Peer badrual arifeen

Peer badrual arifeen ❤💞دین اسلام ❤💞 کی میٹھی میٹھی باتیں
The sweet sweet things of
💕 ISLAM 💕 # Hlo guys welcom to my channel videos # daily video # allah hu akbar

28/01/2026

حامدا و مصلیا و مسلما اما بعد: قال الله تعالى في كتابه المجيد: فأعوذ بالله من الشيطان الرجيم بسم الله الرحمن الرحيم یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ (البقرہ آیت 104)

اگر موصوف اپنے الفاظوں کی تاویل یہ بتاتا ہے کی حیات النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے میری مراد جناب سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتوں کو زندہ رکھنا ہے ان کے فرامین پر عمل کرنا ہے وہ معنی مراد نہیں ہے جو ظاہر ہے یا اور کوئی تاویل تب بھی یاد رکھیے گا کہ ایہام گستاخی سے یہ کلمات پاک نہیں۔ کچھ دلائل غیر جانبدار ہو کر پیش خدمت ہے۔ مولانا رشید احمد گنگوہی اپنے فتوی رشیدیہ کے اندر ایک سوال کا جواب دیتے ہیں فرماتے ہیں: سوال مع جواب ملاخطہ کیجیے۔

شاعر جو اپنے اشعار میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صنم، یابت، یا آشوب ترک، فتنہ عرب باندھتے ہیں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب : یہ الفاظ قبیحہ بولنے والا اگر چہ معنی حقیقیہ بمعانی ظاہرہ خود مراد نہیں رکھتا، بلکہ معنی مجازی مقصود لیتا ہے، مگر تاہم ایہام گستاخی و اہانت و اذیت ذات پاک حق تعالی شانہ، اور جناب رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم سے خالی نہیں، یہ ہی سبب ہے کہ حق تعالی نے لفظ "راعنا" بولنے سے صحابہ کو منع فرمایا "انظرنا " کا لفظ عرض کرنا ارشاد کیا، حالانکہ مقصود صحابہ رضی اللہ عنہم اجمعین ہرگز وہ معنی کہ جو یہود مراد لیتے تھے نہ تھی مگر ذریعہ شوخی یہود کا، اور موہوم اذیت و گستاخی جناب رسالت کا تھا لہذا حکم ہوا: "لا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُو انْظُرْنَا الخ۔

اور علی ہذا: حضرات صحابہ کا پکار کر بولنا، مجلس شریف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ہرگز بوجہ اذیت و گستاخی معاذ اللہ نہ تھا، بلکہ حسب عادت وطبع تھا مگر چونکہ اذیت و بے اعتنائی شان والا کا اس میں ایہام تھا: یہ حکم ہوا:
" يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَولِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَن تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَانْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ “. کیا صاف حکم ہے، کہ اگر چہ تمہارا قصد گستاخی نہیں ،مگر اس فعل سے حبط اعمال تمہارے ہوجاویں گے اور تم کو خبر بھی نہ ہوگی، اور ایسا ہی حدیث میں: "تکنی بكنية أبي القاسم" آپ کی حیات شریف میں منع ہوگئی تھی، بوجہ اذیت ذات سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے، کہ کوئی کسی کو اگر پکارے گا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سمجھ کر کہ مجھے کو ارادہ کرتا ہے، التفات فرمائیں گے، حالانکہ نادی ہرگز اذیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں کرتا تھا، اور ابن ماجہ نے روایت کیا کہ : اشعث بن قیس کندی جب آئے، تو انھوں نے عرض کیا کہ: یا رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کیا آپ ہم میں نہیں ہیں اور یہ عرض و الغیب عند اللہ تعالی، بایں وجہ تھی کہ سب عرب از قریش تا کندہ بنو اسماعیل ہیں، تو آپ نے فرمایا: کہ ہماری ماؤں کو تہمت زنا مت لگاؤ ، اور ہمارے نسب کی نفی ہماری باپوں سے مت کر ہم اولاد نضر ہے۔ دیکھو اس لفظ میں فقط ایہام بعید کو کس قدر آپ نے نفی کر کے نہی فرمایا، اور کلام کا ادب تلقین کیا۔

