All Updates

All Updates Welcome

13/01/2026

وہ مر رہا تھا اور راز اس کے ساتھ ہی رخصت ہو رہا تھا۔
فروری 1836، فلورنس میں، ایک شخص بسترِ مرگ پر لیٹا تھا۔ اس کے اردگرد سائنس دان، معالج اور سرکاری اہلکار جمع تھے۔ سب کی خواہش ایک ہی تھی۔
بس ایک گھنٹہ۔اتنا وقت کہ وہ بتا سکے
اس نے کیا کیا تھا ور کیسے؟
اس کا نام جیرولامو سیگاٹو تھا اور اس نے وہ کام کر دکھایا تھا جو جدید سائنس آج بھی دہرا نہیں سکی۔ وہ انسانی گوشت کو پتھر میں بدل سکتا تھا۔ نہ یہ ایمبالمنگ تھی، نہ فوسلائزیشن، نہ ممی بنانا۔ یہ واقعی پتھر تھا، ایسا پتھر جو رنگ محفوظ رکھتا تھا،لچک باقی رکھتا تھا اور خلیاتی سطح تک ساخت قائم رکھتا تھا۔
یہ نمونے آج بھی موجود ہیں۔ ایک عورت کا سر( جو تصویر میں ہے)۔ جس میں بالوں کی ایک ایک لٹ سلامت ہے۔ ایک نوجوان عورت کا سینہ۔ جس میں دودھ بنانے والی غدود تک مکمل محفوظ ہیں۔
ایک میز، جس میں انسانی جسم کے دو سو سے زائد پتھریلے حصے جڑے ہیں۔ ہر ٹکڑا اتنی باریکی سے محفوظ کہ خوردبین تک سب کچھ واضح دکھائی دیتا ہے۔
2007 میں ہونے والے جدید سی ٹی اسکینز (کمپیوٹرائزڈ ایکسیئل ٹوموگرافی)
نے اس خدشے اور امید, دونوں کی تصدیق کر دی۔ یہ کوئی فریب نہیں تھا اور نہ ہی اسے سمجھا جا سکا۔ سیگاٹو نے یہ عمل کسی لیبارٹری میں دریافت نہیں کیا۔ وہ اسے صحرا میں لے آیا۔
1820 کی دہائی میں مصر کے سفر کے دوران وہ نوبیا کے علاقوں تک گیا، جہاں اس نے قدرتی طور پر پتھر بنے ہوئے انسانی اجسام دیکھے۔ ایسے جسم جو نامعلوم ارضیاتی اور کیمیائی حالات میں
اپنی شکل برقرار رکھتے ہوئے معدنی ساخت میں بدل چکے تھے۔ زیادہ تر سیاح صرف منظر کو قلم بند کرتے ہیں۔ سیگاٹو نے سوال پوچھا: کیوں؟
فلورنس واپس آ کر اس نے تقریباً مکمل خاموشی میں کام کیا۔ نہ شاگرد، نہ معاون، نہ کوئی تحریری فارمولا۔ اس کا کام اتنا غیر معمولی تھا کہ اس کے ہم عصر سائنس دان بھی اس پر شک کرتے رہے۔ یہاں تک کہ انہوں نے نمونے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیے۔ یہ نازک فوسلز نہیں تھے۔ انہیں ہاتھ میں لیا جا سکتا تھا۔
جانچا جا سکتا تھا۔ مطالعہ کیا جا سکتا تھا۔ حتیٰ کہ تھوڑا سا موڑا بھی جا سکتا تھا۔ اس نے طریقہ کار کو شدت سے چھپا کر رکھا۔ شاید اسے چوری کا خوف تھا۔
