Mufti Muhammad Ashraf Qadri Naiemi

Mufti Muhammad Ashraf Qadri Naiemi اس پیج پر اسلامک بیان اور دیگر اسلامی چیزیں اپلوڈ کی جائیں گی

13/08/2026

مناظرے سے پہلے اصولِ مناظرہ پے کر لے غور
کمرے کی فضا اور ہے، میداں کی فضا اور

09/08/2026

*مفتی محمد اشرف قادری نعیمی صاحب کا نصیحت آموز بیان ایک مرتبہ ضرور سماعت فرمائیں*
*ثواب جاریہ سمجھ کر اپنے احباب تک شئیر ضرور کریں*

06/08/2026

مولوی عباس دیوبندی کے الزامات کا تاریخی ثبوت کے ساتھ دندان شکن جواب

04/08/2026
03/08/2026

مولوی اقبال دیوبندی کو دندان شکن جواب 👇👇👇👇

02/08/2026

قاضی عبدالوحید دیوبندی
اہل سنت و جماعت پر لگائے گئے الزامات کے ثبوت سے لاجواب
اور راہ فرار اختیار

30/07/2026

مختی مبارک قاسمی نے مکر و فریب سے کام لیا اہلسنت وجماعت کی عوام تک ان کے مکر کو سمجھ گی

30/07/2026

قاضی عبد الوحید دیوبندی کے بہتان کا عربی زبان میں عــلــمــی جـــواب
مفتی مــحمـــد ســلیــم رضــا مــدنــی (مہور، ضـلع ریـاسی)

29/07/2026

*اذان سے پہلے درود شریف پڑھنے کا حکم ، قرآن و سنت اور اقوال ائمہ کی روشنی میں*

*چند دنوں سے زیر بحث مسئلہ اور عوام الناس کی تشویش*

دیگر اوقات کی طرح اذان و اقامت سے پہلے اور اذان کے بعد بھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کرنا ،نہ صرف جائز ،بلکہ مستحب اور باعثِ ثواب بھی ہے۔اس پر درج ذیل دلائل موجود ہیں :

*(1)اللہ تبارک وتعالی قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:*

*اِنَّ اللّٰهَ وَ مَلٰٓىٕكَتَهٗ یُصَلُّوْنَ عَلَى النَّبِیِّؕ- یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا(56)*

ترجمہ: بے شک اللہ اور فرشتے غیب بتانے والے (نبی ) پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر درود اور خوب سلام بھیجو۔ (پ22،س الاحزاب، آیت 56)

اس آیت ِکریمہ میں اللہ تبارک وتعالی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ِ با برکات پرکسی قید کے بغیر دُرود و سلام پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایاہے ۔یہ نہیں فرمایا کہ اذان و اقامت سے پہلے اور اذان کے بعد نہ پڑھو اور نہ ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور کسی صحابی نے قید لگائی ہے ،تو کسی اور کے لئے کیسے روا ہو سکتا ہے کہ وہ خدا تعالی کے مطلق احکام میں قیدیں جوڑے کہ فلاں وقت میں پڑھو اور فلاں فلاں وقت میں نہ پڑھو۔

مطلق (یعنی جس میں اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی قید نہیں، ایسے حکم) پر عمل کرنے کے حوالے سے اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: عموم واطلاق سے اِستدلال زمانہ صحابہ کرام رضی اﷲ تعالی عنہم سے آج تک علماء میں شائع وذائع،یعنی جب ایک بات کوشرع نے محمود فرمایا،توجہاں اورجس وقت اور جس طرح وہ بات واقع ہوگی،ہمیشہ محمودرہے گی،تاوقتیکہ کسی صورت ِخاصہ کی مُمانعت خاص شرع سےنہ آجائے۔

مثلاً:مطلق ذکرِالٰہی کی خوبی قرآن وحدیث سے ثابت،توجب کبھی،کہیں،کسی طورپرخدا کی یاد کی جائے گی،بہترہی ہوگی،ہرہرخصوصیت کاثبوت شرع سے ضرورنہیں،مگرپاخانہ (ٹوائلٹ)میں بیٹھ کرزبان سے یادِالٰہی کرناممنوع،کہ اس خاص صورت کی برائی شرع سے ثابت۔

غرض جس مطلق کی خوبی معلوم،اس کی خاص خاص صورتوں کی جداجداخوبی ثابت کرنا ضرورنہیں، کہ آخروہ صورتیں اسی مطلق کی توہیں،جس کی بھلائی ثابت ہوچکی،بلکہ کسی خصوصیت کی برائی ماننایہ محتاج دلیل ہے۔

* *مسلم الثبوت میں ہے:*

شاع وذاع احتجاجھم سلفاً وخلفاً بالعمومات من غیرنکیر

متقدمین اورمتاخرین علماء کاعمومات سے استدلال کرنا ،بغیرکسی انکار کے معروف اوررائج ہے۔

