17/07/2026
محمد علی جوہر یونیورسٹی پر انہدام کا حکم: قانون کی کارروائی یا سیاسی تنازع؟
محمد علی جوہر یونیورسٹی، رام پور، ایک بار پھر ملک کی سیاسی اور سماجی بحث کا مرکز بن گئی ہے۔ تازہ اطلاعات کے مطابق رام پور ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے یونیورسٹی کی 38 عمارتوں کے انہدام کا حکم جاری کیا ہے۔ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ ان عمارتوں کی تعمیر کے لیے ضروری منظور شدہ نقشے اور اجازت نامے موجود نہیں تھے، جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اس کارروائی کے خلاف اپنے قانونی دلائل پیش کیے ہیں۔ �
The Times of India +1
یہ معاملہ صرف اینٹ، پتھر اور عمارتوں کا نہیں ہے؛ یہ تعلیم، قانون، سیاست اور انتظامی اختیار کے درمیان ایک بڑا سوال بن چکا ہے۔ ایک طرف حکومت اور متعلقہ اتھارٹی کا مؤقف ہے کہ اگر کوئی تعمیر مقررہ قوانین اور اجازت کے بغیر ہوئی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ دوسری طرف یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ تعمیرات کے وقت اس علاقے کے انتظامی دائرۂ اختیار اور اجازت کے معاملے پر قانونی اختلاف موجود ہے۔ �
https://ummid.com/ +1
اس معاملے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہیے۔ اگر کسی ادارے نے تعمیراتی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے تو اس کا فیصلہ شفاف قانونی عمل کے ذریعے ہونا چاہیے۔ لیکن اگر کسی ادارے کے خلاف کارروائی سیاسی دشمنی یا تعصب کی بنیاد پر کی جا رہی ہو تو یہ بھی جمہوریت اور قانون کی روح کے خلاف ہوگا۔
محمد علی جوہر یونیورسٹی صرف ایک سیاسی شخصیت سے وابستہ ادارہ نہیں، بلکہ وہاں طلبہ کی تعلیم اور مستقبل بھی جڑا ہوا ہے۔ اس لیے کسی بھی کارروائی میں طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ دونوں کو چاہیے کہ اس معاملے کو سیاسی نعروں کے بجائے قانون، شفافیت اور عدالت کے ذریعے حل کریں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر عمارتیں غیر قانونی ہیں تو قانون کے مطابق فیصلہ ہو، اور اگر قانونی اجازت موجود ہے تو اسے بھی نظرانداز نہ کیا جائے۔ لیکن کسی بھی تعلیمی ادارے کا مستقبل سیاسی کشمکش کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