شاید مذاق بننے کا۔ یا شاید وہ جانتا تھا
کہ اس کا کام سائنس، اناٹومی اور کسی تاریک سرحد کے بیچ کھڑا ہے۔ اس نے اپنی ایک دوست ایزابیلّا روسّی کو ایک عجیب تحفہ بھی دیا۔ اپنے ہی پتھر بنے خون کے قطرے۔ پھر نمونیا نے آ لیا۔ جب وہ مرنے لگا تو خبر تیزی سے پھیل گئی۔ علما اس کے بستر پر آ پہنچے۔ اس سے منت کی گئی کہ وہ طریقہ بتا دے۔ بل دے۔ لکھ دے۔ کچھ بھی ظاہر کر دے اور سیگاٹو نے کوشش کی۔ اس کے آخری الفاظ ڈرامائی نہیں تھے، صرف انسانی تھے۔
“اوہ، مجھے یقین نہیں تھا کہ موت اتنی قریب ہے، میں اپنے باقی ماندہ تمام خون کی قیمت دینے کو تیار ہوں، بس ایک گھنٹہ مل جائے کہ میں آپ سے بات کر سکوں، کہ میں آپ کو ظاہر کر سکوں۔
جملہ مکمل نہ ہو سکا۔
3 فروری 1836 کو جیرولامو سیگاٹو
خیال کے بیچ ہی دنیا سے رخصت ہو گیا۔
فارمولا اس کے ساتھ مر گیا۔
آج 214 پتھر بنے انسانی نمونے اب بھی موجود ہیں۔ زیادہ تر فلورنس کے میں محفوظ۔
سائنس دان ان کا تجزیہ کر سکتے ہیں۔
اسکین کر سکتے ہیں۔ پیمائش کر سکتے ہیں۔ مگر انہیں دوبارہ نہیں بنا سکتے۔ یہ پتھر عام معدنی تبدیلی نہیں۔ ٹشو کی ساخت فوسلائزیشن سے میل نہیں کھاتی۔
اور تحفظ کی سطح ایمبالمنگ سے کہیں آگے ہے۔ یہ ایک ایسی درجہ بندی ہے جس میں صرف ایک مثال ہے سیگاٹو کی قبر سانتا کروچے باسیلیکا میں ہے، جس پر لکھا ہوا کتبہ وصیت کم، تنبیہ زیادہ لگتا ہے۔ یہاں جیرولامو سیگاٹو مدفون ہے۔
جو خود بھی مکمل طور پر پتھر بن جاتا،
اگر اس کا فن اسی کے ساتھ دفن نہ ہو جاتا۔ یعنی س کی اپنی لاش صرف اس لیے پتھر نہیں بنی کہ علم اس سے پہلے مر گیا۔
اس کہانی کو یادگار بنانے والی چیز صرف راز نہیں بلکہ ضبط ہے۔ شہرت کے بھوکے دور میں سیگاٹو نے خاموشی چنی اور وہ لمحہ جب اس کی وراثت ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو سکتی تھی۔ وہ ہچکچایا اور وقت ختم ہو گیا۔ سائنس کی تاریخ کے
سب سے عجیب بند دروازوں میں سے ایک ہے۔
ہمارے پاس نتائج ہیں، نمونے ہیں، جدید اسکینز بھی ہیں مگر وہ ایک قدم جو گوشت کو پتھر بناتا ہے، وہ ہمارے پاس نہیں اور جب تک کوئی اسے دوبارہ دریافت نہیں کرتا۔ جیرولامو سیگاٹو
ایک نایاب مثال رہے گا۔ صرف اس شخص کی نہیں جس نے ناممکن حل کیا۔ بلکہ اس شخص کی۔جس نے ثابت کیا کہ سائنس میں بھی کچھ دروازے ہمیشہ کے لیے بند ہو جاتے ہیں۔

