01/01/2026
اختر مسلمیؒ 1989 - 1928
یکم جنوری عظیم شاعر، صاحبِ طرز ادیب اور ترانۂ مدرسۃ الاصلاح کے خالق اختر مسلمیؒ کا یومِ پیدائش ہے۔ یہ دن محض ایک شخصیت کی یاد کا نہیں، بلکہ ایک ایسی ادبی روایت کے تسلسل کا دن ہے جس نے ادب کو مقصد، شاعری کو پیغام اور فکر کو سمت عطا کی۔
اختر مسلمیؒ کی شاعری محض الفاظ کا حسن نہیں، بلکہ اصلاحِ فکر، تہذیبِ نفس اور بیداریِ شعور کی آئینہ دار ہے۔ ان کا قلم جذبات کی رو میں نہیں بہتا بلکہ فکر کی روشنی میں راستہ بناتا ہے۔
ترانۂ مدرسۃ الاصلاح ان کی اسی فکری وابستگی کا زندہ ثبوت ہے جو اصلاح کے در و دیوار میں ولولہ، وقار اور شناخت کی صدا بن کر گونجتا ہے۔
کار فرما یہاں روح دین متیں
مرکز فکر اس کا کتاب مبیں
اس کا دستور تقلید جامد نہیں
اس میں فکرفراہی کا ہرسو چلن
انہوں نے شعر کو تفنن نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھا، اور ادب کو محض اظہار نہیں بلکہ اصلاح کا ذریعہ بنایا۔ ان کی تخلیقات میں مقصدیت، فکری پختگی اور تہذیبی شعور نمایاں نظر آتا ہے۔ وہ ان شعرا میں سے تھے جن کے یہاں لفظ معنی کے تابع اور معنی نصب العین کے پابند ہوتے ہیں۔
ظلمت شب میں بھٹکتا ہے زمانہ اختر
آؤ ہر ذرے کو خورشید درخشاں کردیں
اختر مسلمیؒ کا نام تاریخِ ادب میں اس لیے زندہ رہے گا کہ انہوں نے قلم کو ادارہ، اور شعر کو مشن بنا دیا۔
اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند کرے اور ہمیں ان کے فکری ورثے سے رہنمائی لینے کی توفیق عطا فرمائے۔