02/01/2026
❤️ ۔ اسلام میں بچوں کی تربیت۔۔ ❤️
أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
❤️ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۞سورة التَّحْرِيْم 16)
تفسیر:
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حد استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوشحال ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔
👈1ـ❤️ اسلام میں بچوں کی تربیت محض سطحی ہدایات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اور مکمل نظام ہے، جس کا مقصد ایک صالح، متوازن اور اپنے لیے بھی اور اپنے معاشرے کے لیے بھی نفع بخش انسان کی تشکیل ہے۔ یہ منہج روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی نشوونما پر بھی بھرپور توجہ دیتا ہے۔ اس کی بنیاد شریعتِ اسلامیہ کے دو ابدی سرچشموں: قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ﷺ پر قائم ہے۔
👈 2 ۔ یہ تربیت پیدائش سے پہلے شروع ہوتی ہے اور پوری زندگی جاری رہتی ہے، اور والدین سے اس عظیم ذمہ داری کے گہرے شعور اور زمین میں خلافت کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔
3 ⚫ اسلام میں تربیت کا مفہوم اور اس کی اہمیت
اسلام میں تربیت محض تعلیم یا پرورش تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی نفس کی مکمل تعمیر کا عمل ہے، جس میں روحانی، عقلی، جسمانی اور نفسیاتی تمام پہلو شامل ہیں۔ اس کا مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ بنانا، زمین کی آبادکاری کے قابل کرنا، اور امت کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لائق بنانا ہے۔
اسلام نے اولاد کی تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، اور اسے مستقبل کی سرمایہ کاری اور وفات کے بعد جاری رہنے والی صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے۔
👈4۔ ● تربیت: لغوی اور اصطلاحی معنی لغوی اعتبار سے:
لفظ تربیت، فعل ربى يربي سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: پرورش کرنا، نشوونما دینا اور نگرانی کرنا۔
اصطلاحی اعتبار سے:
تربیت فرد کی ہمہ جہت پرورش اور نشوونما کا نام ہے، جو اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سنوارتی ہے، تاکہ وہ زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے اور دینی و دنیوی مقاصد حاصل کر سکے۔
👈 5۔ بچہ: امانت اور سرمایہ کاری:❤️
اسلام میں بچہ محض نسل کا تسلسل نہیں، بلکہ ایک الٰہی امانت اور عظیم ذمہ داری ہے۔
👈 5 ألا كلكم راع و كلكم مسؤول عن رعيته و الرجل راع على أهل بيته و هو مسؤول عن رعيتهیہ نگہداشت صرف کھانے، پینے اور لباس تک محدود نہیں، بلکہ روحانی، اخلاقی اور ذہنی تربیت کو بھی شامل ہے۔ اولاد کو تقویٰ اور نیکی پر پروان چڑھانا ایسا سرمایہ ہے جس کا ثمر دنیا اور آخرت دونوں میں باقی رہتا ہے۔
👈 6۔ اسلامی تربیت کی بنیادیں :❤️
اسلامی تربیت مضبوط اصولوں اور ثابت اقدار پر قائم ہے، جو ایک متوازن، صالح اور مضبوط شخصیت کی تشکیل کو یقینی بناتی ہیں۔
👈 7 ● ایمانی (عقیدتی) تربیت : ❤️
یہ مسلمان بچے کی شخصیت کی بنیاد اور اصل ستون ہے۔ اس کی ابتدا بچے کو ایمان کے چھ ارکان سکھانے سے ہوتی ہے:
اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان، اور تقدیر پر ایمان—چاہے وہ خیر ہو یا شر۔
بچے کو توحید پر پروان چڑھایا جاتا ہے، اور اس کے دل میں اللہ کی محبت، خوف اور امید پیدا کی جاتی
👈 8۔ ● توحید:❤️
بچپن ہی سے بچے کے دل میں توحید کا عقیدہ راسخ کرنا، اور یہ باور کرانا کہ اللہ ہی خالق، رازق اور مدبر ہے، اور عبادت صرف اسی کے لیے ہے۔
لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾(لقمان: 13)
توحید کی دعوت شرک سے پرہیز کی وصیت ہے ۔ توحید ہی وہ سرچشمہ صافی ہے جسکی بنیاد پر انسان کامیاب ہوسکتا ہے ۔
انکے نزدیک شرک فی الواقع ایک بدترین فعل تھا اور اسی بنا پر انہوں نے سب سے پہلے جس چیز کی اپنے لخت جگر کو تلقین کی ۔
❤️ كل مولود يولد على الفطرة.....
ہر انسان کی فطرت توحید کو تسلیم کرتی ہے
👈 9 ۔ ● عبادتی تربیت :
یہ تربیت بچے کو اسلام کے پانچ ارکان سے آشنا کرتی ہے:
کلمۂ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج۔
یہ تعلیم مرحلہ وار اور بچے کی عمر اور فہم کے مطابق دی جاتی ہے۔
❤️ ● نماز:شہادتین کے بعد سب سے اہم عملی رکن۔ بچے کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا جاتا ہے اور دس سال کی عمر میں اس پر سختی کی جاتی ہے۔
❤️ مُرُوا أولادَكُم بالصلاةِ وهُم أبناءُ سبعِ سنينَ
👈 10 ● اخلاقی تربیت: ❤️
اس کا مقصد بچے کے اندر اچھا کردار اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا ہے، جیسے سچائی، امانت، عدل، احسان، شجاعت، تواضع، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم۔
● اچھی مثال (قدوہ):
والدین اپنے بچوں کے لیے اولین نمونہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾(الاحزاب: 21)
اسی نبوی اسوہ کی روشنی میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق اور رویّوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔
👈. 11 . مكارم اخلاق : ❤️
امام غزالی فرماتے ہیں ۔ بچہ اپنے والدین کے پاس ایک امانت ہے اسکا پاکیزہ دل ایک قیمتی ہیرے کے مثل ہے ۔ جو بالکل سادہ اور ہر طرح کی نقش و نگار سے خالی ہے ۔ اس میں جو نقش و نگار بھی بنایا ہو بنایا جاسکتا ۔ اور جس جانب بھی اسے مائل کیا جاتے وہ مائل ہوجائے گا
اگر اس کو خیر و بھلائی کا عادی بنایا جاے اور اسی کو ترتیب دی جاے تو وہ دنیا اور اخرت دونوں جگہ سعادت سے ہوگے ۔
👈 12۔ مکارم اخلاق سے مراد محض اخلاقیات نہیں ہے بلکہ مکارم اخلاق سے مراد یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی انسانی زندگی کو کسی مادی اسکی بنیاد پر کسی عقلی اساس کی بنیاد پر کسی مفادداتی اساس کی بنیاد پر قائم ہونے کے بجائے خالصتاً اخلاقی اور روحانی اصولوں پر قائم ہوجائے
👈13. رحم الله والدا أعان ولده على برّه
ترجمہ : اللہ اُس والد پر رحم فرمائے جس نے اپنے بچے کو اپنی فرماں برداری (نیکی) میں مدد دی۔.
👈 15 جسمانی ترتیب
👈 16 سماجی تربیت
حوالہ: تفہیم القرآن
2۔ اولاد کے حقوق
3 ۔ محمد ابو النصر ۔۔ منشورات
Mohd LATEEF HURRAH