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں...
10/01/2026

نظام لوہار : پنجاب کی دھرتی کا وہ بہادر سپوت جسکا جنازہ 18 ہزار لوگوں نے پیسے دے کر پڑھا تھا ۔۔۔۔۔۔ نظام لوہار 1835ء میں امرتسر کے نواحی علاقے ”ترن تارن“ میں پیدا ہوئے۔ بنیادی اعتبار سے نظام کا تعلق ایک غریب لوہار خاندان سے تھا۔بوڑھی ماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرکے اپنے بیٹے نظام کو تعلیم دلوا رہی تھی۔گھر میں نظام کی ایک جوان بہن بھی تھی،انگریز حکومت کے اہلکاروں کا مفلس کسانوں پر ظلم دیکھ کر نظام اکثر اسی سوچ میں گم رہتا کہ عام لوگوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ چنانچہ وہ انگریز کا ایک خاموش مخالف بن گیا اور ابتدائی طور پر اپنی ہی بھٹی میں ہتھیار بنانا شروع کر دیے ۔تلواریں ، برچھیاںا ور چھرے بناتا اور جمع کرتا رہا ۔ ایک رات جب وہ کہیں سے واپس آیا تو دیکھا کہ اس کی ماں مرچکی ہے اور جوان بہن کے کپڑے تارتار ہیں۔ استفسار پربہن نے بتایا کہ تمہارے بعد انگریز پولیس افسر سپاہیوں کے ساتھ آیا تھا،اس نے گھر کی تلاشی لی اور تمہارے ہتھیار ڈھونڈ لیے ،ماں کو اس قدر مارا کہ وہ مرگئی۔ میں نے مزاحمت کی کوشش کی، تو مجھے بھی بری طرح زودکوب کیا۔نظام کے لئے یہ واقعہ اس کی زندگی کا فیصلہ کن موڑ تھا۔اسی رات اس نے اپنی بہن کو ساتھ لے جا کے اپنے دوست محمد شفیع سے شادی کردی اور خود گھر بار چھوڑ کر ایک ویران حویلی میں پناہ لے لی جو آج بھی ککراں والی حویلی کے نام سے مشہور ہے۔دوسری رات نظام تھانے پہنچا اور انگریز پولیس افسر کو ق۔ت۔ل کردیا جس نے اس کی ماں کا خون کیا تھا اور اسکی بہن کی بے عزتی کی تھی ، پھر یہ فرار ہوگیا۔اگلی صبح جب انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل کی خبر علاقے میں پھیلی تو لوگ خوشی سے دیوانے ہو گئے،کیونکہ یہ انگریز پولیس افسر عورتوں کی بے حرمتی کرتا اور غریب کسانوں سے بیگار لیتا تھا۔انگریز پولیس افسر کے ق۔ت۔ل پر ابھی لوگ خوش ہورہے تھے کہ سینئر سپرٹنڈنٹ پولیس رونالڈ کے ق۔ت۔ل کی اطلاع آگئی ۔اس کے بعد انگریز حکومت کے لئے نظام لوہارایک چیلنج بن گیا۔پولیس اسکے پیچھے تھی ۔انہی دنوں ایک روز نظام لوہار کی ملاقات اپنے علاقے کے مشہور باغی سوجا سنگھ کی ماں سے ہوئی جو بین کرتی جا رہی تھی۔ نظام نے وجہ پوچھی تو اس نے بتایا کہ سوجھا سنگھ کو پولیس گرفتار کرکے لے گئی ہے۔نظام نے تسلی دی اور خود سوجھا سنگھ کو چھڑانے کے لئے ”ٹبہ کمال چشتی“کی طرف چل پڑا۔ پولیس سے مقابلے کے بعد نظام لوہار نے سوجھا سنگھ کو چھڑا لیا۔اس پر سوجھا سنگھ کی ماں نے نظام لوہار کو اپنا بیٹا بنا لیا ا ور وہ اسی کے پاس رہنے لگا۔اس کے بعد نظام لوہار اور سوجھا سنگھ نے مل کر اوپر تلے انگریزوں کے چار اعلیٰ افسروں کو ق۔ت۔ل کر ڈالا۔ دونوں نے انگریز حکومت کے خلاف منصوبہ بنایا اور علاقے کو بانٹ کر کسانوں کو ساتھ ملانے کے لئے راتوں کو گاؤں گاؤں پھرنے لگے۔آخر کار فیصلہ ہوا کہ میلوں اور عرسوں میں جاکر انگریز پولیس افسروں کو یہ کہہ کر ق۔ت۔ل کیا جائے گا کہ پنجاب سے نکل جاؤ۔اب نظام لوہار انگریز پولیس کے لئے ایک خوف کی علامت بن چکا تھا،مگر سوجاسنگھ کی ماں کی بیماری کا سن کر واپس حویلی آگیا۔وہاں پہنچ کر نظام کو معلوم ہوا کہ سوجھا سنگھ ساتھ والے گاؤں ”جٹاں دا کھوہ“ کی ایک لڑکی چھیما ماچھن سے پیار کرنے لگا ہے۔نظام کو یہ بات پسند نہ آئی اس نے چھیماماچھن کو بلا کر سمجھایا کہ توسوجھاسنگھ سے پیارکرنا چھوڑ دے، کہ پیار محبت انسان کو بزدل بنا دیتے ہیں اس پر چھیما نے سوجھا سنگھ کو نظام لوہار کے خلاف بھڑکایا تو وہ نظام کے خلاف ہوگیا۔اس نے دس ہزار روپے اور چار مربع زمین کے لالچ میں تھانہ بھیڑیالہ میں اطلاع کردی کہ نظام لوہار آج ہمارے گھر میں ہوگا اور کل واپس کالا کھوہ چلا جائے گا۔نظام لوہار جس کمرے میں سویا ہوا تھا پولیس نے چاروں طرف سے اسے گھیر لیا اور چند سپاہی چھت پر چڑھ کمرے کی چھت کو توڑنے لگے۔ نظام کو پتہ چل گیا،اس نے خوب مقابلہ کیا مگر اسکے پاس گو۔لیاں بہت کم تھیں چنانچہ جلد وہ انگریز پولیس کی گو۔لیوں کا نشانہ بن گیا ۔یہ 1877 کا سال تھا پنجاب کے بہادر اور دلیرہیرو کے آخری دیدار کے لیے ہزاروں کی تعداد میں لوگ جمع ہو گئے۔حکومت نے اعلان کر دیا،جو مسلمان نظام کے جنازے میں شریک ہو گااسے دو روپے ادا کرنے ہوں گے۔اس طرح 35ہزار روپے اکٹھے ہوگئے۔نظام کی قبر پر لوگوں نے اتنے پھول ڈالے کہ قبر پھولوں کاپہاڑ بن گئی۔نظام قصور شہر کے بڑے قبرستان میں دفن ہے۔جب سوجھا سنگھ کی ماں کو پتہ چلا کہ اس کے بیٹے نے مخبری کرکے نظام لوہار کو مروایا ہے تو اس ماں نے سوجھا سنگھ کو خود اپنے ہاتھ سے برچھی مار کر ق۔ت۔ل کر ڈالا اور کہا میں تمہیں کبھی اپنا دودھ نہیں بخشوں گی،تم نے نظام کی مخبری کرکے پنجاب کے ساتھ غداری کی ہے۔

