Al falah study center

Al falah study center education, general information, Quran , hadees, seeret, islamic video' , posts , quotations, historical events, islamic topics

اللہ عزوجل نے سورۃ النحل میں "بطونھا" (ان کے پیٹوں) جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں فرمایا، "بطنھا" (اس کے پیٹ) واحد کے ساتھ کی...
13/08/2026

اللہ عزوجل نے سورۃ النحل میں "بطونھا" (ان کے پیٹوں) جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں فرمایا، "بطنھا" (اس کے پیٹ) واحد کے ساتھ کیوں نہیں فرمایا؟
💮"يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (69)"💮
(ترجمہ: ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔)
⚜️ معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی کے تین پیٹ ہوتے ہیں:
وہ پھولوں کا رس چوساتی ہے تو یہ رس پہلے پیٹ میں کچھ دیر رہتا ہے، پھر ایک والو (valve) کھلتا ہے اور یہ دوسرے پیٹ میں چلا جاتا ہے، جہاں یہ رس شہد میں تبدیل ہوتا ہے۔
دوسرے پیٹ کے آخر میں ایک ایسا والو ہوتا ہے جو شہد کو تیسرے پیٹ میں جانے سے روکتا ہے، سوائے انتہائی ضرورت کے اور وہ بھی بہت معمولی مقدار میں۔
تیسرے پیٹ میں مکھی کی انتڑیاں ہوتی ہیں، اور وہ دورانِ پرواز اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے اسی معمولی مقدار سے غذا حاصل کرتی ہے۔
جب شہد کی مکھی اپنے چھتے کی طرف واپس لوٹتی ہے، تو یہاں اصل معجزہ ظاہر ہوتا ہے: وہ اپنے دوسرے پیٹ میں موجود خالص شہد کو واپس نکال کر اپنے منہ کے ذریعے چھتے کے سوراخوں میں جمع کر دیتی ہے—نہ کہ اپنے آتڑیوں سے۔
💎 پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی، پھر ہدایت دی۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمیں آگاہ فرمایا کہ شہد کی مکھی کے متعدد پیٹ (بطون) ہیں، صرف ایک پیٹ (بطن) نہیں۔۔

یہ قرآن مجید کی سورة النحل (آیت 69) کی تفسیر اور سائنسی اعجاز سے متعلق عربی متن کا اردو ترجمہ ہے:

محمد جمال شادی ۔۔۔۔

گھر کی رونق🌻 فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں کہیں تشریف لے جا رہے تھے، مدینے کی آبادی سے باہر ایک خیمے کے پ...
13/08/2026

گھر کی رونق
🌻 فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں کہیں تشریف لے جا رہے تھے، مدینے کی آبادی سے باہر ایک خیمے کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا کہ ایک بڑھیا دودھ دوھ رہی ہے، آپ رُک گئے۔ اور بڑھیا سے فرمایا۔ بڑی بی! دیکھو دودھ میں پانی ہرگز نہ ملانا۔ دیکھو مسلمانوں کو دھوکا کبھی مت دینا۔
بڑھیا نے کہا: امیر المؤمنینؓ آپ اطمینان رکھیں میں ایسا کبھی نہیں کر سکتی۔ اور فاروقِ اعظمؓ آگے بڑھ گئے۔
کچھ دنوں کے بعد پھر اسی خیمے کے پاس سے آپ کا گزر ہوا اور بڑھیا سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے پھر فرمایا: بڑی بی! میں نے تم سے کہا تھا کہ دودھ میں پانی ہرگز نہ ملانا، اور مسلمانوں کو کبھی دھوکا مت دینا، کہو ایسا تو نہیں کیا۔
بڑھی بی گھبرائی ہوئی بولیں: امیر المؤمنین خدا کی قسم میں نے تو کبھی پانی نہیں ملایا۔
🌻 اُمی جھوٹی قسم کیوں کھا رہی ہیں؟ توبہ کیجئے، آپ نے عہد شکنی کی ہے، آپ نے دودھ میں پانی ملایا ہے، یہ صحیح ہے کہ امیر المؤمنینؓ نے نہیں دیکھا اور آپ قسم کھا کر ان کو مطمئن کر سکتی ہیں، لیکن زمین و آسمان کا مالک دیکھ رہا ہے، اور اس سے آپ کچھ نہیں چھپا سکتیں، اس سے ڈریئے اور ہرگز جھوٹ نہ بولیے۔ شکستہ خیمے کے اندر سے بڑھیا کی نوجوان لڑکی نے بڑی جرأت کے ساتھ کہا۔
🌻 امیر المؤمنینؓ کچھ لمحے کھڑے رہے اور پھر کچھ سوچ کر سیدھے گھر آئے۔ اپنے لڑکوں کو اسی وقت طلب کیا، اور فرمایا: پیارے بیٹو! میں نے ایک شکستہ خیمے میں ایک قابلِ رشک دوشیزہ کی آواز سنی۔ میں نے خیمے میں اس حور کا نورانی چہرہ تو نہیں دیکھا البتہ اس کی ایمان افروز آواز نے میرا دل موہ لیا ہے۔
🌻 میں چاہتا ہوں کہ وہ میرے گھر کی بہو بنے اور میرے گھر کی رونق میں اضافہ ہو، کیا عجب کہ اس کے ذریعے خدا میری نسل میں کوئی ایسی سعید روح پیدا فرما دے، جو قیامت کے روز میرے لئے بہترین توشہ ثابت ہو۔
امیر المؤمنین! میں حاضر ہوں، آپ کے فرزندِ رشید حضرت عاصم رضی اللہ عنہ نے کہا۔
امیر المؤمنینؓ اسی وقت بڑھیا کے خیمے میں پہنچے۔ بڑھیا نے امیر المؤمنینؓ کو آتے دیکھا تو گھبرا گئی۔ اپنی بیٹی سے بولی، دیکھ تو نے میری ذلت کا سامان کیا ہے۔
🌻 نہيں امی جان، سچائی سے آدمی ذلیل نہیں ہوتا، اونچا مرتبہ پاتا ہے، آپ ذرا نہ گھبرائیں۔ بڑھیا کی نوجوان بیٹی نے اپنی ماں کو اطمینان دلاتے ہوئے کہا۔ امیر المؤمنینؓ ایک پرانی چٹائی پر بیٹھ گئے۔ اور بڑھیا کو اپنے لڑکے کا پیغام دیا۔
بڑھیا سکتے میں آ گئی۔ اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ میں جاگ رہی ہوں، یا کوئی خواب دیکھ رہی ہوں، امیر المؤمنین نے پھر بڑھیا کو مخاطب فرمایا، بڑی بی! عاصم کو تمہاری فرزند ی میں دینا چاہتا ہوں۔
🌻 بڑھیا کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہ پڑے اور بھرّائی ہوئی آواز میں بولی، حضرت! کہاں میں شکستہ جھونپڑی میں رہنے والی اور کہاں آپ! اس سے زیادہ خوش نصیبی میرے لئے اور کیا ہو گی کہ میری بیٹی آپ کے سایۂ شفقت میں پہنچ جائے۔
اور حضرت عاصم رضی اللہ عنہ خلیفۂ وقت کے فرزند کی شادی آبادی کے باہر کے شکستہ خیمے میں رہنے والی ایک غریب لڑکی سے ہو گئی۔
کچھ عرصے کے بعد اللہ نے ان کو اولاد بخشی اور انہوں نے اس کا نام امِ عاصم رکھا۔ اسی لڑکی سے تاریخ کی مشہور شخصیت حضرت عبدالعزیز بن مروان کی شادی ہوئی۔ اور امِ عاصم ہی کے یہاں وہ عظیم بچہ پیدا ہوا جس کو دنیا عمر بن عبدالعزیز کے نام سے یاد کرتی ہے اور جن کے دورِ خلافت کے بارے میں مؤرخین کا اتفاق ہے کہ وہ خلافتِ راشدہ کے مبارک دور کا نمونہ تھا
#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين

روشن ستارے
مولانا محمد یوسف اصلاحی

عذاب قبر، اسباب ، اقسام 🌻 ﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ * النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّ...
12/08/2026

عذاب قبر، اسباب ، اقسام

🌻 ﴿وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوءُ الْعَذَابِ * النَّارُ يُعْرَضُونَ عَلَيْهَا غُدُوًّا وَعَشِيًّا ۖ وَيَوْمَ تَقُومُ السَّاعَةُ أَدْخِلُوا آلَ فِرْعَوْنَ أَشَدَّ الْعَذَابِ﴾.
( سورہ غافر 45، 46)
ترجمہ: ، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔
🖤 یہ آیت اس عذاب برزخ کا صریح ثبوت ہے جس کا ذکر بکثرت احادیث میں عذاب قبر کے عنوان سے آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ یہاں صاف الفاظ میں عذاب کے دو مرحلوں کا ذکر فرما رہا ہے، ایک کم تر درجے کا عذاب جو قیامت کے آنے سے پہلے فرعون اور آل فرعون کو اب دیا جا رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ انہیں صبح و شام دوزخ کی آگ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے جسے دیکھ کر وہ ہر وقت ہول کھاتے رہتے ہیں کہ یہ ہے وہ دوزخ جس میں آخر کار ہمیں جانا ہے۔ اس کے بعد جب قیامت آجائے گی تو انہیں وہ اصلی اور بڑی سزا دی جائے گی جو ان کے لیے مقدر ہے، یعنی وہ اسی دوزخ میں جھونک دیے جائیں گے جس کا نظارہ انہیں غرقاب ہوجانے کے وقت سے آج تک کرایا جا رہا ہے اور قیامت کی گھڑی تک کرایا جاتا رہے گا۔ اور یہ معاملہ صرف فرعون و آل فرعون کے ساتھ ہی خاص نہیں ہے۔ تمام مجرموں کو موت کی ساعت سے لے کر قیامت تک وہ انجام بد نظر آتا رہتا ہے جو ان کا انتظار کر رہا ہے، اور تمام نیک لوگوں کو اس انجام نیک کی حسین تصویر دکھائی جاتی رہتی ہے جو اللہ نے ان کے لیے مہیا کر رکھا ہے( تفہیم القرآن)

🌻 ﴿وَلَوْ تَرَى إِذِ الظَّالِمُونَ فِي غَمَرَاتِ الْمَوْتِ وَالْمَلَائِكَةُ بَاسِطُو أَيْدِيهِمْ أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ الْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُونِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ آيَاتِهِ تَسْتَكْبِرُونَ﴾.
(الأنعام 93)
ترجمہ: کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکرات موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ "لاؤ، نکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذلت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے"

🌻 ﴿سَنُعَذِّبُهُمْ مَرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّونَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيمٍ﴾.
(سورة التوبة)
ترجمہ: قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزا دیں گے، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے

يُثَبِّتُ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا بِالْقَوْلِ الثَّابِتِ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَفِي الْآخِرَةِ﴾ سورة ابراهيم 27)

ترجمہ:ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دُنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔ اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے ؏

🌻 امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: "یہ آیت عذابِ قبر کے بارے میں نازل ہوئی تھی

🌻 ﴿قَالَ كَمْ لَبِثْتُمْ فِي الْأَرْضِ عَدَدَ سِنِينَ * قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ فَاسْأَلِ الْعَادِّينَ * قَالَ إِن لَّبِثْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا ۖ لَّوْ أَنَّكُمْ كُنتُمْ تَعْلَمُونَ * أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا وَأَنَّكُمْ إِلَيْنَا لَا تُرْجَعُونَ * فَتَعَالَى اللَّهُ الْمَلِكُ الْحَقُّ ۖ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيمِ﴾.
سورة المؤمنون 112 ...16

ترجمہ:پھر اللہ تعالی ان سے پوچھے گا "بتاؤ، زمین میں تم کتنے سال رہے؟" وہ کہیں گے”ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں، شُمار کرنے والوں سے پوچھ لیجیے۔“اِرشاد ہو گا”تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا۔ کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا۔ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضُول ہی پیدا کیا ہے اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے؟“
پس بالا و برتر ہے اللہ، پادشاہِ حقیقی، کوئی خدا اُس کے سوا نہیں، مالک ہے عرشِ بزرگ کا۔