پس بحکم ِاطلاق جس جس طریقہ سے ان کی یاد کی جائے گی،حسن ومحمود ہی رہے گی اورمجلس ِمیلاد وصلوٰۃ بعدِاذان وغیرہما کسی خاص طریقے کے لئے ثبوتِ مطلق کے سوا کسی نئے ثبوت کی ہرگزحاجت نہ ہوگی، ہاں جوکوئی ان طُرُق کوممنوع کہے،وہ ان کی خاص ممانعت ثابت کرے۔‘‘(فتاوی رضویہ، ج 26، ص 528 تا 530، مطبوعہ، رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

*(2)جب تک شریعت کی طرف سے کسی چیز کی ممانعت کا حکم نہ ہو،تو اس وقت تک اشیاء میں اصل اباحت ہوتی ہے ۔ جوکوئی کسی چیز کی حرمت یا کراہت ثابت کرے ،تو اس پر لازم ہے کہ دلیل پیش کرے ،ورنہ بغیر دلیل ِشرعی کے مباح چیز کو حرام کہہ کر اللہ تعالی کی ذات پر افتراء نہ باندھے اور اذان و اقامت سے پہلے اور بعد درود و سلام پڑھنے کی قرآن و حدیث میں کہیں ممانعت نہیں ،لہذا یہ جائز ہے ۔*

اشیاء میں اصل اباحت ہے ۔چنانچہ ترمذی شریف میں حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ،وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

الحلال ما احل اللہ فی کتابہ والحرام ما حرم اللہ فی کتابہ وما سکت عنہ ،فھو مما عفا عنہ

*ترجمہ:حلال وہ ہے ،جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حلال کیا اور حرام وہ ہے ،جو اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں حرام فرما دیا اور جس کے حلال و حرام ہونے کو بیان نہ فرمایا ،تو وہ اللہ تعالی کی طرف سے معاف ہے* ۔(جامع ترمذی،باب ماجاء فی لبس الفراء،ج1،ص303،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)

فتاوی شامی میں ہے:

لیس الاحتیاط فی الافتراء علی اللہ باثبات الحرمۃ والکراھۃ الذین لا بدلھما من دلیل ،بل فی القول بالاباحۃ التی ھی الاصل

*ترجمہ:(بغیر دلیل کے)کسی چیز کو حرام یا مکروہ ثابت کر کے اللہ تعالی کی ذات پر افتراء باندھنے میں احتیاط نہیں،کہ حرمت اور کراہت کے لئے دلیل درکار ہے،بلکہ احتیاط اباحت ماننے میں ہے،جو(اشیاء میں )اصل ہے۔* (فتاوی شامی ،کتاب الاشربہ،ج10،ص50،مطبوعہ،مکتبہ حقانیہ،پشاور)

(3)ہر اچھے کام سے پہلے ہمیں رب تعالی کی حمد اور درودِ پاک پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے اور اذان بھی ہر کلمہ گو کے نزدیک ایک اچھا فعل ہے، لہذا اس سے پہلے بھی درود و سلام پڑھنا اسی حدیث پر عمل ہے ۔

*چنانچہ تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے:*

کل امر ذی بال لا یبدا فیہ بحمد اللہ والصلاۃ علی،فھو اقطع،ابتر،ممحوق من کل برکۃ

ترجمہ:ہر وہ ذی مرتبہ کام ،جس کی ابتداء اللہ تعالی کی حمد اور مجھ پر درود ِ پاک بھیج کر نہ کی جائے ،تو وہ ادھورا، نامکمل اور ہر طرح کی برکت سے خالی ہے ۔(تیسیر شرح جامع صغیر ،ج2،ص211،مطبوعہ،مکتبہ امام شافعی ،ریاض)

*(4)مذکورہ اوقات میں دُرود و سلام پڑھنامسلمانوں میں صدیوں سے رائج ہےاوروہ اسے اچھا ہی سمجھتے ہیں ،جب مسلمان اسے اچھا سمجھتے ہیں ،تو یقیناً یہ اللہ تعالی کے نزدیک بھی اچھا ہے۔*

چنانچہ معجم کبیرللطبرانی،ج9،ص112،معجم اوسط،ج4،ص58اور مسند امام احمد بن حنبل کی حدیث مبارکہ ہے:

ما راہ المسلمون حسنا فھو عند اللہ حسن

ترجمہ: جسے مسلمان اچھا جانتے ہوں،وہ اللہ عزوجل کے نزدیک بھی اچھا ہے۔(مسند امام احمد بن حنبل،ج6،ص84،مؤسسۃ الرسالہ،بیروت)

(4) بلکہ اذان کے بعد درود بھیجنے کا حکم تو خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔

چنانچہ صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر بن عاص نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:

اذا سمعتم المؤذن فقولوا مثل ما یقول،ثم صلوا علی فانہ من صلی علی صلاۃ صلی اللہ علیہ وسلم بھا عشرا