ریاضی کا علمدنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے وجود کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جا سکت...
28/12/2025

ریاضی کا علم

دنیا کے سب سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے شخص نے دعویٰ کیا ہے کہ خدا کے وجود کو ریاضی کی مدد سے ثابت کیا جا سکتا ہے۔

جنوبی کوریا کے سائنسدان اور اے آئی ریسرچر ینگ ہون کم کا کہنا ہے کہ خدا سو فیصد حقیقت ہے اور اس بات کو تین آسان ریاضیاتی اصولوں سے سمجھا جا سکتا ہے۔

پہلا اصول

کوئی بھی لکیر نقطے کے بغیر شروع نہیں ہو سکتی۔

ان کے مطابق جیسے جیومیٹری میں ہر لکیر کا آغاز ایک نقطے سے ہوتا ہے، اسی طرح کائنات اور زندگی کے آغاز کے لیے بھی ایک ابتدا ضروری تھی اور وہ ابتدا خدا ہے۔

دوسرا اصول

لا محدود ماضی کو عبور نہیں کیا جا سکتا۔

ینگ ہون کم کہتے ہیں کہ اگر وقت کا کوئی آغاز نہ ہوتا اور وہ ہمیشہ پیچھے کی طرف جاتا رہتا تو آج کا دن کبھی نہ آتا۔ جیسے ریاضی میں منفی لامحدود سے صفر تک پہنچنا ممکن نہیں اگر کوئی پہلا عدد موجود نہ ہو۔

تیسرا اصول طاقت کا کوئی نہ کوئی ذریعہ ضرور ہوتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ریاضی میں ضرب ملٹی پلائی یہ بتاتی ہے کہ طاقت خود بخود پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کا کوئی منبع ہوتا ہے۔ اسی طرح کائنات کے وجود اور پھیلاؤ کے لیے ایک عظیم طاقت کا ہونا ضروری ہے۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پر ان کی ایک پوسٹ بہت وائرل ہوئی، جس میں انہوں نے مختلف مذاہب سے متاثر اپنے مذہبی خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسی دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے، جو اسلام اور عیسائیت دونوں کا مشترکہ عقیدہ ہے۔

واضح رہے کہ 36 سالہ ینگ ہون کم کا آئی کیو 276 بتایا جاتا ہے، جو اب تک دنیا میں سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا آئی کیو ہے۔ عام طور پر 140 سے زیادہ آئی کیو رکھنے والے افراد کو جینیئس سمجھا جاتا ہے، جبکہ البرٹ آئن اسٹائن اور اسٹیفن ہاکنگ جیسے عظیم سائنسدانوں کا آئی کیو تقریباً 160 تھا۔

ینگ ہون کم نہ صرف اے آئی کے ماہر ہیں بلکہ مذہبی علوم میں بھی گہری دلچسپی رکھتے ہیں اور انہوں نے سیول کی یونسی یونیورسٹی سے تھیالوجی (مذہبیات کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔

منقول شده

اللہ تعالی کی شان تو دیکھو 22 جون سے 22 دسمبر تک روزانہ 80 سیکنڈ کے حساب سے دن چھوٹا ہوتا ہے .یہاں تک کے دن 10 گھنٹے اور...
22/12/2025

اللہ تعالی کی شان تو دیکھو
22 جون سے 22 دسمبر تک روزانہ 80 سیکنڈ کے حساب سے دن چھوٹا ہوتا ہے .
یہاں تک کے دن 10 گھنٹے اور رات 14 گھنٹے کی ہو جاتی ہے۔
اسی طرح22 دسمبر سے 21 جون تک 45 سیکنڈ کے حساب سے دن بڑا ہوتا ہے یہاں تک کہ دن 14 گھنٹے اور رات 10 گھنٹے کی ہو جاتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہر 23 مارچ اور 23 ستمبر کو دن رات بالکل برابر برابر یعنی 12 گھنٹے کے ہو جاتے ہیں.
کروڑوں سالوں سے یہ سلسلہ جاری ہے اور کبھی اس میں فرق نہیں آیا .عظیم ترین ہے وہ ذات جس نے یہ کائنات خلق کی اور ساری تعریفیں اسی کے لیے ہیں بے شک