🖤 احادیثِ مبارکہ میں عذابِ قبر کا بیان

🌻حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے آزاد کردہ غلام ہانی سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں: حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ جب کسی قبر پر کھڑے ہوتے تو اس قدر روتے کہ ان کی داڑھی مبارک تر ہو جاتی۔ ان سے عرض کیا گیا: آپ جنت اور دوزخ کا ذکر کرتے ہیں تو نہیں روتے، اور اس (قبر) کو دیکھ کر روتے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: (بے شک قبر آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، اگر انسان اس سے نجات پا گیا تو اس کے بعد کے مراحل اس کے لیے آسان ہیں، اور اگر اس سے نجات نہ پا سکا تو اس کے بعد کے مراحل اس سے بھی زیادہ سخت ہیں)، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ بھی) فرمایا: (میں نے قبر سے زیادہ ہولناک منظر کبھی نہیں دیکھا)۔ [اسے ترمذی اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے]۔
🌻 حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک سیاہ فام عورت مسجد میں جھاڑو دیا کرتی تھی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے نہ پایا تو اس کے بارے میں دریافت فرمایا۔ لوگوں نے عرض کیا: وہ فوت ہو گئی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تم نے مجھے اطلاع کیوں نہ دی؟) گويا لوگوں نے اس کے معاملے کو معمولی سمجھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مجھے اس کی قبر کا راستہ بتاؤ)، تو انہوں نے آپ کو اس کی قبر دکھائی، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نمازِ جنازہ پڑھی، پھر فرمایا: (بے شک یہ قبریں اپنے رہنے والوں کے لیے اندھیرے سے بھری ہوئی ہیں، اور اللہ تعالیٰ میرے ان پر نماز پڑھنے (دعائے مغفرت کرنے) کی برکت سے ان کے لیے ان قبروں کو روشن فرما دیتا ہے)۔ [متفق علیہ]

🌻 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (بے شک قبر کا ایک بھیچنا (دبانا) ہوتا ہے، اور اگر اس سے کوئی شخص نجات پانے والا ہوتا تو سعد بن معاذ (رضی اللہ عنہ) اس سے ضرور نجات پا جاتے)۔
مسند احمد
🌻حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: (بندہ جب اپنی قبر میں رکھا جاتا ہے اور اس کے ساتھی اس سے لوٹ کر جا رہے ہوتے ہیں تو وہ یقیناً ان کے جوتوں کی آہٹ سنتا ہے، اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں، وہ اسے بٹھاتے ہیں اور اس سے کہتے ہیں: تم اس شخص یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا کہا کرتے تھے؟ مومن تو کہتا ہے: میں گواہی دیتا ہوں کہ وہ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پس اس سے کہا جاتا ہے: جہنم میں اپنے ٹھکانے کی طرف دیکھو، اللہ نے تمہیں اس کے بدلے میں اس سے بہتر ٹھکانہ (جنت) عطا فرما دیا ہے)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (چنانچہ وہ ان دونوں ٹھکانوں کو ایک ساتھ دیکھتا ہے۔ اور رہا کافر یا منافق، تو اس سے کہا جاتا ہے: تم اس شخص کے بارے میں کیا کہتے تھے؟ وہ کہتا ہے: مجھے معلوم نہیں، میں وہی کہا کرتا تھا جو لوگ کہا کرتے تھے۔ پس اس سے کہا جاتا ہے: نہ تو نے خود جانا اور نہ (قرآن) پڑھ کر سیکھا، پھر اسے دونوں کانوں کے درمیان (لوہے کے گرز سے) ایسی ضرب لگائی جاتی ہے کہ وہ ایسی چیخ مارتا ہے جسے جنوں اور انسانوں کے علاوہ اس کے قریب کی تمام مخلوق سنتی ہے)۔ [اسے نسائی نے روایت کیا ہے]

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين

حضرت أمّ اَوس انصاریہؓانصار کے کسی قبیلے سے تھیں۔ (بعض نے انہیں بہزیہ لکھا ہے) ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا اور شرفِ صحابی...
12/08/2026

حضرت أمّ اَوس انصاریہؓ
انصار کے کسی قبیلے سے تھیں۔ (بعض نے انہیں بہزیہ لکھا ہے) ہجرت کے بعد اسلام قبول کیا اور شرفِ صحابیت سے بہرہ ور ہوئیں۔ قبولِ اسلام کے بعد انہوں نے ایک کپی میں گھی بھر کر حضورؐ کی خدمت میں ہدیہ بھیجا۔ حضورؐ نے گھی قبول فرما لیا اور ان کے لیے برکت کی دعا کی۔ پھر آپؐ نے وہ کپی حضرت امّ اوسؓ کو واپس بھجوا دی، وہ یہ دیکھ کر پریشان ہوئیں کہ کپی بدستور گھی سے بھری ہوئی تھی، روتی ہوئی سرورِ عالم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں کہ یا رسول اللہ! آپؐ نے مجھ ناچیز کا ہدیہ قبول نہیں فرمایا۔ حضورؐ نے انہیں تسلی دی کہ میں نے تمہارا ہدیہ قبول کر لیا ہے۔ اب اس کپی میں جو گھی ہے اسے تم اپنے استعمال میں لاؤ۔ اس واقعہ کے بعد حضرت امّ اوسؓ سالہا سال تک اس کپی میں سے گھی لے کر استعمال کرتی رہیں وہ ختم ہونے میں نہیں آتا تھا۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت امّ اوسؓ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہدِ خلافت تک زندہ تھیں اور اس کپی سے گھی لے کر استعمال کیا کرتی تھیں۔
مزید حالات معلوم نہیں ہوئے۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
تذکار صحابیات
طالب الہاشمی

🖤 دورِ رسالت میں ایک یتیم بچہ دربارِ رسالت میں پہنچا اور ایک شخص کے خلاف دعویٰ کیا کہ وہ زبردستی اس کے کھجوروں کے باغ پر...
12/08/2026