وعلی ہذا: "خبثت نفسی" کو منع فرمایا ، اور لفست نفسی کی اجازت دی کہ وہ بظاہر سخت لفظ ہے ، گو معنی ایک ہیں۔

قال فى الشفاء الوجه الثاني: وهو أن يكون القائل لما قال في جهته صلى الله عليه وسلم غير قاصد للسبب و الازدراء ولا معتقد له، ولكنه تكلم في جهته صلى الله عليه وسلم بكلمة الكفر من لعنه، أو سبه، أو تكذيبه، أو إضافة مالا يجوز عليه، أو نفى ما يجب له مما هو فى حقه عليه الصلوة والسلام نقيصة الى أن قال: اوياتي بسفه من القول أو قبيح من الكلام، ونوع من السب في جهته، وإن ظهر بدليل حاله أنه لم يتعمد ذمه ولم يقصد ،سبه إما لجهالة حملته على ما قاله، إما لضجر أو سكر أو قلة مراقبة، وضبط لسانه أو عجرفة وتهور في كلامه، فحكم هذا الوجه حكم الوجه الاول القتل دون تلعثم - انتهى ملخصاً۔

شفا میں کہا ہے: کہ دوسری وجہ یہ ہے کہ :قائل نے جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق فرمایا، اور اس کا ارادہ گالی اور نقص نکالنے کا نہ ہو، اور نہ اس کا معتقد ہو لیکن اس نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کلمہ کفر کہا، لعنت، یا گالی، یا آپ کو جھٹلانے، یا کسی ایسی چیز کی طرف آپ کو نسبت کرنے سے جو آپ پر جائز نہ ہو، یا اس چیز کی نفی کر کے جو اس کے لئے واجب ہو، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہو، یہاں تک کہ کہا کہ: یا کوئی سفاہت کا قول، یا کوئی قبیح کلام کرے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں ایک قسم کی گالی دے، اور اگر اس کے حالت کی دلیل سے ظاہر ہو کہ: اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی برائی کا قصد نہیں کیا، اور نہ گالی کا قصد کیا، تو یا تو جہالت نے اس کو اکسایا اس بات پر جو اس نے کہا، خواہ تنگدلی سے، یا نشہ میں یا آداب کا لحاظ کم رکھنے میں اور زبان کو قابو میں رکھنے میں، یا بغیر سوچے سمجھے کہنے سے، یا کلام میں بے باکی سے، تو اس وجہ کا حکم: اول وجہ کا حکم ہے، قتل بلاتردد۔

پس اس کلمات کفر کے لکھنے والے کو منع کرنا شدید چاہئے، اور مقدور ہو اگر باز نہ آئے تو قتل کرنا چاہئے، کہ موذی و گستاخ شان جناب کبریا تعالی ، اور اُس کے رسول النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔ واللہ تعالٰی اعلم۔

 #سب _فانی #باقی ﷲ #فنا اور بقاء   سب فانی ہے۔۔۔۔ مگر ایک حقیقت  ہمیشہ باقی رہتی ہے۔ ہ جس کائنات کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہی...
28/12/2025