17/11/2025

1500 سال پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جو صحیح 28 نشانیاں بیان کی تھیں وہ سچ ہوئیں
اس کو پڑھنے کی امید ہے۔

1: مرد کم اور عورتیں زیادہ ہوں گی۔

2: لوگ موسیقی کی شکل میں قرآن مجید کی تلاوت کریں گے۔

3: مال کی محبت کی وجہ سے بیوی بھی شوہر کے ساتھ کاروبار میں حصہ لے گی

4: ہر کوئی اپنے آپ کو موٹا اور مضبوط بنانا چاہتا ہے۔

5: نماز اور زندگی میں لوگوں کا سکون ختم ہو جائے گا۔

6: سود کا کاروبار عام ہو جائے گا۔

7. منافق پیدا ہونگے آبادان میں لوگ عبادت کریں گے منافقت اور شہرت پانے کے لیے

٨: فتنے بڑھیں گے اور دینی علم میں کمی آئے گی۔

9: لوگ قرآن کو تنخواہ کا ذریعہ بنائیں گے

10: جھوٹ عام ہو جائے گا اور لوگ جھوٹ کی گواہی دیں گے۔

11: لوگ صحیح احادیث کا انکار کریں گے اور غلط احادیث بیان کریں گے۔

12: مسلمان امیر ہو جائیں گے لیکن مذہبی پیشوا نئے ہو جائیں گے

کفر آسان ہوگا انسان صبح مسلمان اور شام کو کافر اور شام کو مسلمان اور صبح کافر 13:

14: آنے والی ہر نسل پچھلی نسل سے بدتر ہوگی۔

15: لوگ اسلام پر چلنے والوں پر حیران رہ جائیں گے اور وہ نئی چیزیں دیکھیں گے۔

16: قتل و غارت بڑھتے جائیں گے قاتل اور مقتول کو پتہ نہیں چلے گا کہ میں کیوں قتل کرتا ہوں اور کیوں مارا جارہا ہوں

17 کافر مسلمانوں پر غالب آئیں گے مسلمان زیادہ ہوں گے لیکن غلام ہوں گے کیونکہ وہ دنیا سے پیار کریں گے اور موت سے ڈریں گے

18: مذہب پر عمل اس آگ کے تارکول کی طرح ہوگا جو چھڑی میں پھنسا ہوا ہے۔

19: گناہ کرنا بہت آسان ہوگا اور گناہ کو گناہ قبول نہیں کیا جائے گا۔

20: دنیا کے امیر ترین لوگ کنجوس ہوں گے۔

21: عمر سے برکت ختم ہو جائے گی، سال مہینوں کی طرح، مہینہ ہفتوں کی طرح، ہفتہ دنوں کی طرح اور دن گھنٹوں کی طرح گزر جائے گا۔

22: مسلمان ہر عمل میں کافروں کی پیروی اور اطاعت کریں گے۔

23: عرب کی مٹی وسیع ہوگی اور مدینہ کی آبادی بڑھ جائے گی

24: لوگ زکوٰۃ لینے کے اہل نہیں ہوں گے اور پھر بھی زکوٰۃ مانگیں گے۔

25 عورتیں سجتی ہونگی پھر بھی ننگی ہونگی مطلب کپڑے اتنے نازک ہوں گے کہ جسم کی طرح نظر آئیں گے

26: زنا آسان ہوگا اور زنا کے اسباب میں اضافہ ہوگا۔

27: جہالت عام ہو جائے گی، لوگوں کو دنیا کا علم ہو جائے گا، مگر جہالت کی وجہ سے دینی علم سے جاہل ہوں گے۔

28: بے حیا عورتوں اور آلات موسیقی میں اضافہ ہوگا۔

ایک گزارش:
اگر آپ نے اوپر والی تحریر مکمل پڑھ لی ہے تو کمنٹس میں ضرور لکھیں کہ مکمل پڑھ لیا ہے اور شئیر کر دیں9

