عوام کو نہیں پتہ!!

اہلسنت و جماعت جنھیں سواد اعظم کہا جاتا ہے پوری دنیا میں انکی اکثریت ہے چیچنیا سے بوسنیا عرب و افریقہ برصغیر میں سب سے زیادہ کثرت شریعت و طریقت کے ماننے والوں کی ہے جنھیں اصل اہلسنت و جماعت کہا جاتا ہے۔۔

سلفی و دیوبندی
صرف پچھلے ایک صدی قبل کی برینڈ ہیں جسے انگریز نے محض ایک صدی قبل نجد موجودہ ریاض سے امپورٹ کیا ہے دراصل سلطنت عثمانیہ جسکی بنیاد رکھنے والے وہی طریقت کے ماننے والے اصلی اور نسلی سنی ہیں جنھیں پاک و ہند میں شاتم رسول فرقے بریلوی کہتے ہیں ،

اصل حقیقت ہے کیا ؟

اگر آپکا ترکی جاناہوتو آپ اس حقیقت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کریں گے کہ سلطنت عثمانیہ سلطنت عباسیہ اور اس سے پہلے جتنے بھی بادشاہ گزرے وہ سب پیر و مریدی اور خانقاہی سلسلوں سے وابستہ رہے۔
سلطنت عثمانیہ کی باگ دوڑ ہی قادری نقشبندی اور رفاعی سلاسل کی روحانی کڑیوں سے جڑی ہوئ تھیں ۔

سلطنت عثمانیہ کو توڑنے کے لئے انگریز نے مسیلمہ بن کذاب کے قبیلے بنوحنیفہ کا انتخاب کیا اور آل سعود اسے قبیلے کی باقیات یعنی عرب کے قادیانی ہیں۔۔

عالمی استعماری قوتوں نے اپنے خفیہ مشن کے ذریعے محمد بن عبدالوہاب سے وہابی ازم کا کورس کروایا اس مردود نے خود سے پہلے کے تمام اکابرین اور ملت اسلامیہ کی تکفیر کی اس نے پوری نبی کی امت کو مشرک مشرک کہنا شروع کیا اور سلطنت عثمانیہ کے خلاف خروج کیا،فتاوی شامی میں علامہ شامی نے اس شیطانی گروہ کو خوارج لادین ثابت کیا

ان کے نزدیک مسلمان مشرک اور بدعتی تھے تو لہذا انگریز کی گود میں بیٹھ کر اس جہنمی لشکر نے عرب پہ قبضہ مارا اور حجاز مقدس کا نام تبدیل کرکے اپنے باپ مسیلمہ کے قبیلے سعود کے نام سے سعودیہ عرب رکھ دیا۔۔

انیس سو کی دہائ میں برطانیہ فری میسنز اور قوم یہود کی مدد سے انھوں نے باقی عرب علاقوں تک پھیلائو شروع کردیا انگریز کے فنڈ سے عرب سے یہ افریقہ اور برصغیر تک پھیل گئے

آج اپ کسی مقامی سلفی اور دیومت سے تعلق رکھنے والے کو اس حقائق سے بہرمند ہونے کا جوں ہی مشورہ دینگے فورا وہ آپ کو قبر پرست مشرک بدعتی اور نہ جانے کیا کیا کہے گا۔۔

عوام میں وہابی سے مشہور یہ دیوبندی و سلفی اہلسنت کب کہلائے؟

جب بھی کوئ وہابی عام سنی عوام کو اپنی یہود برانڈ تبلیغ کرتا تو لوگ اسے پہچان کر فورا وہابی کہہ دیتے یہ لفظ اس زمانے میں ایک گندی گالی ہوا کرتا تھا جس زمانے میں لوگ نیک اور لوگوں کو حلال و حرام کی تمیز تھی آج جبکہ برائ کو برائ نہیں سمجھا جاتا تو معاشرے نے اس وہابی نامی برائ کو بطور مسلمان قبول کرلیا اور اس وہابی گروپ نے بھی اپنا نام سنی رکھ لیا ۔۔