#سب _فانی
#باقی ﷲ
#فنا اور بقاء


سب فانی ہے۔۔۔۔ مگر ایک حقیقت

ہمیشہ باقی رہتی ہے۔
ہ
جس کائنات کو سب کچھ سمجھ بیٹھے ہیں۔
وہ خود بیچاری Temporary ہے
جو بدلتی ہے۔ بکھرتی ہے اور ایک دن ختم ہوجائے گی۔
سوچنے کا مقام۔❓۔
اگر ہم جسےمحبت کر رہے ہیں۔ وہ خود فنا ہونے والا ہے
تو ہماری محبت کہاں ٹہرے گی ❓۔
جو finite (فانی) کوہی خدا مان لیتے ہیں وہ اسی فانی سوچ میں زندگی گزار کر موت کے بعد واقعی vanish ( فنا) ہوجاتے ہیں۔
اور جو لوگ باقی رہنے والی ذات _ خالقِ کائنات ﷲُ تعالیٰ سے دل جوڑ لیتے ہیں ۔ وہ اسی کے خیال میں جیتے ہیں۔ اور اسی کے ساتھ اپنے اپنے درجے کے مطابق Eternal life (بقاء) پاتے ہیں۔
قاعدہ بہت سادہ ہے مگر فیصلہ کن!
فانی سے محبت =فنا
باقی سے محبت= بقاء
آخری سوال🙋
ہم کس سے محبت کرتے ہیں؟
فانی دنیا سے۔۔۔۔ یا باقی رہنی والی ذات خالقِ کائنات ﷲ سے❓۔
المَرءُ مَع مَن اَحَبَ!
انسان اسی کے ساتھ ہوگا جسے محبت کرتاہے

حدیث نبوی ﷺ اِنمَاالاَعْمالُ بِنِیَاتاعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔Understanding👍دین ہمیں یہ نہیں دیکھاتا ہے کہکہ آپ کیا...
26/12/2025

حدیث نبوی ﷺ
اِنمَاالاَعْمالُ بِنِیَات
اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔
Understanding👍
دین ہمیں یہ نہیں دیکھاتا ہے کہ
کہ آپ کیا کر رہے ہیں؟
بلکہ یہ سکھاتا ہے کہ
آپ کیوں کر رہے ہیں ?
(Why you do it) ❓
ذاتی Reflection
(یہیoriginal حصہ ہے )
جب intention (نیت)
صاف ہو تو تاخیر بھی
wisdom (حکمت)
بن جاتی ہے
خاموشی بھی عبادت بن جاتی ہے
اگر نیت بگڑ جاۓ تو اچھا عمل بھی show ( نمائش)
رہ جاتاہے۔
خلاصہ :- نیت
دل کی direction ہوتی ہے
اور direction درست ہو تو رفتار خود درست ہوجاتی ہے
📍

موضوع نیت، صبر یا سچ نمونہ:بعض اوقات  ہم ﷲ تعالیٰ کے دربار میں کثرتِ عاجزی وانکساری کے ساتھ گڑگڑاتے ہیں رو رو کر دعائیں ...
25/12/2025

موضوع نیت، صبر یا سچ
نمونہ:
بعض اوقات ہم ﷲ تعالیٰ کے دربار میں کثرتِ عاجزی وانکساری کے ساتھ گڑگڑاتے ہیں
رو رو کر
دعائیں مانگتے ہیں
گناہوں سے توبہ کرتے ہیں
بار بار معافی مانگتے ہیں ۔
لیکن ۔۔۔۔۔۔۔
اس کے باوجود بھی ﷲُ تعالیٰ
ہماری طرف بظاہر کوئی توجہ نہیں دیتا ہے۔
کیونکہ دراصل وہ ہمیں بدلنا چاہتا ہے
صرف سمجھانا نہیں۔
لہذا انسان کو چاہیے کہ وہ پوری اُمید کے ساتھ
لَا تَقنَطُوا مِنْ رِّحْمَۃِ ﷲ
کے دشمن کو تھامے رہے
_یہ خالص original ہے ) 💉
Algorithm کو Strong Signa)

25/12/2025

#خاموشی #زکرﷲ #دل _کا_سکون کبھی کبھی ﷲ تعالیٰ بندے کو خاموشی (science) میں وہ سکھادیتاہے جو شور میں برسوں میں بھی نہیں سکھاتا ۔ وَھُوَ مَعَکُمْ اینَ مَا کُنتُمْ یعنی ﷲ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں بھی تم ہو- شدید مشکلات میں خاموشی کے ساتھ ﷲ تعالیٰ کی یاد کرناعظیم عبادت اور قرب الہی کا زینہ ہے 🌟💫🌎🕊️☁️

13/12/2025
03/12/2025

مرد اور عورت کا بندھن
عورت اگر برداشت کرے
تو اجر زیادہ پاۓ گی

02/12/2025

معجزہ قران اعر جدید سائنس

Address

Shopian
192303

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Peer badrual arifeen posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share