18/09/2025

King
کسی بادشاہ کا گزر اپنی سلطنت کے ایک ایسے علاقے سے ہوا
جہاں کے لوگ سیدھا نہر سے ہی پانی لیکر پیتے تھے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ عوام الناس کی سہولت کیلیئے یہاں ایک گھڑا بھر کر رکھ دیا جائے تو زیادہ بہتر رہے گا اور ہر چھوٹا بڑا سہولت کے ساتھ پانی پی سکے گا۔ بادشاہ یہ کہتے ہوئے اپنی باقی کے سفر پر آگے کی طرف بڑھ گیا۔

شاہی حکم پر ایک گھڑا خرید کر نہر کے کنارے رکھا جانے لگا تو ایک اہلکار نے مشورہ دیا یہ گھڑا عوامی دولت سے خرید کر شاہی حکم پر یہاں نصب کیا جا رہا ہے۔ ضروری ہے کہ اس کی حفاظت کا بندوبست کیا جائے اور ایک سنتری کو چوکیداری کیلیئے مقرر کیا جائے۔

سنتری کی تعیناتی کا حکم ملنے پر یہ قباحت بھی سامنے آئی کہ گھڑا بھر نے کیلیئے کسی ماشکی کا ہونا بھی ضروری ہے۔ اور ہفتے کے ساتوں دن صرف ایک ماشکی یا ایک سنتری کو نہیں پابند کیا جا سکتا ، بہتر ہوگا کہ سات سنتری اور سات ہی ماشکی ملازم رکھے جائیں تاکہ باری باری کے ساتھ بلا تعطل یہ کام چلتا رہے۔

ایک اور محنتی اہلکار نے رائے دی کہ نہر سے گھڑا بھرا ہوا اٹھا کر لانا نہ تو ماشکی کا کام بنتا ہے اور نہ ہی سنتری کا۔ اس محنت طلب کام کیلیئے سات باربردار بھی رکھے جانے چاہیئں جو باری باری روزانہ بھرے ہوئے گھڑے کو احتیاط سے اٹھا کر لائیں اور اچھے طریقے سے ڈھکنا لگا کر بند کر کے رکھیں۔ ۔

ایک اور دور اندیش مصاحب نے مشورہ دیا کہ اتنے لوگوں کو رکھ کر کام کو منظم طریقے سے چلانے کیلیئے ان سب اہلکاروں کا حساب کتاب اور تنخواہوں کا نظام چلانے کیلیئے محاسب رکھنے ضروری ہونگے، اکاؤنٹنگ کا ادارہ بنانا ہوگا، اکاؤنٹنٹ متعیین کرنا ہونگے۔

ایک اور ذو فہم و فراست اہلکار نے مشورہ دیا کہ یہ اسی صورت میں ہی یقینی بنایا جا سکتا ہے کہ ہر کام اچھے طریقے سے چل رہا ہے تو ان سارے ماشکیوں، سنتریوں اور باربرداروں سے بہتر طریقے سے کام لینے کیلیئے ایک ذاتی معاملات کا ایک شعبہ قائم کرنا پڑے گا۔

ایک اور مشورہ آیا کہ یہ سب کچھ ٹھیک ہو رہا ہے مگر ملازمین کے درمیان میں لڑائی جھگڑا یا کوئی زیادتی ہو جاتی ہے تو ان کا تصفیہ اور ان کے درمیان میں صلح صفائی کون کرائے گا؟ تاکہ کام بلاتعطل چلا رہے، اس لیئے میری رائے میں خلاف ورزی کرنے والوں اور اختلاف کرنے والوں کی تفتیش کے لیے ایک قانونی امور کا محکمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

ان سارے محکموں کی انشاء کے بعد ایک صاحب کا یہ مشورہ آیا کہ اس سارے انتظام پر کوئی ہیڈ بھی مقرر ہونا چاہیئے۔ ایک ڈائریکٹر بھی تعیینات کر دیا گیا۔

سال کے بعد حسب روایت بادشاہ کا اپنی رعایا کے دورے کے دوران اس مقام سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ نہرکے کنارے کئی کنال رقبے پر ایک عظیم الشان عمارت کا وجود آ چکا ہے جس پر لگی ہوئی روشنیاں دور سے نظر آتی ہیں اور عمارت کا دبدبہ آنکھوں کو خیرہ کرتا ہے۔ عمارت کی پیشانی پر نمایاں کر کے "وزارت انتظامی امور برائے گھڑا " کا بورڈ لگا ہوا ہے۔

بادشاہ اپنے مصاحبین کے ساتھ اندر داخل ہوا تو ایک علیحدہ ہی جہان پایا۔ عمارت میں کئی کمرے، میٹنگ روم اور دفاتر قائم تھے۔ ایک بڑے سے دفتر میں ، آرام کرسی پر عظیم الشان چوبی میز کے پیچھے سرمئی بالوں والا ایک پر وقار معزز شخص بیٹھا ہوا تھا جس کے سامنے تختی پر اس کے القابات "پروفیسر ڈاکٹر دو جنگوں کا فاتح فلان بن فلان ڈائریکٹر جنرل برائے معاملات سرکاری گھڑا" لکھا ہوا تھا۔