دیوبندی کون تھے؟

جب ایسٹ انڈیا کمپنی نے انڈیا میں حکومت کی تو انھوں نے مسلمانوں کو جو حرمت رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاسدار تھے کا ایمان تباہ کرنے کے لئے دیوبندی ازم کی بنیاد رکھی اس فرقے کے بانیان نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بلاسفیمی کی حدیں پار کیں تو اس وقت سلطنت عثمانیہ کے حرمین کے علمائے کرام نے ان کو اسلام سے خارج اور مرتددین ڈکلیئر کیا
پارسائ کے دور میں یہ دیوبندی لفظ ایک بدترین واہیات گالی تھی لیکن دیگر معاشرتی برائیوں کے ساتھ یہ سنگین برائ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بلاسفیمرز گروپ دیوبند کو بھی قبول کرلیا گیا۔

سب سے عظیم سانحہ تو یہ ہے کہ نیوجنریشن کو اب یہ تک نہیں پتہ کے اصل سنی یعنی سنی کسے کہتے ہیں اور وہابی کیا بلا ہے
اب مکر و فریب سے پر وہابی گروہ خود سنیت کے پردے کے پیچھے چھپ گیا ہے جبکہ یہ صرف دیڑھ سو سال پرانے فتنے اور دونوں کے بانی وکٹورین جب کہ دیوبند مدرسہ کا بانی مرزا قاسم نانوتوی تو منکر ختم رسالت صلی اللہ علیہ وسلم تھا اور نئے نبی کا آنا ممکن جانتا تھا۔۔

حالانکہ بلاد شام میں سلفی ٹولے سے دس گنا زیادہ اہلسنت آباد ہیں مگر ایران کے آپریشن ان علاقوں میں نہیں ہوئے ایران روس مشترکہ کاروائ صرف ان وہابی علاقوں میں ہوئ ہیں جو بشارالسد کے خلاف کھڑے ہوئے تھے جن میں نمایاں وہابی تنظیمیں ہیں جنھیں امریکہ اور سعودیہ فارن فنڈنگ کررہے تھے ۔۔

داعش،تحریرالشام،جبہتہ النصرہ،احرارالشام، جیش الاسلام

یہ سارے گروہ امریکہ ،فرانس،اسرائیل،نیٹو،اور برطانیہ سے اربوں ڈالرز کے فنڈ اور جدید اسلحہ کے زور پر بشارالاسد اور ایران کی پروکسیز سے لڑ رہے تھے ، ،شیعہ گروپ نے تو انھیں بعد میں مارا ہے پہلے یہ عراق میں شیعوں کو قتل کرکے پھر رہے تھے۔

اس ساری تحریر کا خلاصہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا میں جب اہلسنت یا سنی کے نام سے کوئ لواطت پروپگینڈہ کرے تو عوام اہلسنت یہ سمجھ جائیں کہ یہ وہابی ٹولہ ہے جو خود 1928 میں سنیوں کو لہولہان کرکے بیت اللہ پر قابض ہے۔۔

قابضین حجاز مقدس و بیت المقدس ۔
آل سعود برادر آل یہود ۔

26/04/2026

*दुनिया का कर्ज़ 317 ट्रिलियन डॉलर — मगर कर्ज़ देने वाला कौन?*
*जब सब मक़रूज़ हैं तो इतना पैसा किसके पास है?*

अमेरिका — \$36 ट्रिलियन 🇺🇸 जर्मनी — \$3 ट्रिलियन 🇩🇪
चीन — \$15 ट्रिलियन 🇨🇳 ब्रिटेन — \$3 ट्रिलियन 🇬🇧
जापान — \$10 ट्रिलियन 🇯🇵 फ्रांस — \$3.5 ट्रिलियन 🇫🇷

