Al falah study center

Al falah study center islamic vedios, Lectures, information, islamic posts, quotations , general information

❤️ ۔     اسلام میں بچوں کی تربیت۔۔  ❤️ أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِي...
02/01/2026

❤️ ۔ اسلام میں بچوں کی تربیت۔۔ ❤️

أَعُوذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيم
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

❤️ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قُوۡۤا اَنۡفُسَكُمۡ وَاَهۡلِيۡكُمۡ نَارًا وَّقُوۡدُهَا النَّاسُ وَالۡحِجَارَةُ عَلَيۡهَا مَلٰٓئِكَةٌ غِلَاظٌ شِدَادٌ لَّا يَعۡصُوۡنَ اللّٰهَ مَاۤ اَمَرَهُمۡ وَيَفۡعَلُوۡنَ مَا يُؤۡمَرُوۡنَ ۞سورة التَّحْرِيْم 16)

تفسیر:
یہ آیت بتاتی ہے کہ ایک شخص کی ذمہ داری صرف اپنی ذات ہی کو خدا کے عذاب سے بچانے کی کوشش تک محدود نہیں ہے بلکہ اس کا کام یہ بھی ہے کہ نظام فطرت نے جس خاندان کی سربراہی کا بار اس پر ڈالا ہے اس کو بھی وہ اپنی حد استطاعت تک ایسی تعلیم و تربیت دے جس سے وہ خدا کے پسندیدہ انسان بنیں، اور اگر وہ جہنم کی راہ پر جا رہے ہوں تو جہاں تک بھی اس کے بس میں ہو، ان کو اس سے روکنے کی کوشش کرے۔ اس کو صرف یہی فکر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے بال بچے دنیا میں خوشحال ہوں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر اسے یہ فکر ہونی چاہیے کہ وہ آخرت میں جہنم کا ایندھن نہ بنیں۔

👈1ـ❤️ اسلام میں بچوں کی تربیت محض سطحی ہدایات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اور مکمل نظام ہے، جس کا مقصد ایک صالح، متوازن اور اپنے لیے بھی اور اپنے معاشرے کے لیے بھی نفع بخش انسان کی تشکیل ہے۔ یہ منہج روحانی اور اخلاقی پہلوؤں کی نگہداشت کے ساتھ ساتھ جسمانی اور ذہنی نشوونما پر بھی بھرپور توجہ دیتا ہے۔ اس کی بنیاد شریعتِ اسلامیہ کے دو ابدی سرچشموں: قرآنِ کریم اور سنتِ نبویہ ﷺ پر قائم ہے۔
👈 2 ۔ یہ تربیت پیدائش سے پہلے شروع ہوتی ہے اور پوری زندگی جاری رہتی ہے، اور والدین سے اس عظیم ذمہ داری کے گہرے شعور اور زمین میں خلافت کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کا تقاضا کرتی ہے۔
3 ⚫ اسلام میں تربیت کا مفہوم اور اس کی اہمیت
اسلام میں تربیت محض تعلیم یا پرورش تک محدود نہیں، بلکہ یہ انسانی نفس کی مکمل تعمیر کا عمل ہے، جس میں روحانی، عقلی، جسمانی اور نفسیاتی تمام پہلو شامل ہیں۔ اس کا مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کا سچا بندہ بنانا، زمین کی آبادکاری کے قابل کرنا، اور امت کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لائق بنانا ہے۔
اسلام نے اولاد کی تربیت کو غیر معمولی اہمیت دی ہے، اور اسے مستقبل کی سرمایہ کاری اور وفات کے بعد جاری رہنے والی صدقۂ جاریہ قرار دیا ہے۔
👈4۔ ● تربیت: لغوی اور اصطلاحی معنی لغوی اعتبار سے:
لفظ تربیت، فعل ربى يربي سے ماخوذ ہے، جس کے معنی ہیں: پرورش کرنا، نشوونما دینا اور نگرانی کرنا۔
اصطلاحی اعتبار سے:
تربیت فرد کی ہمہ جہت پرورش اور نشوونما کا نام ہے، جو اس کی زندگی کے تمام پہلوؤں کو سنوارتی ہے، تاکہ وہ زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہو سکے اور دینی و دنیوی مقاصد حاصل کر سکے۔
👈 5۔ بچہ: امانت اور سرمایہ کاری:❤️
اسلام میں بچہ محض نسل کا تسلسل نہیں، بلکہ ایک الٰہی امانت اور عظیم ذمہ داری ہے۔

👈 5 ألا كلكم راع و كلكم مسؤول عن رعيته و الرجل راع على أهل بيته و هو مسؤول عن رعيتهیہ نگہداشت صرف کھانے، پینے اور لباس تک محدود نہیں، بلکہ روحانی، اخلاقی اور ذہنی تربیت کو بھی شامل ہے۔ اولاد کو تقویٰ اور نیکی پر پروان چڑھانا ایسا سرمایہ ہے جس کا ثمر دنیا اور آخرت دونوں میں باقی رہتا ہے۔
👈 6۔ اسلامی تربیت کی بنیادیں :❤️
اسلامی تربیت مضبوط اصولوں اور ثابت اقدار پر قائم ہے، جو ایک متوازن، صالح اور مضبوط شخصیت کی تشکیل کو یقینی بناتی ہیں۔
👈 7 ● ایمانی (عقیدتی) تربیت : ❤️
یہ مسلمان بچے کی شخصیت کی بنیاد اور اصل ستون ہے۔ اس کی ابتدا بچے کو ایمان کے چھ ارکان سکھانے سے ہوتی ہے:
اللہ پر ایمان، فرشتوں پر ایمان، آسمانی کتابوں پر ایمان، رسولوں پر ایمان، یومِ آخرت پر ایمان، اور تقدیر پر ایمان—چاہے وہ خیر ہو یا شر۔
بچے کو توحید پر پروان چڑھایا جاتا ہے، اور اس کے دل میں اللہ کی محبت، خوف اور امید پیدا کی جاتی
👈 8۔ ● توحید:❤️
بچپن ہی سے بچے کے دل میں توحید کا عقیدہ راسخ کرنا، اور یہ باور کرانا کہ اللہ ہی خالق، رازق اور مدبر ہے، اور عبادت صرف اسی کے لیے ہے۔
لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو نصیحت:
﴿يَا بُنَيَّ لَا تُشْرِكْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ﴾(لقمان: 13)
توحید کی دعوت شرک سے پرہیز کی وصیت ہے ۔ توحید ہی وہ سرچشمہ صافی ہے جسکی بنیاد پر انسان کامیاب ہوسکتا ہے ۔
انکے نزدیک شرک فی الواقع ایک بدترین فعل تھا اور اسی بنا پر انہوں نے سب سے پہلے جس چیز کی اپنے لخت جگر کو تلقین کی ۔
❤️ كل مولود يولد على الفطرة.....
ہر انسان کی فطرت توحید کو تسلیم کرتی ہے
👈 9 ۔ ● عبادتی تربیت :