بادشاہ نے حیرت کے ساتھ اپنے وزیر سے اس عمارت کا سبب پوچھا، اور ساتھ ہی اس عجیب و غریب محکمہ کے بارے میں پوچھا جس کا اس نے اپنی زندگی میں کبھی نام بھی نہیں سنا تھا۔

بادشاہ کے وزیر نے جواب دیا: حضور والا، یہ سب کچھ آپ ہی کے حکم پر ہی تو ہوا ہے جو آپ نے پچھلے سال عوام الناس کی فلاح اور آسانی کیلیئے یہاں پر گھڑا نصب کرنے کا حکم دیا تھا۔

بادشاہ مزید حیرت کے ساتھ باہر نکل کر اس گھڑے کو دیکھنے گیا جس کو لگانے کا اس نے حکم دیا تھا۔ بادشاہ نے دیکھا کہ گھڑا نہ صرف خالی اور ٹوٹا ہوا ہے بلکہ اس کے اندر ایک مرا ہوا پرندہ بھی پڑا ہوا ہے۔ گھڑے کے اطراف میں بیشمار لوگ آرام کرتے اور سوئے ہوئے پڑے ہیں اور سامنے ایک بڑا بورڈ لگا ہوا ہے:

"گھڑے کی مرمت اور بحالی کیلیئے اپنے عطیات جمع کرائیں۔ منجانب وزارت انتظامی امور برائے گھڑا"

" نتیجہ"
میرے وطن کی کہانی

۔۔۔ وفاقی وزیر ، وزیر مملکت ، صوبائی وزیر ، پرسنل سیکرٹری ، مشیر ۔۔ عہدے ، پروٹوکول اور کام صفر ۔


سلمان علیہ السلام کےلئے جنات کے کھودے کنویںسعودی عرب کا ایک دور افتادہ گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مش...
17/09/2025