*वैश्विक कर्ज़: 317 ट्रिलियन डॉलर*
*(वैश्विक GDP का लगभग 330%)*

*अगर कर्ज़ 317 ट्रिलियन है तो 317 ट्रिलियन के इतने पैसे किसके पास हैं?*

- *कर्ज़ जीरो-सम नहीं है*: हर मक़रूज़ के मुक़ाबले में एक कर्ज़ देने वाला होता है।
- *आधुनिक सिस्टम में कर्ज़ लेने से पैसा पैदा होता है*, मगर ब्याज पैदा नहीं होता।
- *ब्याज की अदायगी अक्सर नए कर्ज़ या टैक्स से होती है।*
- *नतीजा*: दौलत लगातार ऊपर की तरफ ट्रांसफर होती रहती है।

1. *केंद्रीय बैंक*
2. *संस्थागत निवेशक* (फंड/बैंक/इंश्योरेंस)
3. *विदेशी सरकारें*
4. *अत्यंत अमीर व्यक्ति*

*सोचने का नुक्ता*: ये सिस्टम कैसे चलता है, और इससे फायदा किसको होता है?

امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے۔*چین پر 15 ٹریلین ڈالر۔جاپان پر 10 ٹریلین ڈالر۔جرمنی پر 3 ٹریلین ڈالر۔برطانیہ پر 3 ٹر...
26/04/2026

امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے۔*
چین پر 15 ٹریلین ڈالر۔
جاپان پر 10 ٹریلین ڈالر۔
جرمنی پر 3 ٹریلین ڈالر۔
برطانیہ پر 3 ٹریلین ڈالر۔
فرانس پر 3.5 ٹریلین ڈالر۔
زمین پر تقریباً ہر بڑی ریاست قرض میں ڈوبی ہوئی ہے۔
عالمی قرضہ مجموعی طور پر 317 ٹریلین ڈالر ہے۔
317 ٹریلین ڈالر۔

یہ رقم عالمی جی ڈی پی کے تقریباً 330 فیصد کے برابر ہے۔
دنیا میں جتنی بھی سالانہ پیداوار ہوتی ہے، وہ کل قرض کے برابر بھی نہیں بنتی۔
اگر پوری دنیا تین سال تک کچھ بھی خرچ نہ کرے تو تب جا کر یہ قرض ادا ہو سکتا ہے۔

لیکن ایک سوال ہے جو کوئی نہیں پوچھتا۔
اگر سب مقروض ہیں تو قرض دینے والا کون ہے؟
اگر دنیا پر 317 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو پھر 317 ٹریلین ڈالر کے اثاثے کس کے پاس ہیں؟
جب دنیا کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کی ذمہ داریاں ہیں تو وہ اثاثے کس نے رکھے ہوئے ہیں؟

قرض ایک صفر جمع صفر کا کھیل ہے۔
ہر قرض لینے والے کے مقابلے میں ایک قرض دینے والا ہوتا ہے۔
اگر امریکہ پر 36 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے تو کسی کے پاس امریکہ کے خلاف 36 ٹریلین ڈالر کے دعوے موجود ہیں۔
اگر عالمی قرض 317 ٹریلین ڈالر ہے تو کسی کے پاس 317 ٹریلین ڈالر کے عالمی اثاثے ضرور ہیں۔

وہ کون ہے؟

اس سوال کا جواب انسانی تاریخ کے سب سے بڑے دولت کے ارتکاز کے نظام کو ظاہر کرتا ہے۔
یہ نہ جنگ کے ذریعے ہوا، نہ چوری سے،
بلکہ ایک ایسے نظام کے ذریعے جہاں اکثریت قرض لیتی ہے اور اقلیت قرض دیتی ہے،
جہاں سود ہمیشہ بڑھتا رہتا ہے،
اور جہاں قرض ریاضیاتی طور پر کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا،
لہٰذا وہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور دولت کو اوپر کی طرف منتقل کرتا رہتا ہے۔

یہاں ہم بتائیں گے کہ اصل میں 317 ٹریلین ڈالر کا عالمی قرض کس کے پاس ہے،
یہ نظام کیسے قرض تو پیدا کرتا ہے مگر اسے ادا کرنے کے لیے پیسہ پیدا نہیں کرتا،
یہ حادثہ نہیں بلکہ دانستہ ڈیزائن کیوں ہے،
کون سے مخصوص ادارے اور افراد دائمی قرض سے فائدہ اٹھاتے ہیں،
اور یہ نظام آخرکار کیوں لازماً ٹوٹے گا۔

