11/03/2026
استاد کی اہمیت پر ایک خوبصورت تحریر
بیاد استاد محترم حضور رئیس العلماء استاذ الاساتذہ مفکر قوم وملت خلیفہ حضور شیخ الاسلام حافظ وقاری حضرت علامہ الحاج مفتی شاکر عالم نوری نقشبندی علیہ الرحمہ
از قلم محمد ناہد عالم اشرفی
محترم دوستو۔ استاد روحانی والد کا درجہ رکھتے ہیں
جو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و اخلاق کی روشنی پھیلاتے ہیں
اور معاشرے کے تعمیر و ترقی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں
اسلام میں استاد کو بلند مرتبہ حاصل ہے کیونکہ وہ علم بانٹ کر انبیاء کرام علیہم السلام کے مشن کو اگے بڑھاتے ہیں
استاد وہ ہیں جو نہ صرف علم و شعور سے روشناس کراتے ہیں
بلکہ کردار سازی اور تربیت کے ذریعے قوم کے معمار بنتے ہیں
وہ اندھیروں میں علم کی شمع روشن کر کے انسان کو اشرف المخلوقات بناتے ہیں
استاد شاگرد کی تربیت کر کے اس کی شخصیت کو سنوارتے ہیں
استاد معاشرے کے وہ معزز فرد ہے جو نئی نسل کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و اگہی کے روشنی میں لاتا ہے
استاد زندگی کے سفر میں ایک چراغ کے مانند ہے جو طالب علم کو گمراہی کے راہ سے نکال کر منزل مقصود تک پہنچا ہے
استاد کی بہترین تربیت میں ہی ایک کامیاب انسان کی بنیاد ہوتی ہے
استاد قوم کے معمار ہوتے ہیں جو بچوں کو نہ صرف کتبی علم سکھاتے ہیں بلکہ ان میں اخلاقیات اور خود اعتمادی پیدا کرتے ہیں
استاد شاگردوں کے اخلاق اور کردار کو سنوارتے ہیں
ایک اچھا استاد ایک اچھا معاشرہ بناتا ہے
استاد شاگردوں کی صلاحیتوں کو پہچان کر انہیں صحیح سمت دکھاتے ہیں
قوموں کی تشکیل اور تعمیر و ترقی میں استاد کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے
ایک متمدن اور مہذب معاشرے میں استاد کی حیثیت ایک مینار نور کی سی ہوتی ہے جن کے وجود کے ہر گوشے سے علم و عمل کی کرنیں پھوٹتی ہیں
معاشرے کا ہر ذی شعور فرد استاد کے علم سے ہدایت اور عمل سے پختگی حاصل کرتا ہے
ایک بات یاد رکھیں
کہ معاشرتی آداب صرف کتابیں پڑھ لینے سے نہیں اتے بلکہ پڑھانے اور سکھانے والے شخصیت ہی ادمی کو اس قابل بناتی ہے کہ اس کا علم بڑھ جائے
اور عمل یا کردار پختگی کے سانچے میں ڈھل جائے
اور اگر استاد نہ ہو تو علم ناقص اور کردار خام رہ جاتا ہے
کسی بھی کامیاب انسان کے پیچھے اچھے استاد کی بہترین تربیت کار فرما ہوتی ہے
استاد وہ پھول ہے جو اپنے خوشبو سے معاشرے میں امن محبت اور دوستی کا پیغام پہنچاتا ہے
استاد ایک ایسا رہنما ہے جو ادمی کو زندگی کے گمراہیوں سے نکال کر منزل کی طرف گامزن کرتا ہے
ترقی یافتہ قوموں اور مہذب معاشروں میں استاد کو ایک خاص مقام و مرتبہ اور نمایاں حیثیت حاصل ہوتی کیونکہ مہذب توانا،پرامن اور باشعور معاشرے کا قیام استاد ہی کی مرہون منت ہے
اسلام نے دنیا کو علم کی روشنی عطاکی اور استاد کو عظمت اور طالب علم کو ارفع و اعلٰی مقام عطا کیا ہے
استاد صرف پڑھاتا نہیں بلکہ ایک روحانی باپ کی طرح ہوتا ہے جو اپنے اولاد کی ترقی کے لیے ہر لمحہ دعا کرتا ہے
معاشرے میں بچے کیلئے جہاں ماں باپ کا کردارا ہم ہے
وہاں استاد کو بھی اہم مقام حاصل ہے
کیونکہ ماں باپ بچے کو لفظ بلفظ سکھاتے ہیں