🖤 دورِ رسالت میں ایک یتیم بچہ دربارِ رسالت میں پہنچا اور ایک شخص کے خلاف دعویٰ کیا کہ وہ زبردستی اس کے کھجوروں کے باغ پر قبضہ جمائے ہوئے ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حاضر ہونے کا حکم دیا، اور دربارِ رسول میں دونوں کا مقدمہ پیش ہوا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے بیانات سُنے اور پوری کیفیت سُننے کے بعد آپؐ نے یتیم بچے کے خلاف فیصلہ سنایا۔
🖤 اپنے خلاف فیصلہ سُن کر یتیم بچہ رو پڑا۔ یتیم بچے کو روتا دیکھ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا دل بھی بھر آیا، اور آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے۔ اور آپؐ نے اس شخص سے کہا، بھائی! فیصلہ تو واقعی تمہارے حق میں ہوا ہے، لیکن کیا اچھا ہو کہ تم یہ باغ اس یتیم بچے کو دے دو، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے تم کو جنت میں سدا بہار باغ عطا فرمائے گا۔ مگر وہ شخص راضی نہ ہوا۔
اس وقت مجلسِ رسول میں حضرت ابو الدحداحؓ بھی تشریف رکھتے تھے، وہ فوراً اٹھے اور اس شخص کو ایک طرف لے جا کر خاموشی کے ساتھ اس سے کہا، کیوں بھئی، اگر میں تم کو اس باغ کے بدلے اپنا فلاں باغ دے دوں تو تم اپنا باغ میرے حوالے کر سکو گے۔
🌻 حضرت ابو الدحداحؓ کی پیش کش پر وہ شخص راضی ہو گیا، اس لئے کہ حضرت ابو الدحداحؓ کا باغ اس کے باغ سے کہیں اچھا تھا۔ اس شخص سے بات کرنے کے بعد حضرت ابو الدحداحؓ فوراً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پہنچے اور فرمایا، یا رسول اللہ! ایک بات پوچھنے آیا ہوں۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم مسکرائے اور فرمایا، کہو،۔ حضرت ابو الدحداحؓ نے کہا، یا رسول اللہ! آپ باغ اس یتیم بچے کو دلوانا چاہتے تھے، اگر وہ باغ میں اس بچے کو دیدوں تو مجھے اس کے بدلے جنت میں باغ ملے گا؟
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ خوشی سے چمکنے لگا اور فرمایا ہاں ہاں ضرور۔
ابو الدحداحؓ نے کہا، یا رسول اللہ! میں نے وہ باغ اپنے ایک باغ کے بدلے اس شخص سے لے لیا ہے اور اب آپ گواہ رہیں، کہ میں نے وہ باغ اس یتیم بچے کو دے دیا ہے۔
یتیم بچے کا کمھلایا ہوا چہرہ کھل اٹھا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم خوشی میں مسکرانے لگے۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
#روشن ستارے
#مولانا محمد یوسف اصلاحی

احساسِ فرض🌻 فاروق اعظمؓ سرکاری دورے پر تھے، جب ملکِ شام سے واپس آرہے تھے، تو راستے میں ایک خیمہ نظر پڑا۔ شہر سے دور جنگل...
11/08/2026

احساسِ فرض
🌻 فاروق اعظمؓ سرکاری دورے پر تھے، جب ملکِ شام سے واپس آرہے تھے، تو راستے میں ایک خیمہ نظر پڑا۔ شہر سے دور جنگل میں خیمہ دیکھا تو فوراً اتر پڑے، دل میں سوچا، شہر سے دور بسنے والے ان خستہ حال لوگوں کے حالات بھی ذرا معلوم کرتے چلیں، اور خیمے کے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا کہ ایک بڑھیا دروازے میں ماتھے پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہوئی ہے۔ چہرے کی جھریاں اور پیشانی کی شکنیں بتارہی ہیں کہ غم کی ماری بڑھیا زندگی کے دن بڑی تکلیف اور مصیبت میں بتارہی ہے۔
امیر #المؤمنین نے بڑھیا کو سلام کیا، خیریت معلوم کی اور پھر باتوں باتوں میں پوچھا،
”بڑی بی! تمہیں #عمر کا بھی کچھ حال معلوم ہے؟“
بڑھیا تو جیسے بھری بیٹھی تھی، بولی مجھے عمر و عمر سے کیا مطلب، مجھے کیا ضرورت پڑی ہے کہ میں ان کا حال معلوم کروں، میرے لئے اپنی ہی فکریں کیا کم ہیں، ہاں سنا ہے کہ شام

کے سرکاری دورے پر گئے تھے، اور اب وہاں سے واپس مدینے جانے کے لئے روانہ ہو چکے ہیں،“ بڑھیا نے کچھ اس قدر بیزاری کے ساتھ روکھے لہجے میں خلیفۂ وقت کا ذکر کیا، کہ فاروق اعظمؓ سوچ میں پڑ گئے۔
”بڑی بی! آخر تم عمر سے اس قدر بیزار کیوں ہو؟“ #امیر المؤمنینؓ نے بڑی نرمی سے پوچھا۔
🌻 ”میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم عمر کا قصہ کیوں لے بیٹھے ـــــ مجھے عمر سے کیا مطلب! میں تو ایک زمانے سے اسی طرح اس ویرانے میں بے کسی اور تنگی کی زندگی گزار رہی ہوں، کبھی جو عمر نے میری خبر لی ہو، اور میری غربت پر ترس کھا کر کوئی کوڑی بھجوائی ہوــــــ قیامت کے روز ہی خدا کے روبرو میرا اور اس کا انصاف ہو گا۔“ بڑھیا نے اونچی آواز میں مسافر سے کہا۔
”بڑی بی! کیا تم نے کبھی عمر کو اپنے حال کی خبر دی؟“ فاروقِ اعظمؓ نے سنجیدگی سے سوال کیا۔
🌻 ”واہ خوب! آپ بھی خوب باتیں کرتے ہیں، میں بتاؤں گی انہیں اپنا حال؟ کیا زمین کے اس حصے پر اُن کی حکومت نہیں ہے، کیا میرا خیمہ اسلامی حکومت کی حدود سے باہر ہے؟ کیا اسلامی حکمران کا یہ فرض نہیں ہے کہ وہ اپنی رعا یا کی خبر گیری کرے اور ان کی ضرورتیں معلوم کرے؟“ بوڑھی خاتون جوش میں برابر بولے جا رہی تھی۔
”بڑی بی! تم خفا کیوں ہو رہی ہو؟ تم شہر سے اتنی دور اس سنسان علاقے میں رہتی ہو، عمر کو تمہارے حال کی کیا خبر، آبادی سے اتنی دور رہنے والوں کا حال انہیں کیسے معلوم ہو سکتا ہے! ہاں تمہاری پریشانیوں کا حال معلوم ہونے کے بعد اگر وہ غفلت کرتے اور تمہاری ضرورتوں کا خیال نہ کرتے تو واقعی وہ خطا کار تھے۔“ فاروقِ اعظمؓ نے بڑھیا کو سمجھاتے ہوئے بڑے نرم لہجے میں کہا۔
🌻 ماشاءاللہ آپ تو سمجھدار آدمی ہیں۔ آپ یہ کیسی نادانی کی باتیں کر رہے ہیں، حیرت ہے کہ اسلامی حکومت میں رہتے ہوئے آپ ایسی باتیں کر رہے ہیں! میں کہتی ہوں کہ اگر اتنی دور کے حالات کی خبر نہیں رکھ سکتے تو پھر اس علاقے کو انہوں نے اسلامی حدود میں کیوں شامل کر رکھا ہے؟ اپنی حکومت کی حدود وہیں تک رکھیں جہاں تک خبرگیری وہ کر سکتے ہیں۔“ بڑی بی نے بڑی جرات کے ساتھ اپنی بات فاروقِ اعظمؓ کو سمجھائی۔
امیر #المؤمنینؓ بڑھیا کی کھری کھری باتیں بڑے صبر کے ساتھ سنتے رہے اور پھر ان کی چیخ نکل گئی ــــ ان کی آنکھیں برسنے لگیں، دیر تک روتے رہے۔ جب کافی دیر کے بعد دل کچھ ہلکا ہوا تو بڑھیا سے بولے ’بڑی بی! تم نے سچ کہا‘ ــــ اور سواری پر بیٹھ کر وہاں سے روانہ ہو گئے۔ راستے بھر بڑھیا کے الفاظ ان کی زبان پر تھے، ”اپنی حکومت کے حدود وہیں تک رکھیں جہاں تک کی خبرگیری وہ کر سکتے ہوں“ ــــ راستے بھر یہی سوچتے رہے، بے اختیار آنکھوں سے آنسو ٹپکتے رہے اور ان کی پریشانی بڑھتی رہی، وہ چاہتے تھے کہ پل بھر میں مدینے پہنچ جائیں، ایسا نہ ہو کہ اپنا فرض ادا کرنے سے پہلے موت کا پیغام آ جائے، خدا نے اُن کی سُن لی، وہ مدینے پہنچے تو سب سے پہلے اُس بڑھیا کی ضرورتوں کی طرف توجہ فرمائی، اور پھر سکون کا سانس لیا تو بے اختیار خدا کے حضور سجدے میں گر گئے کہ اس نے اپنا فرض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
کتاب #روشن ستارے
مولانا محمد یوسف اصلاحی
#فاروق اعظم
#خلیفہ
#احساس فرض