اس کو سمجھنا صرف معاشیات کا معاملہ نہیں ہے،
بلکہ یہ دیکھنے کا معاملہ ہے کہ عالمی قرض کا نظام کس طرح دولت کو چند ہاتھوں میں سمیٹتا ہے،
اور اس ارتکاز کو قدرتی اور ناگزیر بنا کر پیش کرتا ہے۔

لیکن اس سے پہلے کہ ہم بتائیں کہ قرض کس کے پاس ہے،
آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جدید نظام میں قرض اصل میں ہوتا کیا ہے۔

زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ قرض ذاتی ادھار کی طرح کام کرتا ہے۔
آپ بینک سے 10 ہزار ڈالر لیتے ہیں۔
بینک کے پاس پہلے سے 10 ہزار ڈالر ہوتے ہیں جو وہ آپ کو دے دیتا ہے۔
جب آپ واپس کرتے ہیں تو بینک کو اس کے 10 ہزار ڈالر اور اس پر سود مل جاتا ہے۔

جدید مالی نظام اس طرح کام نہیں کرتا۔

جب کوئی حکومت بینک سے 10 ہزار ڈالر قرض لیتی ہے تو بینک کو اصل رقم اور سود واپس ملتا ہے،
لیکن جب حکومت بانڈ جاری کر کے قرض لیتی ہے تو پیسہ پہلے سے موجود نہیں ہوتا۔

قرض لینے کا عمل ہی پیسہ پیدا کرتا ہے۔

مرکزی بینک یا کمرشل بینک حکومتی بانڈ خریدتے ہیں
اور یہ رقم محض کھاتوں میں اندراج کے ذریعے، یعنی ہوا سے، پیدا کی جاتی ہے۔

امریکی حکومت کو ایک ٹریلین ڈالر چاہئیں۔
وہ ٹریژری بانڈ جاری کرتی ہے۔
فیڈرل ریزرو اعلان کرتا ہے کہ وہ 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدے گا۔
کمرشل بینک باقی 500 ارب ڈالر کے بانڈ خریدتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کو یہ 500 ارب ڈالر کہاں سے ملتے ہیں؟
یہ اس کے پاس ہوتے ہی نہیں۔
وہ کمپیوٹر میں نمبر ٹائپ کر کے یہ پیسہ بنا لیتا ہے۔

فیڈرل ریزرو کے بیلنس شیٹ میں 500 ارب ڈالر کا اضافہ ہو جاتا ہے۔
لیکن صرف اصل رقم پیدا کی جاتی ہے۔
سود پیدا نہیں کیا جاتا۔

اگر حکومت ایک ٹریلین ڈالر 5 فیصد سود پر قرض لیتی ہے
تو اسے ایک ٹریلین کے علاوہ ہر سال 50 ارب ڈالر سود بھی دینا ہوگا۔
لیکن نظام میں صرف ایک ٹریلین ڈالر پیدا ہوئے تھے۔

یہ 50 ارب کہاں سے آئیں گے؟
یا تو مستقبل میں مزید قرض لے کر،
یا پھر موجودہ رقم پر ٹیکس لگا کر۔

یہ ایک ریاضیاتی جال ہے۔
کل قرض ہمیشہ کل رقم سے زیادہ ہوتا ہے
کیونکہ قرض پر سود واجب الادا ہوتا ہے مگر وہ رقم کبھی پیدا ہی نہیں کی جاتی۔

اس نظام کو زندہ رہنے کے لیے مسلسل نئے قرض کی ضرورت ہوتی ہے
تاکہ پرانے قرض کا سود ادا ہو سکے۔