ترجمہ: جب تم مؤذن کو سنو،تو تم بھی اسی طرح کہو ،جس طرح وہ کہہ رہا ہے ،پھر مجھ پر درود بھیجو ،کیونکہ جو مجھ پر ایک بار درود بھیجتا ہے،اللہ تعالی اس پر دس رحمتیں نازل فرماتا ہے۔ (صحیح مسلم ،کتاب الصلاۃ،ج1،ص166،مطبوعہ،قدیمی کتب خانہ،کراچی)

*فتاوی شامی میں اذان کے بعد درود پڑھنے کے بارے میں ہے :*

(ویدعو)ای بعد ان یصلی علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم لما رواہ مسلم وغیرہ

ترجمہ: اور اذان کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات بابرکات پر درودبھیجنے کے بعد دعا پڑھے ،مسلم وغیرہ کی روایت کی وجہ ہے ۔(فتاوی شامی ، ج 2، ص 84، مطبوعہ، مکتبہ حقانیہ،پشاور)

*(5) اور اقامت سے پہلے درودِ پاک پڑھنا معجم الاوسط کی حدیث مبارکہ سے ثابت ہے ۔چنانچہ معجم الاوسط میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی، وہ فرماتے ہیں :*

کان بلا ل اذا اراد ان یقیم الصلاۃ ،قال:السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،الصلاۃ رحمک اللہ

ترجمہ:حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ جب اقامت کہنے کا ارادہ کرتے تو عرض کرتے:

السلام علیک ایھا النبی ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،الصلاۃ رحمک اللہ۔ (المعجم الاوسط،ج8،ص372،مطبوعہ،دار الحرمین ،القاھرہ)

*اور فتاوی شامی میں درودِ پاک کے مستحب مواقع بیان کرتے ہوئے اقامت سے پہلے درود ِ پاک پڑھنے کو بھی شامل کیا گیا ہے ۔چنانچہ علامہ شامی علیہ الرحمۃ درود پاک کے مستحب مواقع بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:*

نص العلماء علی استحباب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی مواضع :یوم الجمعۃ ولیلتھا وزید یوم السبت والاحد والخمیس،لما ورد فی کل من الثلاثۃ وعند الصباح والمساء وعند دخول المسجد والخروج منہ وعند زیارۃ قبرہ الشریف صلی اللہ علیہ وسلم وعند الصفاء والمروۃ وفی خطبۃ الجمعۃ وغیرھا وعقب اجابۃ المؤذن وعند الاقامۃ‘‘

ترجمہ: علماء کرام رحمہم اللہ السلام نےبعض مواقع پر درودِ پاک پڑھنے کے مستحب ہونے پر صراحت فرمائی ہے۔ان میں سے چند یہ ہیں :جمعہ کا دن ، اس کی رات اور(مستحب مواقع میں )ہفتہ ،اتوار اور پیر کو بھی شمار کیا گیا ہے ،کیونکہ ان تینوں کے بارے میں حدیث وارد ہوئی ہے اور صبح و شام ،مسجد میں داخل ہوتے اور نکلتے وقت ،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے روضہ اطہر کی زیارت کے وقت ،صفا مروہ پر،جمعہ کے خطبے اور اس کے علاوہ دیگر خطبوں میں ،مؤذن کی اذان کا جواب دینے کے بعد اور اقامت کے وقت ۔ (فتاوی شامی ،کتاب الصلاۃ،ج1،ص281،مطبوعہ، مکتبہ حقانیہ،پشاور)

*ان دلائل سے واضح ہو گیا کہ مذکورہ اوقات میں درود سلام پڑھنا جائز ہے اور اس سے منع کرنا قرآن و حدیث اور فقہاء کی کئی نصوص کے خلاف ہے۔لہذا اس سے منع کرنا کسی بھی صحیح العقیدہ سنی کا کام نہیں۔*

البتہ درود و سلام پڑھنے والوں کو یہ احتیاط کرنی چاہئے کہ درود و سلام پڑھنے کے بعد کچھ دیر سکوت کریں ،پھر اذان یا اقامت کہیں،تا کہ درود شریف اور اذان و اقامت کے درمیان فاصلہ ہو جائے یا درود شریف کی آواز اذان و اقامت کی آواز سے پست رہے ،تا کہ اذان و اقامت میں امتیاز ہو جائے ۔

اسی بارے میں اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں:’’درود شریف قبلِ اقامت پڑھنے میں حرج نہیں،مگر اقامت سے فصل چاہئے یا درود شریف کی آواز ،آواز ِ اقامت سے ایسی جدا ہو کہ امتیاز رہے اور عوام کو درود شریف جزءِ اقامت نہ معلوم ہو ۔‘‘(فتاوی رضویہ،ج5،ص386،مطبوعہ،رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

اللہ تعالیٰ عوام و خواص کو عقل سلیم عطا فرمائے اور اس دور کے فتنوں سے سب کو محفوظ فرمائے آمین یا رب العالمین

*نظیر احمد قادری ازھری*

Address

نزدیک جامع مسجد بدر
Reasi

Telephone

+916005435245

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mufti Muhammad Ashraf Qadri Naiemi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mufti Muhammad Ashraf Qadri Naiemi:

Shortcuts

Share

Category