یہ تربیت بچے کو اسلام کے پانچ ارکان سے آشنا کرتی ہے:
کلمۂ شہادت، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج۔
یہ تعلیم مرحلہ وار اور بچے کی عمر اور فہم کے مطابق دی جاتی ہے۔

❤️ ● نماز:شہادتین کے بعد سب سے اہم عملی رکن۔ بچے کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا جاتا ہے اور دس سال کی عمر میں اس پر سختی کی جاتی ہے۔
❤️ مُرُوا أولادَكُم بالصلاةِ وهُم أبناءُ سبعِ سنينَ

👈 10 ● اخلاقی تربیت: ❤️
اس کا مقصد بچے کے اندر اچھا کردار اور اعلیٰ اخلاق پیدا کرنا ہے، جیسے سچائی، امانت، عدل، احسان، شجاعت، تواضع، بڑوں کا احترام اور چھوٹوں پر رحم۔
● اچھی مثال (قدوہ):
والدین اپنے بچوں کے لیے اولین نمونہ ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ﴾(الاحزاب: 21)
اسی نبوی اسوہ کی روشنی میں والدین کو چاہیے کہ وہ اپنے اخلاق اور رویّوں میں اسلامی تعلیمات پر عمل کریں۔
👈. 11 . مكارم اخلاق : ❤️
امام غزالی فرماتے ہیں ۔ بچہ اپنے والدین کے پاس ایک امانت ہے اسکا پاکیزہ دل ایک قیمتی ہیرے کے مثل ہے ۔ جو بالکل سادہ اور ہر طرح کی نقش و نگار سے خالی ہے ۔ اس میں جو نقش و نگار بھی بنایا ہو بنایا جاسکتا ۔ اور جس جانب بھی اسے مائل کیا جاتے وہ مائل ہوجائے گا
اگر اس کو خیر و بھلائی کا عادی بنایا جاے اور اسی کو ترتیب دی جاے تو وہ دنیا اور اخرت دونوں جگہ سعادت سے ہوگے ۔
👈 12۔ مکارم اخلاق سے مراد محض اخلاقیات نہیں ہے بلکہ مکارم اخلاق سے مراد یہ ہے کہ بحیثیت مجموعی انسانی زندگی کو کسی مادی اسکی بنیاد پر کسی عقلی اساس کی بنیاد پر کسی مفادداتی اساس کی بنیاد پر قائم ہونے کے بجائے خالصتاً اخلاقی اور روحانی اصولوں پر قائم ہوجائے
👈13. رحم الله والدا أعان ولده على برّه
ترجمہ : اللہ اُس والد پر رحم فرمائے جس نے اپنے بچے کو اپنی فرماں برداری (نیکی) میں مدد دی۔.
👈 15 جسمانی ترتیب
👈 16 سماجی تربیت

حوالہ: تفہیم القرآن
2۔ اولاد کے حقوق
3 ۔ محمد ابو النصر ۔۔ منشورات
Mohd LATEEF HURRAH

🌟🌟   *حقيقت النكاح* .    🌟🌟 👈 و من أياته أن خلق لكم من أنفسكم ازواجا لتسكنوا إليها و جعل بينكم مودة و رحمة إن فى ذلك لآي...
30/12/2025