اسبال ازاز ۔۔۔ 🌻 یہ مسئلہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے متعدد احادیث میں سخت وعیدیں ...
10/08/2026

اسبال ازاز ۔۔۔
🌻 یہ مسئلہ بظاہر معمولی معلوم ہوتا ہے، لیکن چونکہ اس کے متعلق رسول اللہ ﷺ سے متعدد احادیث میں سخت وعیدیں منقول ہیں، اس لیے اس کے حکم کو سمجھنے کے لیے تمام متعلقہ احادیث کو سامنے رکھنا اور ان کے درمیان مناسب تطبیق پیدا کرنا ضروری ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ بعض احادیث میں "خیلاء" یعنی تکبر اور خود پسندی کی صراحت ہے، جبکہ بعض احادیث میں اس کی کوئی قید نہیں۔ اسی فرق کی وجہ سے اہلِ علم کے درمیان مسئلے کی تعبیر میں کچھ اختلاف پیدا ہوا ہے۔
🌻 سب سے پہلے یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ تکبر اور اسبال کو جمع کرنا یقیناً نہایت سنگین امر ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " #مَنْ جَرَّ ثَوْبَهُ خُيَلَاءَ لَمْ يَنْظُرِ اللَّهُ إِلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" یعنی: جو شخص تکبر کے ساتھ اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلے، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی طرف نظرِ رحمت نہیں فرمائے گا۔ یہ حدیث #صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں مروی ہے۔ اس حدیث میں "خیلاء" کی قید صاف طور پر موجود ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ تکبر کے جذبے سے لباس لٹکانا انتہائی مذموم ہے اور اس پر سخت وعید وارد ہوئی ہے۔
🌻اسی سلسلے میں حضرت ابوبکر #صدیق رضی اللہ عنہ کا واقعہ بھی بہت اہم اور فیصلہ کن نوعیت کا ہے۔ انہوں نے عرض کیا کہ میرا ازار کبھی خود بخود نیچے لٹک جاتا ہے، اگرچہ میں اس کی حفاظت کا خاص خیال رکھتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: " #إِنَّكَ لَسْتَ مِمَّنْ يَصْنَعُهُ خُيَلَاءَ"، یعنی: تم ان لوگوں میں سے نہیں ہو جو یہ کام تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں۔ یہ روایت صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں موجود ہے۔
اس حدیث سے کم از کم اتنی بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اگر کپڑا بے ارادہ اور غیر اختیاری طور پر نیچے ہوجائے، اور آدمی اسے درست رکھنے کی کوشش بھی کرتا ہو، تو اسے اس شخص کے برابر نہیں قرار دیا جاسکتا جو جان بوجھ کر تکبر و نخوت کے اظہار کے لیے اپنا لباس لٹکاتا ہے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ جیسی جلیل القدر شخصیت کے بارے میں رسول اللہ ﷺ کا یہ ارشاد اس بات کی واضح دلیل ہے کہ محض کپڑے کا ٹخنے سے نیچے ہوجانا اور تکبر کے ساتھ اسے نیچے رکھنا ایک ہی درجے کی چیزیں نہیں ہیں۔
🌻 تاہم مسئلے کا دوسرا پہلو بھی اتنا ہی اہم ہے، اور اسے نظر انداز کرنا مناسب نہیں۔ بعض احادیث میں اسبال کی وعید بیان کرتے ہوئے تکبر کی قید ذکر نہیں کی گئی۔ چنانچہ صحیح بخاری میں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے: "مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَهُوَ فِي النَّارِ"، یعنی ازار کا جو حصہ ٹخنوں سے نیچے ہو، وہ آگ میں ہے۔
اسی طرح صحیح مسلم میں تین ایسے اشخاص کے بارے میں سخت وعید آئی ہے جن سے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کلام نہیں فرمائے گا، نہ ان کی طرف نظرِ رحمت فرمائے گا اور نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ ان میں ایک کے بارے میں فرمایا: "الْمُسْبِلُ إِزَارَهُ"، یعنی وہ شخص جو اپنا ازار لٹکاتا ہے۔
ان روایات میں تکبر کی صراحت موجود نہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں غور و فکر کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اگر تمام احادیث میں ممانعت صرف تکبر کے ساتھ مخصوص ہوتی تو ان مطلق روایات کو الگ انداز سے بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر ہر قسم کا اسبال، خواہ بے اختیار ہو یا بغیر تکبر کے، اسی درجے کی وعید کا موجب ہوتا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے واقعے کی کیا توجیہ ہوگی؟ اس لیے زیادہ قرینِ احتیاط بات یہی معلوم ہوتی ہے کہ دونوں طرح کی روایات کو ملحوظ رکھا جائے اور کسی ایک مجموعۂ احادیث کو دوسرے سے بے نیاز نہ سمجھا جائے۔
اسی بنا پر علماء کی ایک جماعت نے یہ رائے اختیار کی ہے کہ اسبال کی اصل قباحت تکبر و نخوت کے ساتھ ہے، اور اگر تکبر مقصود نہ ہو تو وہ سخت وعید لازم نہیں آتی جو متکبرانہ اسبال کے بارے میں وارد ہوئی ہے۔ یہ ایک معتبر علمی موقف ہے، اور اسے محض عوامی یا کمزور رائے سمجھنا درست نہیں۔
🌻 لیکن دوسری طرف بعض اہلِ علم نے ان مطلق احادیث کو زیادہ پیشِ نظر رکھتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ ازار کو قصداً ٹخنوں سے نیچے رکھنا بہرحال مکروہ ہے، خواہ اس کے ساتھ تکبر نہ ہو؛ البتہ تکبر شامل ہوجانے سے اس کی قباحت اور وعید کہیں زیادہ شدید ہوجاتی ہے۔ استادِ محترم مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کا رجحان بھی اسی طرف تھا۔ ان کے نزدیک ازار کو ٹخنوں سے نیچے کرنا ہر حال میں مکروہ ہے، جبکہ تکبر اس کی شناعت کو مزید بڑھا دیتا ہے۔