سلمان علیہ السلام کےلئے جنات کے کھودے کنویں
سعودی عرب کا ایک دور افتادہ گاﺅں ”لینہ“ عہد قبل از تاریخ کے کئی عجائبات پر مشتمل ہے۔ یہاں حضرت سلیمان علیہ السلام کے لشکر کیلئے جنات کے کھودے ہوئے 300 کنوئیں بھی ہیں۔
ان میں سے بیشتر اگرچہ ناکارہ ہو چکے ہیں، مگر 20 کنوﺅں سے اب بھی لوگ میٹھا پانی حاصل کرتے ہیں۔ جنات نے یہ کنوئیں زمین کے بجائے سخت ترین چٹانوں کو توڑ کر بنائے تھے،
جس پر اب بھی ماہرین حیران ہیں
ان عجائبات کو دیکھنے کیلئے دور دور سے
سیاح اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کا یہ تاریخی گاﺅں ”لینہ“ مملکت کے شمالی شہر رفحا سے100 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے
یہ قدیم علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کے ساتھ متعدد آثار قدیمہ کی وجہ سے ملک بھر میں شہرت رکھتا ہے۔ یہاں ایک قدیم قلعہ بھی ہے۔ پرانے زمانے میں بیت المقدس اور یمن کے مابین پیدل سفر کا مشہور راستہ اسی گاﺅں سے گزرتا تھا۔ عدن سے عراق جانے والا ملکہ زبیدہ کا بنائی ہوئی مشہور سڑک ”درب زبیدہ“ بھی یہیں سے ہو کر جاتی تھی
اب بھی سیر و تفریح کے شائقین بڑی تعداد میں
اس علاقے کا رخ کرتے ہیں۔
سعودی محقق حمد الجاسر کا کہنا ہے کہ یہ قدیم گاﺅں میں حضرت سلیمان علیہ السلام کا لشکر بھی اترا تھا۔ سلیمان علیہ السلام جب اپنا لشکر لے کر یمن جا رہے تھے تو یہاں ٹھہرے تھے۔ اس بے آب و گیاہ علاقے میں لشکر کو پانی کی ضرورت آئی تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کو حکم دیا کہ وہ ہنگامی طور پر کنوئیں کھودیں تو جنات نے چٹانوں پر مشتمل اس سخت ترین زمین میں 300 کنوئیں کھود دیئے تھے۔ یہ انتہائی گہرے کنوئیں اب بھی اصلی حالت پر موجود ہیں۔ جنہیں زمین پر اب بھی اپنا وجود رکھنے والا معجزہ قرار دیا جاتا ہے۔ جنات نے چٹانوں کو کاٹنے کیلئے ڈرل مشین کی طرح کوئی آلہ استعمال کیا تھا، جس کے نشانات اب بھی کنوﺅں کی چاروں اطراف واضح طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
ماہرین اس پر تحقیق کر رہے ہیں کہ جنات نے آخر کس طرح ان سخت ترین چٹانوں کو 60 سے 80 میٹر گہرائی تک کاٹا تھا اور انہوں نے کونسے آلات کی مدد حاصل کی تھی۔ اگرچہ ان 300 میں سے اس وقت صرف 20 کنوئیں ہی کارآمد رہ گئے ہیں، تاہم سارے کنوﺅں کے نشانات اب بھی یہاں موجود ہیں۔ ان کنوﺅں کو دیکھنے والا ہر شخص حیرت زدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔
تاریخی روایات کے مطابق جب حضرت سلیمان علیہ السلام اپنے لاﺅ لشکر سمیت یمن جا رہے تھے تو وہ یہاں دوپہر کے کھانے کےلئے اترے تھے۔ لشکر میں جنات کی فوج بھی شامل تھی۔ جب لوگ پیاسے ہوئے تو حضرت سلیمان علیہ السلام نے جنات کی فوج کے کمانڈر ”سبطر“ کی طرف دیکھا تو وہ ہنس رہا تھا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس سے ہنسنے کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا کہ آپ لوگ پیاس سے تڑپ رہے ہیں، مگر میٹھا پانی آپ کے قدموں کے نیچے ہی ہے۔ حضرت سلیمان علیہ السلام نے سبطر کو پانی نکالنے کا حکم دیا تو تھوڑی دیر میں ہی اس نے اپنی فوج کی مدد سے 300 کنوئیں کھود دیئے اور سیدنا سلیمانؑ کا پورا لشکر سیراب ہو گیا۔
معروف مورخ یاقوت حموی کے دور تک یہ سارے کنوئیں میٹھے پانی سے لبالب بھرے ہوئے تھے۔ یاقوت حموی نے اپنی مشہور کتاب ”معجم البلدان“ میں لکھا ہے کہ ”لینہ“ عراق کے شہر واسط سے مکہ مکرمہ جاتے ہوئے ساتویں منزل پر آتا ہے۔ یہ علاقہ اپنے میٹھے پانی کے کنوﺅں کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ ان کنوﺅں کی وجہ سے یہ علاقہ بعد میں ایک تجارتی مرکز بن گیا تھا۔ جہاں عراق اور عرب کے تاجر منڈیاں لگاتے۔ نجد سمیت سعودی عرب کے شمالی علاقوں کے لوگ یہاں آکر خریداری کرتے۔ تاجر اپنے سامان تجارت کو یہیں اگلے سیزن تک محفوظ کیلئے پہاڑوں پر بنے بڑے بڑے گوداموں میں رکھتے۔ جنہیں ”سیابیط“ کہا جاتا ہے۔ یہ گودام اب بھی وہاں موجود ہیں۔
علاوہ ازیں یہ علاقہ مختلف آثار قدیمہ کی وجہ سے بھی شہرت رکھتا ہے۔ سعودی حکومت نے یہاں ایک شاہی قلعہ بھی تعمیر کرایا ہے۔1354 ھ میں تعمیر ہونے والے اس قلعے کو گارے، پتھروں اور لکڑیوں سے بنایا گیا ہے۔ واضح رہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو حق تعالیٰ نے جنات پر بھی حکومت دی تھی۔ جنات نے ان کے حکم سے بیت المقدس کی تعمیر میں حصہ لیا تھا
وہ دور دراز سے پتھر اور سمندر سے موتیاں نکال کر لاتے تھے۔ ان کی تعمیر کردہ عمارتیں اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ بھی حضرت سلیمان علیہ السلام جنات سے بہت سے کام لیتے تھے۔ جس کا ذکر قرآن کریم میں بھی واضح طور پر کیا گیا ہے۔

جلال پور پیر والا میں پرائیویٹ کشتی والے 20 ھزار سے 1 لاکھ روپیہ ایک چکر کا وصول کر رھے ھیں یہ ریاست کی بے بسی کی بدترین...
12/09/2025

جلال پور پیر والا میں پرائیویٹ کشتی والے 20 ھزار سے 1 لاکھ روپیہ ایک چکر کا وصول کر رھے ھیں
یہ ریاست کی بے بسی کی بدترین مثال ھے

12/09/2025

06/09/2025

Address

Sector 4

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when All Updates posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to All Updates:

Share

Category