🌟🌟 *حقيقت النكاح* . 🌟🌟
👈 و من أياته أن خلق لكم من أنفسكم ازواجا لتسكنوا إليها و جعل بينكم مودة و رحمة إن فى ذلك لآيات لقوم يتفكرون ( سورة الروم )
👈 1۔ نکاح کس چیز کا نام ہے: حیاتی انسانی کی زنجیر کو مربوط کرنے کے لیے خالق کائنات نے فطرت انسانی کو چند روابط و تعالی کا پابند بنایا ہے جس کے ذریعے ایک مستحکم معاشرہ تشکیل پاتا ہے ان روابط و تعلقات کا سلسلہ وجود انسان سے لے کر موت تک مرحلہ وار چلتا رہتا ہے انسانی وجود انہی روابط کا شاہ خسانہ ہے۔ دنیا میں اتی ہی ماں باپ بہن بھائی تمام تعلقات وقوع پزیر ہوجاتے ہیں ۔ سن بلوغ کے بعد فطرت شریک حیات کی متقاضی ہوتی ہے اور اس تقاضے کو پورے کرنے کے لیے شریعت نے انسان کو ایک ضابطہ کا پابند بنایا ہے اسی ضابطے کے مطابق رابط و تعلق قائم کرنے کا نام نکاح یا شادی ہے
👈 2۔ خاندان کا اغاز مرد و عورت کے جنسی تعلق سے ہوتا ہے اس لیے خاندان کی تشکیل میں اس کو بنیادی حیثیت حاصل ہے اس تعلق کے بارے میں دو نقطہ نظر پائے جائیں ایک نقطہ نظر یہ رہبانیت کا ہے اور دوسرا اباحت کا ہے یہ دونوں ہی نقطے نظر غیر فطری اور اعتدال سے ہٹے ہوئے ہیں
❤️ رہبانیت جنسی تعلق کی مخالفت : رہبانیت جنسی جذبات کو دبانے اور کچلنے کی تعلیم دیتی ہے اور اسے اور روحانی ترقی کا ذریعہ تصور کرتی ہے لیکن یہ انسان کی فطرت کے خلاف ہے
❤️ اباحیت اور اس کے نقصانات: یہ جنسی تسکین کے لیے پوری ازادی چاہتا ہے اور کسی قید و بند کا قائل نہیں ہے یہ معاشرے کو جنسی انتشار اور اوارگی کی طرف لے جاتا ہے اس کے دو نقصانات بالکل واضح ہیں ایک یہ کہ ادمی کے اندر ذمہ داریوں سے گریز اور ذاتی لذت کے حصول کا مزاج پیدا ہوتا ہے ۔
دوسرے یہ کہ اگر اولاد کے بغیر زندگی گزارنے کا رجحان عام ہو تو ابادی میں لازما کمی واقع ہوگی معاشرے افراد قوت سے محروم ہوتا ہے
👈 3۔ نکاح کی اہمیت: نکاح کتاب اللہ اور سنت النبی صلی اللہ علیہ وسلم میں دیے گئے حکم کی تعمیل اور انبیاء کرام کی سنت ہے اللہ تعالی کی طرف سے تمام انبیاء و رسول انسانوں کے لیے اسوہ ہوتے ہیں اور ان کا عمل منشا الہی کے عین مطابق ہو تا ہے
❤️ ولقد ارسلنا رسولا من قبلك وجعلنا لهم ازواجا وذريه (سوره الرعد 38)
❤️ اربع من سنن المرسلين الحياه وتعطر والسواق والنكاح ( سنن ترمذی ، ابو ایوب انصاری)
👈 4 ۔ و من آياته أن خلق لكم من أنفسكم ....
یعنی خالق کا کمال حکمت یہ ہے کہ اس نے انسان کی صرف ایک صنف نہیں بنائی بلکہ اسے دو صنفوں (Sexes) کی شکل میں پیدا کیا جو انسانیت میں یکساں ہیں، جن کی بناوٹ کا بنیادی فارمولا بھی یکساں ہے، مگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف جسمانی ساخت، مختلف ذہنی و نفسی اوصاف اور مختلف جذبات و داعیات لے کر پیدا ہوتی ہیں۔ اور پھر ان کے درمیان یہ حیرت انگیز مناسبت رکھ دی گئی ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا پورا جوڑ ہے، ہر ایک کا جسم اور اس کے نفسیات و داعیات دوسرے کے جسمانی و نفسیاتی تقاضوں کا مکمل جواب ہیں۔ مزید برآں وہ خالق حکیم ان دونوں صنفوں کے افراد کو آغاز آفرینش سے برابر اس تناسب کے ساتھ پید کیے چلا جارہا ہے کہ آج تک کبھی ایسا نہیں ہوا کہ دنیا کی کسی قوم یا کسی خطہ زمین میں صرف لڑکے ہی لڑکے پیدا ہوئے ہوں، یا کہیں کسی قوم میں صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوتی چلی گئی ہوں۔ یہ ایسی چیز ہے جس میں کسی انسانی تدبیر کا قطعا کوئی دخل نہیں ہے۔ انسان ذرہ برابر بھی نہ اس معاملہ میں اثر انداز ہوسکتا ہے کہ لڑکیاں مسلسل ایسی زنانہ خصوصیات اور لڑکے مسلسل ایسی مردانہ خصوصیات لیے ہوئے پیدا رہیں جو ایک دوسرے کا ٹھیک جوڑ ہوں، اور نہ اس معاملہ ہی میں اس کے اپس اثر انداز ہونے کا کوئی ذریعہ ہے کہ عورتوں اور مردوں کی پیدائش اس طرح مسلسل ایک تناسب کے ساتھ ہوتی چلی جائے۔ ہزار ہا سال سے کروڑوں اور اربوں انسانوں کی پیدائش میں اس تدبیر و انتظام کا اتنے متناسب طریقے سے پیہم جاری رہنا اتفاقا بھی نہیں ہوسکتا اور یہ بہت سے خداؤں کی مشترک تدبیر کا نتیجہ بھی نہیں ہوسکتا۔ یہ چیز صریحا اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ ایک خالق حکیم، اور ایک ہی خالق حکیم نے اپنی غالب حکمت وقدرت سے ابتداء مرد اور عورت کا ایک موزوں ترین ڈیزائن بنایا، پھر اس بات کا انتظام کیا کہ اس ڈیزائن کے مطابق بےحد و حساب مرد اور بےحد و حساب عورتیں اپنی الگ الگ انفرادی خصوصیات لیے ہوئے دنیا بھر میں ایک تناسب کے ساتھ پیدا ہوں۔