یہ موقف کئی اعتبار سے قابلِ غور اور قابلِ ترجیح محسوس ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ احادیثِ نبویہ میں جہاں تکبر کے ساتھ اسبال پر سخت وعید آئی ہے، وہاں دوسری جگہ بغیر کسی قید کے بھی اسبال کا ذکر موجود ہے۔ اصولی طور پر جب کسی ایک عمل کے بارے میں ایک مقام پر مطلق ممانعت اور دوسرے مقام پر ایک مخصوص صورت کے ساتھ مزید سخت وعید وارد ہو تو یہ سمجھنے کی گنجائش ہوتی ہے کہ اصل عمل بھی ناپسندیدہ ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک خاص وصف—یعنی تکبر—شامل ہوجانے سے اس کی قباحت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ چنانچہ تکبر کو اسبال کی واحد علت قرار دینے کے بجائے اسے اس عمل کی قباحت کو مزید شدید کرنے والا وصف سمجھنا زیادہ محتاط تعبیر ہے۔
یہاں ایک عام فہم مثال بھی سامنے رکھی جاسکتی ہے۔
🌻شریعت میں بعض اعمال کے مختلف درجات ہوتے ہیں۔ ایک عمل بذاتِ خود ناپسندیدہ ہوسکتا ہے، لیکن جب اس میں کوئی دوسرا مذموم وصف شامل ہوجائے تو اس کی برائی مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح اسبال کے بارے میں بھی یہ کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ بلا تکبر اسبال اور متکبرانہ اسبال ایک ہی درجے کے نہیں ہیں؛ لیکن اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ پہلا بالکل بے اشکال اور دوسرا ہی قابلِ ممانعت ہو۔ یہی تفریق احادیث کے مجموعے کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔
🌻حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی حدیث بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا درست نہیں کہ جو شخص جان بوجھ کر ازار ٹخنوں سے نیچے رکھے، وہ صرف یہ کہہ کر اس حدیث کے تحت آجائے گا کہ "میرے دل میں تکبر نہیں ہے۔" #حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا معاملہ یہ تھا کہ ان کا ازار خود بخود نیچے ہوجاتا تھا، وہ اس کی اصلاح کی کوشش کرتے تھے، اور اس کے باوجود کبھی ایسا ہوجاتا تھا۔ ان کا طرزِ عمل خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اس مسئلے کو معمولی نہیں سمجھتے تھے۔ #رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس کیفیت کے بارے میں یہ وضاحت فرمائی کہ وہ ایسا تکبر کی وجہ سے نہیں کرتے۔ لہٰذا اس حدیث کو جان بوجھ کر اسبال اختیار کرنے کے لیے عام اجازت قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔
اسی طرح یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ اگر کسی مسلمان کو معلوم ہوجائے کہ نبی کریم ﷺ نے لباس کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ ازار ٹخنوں سے نیچے نہ ہو، اور اس ہدایت پر عمل کرنا اس کے لیے دشوار بھی نہیں، تو پھر ایک مومن کے لیے احتیاط اور اتباعِ سنت کا راستہ زیادہ مناسب ہے۔ آخر دین میں احتیاط کا مفہوم یہی ہے کہ جہاں ایک طرف عمل کرنے کی گنجائش ہو اور دوسری طرف بچنے میں کوئی حقیقی دشواری نہ ہو، وہاں انسان اپنے آپ کو مشتبہ اور وعید والے پہلو سے محفوظ رکھنے کی کوشش کرے۔
🌻 یہاں ایک نہایت اہم اخلاقی پہلو بھی ملحوظ رہنا چاہیے۔ کسی شخص کا ازار ٹخنوں سے نیچے دیکھ کر فوراً اس کی نیت کے بارے میں فیصلہ کرنا درست نہیں۔ ہم ظاہر کو دیکھ سکتے ہیں، دلوں کے احوال کو نہیں۔ کسی کا لباس غیر ارادی طور پر نیچے ہوسکتا ہے، کسی کو اس مسئلے کا علم نہ ہو، اور کسی نے اہلِ علم کی اس رائے پر اعتماد کیا ہو جس کے مطابق تکبر کے بغیر اسبال وعید میں داخل نہیں۔ ایسے شخص کے بارے میں سخت الفاظ استعمال کرنا یا اسے متکبر اور بدعمل قرار دینا مناسب نہیں۔
🌻 اسی طرح یہ بھی درست نہیں کہ اس مسئلے کی احادیثِ وعید کو یہ کہہ کر بالکل نظر انداز کردیا جائے کہ "تکبر تو میرے دل میں نہیں، اس لیے اسبال میں کوئی حرج نہیں۔" ایک مومن کا شیوہ یہ ہونا چاہیے کہ وہ نبی کریم ﷺ کی ہدایت کو زیادہ سے زیادہ اختیار کرنے کی کوشش کرے۔ گنجائش اور ورع کا راستہ دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی صورت کو بعض اہلِ علم نے گنجائش کے دائرے میں رکھا ہو، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آدمی احتیاط اور اتباعِ سنت کے راستے کو چھوڑ دے۔
🌻 مولانا شہباز اصلاحی رحمۃ اللہ علیہ کا یہ نکتہ بھی نہایت قابلِ توجہ تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد معلوم ہوجانے کے بعد اس پر عمل کرنے کی کوشش نہ کرنا خود انسان کے لیے قابلِ محاسبہ بات ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص جو اسبال کرتا ہو اسے متکبر قرار دیا جائے، بلکہ اصل مقصود یہ ہے کہ انسان اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور یہ دیکھے کہ کہیں وہ محض اپنی عادت، فیشن یا نفسانی پسند کی وجہ سے سنت کی ہدایت کو نظر انداز تو نہیں کررہا۔