ان کی اچھی طرح نشونما کرتے ہیں ان کو اٹھنے بیٹھنے چلنے پھرنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں
مگر استاد و عظیم رہنما ہے جو ادمی کو انسان بنا دیتا ہے جو ایک پتھر کو تراش کر ہیرا بنا دیتا ہے جو ایک بنجر زمیں کو سر سبز و شاداب بنا دیتا ہے جو ایک مرجھائے ہوئے پودے کو ہرا بھرا کر دیتا ہے
استاد آ دمی کو حیوانیت کے چنگل سے نکال کر انسانیت کے گر سے آشنا کرا دیتا ہے
بہرحال مذہب اسلام میں استاد کی بہت بڑی اہمیت ہے جن کو مفصل طریقے سے بیان کرنا یہاں مناسب نہیں ہے کیونکہ تحریر بہت لمبی ہو جائے گی
محترم دوستو۔ یہ تحریر لکھنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ اج میرے استاذ گرامی حضور رئیس العلماء مفکرقوم وملت ناشر مسلک اعلی حضرت ماہر فکر فن خلیفہ حضور شیخ الاسلام
حافظ و قاری حضرت علامہ الحاج مفتی شاکر عالم نوری نقشبندی علیہ الرحمہ کا یوم و صال ہے
حضرت کو اس دار فانی سے کوچ کیے ہوئے اج تقریبا پانچ سال ہو گئے
لیکن آج بھی آ پ کے پڑھائے ہوئے سبق، آ پ کے انداز گفتگو، آ پ کی نصیحتیں شدت سے یاد آتی ہے
آپ صرف ایک شخص نہیں بلکہ علم و حکمت کاوہ روشن چراغ تھے جو خود جل کر دوسروں کو روشنی عطا کرتے تھے اپ نے نہ صرف ہمیں نصابی علم دیا ،بلکہ زندگی کے صحیح اور غلط کے درمیان فرق سمجھایا اپ کی شخصیت،اورمحنت وشفقت نے ہمیں ہمیشہ سے متاثر کیا
آ پ کے معیت میں گزارے ہوئے شب و روز آج بھی ہمارے دل میں گھر کیے ہوئے ہے
اور آ پ کی دی ہوئی تعلیم و تربیت ہمارے لیے آج بھی مشعل راہ ہے
آ پ کے ناصحانہ جملے آج بھی ہمارے ذہن و فکر میں گردش کرتا ہے
اپ کی تعلیمات،اپ کا ڈاٹ کر سمجھانا اور پھر محبت سے پیٹھ تھپتھپا نا ،ہمیں ہمیشہ یاد اتا ہے
اگر چہ بظاہر آپ ہمارے درمیان سے رخصت ہو چکے ہیں لیکن اپ کی یادیں آپ کے دیے گئے سبق ہمارے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے
اور اپ کے جانے سے جو خلا پیدا ہوا ہے وہ کبھی پر نہیں کیا جاسکتا
مجھے یاد ہے آپ ہمیشہ ایک جملہ ارشاد فرمایا کرتے تھے, جب تک اس دنیا میں رہو ایک مثالی زندگی گزارو اور جب دنیا سے جاؤ تو لوگ آپ کے کار ناموں کو یاد کرکے آنسو بہانے پر مجبور ہو جائے
اور یقیناً آپ نے دنیا میں رہ کرایک مثالی زندگی گزاری
اور جب اس دنیا سے گئے تو آ پ کے کار ناموں کو یاد کر کے آج ہر دل عش عش کر اٹھتا ہے
اور آپ نے جو دین کی خدمت کی اسے یاد کر ک اج ہر آ نکھ اشکبار ہیں
آپ نے اپنی پوری زندگی دین اسلام کی تبلیغ اور مسلک اعلحضرت کی نشر واشاعت میں گزار دی
یہ ہمدم بھی یہ رہبر بھی یہ غمخوار ہمارے
استاد یہ قو موں کے ہیں معمار ہمارے
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مولا کریم اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کرم سے میرے مشفق و مہربان استاد حضور رئیس العلماء کے درجا ت کو بلند وبالا عطا فرمائے اوران کے تربت کو تا حد نگاہ کشادہ عطا فرمائے
اور ہم سب کو انکے بتائے ہوئے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے آمین بجاہ النبی الکریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم
راقم الحروف محمد ناہد عالم اشرفی مقام لانچن شری ارتر دیناجپور بنگال
مقیم حال سلواسا نگر حویلی