سورة الروم 29
یعنی یہ انتظام الل ٹپ نہیں ہوگیا ہے بلکہ بنانے والے نے بالارادہ اس غرض کے لیے یہ انتظام کیا ہے کہ مرد اپنی فطرت کے تقاضے عورت کے پاس، اور عورت اپنی فطرت کی مانگ مرد کے پاس پائے، اور دونوں ایک دوسرے سے وابستہ ہو کر ہی سکون و اطمینان حاصل کریں۔ یہی وہ حکیمانہ تدبیر ہے جسے خالق نے ایک طرف انسانی نسل کے برقرار رہنے کا، اور دوسری طرف انسانی تہذیب و تمدن کو وجود میں لانے کا ذریعہ بنایا ہے۔ اگر یہ دونوں صنفیں محض الگ الگ ڈیزائنوں کے ساتھ پیدا کردی جاتیں اور ان میں وہ اضطراب نہ رکھ دیا جاتا جو ان کے باہمی اتصال و وابستگی کے بغیر مدبل بسکون نہیں ہوسکتا، تو انسانی نسل تو ممکن ہے کہ بھیڑ بکریوں کی طرح چل جاتی، لیکن کسی تہذیب و تمدن کے وجود میں آنے کا کوئی امکان نہ تھا۔ تمام انواع حیوانی کے برعکس نوع انسانی میں تہذیب و تمدن کے رونما ہونے کا بنیادی سبب یہی ہے کہ خالق نے اپنی حکمت سے مرد اور عورت میں ایک دوسرے کے لیے وہ امنگ، وہ پیاس، وہ اضطراب کی کیفیت رکھ دیی جسے سکون میسر نہیں آتا جب تک کہ وہ ایک دوسرے سے جڑ کر نہ رہیں۔ یہی سکون کی طلب ہے جس نے انہیں مل کر گھر بنانے پر مجبور کیا۔ اسی کی بدولت خاندان اور قبیلے وجود میں آئے۔ اور اسی کی بدولت انسان کی زندگی میں تمدن کا نشو و نما ہوا۔ اس نشو و نما میں انسان کی ذہنی صلاحیتیں مددگار ضرور ہوئی ہیں مگر وہ اس کی اصلی محرک نہیں ہیں۔ اصل محرک یہی اضطراب ہے جسے مرد و عورت کے وجود میں ودیعت کر کے انہیں " گھر " کی تاسیس پر مجبور کردیا گیا۔ کون صاحب عقل یہ سوچ سکتا ہے کہ دانائی کا یہ شاہکات فطرت کی اندھی طاقتوں سے محض اتفاقا سرزد ہوگیا ہے ؟ یا بہت سے خدا یہ انتظام کرسکتے تھے کہ اس گہرے حکیمانہ مقصد کو ملحوظ رکھ کر ہزارہا برس سے مسلسل بیشمار مردوں کو یہ خاص اضطراب لیے ہوئے پیدا کرتے چلے جائیں ؟ یہ تو ایک حکیم اور ایک حکیم کی حکمت کا صریح نشان ہے جسے صرف عقل کے اندھے ہی دیکھنے سے انکار کرسکتے ہیں۔
محبت سے مراد یہاں جنسی محبت (Sexual Love) ہے جو مرد اور عورت کے اندر جذب و کشش کی ابتدائی محرک بنتی ہے اور پھر انہیں ایک دوسرے سے چسپاں کیے رکھتی ہے۔ اور رحمت سے مراد وہ روحانی تعلق ہے جو ازدواجی زندگی میں بتدریج ابھرتا ہے، جس کی بدولت وہ ایک دوسرے کے خیر خواہ، ہمدرد و غم خوار اور شریک رنج و راحت بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت ایسا آتا ہے جب جنسی محبت پیچھے جا پڑتی ہے اور بڑھاپے میں یہ جیون ساتھی کچھ جوانی سے بھی بڑھ کر ایک دوسرے کے حق میں رحیم و شفیق ثابت ہوتے ہیں۔ یہ دو مثبت طاقتیں ہیں جو خالق نے اس ابتدائی اضطراب کی مدد کے لیے انسان کے اندر پیدا کی ہیں جس کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ وہ اضطراب تو صرف سکون چاہتا ہے اور اس کی تلاش میں مرد و عورت کو ایک دوسرے کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ دو طاقتیں آگے بڑھ کر ان کے درمیان مستقل رفاقت کا ایسا رشتہ جوڑ دیتی ہیں جو دو الگ ماحولوں میں پرورش پائے ہوئے اجنبیوں کو ملا کر کچھ اس طرح پیوستہ کرتا ہے کہ عمر بھر وہ زندگی کے منجدھار میں اپنی کشتی ایک ساتھ کھینچتے رہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ محبت و رحمت جس کا تجربہ کروڑوں انسانوں کو اپنی زندگی میں ہو رہا ہے، کوئی مادی چیز نہیں ہے جو وزن اور پیمائش میں آسکے، نہ انسانی جسم کے عناصر ترکیبی میں کہیں اس کے سرچشمے کی نشان دہی کی جاسکتی ہے، نہ کسی لیبارٹری میں اس کی پیدائش اور اس کے نشو و نما کے اسباب کا کھوج لگایا جاسکتا ہے۔ اس کی کوئی توجیہ اس کے سوا نہیں کی جاسکتی کہ ایک خالق حکیم نے بالارادہ ایک مقصد کے لیے پوری مناسبت کے ساتھ اسے نفس انسانی میں ودیعت کردیا ہے۔تفہیم القرآن ۔
👈 5۔ لتسكنوا اليها :
تاکہ تم انہیں گھروں کے اندر گھر اور مکانوں کے اندر سکون گاہ بنا لو۔
جس طرح آدمی پردہ اور حفاظت کے لیے اپنے گھر میں پناہ لیتا ہے، اسی طرح وہ اپنی بیوی کے پاس پناہ لیتا ہے۔
اور جس طرح آدمی آرام و راحت کے لیے اپنے گھر کا رخ کرتا ہے، اسی طرح وہ اپنی بیوی کے پاس آتا ہے۔