ڈاكٹر محمد اكرم ندوى آكسفورڈ

🌻 ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدو کھڑا دُعا مانگ رہا ہے اور انت...
10/08/2026

🌻 ایک بار حضرت عمر رضی اللہ عنہ خانہ کعبہ کا طواف فرما رہے تھے ۔ کیا دیکھتے ہیں کہ ایک بدو کھڑا دُعا مانگ رہا ہے اور انتہائی جوش و جذبے میں کہہ رہا ہے ۔
اے میرے پروردگار ___! اے پروردگار ! تو مجھے اپنے قلیل بندوں“ میں سے بنا دے۔
یہ نرالی دُعا سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو تعجب ہوا ۔ فرمایا اس بدو کو بلا کر لاؤ۔ جب وہ شخص آیا تو امیر المؤمنینؓ نے پوچھا، بھائی یہ تم کیا دُعا مانگ رہے تھے ؟ ایسی انوکھی دُعا تو میں نے آج تک نہیں سنی ۔ تمہاری اس دُعا کا مطلب کیا ہے؟
بدو کچھ دیر رُکا اور پھر بولا حضرت آپ کو معلوم ہے۔
🌻 یہ سن کر امیر المؤمنینؓ کو اور بھی حیرت ہوئی اور فرمایا کچھ بتاؤ تو سہی ۔ مجھے کیا معلوم ہے ؟
بدو بولا ۔ امیر المؤمنینؓ آپ خوب جانتے ہیں؟
امیر المؤمنینؓ کی حیرت اور اشتیاق بڑھتا رہا۔ بولے بھی میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آیا
بتاؤ تو سہی۔
بدو نے کہا ـــــــ امیر المؤمنین! کیا آپ نے قرآن نہیں پڑھا ہے، کیا قرآن میں آپ کی نظر سے یہ آیت نہیں گزری ہے؟ وَقَلِيْلٌ مِّنْ عِبَادِيَ الشَّكُوْرُ (اور شکر گزار بندے بہت قلیل ہیں)۔ میں اپنے رب سے دعا کرتا ہوں کہ الہی تو مجھے اپنے ان شکر گزار بندوں میں سے بنا دے جو بہت ”تھوڑے“ ہیں۔
🌻یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ بہت متاثر ہوئے۔ پھر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا، ہر شخص عمر سے زیادہ جاننے والا ہے اور بہت دیر تک سر جھکائے سوچ میں ڈوبے رہے۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
کتاب #روشن ستارے
مولانا محمد یوسف اصلاحی

🌻 الله تعالیٰ کی کتاب میں متعدد ایسے نصوص وارد ہوئے ہیں جو یقین کے مقام و مرتبے، اس کی فضیلت اور اس کے اثرات کو بیان کرت...
10/08/2026

🌻 الله تعالیٰ کی کتاب میں متعدد ایسے نصوص وارد ہوئے ہیں جو یقین کے مقام و مرتبے، اس کی فضیلت اور اس کے اثرات کو بیان کرتے ہیں، نیز یقین والوں کو عظیم خصوصیات سے نوازتے ہیں اور انہیں ایمان کے اعلیٰ ترین درجات میں شمار کرتے ہیں۔ ان آیات میں سے کچھ یہ ہیں:

🌻 قوله تعالى: ﴿كَلاَّ لَوْ تَعْلَمُونَ عِلْمَ الْيَقِينِ ۝٥ لَتَرَوُنَّ الْجَحِيمَ ۝٦ ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَيْنَ الْيَقِينِ ۝٧﴾ [التكاثر، رقم: 5-7].
ان مبارک آیات میں یقین کے تین درجات کا بیان ہے: علم الیقین، عین الیقین، اور حق الیقین؛
مقصد یہ ہے کہ اگر لوگ اس بات کا علم الیقین حاصل کر لیں کہ وہ قیامت کے کن ہولناک مناظر اور جہنم کے کس عذاب کا سامنا کرنے والے ہیں، تو یہ فکر انہیں مال و اولاد کی کثرت اور اس پر فخر و مباہات کرنے سے غافل کر دے۔

قوله تعالى: ﴿إِنَّ هَذَا لَهُوَ حَقُّ الْيَقِينِ ۝٩٥﴾ [الواقعة، رقم: 95].

اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس بات کی خبر ہے کہ قرآن مجید میں قیامت، جنت اور جہنم سے متعلق جو بھی خبریں آئی ہیں، وہ بالکل ثابت اور حق ہیں جن میں کوئی شک و شبہ نہیں، اور یہ یقین کا اعلیٰ ترین مرتبہ ہے۔

🌻 قوله تعالى: ﴿وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُونَ ۝٢٤﴾ [السجدة، رقم: 24].
اس آیت میں یقین اور صبر کے درمیان ایک واضح تعلق اور ربط بیان کیا گیا ہے، اور اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ دین میں امامت (رہنمائی و پیشوائی) — جو کہ اعلیٰ ترین مراتب میں سے ہے — ان دونوں کے اجتماع کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی। ابن قیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "جب صبر کا نکاح یقین سے ہوتا ہے تو ان دونوں کے ملاپ سے دین میں امامت کی پیدائش ہوتی ہے" ۔ چنانچہ یقین سے صبر کا پھل ملتا ہے، اور صبر یقین کو مضبوط کرتا ہے، اور یہ دونوں مل کر بندے کو دین میں امامت اور ہدایت کے مقام تک پہنچاتے ہیں۔

• قوله تعالى: ﴿وَفِي الأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ۝٢٠﴾ [الذاريات، رقم: 20].