یہ خرابی نہیں ہے۔
یہی اس کا ڈیزائن ہے۔

اب دیکھتے ہیں کہ قرض آخرکار کس کے پاس ہے۔

جواب چار بڑی اقسام میں ہے۔

پہلی: مرکزی بینک۔
دوسری: ادارہ جاتی سرمایہ کار۔
تیسری: غیر ملکی حکومتیں۔
چوتھی: انتہائی امیر افراد۔

پہلی قسم: مرکزی بینک۔

فیڈرل ریزرو کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا امریکی حکومتی قرض ہے۔
بینک آف جاپان کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا جاپانی قرض ہے۔
یورپی مرکزی بینک کے پاس تقریباً 5 ٹریلین ڈالر کا یورپی قرض ہے۔
پیپلز بینک آف چائنا کے پاس تقریباً 3 ٹریلین ڈالر ہیں۔

دنیا بھر کے مرکزی بینک مجموعی طور پر تقریباً 25 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتے ہیں۔
یہ کل 317 ٹریلین ڈالر کے قرض کا تقریباً 8 فیصد بنتا ہے۔

لیکن یہی بنیاد ہے،
کیونکہ مرکزی بینک حکومتوں کو ٹیکس سے زیادہ خرچ کرنے کے قابل بناتے ہیں
بانڈ خرید کر اور پیسہ پیدا کر کے۔

اب سوال یہ ہے کہ مرکزی بینکوں کا مالک کون ہے؟

فیڈرل ریزرو حکومت کی ملکیت نہیں ہے۔
یہ ایک نجی ادارہ ہے جس کی ملکیت اس کے رکن کمرشل بینکوں کے پاس ہے۔
امریکہ کے 12 علاقائی فیڈرل ریزرو بینک
اپنے رکن بینکوں کو حصص جاری کرتے ہیں۔

جے پی مورگن چیس، بینک آف امریکہ، سٹی بینک،
ویلز فارگو
فیڈرل ریزرو کے ان حصص پر سالانہ 6 فیصد منافع وصول کرتے ہیں۔

جب فیڈرل ریزرو 5 ٹریلین ڈالر کے حکومتی بانڈ رکھتا ہے
اور ان پر سود وصول کرتا ہے،
تو یہ سود بالآخر انہی نجی بینکوں تک پہنچتا ہے
جو فیڈرل ریزرو کے مالک ہیں۔

عوام سمجھتی ہے کہ فیڈرل ریزرو حکومت کا حصہ ہے۔
ایسا نہیں ہے۔

یہ 1913 میں بنایا گیا ایک نجی بینکاری نظام ہے
تاکہ نجی بینک حکومتی قرض سے منافع کما سکیں۔

22/04/2026

حجاج مقدسہ میں دونوں مقدس جگہوں کی حفاظت رب نے لے لی ہے کسی منافق سے اس کی حفاظت کی کوئی ضرورت نہیں لیکن ابھی جو لوگ حرمین کی حفاظت اور دفاع کی بات کر رہے ہیں وہ دراصل یہودی نظام اور سازشوں سے چلنے والا فتنہ وہابیہ اور یہودی سازشوں کی تحفظ چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کو مسلمانوں کے عقائد و نظریات سے لڑوانے والی نظریات کی دفاع چاہتے ہیں اس وجہ سے وہ سعود بن عبدالعزیز کے بیٹوں کی تصویر کے ساتھ حرمین کی دفاع کی بات کرتے ہیں یہ حرام خور لوگ ہیں یہ غدار لوگ ہیں یہ منافق لوگ ہیں ان کو اسلام سے کوئی لینا دینا نہیں ہے یہ خلافت سسٹم کے باغی ہیں ان کا دین سے کوئی واسطہ نہیں

Address

Purnea
854301

Opening Hours

Monday 9am - 5pm
Tuesday 9am - 5pm
Wednesday 9am - 5pm
Thursday 9am - 5pm
Friday 9am - 5pm
Saturday 9am - 5pm
Sunday 8:30am - 6:30pm

Telephone

+918273162912

Website

https://ace-asiacore.blogspot.com/p/seemanchal-press-digital-voice-of-east.html?m=1

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Seemanchal Press posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Seemanchal Press:

Share