جب اللہ نے حضرت حوّاؑ کو حضرت آدمؑ کی پسلی سے پیدا کیا تو انہیں اصل تخلیق ہی میں آدمؑ کا ایک حصہ بنایا۔
اور فطرت اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ انسان اپنی بیوی کے ساتھ اسی بنیاد پر معاملہ کرے کہ وہ اس کا ہی ایک حصہ ہے۔
👈 6. هن لباس لكم و أنتم لباس لهن /
پہلی بات لباس انسانی ضرورت ہے جس سے کسی بشر کو استغناء نہیں ہوسکتا ۔ قرآنی تصور زندگی میں شادی و نکاح اسی درجہ ناگزیر و ضروری انسانی حاجت قرار پاتے ہیں جس طرح کہ لباس۔ ہمارے لے اسوہ حسنہ کسی بزرگ یا ولی کا طرز عمل نہیں بلکہ اللہ کے آخری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک عمل ہونا چاہیے ۔
👈 7۔ مناسب مدت عمر کے بعد بچوں کو ستر پوشی کی تلقین کرنا اور برہنگی سے نہ روکنا بے حیائ کی تعلیم دینے کے مرادف ہوجاتا ہے ۔
مناسب عمر کو پہنچنے کے بعد جو شریعت میں قرائن و علاماتِ اور سن وسال سے متعین و محدود کی گی ہے ۔ تو نوجوان لڑکے لڑکیوں کی شادی ن نکاح پر توجہ نہ دینا بھی اباحیت و فواحش کے رواج پانے کا سبب بنتا ہے ۔
👈 8 لباس کی خرید و فرخت یا تیاری و فراہمی کا مسلہ عام انسانی زندگی میں ایسا نہیں سمجھا جاتا کہ سالہا سال پہلے اسے اسکے لے تیاری ہو اور لاتعداد دولت اکٹھا کی جاے ۔ بالکل اسی لحاظ سے نکاح اور شادی کا معاملہ بھی اسلامی معاشرہ میں ایسا مہتم بالشاں مسلہ نہیں ہوتا جس کے لے لمبی چوڑی تقریبات اور فضول خرچوں کا التزام کرنا فرض کیا جائے ( مطالعہ قرآن کے رہنماے اصول ۔ ذکی الرحمان)
👈 8 ۔نکاح عبادت کی حیثیت سے
نکت چونکہ اللہ کے حکم کی بجا اوری ہیں اور انسان اپنی عفت و عصمت کو محفوظ رکھنے کے لیے نکاح کرتا ہے اس لیے عظیم عبادت ہے جو باعث اجر و ثواب ہے اس لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ترغیب دی ہے اور اس کو اپنی سنت اور طریقے کار دیا ہے اور اپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
❤️ وفي بضع احدكم الصدقه( مسلم )
تم میں سے کسی کے ازدواجی تعلق قائم کرنے میں صدقہ ہے ۔
👈 9۔ بہترین نکاح:
❤️ ان اعظم النكاح بركه ايسره مؤونه ( مسند احمد/ حضرت عائشہ)
برکت کے اعتبار سے سب سے بہترین نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو
❤️ ان من يُمنِ المرأة تيسيرَ خِطبتِها وتيسير صَداقِها وتيسير رحمِها
ترجمہ: عورت کو پیغام دینے میں اسانی ہونا اس کے مہر کا اسان ہونا اور اس کے رحم مادر کا بہتر ہونا عورت کے بابرکت ہونے کی دلیل ہے
👈 10 ۔ وانا اقول من عندي ومن شؤومها تعسر امرها وتكثره صداقها ( صحیح ابن حبان/
حضرت عروہ کہتے ہے ۔ میں اپنی طرف سے کہتا ہوں ۔ اور اس کے امور کا مشکل ہونا اور زیادہ مہر ہونا اس کی نحوست کی دلیل ہے
👈 11۔ حضرت عمر نے ایک مرتبہ دوران خطبہ فرمایا تھا :
ألا لا تغلوا صُدُقَ النساء فانه لو كان مكرمة في الدنيا او تقوى عند الله كان أولاكمو به النبي صلى الله عليه وسلم ( سنن النسائی)
ترجمہ: سن لو عورتوں کے مہر میں غلو سے کام مت لو ، کیونکہ اگر یہ دنیا میں اعزاز کی بات ہوتی یا اللہ کے نزدیک پسندیدہ کام ہوتا تو اللہ کے نبی ضرور ایسا کرتا
👈 12 ۔ ایک لڑکی اور محتاج شخص کی محبت ۔
لم يُرَ للمتحابّين مثلُ النكاح ( سنن ابن ماجہ)
ترجمہ: آپس میں محبت رکھنے والوں کے لے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں ہے ‌13۔ اس حدیثِ کی مزید ۔
👈 حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت ہے فرماتے ہیں ۔
عندنا يتيمة قد خطبها رجلان مؤسر ومعسر هي تهوَي المعسر ونحن نهوى والمؤسر وقال الرسول صلى الله عليه وسلم لم ير لمتحابين مثل النكاح . ( مسند ابی یعلی)
ترجمہ: ایک شخص نے بھی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس ایک یتیم بچی ہیں جس کو مالدار اور نادار لوگوں نے پیغام دیا اور وہ نادار کو چاہتی ہے اور ہم مالدار کو چاہتے ہیں اللہ کے رسول نے فرمایا اپ بس میں محبت رکھنے والوں کے لیے نکاح جیسی کوئی چیز نہیں ہے
14 👈ایک آدمی نے نواسہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت حسین بن علی سے دریافت کیا میری ایک بیٹی ہے ۔میں اس کی شادی کس سے کروں اپ نے فرمایا جو اللہ سے ڈرنے والا ہو اس سے شادی کرو ۔اگر وہ تمہاری بیٹی سے محبت کرے گا تو اکرام و اعزاز رکھے گا اور نفرت کرے گا تو خدا کا خوف اس ظلم نہیں کرنے دے گا