اللہ تعالیٰ نے یقین رکھنے والوں کو زمین میں موجود اپنی کائناتی نشانیوں سے فائدہ اٹھانے کے ساتھ خاص فرمایا ہے، چنانچہ صرف وہی لوگ ہیں جو ان نشانیوں میں خالق کی عظمت، اس کی توحید اور اس کی قدرت کے دلائل و برہان دیکھتے ہیں، جبکہ دوسرے لوگ ان پر سے غافل اور منہ موڑتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔

🌻 ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُؤْمِنُونَ بِمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنزِلَ مِن قَبْلِكَ وَبِالآخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ ۝٤ أُوْلَئِكَ عَلَى هُدًى مِّن رَّبِّهِمْ وَأُوْلَئِكَ هُمُ الْمُفلِحُونَ ۝٥﴾ [البقرة: 4-5]

وَبِٱلْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ: آخرت سے مراد دار آخرت یا حیات آخرت ہے۔ آخرت کے لئے یہاں ایمان کے بجائے ایقان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایمان اور ایقان کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھ لینا چاہئے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کا ضد کفر و انکار اور تکذیب ہے۔ ایقان کے معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کا ضد گمان اور شک ہے جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتا ہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لئے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل تک پہنچے اور اس طرح اس کے ایمان کی تکمیل ہوجائے۔ یہاں ایقان کا ذکر ایمان کے چند معروف عملی مظاہر کے بعد ہوا ہے جس سے اس بات کا اشارہ نکلتا ہے کہ جو لوگ مذکورہ اوصاف کے حامل ہیں درحقیقت وہی لوگ ہیں جو آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔ ( تدبر القرآن)

🌻 ﴿وَإِذَا قِيلَ إِنَّ وَعْدَ اللَّهِ حَقٌّ وَالسَّاعَةُ لاَ رَيْبَ فِيهَا قُلْتُم مَّا نَدْرِي مَا السَّاعَةُ إِن نَّظُنُّ إِلاَّ ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَيْقِنِينَ ۝٣٢﴾ [الجاثية: 32]

اور یہاں ان لوگوں کا ذکر کیا جا رہا ہے جو اس کا یقین رکھتے اگرچہ گمان کی حد تم اس کے امکان سے منکر نہیں ہیں۔ بظاہر ان دونوں گروہوں میں اس لحاظ سے بڑا فرق ہے کہ ایک بالکل منکر ہے اور دوسرا اس کے ممکن ہونے کا گمان رکھتا ہے۔ لیکن نتیجے اور انجام کے لحاظ سے ان دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ اس لیے کہ آخرت کے انکار اور اس پر یقین نہ ہونے کے اخلاقی نتائج بالکل ایک جیسے ہیں۔ کوئی شخص خواہ آخرت کو نہ مانتا ہو، یا اس کا یقین نہ رکھتا ہو، دونوں صورتوں میں لازماً وہ خدا کے سامنے اپنی جواب دہی کے احساس سے خالی ہوگا، اور یہ عدم احساس اس کو لازماً فکر و عمل کی گمراہیوں میں مبتلا کر کے رہے گا۔ صرف آخرت کا یقین ہی دنیا میں آدمی کے رویے کو درست رکھ سکتا ہے۔ یہ اگر نہ ہو تو شک اور انکار، دونوں اسے ایک ہی طرح کی غیر ذمہ دارانہ روش پر ڈال دیتے ہیں۔ اور چونکہ یہی غیر ذمہ دارانہ روش آخرت کی بد انجامی کا اصل سبب ہے، اس لیے دوزخ میں جانے سے انکار کرنے والا بچ سکتا ہے، نہ یقین رکھنے والا۔
( تفہیم القرآن)

🌻. یہ آیت واضح کرتی ہے کہ کفار کو ان کے عدمِ یقین ہی نے ہلاک کیا۔ وہ ظنون و شکوک میں زندگی بسر کرتے تھے، نہ انہیں قیامت کی خبر تھی اور نہ ہی اللہ کے وعید پر یقین، لہٰذا ان کا انجام جہنم ہوا (والعیاذ باللہ)۔ اور اللہ تعالیٰ نے اہل جہنم کے بارے میں دوسری جگہ فرمایا: ﴿مَا سَلَكُكُمْ فِي سَقَرَ ۝٤٢ قَالُوا لَمْ نَكُ مِنَ الْمُصَلِّينَ ۝٤٣ وَلَمْ نَكُ نُطْعِمُ الْمِسْكِينَ ۝٤٤ وَكُنَّا نَخُوضُ مَعَ الْخَائِضِينَ ۝٤٥ وَكُنَّا نُكَذِّبُ بِيَوْمِ الدِّينِ ۝٤٦ حَتَّى أَتَانَا الْيَقِينُ ۝٤٧﴾ [المدثر: 42-47] (تمہیں کس چیز نے جہنم میں ڈالا؟ وہ کہیں گے: ہم نمازیوں میں سے نہ تھے... اور ہم جزا کے دن کو جھٹلاتے تھے، یہاں تک کہ ہمیں یقین (موت) آ گیا)۔ پس یہاں "یقین" سے مراد موت ہے، یعنی وہ اپنی تکذیب پر قائم رہے یہاں تک کہ انہیں وہ موت آ پہنچی جو بالکلیہ یقینی اور بے شک و شبہ ہے۔

🌻 : ﴿وَاعْبُدْ رَبَّكَ حَتَّى يَأْتِيَكَ الْيَقِينُ ۝٩٩﴾ [الحجر: 99]
(اور اپنے رب کی عبادت کرتے رہو یہاں تک کہ تمہارے پاس یقین (موت) آ جائے)۔
مطلب یہ ہے کہ اپنے رب کی عبادت اور اطاعت پر اس وقت تک مداومت کرو جب تک تمہیں موت نہ آ جائے، کیونکہ موت وہ یقین ہے جس سے کوئی فرار اور مفر نہیں۔ اس آیت میں موت کو "یقین" کا نام دیا گیا ہے کیونکہ یہ ایک ایسا امر ہے جو حتمی اور بلاشبہ ہے، اور ہر ذی روح نے بالآخر موت کا ذائقہ چکھنا ہے۔

🌻 یعنی تبلیغ حق اور دعوت اصلاح کی کوششوں میں جن تکلیفوں اور مصیبتوں سے تم کو سابقہ پیش آتا ہے، ان کے مقابلے کی طاقت اگر تمہیں مل سکتی ہے تو صرف نماز اور بندگی رب پر استقامت سے مل سکتی ہے۔ یہی چیز تمہیں تسلی بھی دے گی، تم میں صبر بھی پیدا کرے گی، تمہارا حوصلہ بھی بڑہائے گی، اور تم کو اس قابل بھی بنادے گی کہ دنیا بھر کی گالیوں اور مذمتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں اس خدمت پر ڈٹے رہو جس کی انجام دہی میں تمہارے رب کی رضا ہے۔
( تفہیم القرآن)

🌻 حوالہ: موضوع کے ختم ہونے پر ہوگا
موضوع کا دوسرا حصہ

Address

Pulwama Kashmir
Srinagar

Telephone

+917780957112

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al falah study center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al falah study center:

Shortcuts

Share