حوالہ:1 حقیقت نکاح ۔ ڈاکٹر عنایت اللہ وانی ندوی
2 اسلام کا عائلی نظام ۔ مولانا جلال الدین عمری
3
مطالعہ قرآن کے رہنماے اصول ۔ مولانا ذکی الرحمان فلاحی مدنی
4 رسائل من القرآن: ادھم شرقاوی
5 ۔ تفہیم القرآن
Mohd LATEEF HURRAH

🔴 🤲🤲  أَذْكَارُ الصَّبَاحِ 🤲🤲صبح و شام کے اذکار ▪️ آيَةُ الْكُرْسِيِّ: (اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيّ...
29/12/2025

🔴 🤲🤲 أَذْكَارُ الصَّبَاحِ 🤲🤲صبح و شام کے اذکار
▪️ آيَةُ الْكُرْسِيِّ: (اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَّهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَؤُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ)
مَنْ قَرَأَهَا لَا يَزَالُ عَلَيْهِ مِنَ اللَّهِ حَافِظٌ وَلَا يَقْرَبُهُ شَيْطَانٌ حَتَّى يُصْبِحَ.
قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
(مَنْ قَرَأَهَا دُبُرَ كُلِّ صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ لَمْ يَمْنَعْهُ مِنْ دُخُولِ الْجَنَّةِ إِلَّا أَنْ يَمُوتَ).
مَنْ قَرَأَ ( قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ ) وَ ( الْمُعَوِّذَتَيْنِ )
حِينَ يُصْبِحُ وَحِينَ يُمْسِى ثَلَاثَ مَرَّاتٍ تَكْفِيهِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ

1- أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، رَبِّ أَسْأَلُكَ خَيْرَ مَا فِي هَذَا الْيَوْمِ وَخَيْرَ مَا بَعْدَهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ هَذَا الْيَوْمِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكَسَلِ وَسُوءِ الْكِبَرِ، رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابٍ فِي النَّارِ وَعَذَابٍ فِي الْقَبْرِ. [مسلم 4/2088]

2- اللَّهُمَّ بِكَ أَصْبَحْنَا وَبِكَ أَمْسَيْنَا، وَبِكَ نَحْيَا وَبِكَ نَمُوتُ وَإِلَيْكَ النُّشُورُ. [الترمذي 5/466]

3- اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ، وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ، أَبُوءُ لَكَ بِنِعْمَتِكَ عَلَيَّ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ. [البخاري 7/150]

4- اللَّهُمَّ إِنِّي أَصْبَحْتُ أُشْهِدُكَ، وَأُشْهِدُ حَمَلَةَ عَرْشِكَ، وَمَلَائِكَتَكَ، وَجَمِيعَ خَلْقِكَ، أَنَّكَ أَنْتَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، وَأَنَّ مُحَمَّداً عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ. (أَرْبَعَ مَرَّاتٍ) [أبو داود 4/317]

5- اللَّهُمَّ مَا أَصْبَحَ بِي مِنْ نِعْمَةٍ أَوْ بِأَحَدٍ مِنْ خَلْقِكَ، فَمِنْكَ وَحْدَكَ لَا شَرِيكَ لَكَ، فَلَكَ الْحَمْدُ وَلَكَ الشُّكْرُ. [أبو داود 4/318]

6- اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. (ثَلَاثاً)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ، وَالْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ. (ثَلَاثاً) [أبو داود 4/324]

7- حَسْبِيَ اللَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَهُوَ رَبُّ الْعَرْشِ الْعَظِيمِ. (سَبْعَ مَرَّاتٍ حِينَ يُصْبِحُ وَيُمْسِي) [أبو داود موقوفاً 4/321]

8- اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ...... اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ...... اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ...... اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ...... اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ ...... اللَّهُمَّ صَلِّ وَ سَلِّمْ عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ
(قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ حِينَ يُصْبِحُ عَشْراً وَحِينَ يُمْسِي عَشْراً أَدْرَكَتْهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ. رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ).

9- اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي دِينِي وَدُنْيَايَ وَأَهْلِي وَمَالِي، اللَّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِي وَآمِنْ رَوْعَاتِي، اللَّهُمَّ احْفَظْنِي مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ وَمِنْ خَلْفِي وَعَنْ يَمِينِي وَعَنْ شِمَالِي، وَمِنْ فَوْقِي، وَأَعُوذُ بِعَظَمَتِكَ أَنْ أُغْتَالَ مِنْ تَحْتِي. [صحيح ابن ماجه 2/332]

10- اللَّهُمَّ عَالِمَ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَاطِرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَبَّ كُلِّ شَيْءٍ وَمَلِيكَهُ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَمِنْ شَرِّ الشَّيْطَانِ وَشِرْكِهِ، وَأَنْ أَقْتَرِفَ عَلَى نَفْسِي سُوءاً أَوْ أَجُرَّهُ إِلَى مُسْلِمٍ. [صحيح الترمذي 3/142]

11- بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ. (ثَلَاثاً) [أبو داود 4/323]
12- رَضِيتُ بِاللَّهِ رَبّاً وَبِالْإِسْلَامِ دِيناً وَبِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَبِيّاً. (ثَلَاثاً) [أبو داود 4/318]

13- سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ عَدَدَ خَلْقِهِ، وَرِضَا نَفْسِهِ، وَزِنَةَ عَرْشِهِ، وَمِدَادَ كَلِمَاتِهِ. (ثَلَاثاً) [مسلم 4/2090]

14- سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ. (مِائَةَ مَرَّةٍ) [مسلم 4/2071]

15- يَا حَيُّ يَا قَيُّومُ بِرَحْمَتِكَ أَسْتَغِيثُ، أَصْلِحْ لِي شَأْنِي كُلَّهُ، وَلَا تَكِلْنِي إِلَى نَفْسِي طَرْفَةَ عَيْنٍ. [صحيح الترغيب والترهيب 1/273]

16- لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ. (مِائَةَ مَرَّةٍ) [البخاري 4/95 ومسلم 4/2071]

17- أَصْبَحْنَا وَأَصْبَحَ الْمُلْكُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذَا الْيَوْمِ، فَتْحَهُ، وَنَصْرَهُ، وَنُورَهُ وَبَرَكَتَهُ، وَهُدَاهُ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا فِيهِ وَشَرِّ مَا بَعْدَهُ. [أبو داود 4/322]

18 – أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الْعَظِيمَ. مِائَةَ مَرَّةٍ
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ فِي الْيَوْمِ مِائَةَ مَرَّةٍ)) قَالَ الْهَيْثَمِي حَدِيثُ أَبِي هُرَيْرَةَ صَحِيحٌ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ. وَفِي رِوَايَةِ أَحْمَدَ وَالنَّسَائِيِّ وَالطَّبَرَانِيِّ بِلَفْظِ "...فِي كُلِّ يَوْمٍ مِائَةَ مَرَّةٍ".
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ.
🤲 محمد سعيد أبو النصر

اذكار الصباح و المساء

28/12/2025

Aabid salam

حب رسول اور اسکے تقاضے ۔❤️  و ما ارسلنا من رسول إلا ليطاع بإذن الله ( سورہ النساء 64) 👈 حقیقی محبت اس بات کو بخوبی جانتا...
27/12/2025

حب رسول اور اسکے تقاضے ۔
❤️ و ما ارسلنا من رسول إلا ليطاع بإذن الله ( سورہ النساء 64)
👈 حقیقی محبت اس بات کو بخوبی جانتا ہے کہ اگر میں نے آپکی محبت اور قدر و منزلت میں ذرہ برابر کمی یا اضافہ کیا تو یہ اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی ہوگی اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین سے روگردانی مزید براں یہ کہ اپ کی محبت میں وہ کچھ کرنا جو اپ سے ثابت نہیں اپ جھوٹ باندھے کے مترادف ہے ۔
👈 محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ایمان کی علامت بھی ہے اور ایمانی حلاوت کے حصول کا اہم ذریعہ بھی ہے ۔
👈 محبت رسول مقام رسالت کے اعتراف کا لازمی تقاضا بھی ہے ۔
👈 محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق بندہ مومن کی فکر سے بھی ہوتا ہے اور اسکے عمل سے بھی ہوتا ہے ۔
👈 کسی چیز کو تسلیم کرنے کے بعد اس شے مخصوص کے تعلق سے جو ذمہ داری کسی شخص پر عائد ہوتی ہے اسکا نام تقاضا ہے جو چیز جتنی اہم ہوگی اسکے تقاضے بھی اتنے ہی اہم ہوں گے ۔
👈 محبت زندگی ہی کی نہیں تمام شرائع کی بھی اصل غرض و غایت رہی ہے
❤️ الذين أمنوا أشد حبا لله ( بقرہ 165)

ترجمہ: حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔

👈 حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ادمی کی زندگی میں اصل فیصلہ کن چیز محبت ہی ہے
❤️ المرء مع من أحب
ادمی اسی کے ساتھ ہوگا جس سے وہ محبت کرتا ہے
👈 اپ کی محبت دین و ایمان کا عین تقاضا ہے ۔ محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محروم دل ایمان کی حقیقت اور اسکی لذت سے نا آشنا ہوتا ہے ۔
❤️ عن انس عنه أن رسول الله قال لا يؤمن أحدكم حتى أكون أحب اليه من والده و ولده و الناس اجمعين ( بخاری )
👈 حقیقی محبت تو وہی ہے کہ جسے محبوب کی ایک ایک ادا بھاے اور وہ اسکے ایک ایک حکم پر اپنا سب کچھ نچھاور کر دیے حتی کہ اپنی جان تک قربان کر دینے کے تیار رہے ۔
👈 محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اگر جسم ہے تو تقاضا اس کی جان کہ دونوں سے مل کر ہی ایمان برسالت کا وجود ممکن ہے
👈 انا عبد الله ابن عمرو قال قال رسول الله عليه وسلم لا يؤمن احدكم حتى يكون هواه تبعا لما جئت به ) حدیث)
اگر تقاضے محبت کی کوئی بھی رمق اس کے اندر نہیں ہے تو ہاں وہ اچھل اچھل کر محبت رسول کا دم بھری اور اس کے لیے وہ کتنی ہی ریاکاری کرے اس سے کیا حاصل
🌟 اطاعت رسول الله عليه وسلم :
اپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کا اولین تقاضا یہ ہیں کہ جملہ شعبہ جات میں اپ کی مکمل اطاعت کی جائے اور اسلم کی بعثت کا بنیادی مقصد ہی ہوتا ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے
❤️ وما ارسلنا من رسول الا ليتاع باذن الله ( سوره النساء)
چونکہ اللہ رب العزت کی کامل اطاعت کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہو سکتا جب تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اطاعت نہ کی جائے
❤️ من يطيع الرسول فقد اطاع الله ومن تولى فما ارسلناك عليهم حفيظا (سوره النساء80)
🌟 اطاعت رسول أعمال كى بنياد .

يا ايها الذين امنوا اطيعوا الله واطيعوا ا الرسول ولا تبطلوا اعمالكم ( سورہ محمد 32)
بلا الفاظ دیگر اعمال کے نافع اور نتیجہ خیز ہونے کا سہارا انحصار اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر ہے اطاعت منحرف ہو جانے کے بعد کوئی عمل بھی خیز نہیں رہتا کہ ادمی اس پر کوئی اجر پائے پانی کا مستحق ہو سکتے ۔
🌟 اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وسلم رحمت کا باعث ہے ۔
👈 اللہ تعالی نے اطاعت رسول کا فائدہ بہت بڑا رکھا ہے
❤️ واطيعوا الله والرسول لعلكم ترحمون (سوره النساء 132)
🌟 اطاعت رسول بڑی کامیابی ہے
❤️ ومن يدع الله ورسوله يدخله جنات تجري من تحتها الانهار خالدين فيها وذلك الفوز العظيم (سوره النساء)
كل أمتى يدخلون الجنة الا من ابى قالوا و من يأبى قال من اطاعنى دخل الجنة و من عصانى فقد ابى( بخاری )
تمام میری امت جنت میں داخل ہوگی، سوائے اس کے جو انکار کرے۔
صحابہؓ نے عرض کیا: اور کون انکار کرے گا؟
آپ ﷺ نے فرمایا: جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگا، اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے انکار کیا۔
🌟 اپ کو حکم بنانا :
محبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ اپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ مسائل میں حکم بنایا جائے اپ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو سر انکھوں پر رکھا جائے اور اس پر عمل دار امد کرنے میں لمحہ بھر کی تاخیر نہ کی جائے
❤️ فلا وربك لا يؤمنون حتى يحكموك فيما شجر بينهم ثم لا يجدوا في انفسهم حرجا مما قضيت ويسلموا تسليما (سوره النساء 65)

اس آیت کا حکم صرف حضور صلی اللہ علیہ کی زندگی تک محدود نہیں ہے بلکہ قیامت تک کے لئے ہے جو کچھ اللہ کی طرف سے نبی ﷺ لائے ہیں اور جس طریقہ پر اللہ کی ہدایت و راہنمائی کے تحت آپ نے عمل کیا ہے وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مسلمانوں کے درمیان فیصلہ کن سند ہے۔ اور اس سند کو ماننے یا نہ ماننے ہی پر آدمی کے مومن ہونے اور نہ ہونے کا فیصلہ ہے حدیث میں اسی بات کو نبی ﷺ نے ان الفاظ میں ارشاد فرمایا ہے کہ لایومن احدکم حتی یکون ھواہ تبعا لما جئت بہ تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ اس کی خواہش نفس اس طریقہ کی تابع نہ ہوجائے جسے میں لے کر آیا ہوں۔
❤️ وما كان لمؤمن ولا مؤمنه اذا قضى الله ورسوله امرا ان يكون لهم الخيرة من امرهم و من يعص الله ورسوله فقد ظل ظلالا وبينا ( الاحزب 36

یہ آیت اگرچہ ایک خاص موقع پر نازل ہوئی ہے، مگر جو حکم اس میں بیان کیا گیا ہے وہ اسلامی آئین کا اصل الاصول ہے اور اس کا اطلاق پورے اسلامی نظام زندگی پر ہوتا ہے، اس کی رو سے کسی مسلمان فرد، یا قوم، یا ادارے، یا عدالت، یا پارلیمنٹ، یا ریاست کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ جس معاملہ میں اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے کوئی حکم ثابت ہو اس میں وہ خود اپنی آزادی رائے استعمال کرے۔ مسلمان ہونے کے معنی ہی خدا اور رسول کے آگے اپنے آزادانہ اختیار سے دستبردار ہوجانے کے ہیں۔ کسی شخص یا قوم کا مسلمان ہونا اور اپنے لیے اس اختیار کو محفوظ بھی رکھنا، دونوں ایک دوسرے کی نفی کرتے ہیں۔ کوئی ذی عقل انسان ان دونوں رویوں کو جمع کرنے کا تصور نہیں کرسکتا جسے مسلمان رہنا ہو اس کو لازماً حکم خدا و رسول کے آگے جھک جانا ہوگا۔ اور جسے نہ جھکنا ہو اس کو سیدھی طرح ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان نہیں ہے۔ نہ مانے گا تو چاہے اپنے مسلمان ہونے کا وہ کتنا ہی ڈھول پیٹے، خدا اور خلق دونوں کی نگاہ میں وہ منافق ہی قرار پائے گا۔
🌟 رسول اللہلم کے نافرمانی صریح گمراہی قرار دیا
ومن يعص الله ورسوله فقد ظل ضلالا مبينا .
🌟 اور رسول کی نافرمانی کا جہنم ہے
ومن يعص الله ورسوله فان له نار جهنم خالدين فيها ابدا (سوره الجن 23)

(حوالہ : محبت رسول صلی اللہ علیہ اور اسکے تقاضے
ولی اللہ سعید فلاحی

تفسیر
غوغل
Mohd LATEEF HURRAH
Incomplete topic

27/12/2025

ul Uloom kaniopra nowgam

27/12/2025

Jamia ul Uloom

27/12/2025

/3 position Aatif juanid #

26/12/2025

/2nd position Muzamil Ashrif #

26/12/2025

❤️ Jamai ul Uloom
Qirrat competition

❤️Jamia ul Uloom 📖 Qira’at Competition Highlights 🌟Alhamdulillah, today our school successfully conducted a Qira’at Comp...
26/12/2025

❤️Jamia ul Uloom
📖 Qira’at Competition Highlights 🌟
Alhamdulillah, today our school successfully conducted a Qira’at Competition in which 27+ students participated with great enthusiasm and devotion.
We sincerely appreciate the efforts of our Hifz Department, especially our respected Hifz Chief, Mr. Amin Ahmad Lone, for his guidance and dedication.
Special thanks also to our organizer Mr. Bashir Ahmad Qureshi for making this event successful.
🏆 Results of the Competition:
🥇 First Position: Furqan Majeed
🥈 Second Position: Muzamil Ashraf
🥉 Third Position: Atif Junaid
May Allah bless all the participants and grant them success in knowledge and practice.
Keep reciting, keep shining! ✨

26/12/2025

Address

Ratnipora Pulwama Kashmir
Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Al falah study center posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Al falah study center:

Share