11/06/2026
جب رسول اللہ ﷺ نے بنو قریظہ (مدینہ کے یہودی قبیلے) کا ان کی عہد شکنی اور غداری کی وجہ سے محاصرہ کیا۔ یہ محاصرہ کئی دن جاری رہا، جس سے تنگ آکر بنو قریظہ نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ وہ اپنے حلیف (ساتھی) حضرت ابو لبابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو ان کے پاس مشورے کے لیے بھیجیں، کیونکہ ان کے اموال اور اہل و عیال اسی علاقے میں تھے۔
جب حضرت #ابو لبابہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بنو قریظہ کے پاس پہنچے، تو ان کے مرد، عورتیں اور بچے روتے ہوئے ان کے گرد جمع ہو گئے، جس سے ان کا دل پگھل گیا۔ یہودیوں نے ان سے پوچھا:
"اے ابو لبابہ! کیا ہم محمد (ﷺ) کے فیصلے پر خود کو ان کے حوالے کر دیں؟"
حضرت #ابو لبابہ نے زبان سے تو کہا: "ہاں!" لیکن ساتھ ہی انہوں نے اپنے ہاتھ سے حلق (گردن) کی طرف اشارہ کر دیا۔ اس اشارے کا مطلب یہ تھا کہ اگر تم نے خود کو رسول اللہ ﷺ کے حوالے کیا، تو تمہارا انجام قتل (ذبح) ہے۔
یہ اشارہ گویا رسول اللہ ﷺ کے اس راز یا ارادے کو فاش کرنا تھا جو ابھی تک صیغہ راز میں تھا۔ حضرت ابو لبابہ فرماتے ہیں کہ:
"خدا کی قسم! ابھی میرے قدم اپنی جگہ سے ہٹے بھی نہیں تھے کہ مجھے احساس ہو گیا کہ میں نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ساتھ خیانت کی ہے۔"
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چھ راتوں تک مقیم رہے، جبکہ حضرت #ابو لبابہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ کی مسجد کے ایک ستون سے خود کو چھ راتوں تک باندھے رکھا۔ ان کا بندھن صرف ان کی بیوی کھولتی تھیں، وہ بھی صرف نماز کی ادائیگی یا رفعِ حاجت کے لیے، اور پھر انہیں دوبارہ باندھ دیتی تھیں۔
وہ خود کو اس لیے یہ سزا دے رہے تھے کیونکہ ان سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حق میں ایک لغزش (غلطی) ہو گئی تھی۔
چھ راتوں تک #ابو لبابہ نے ہرگز یہ گوارا نہ کیا کہ ان کا بندھن کھولا جائے۔ یہاں تک کہ جب چھ راتیں گزر گئیں، تو نبی کریم ﷺ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے کہ رات کے وقت ام سلمہ نے آپ ﷺ کو مسکراتے ہوئے دیکھا۔ انہوں نے عرض کیا: "یا رسول اللہ! اللہ آپ کو ہمیشہ ہنستا مسکراتا رکھے، آپ کس بات پر مسکرا رہے ہیں؟"
آپ ﷺ نے فرمایا: «اللہ نے #ابو لبابہ کی توبہ نازل فرما دی ہے»۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿وَآخَرُونَ اعْتَرَفُوا بِذُنُوبِهِمْ خَلَطُوا عَمَلًا صَالِحًا وَآخَرَ سَيِّئًا عَسَى اللَّهُ أَنْ يَتُوبَ عَلَيْهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ﴾
"اور کچھ دوسرے لوگ ہیں جنہوں نے اپنے گناہوں کا اعتراف کر لیا ہے، انہوں نے ملے جلے عمل کیے تھے، کچھ نیک اور کچھ بد۔ قریب ہے کہ اللہ ان کی توبہ قبول فرما لے، یقیناً اللہ بہت بخشنے والا، بڑا مہربان ہے"۔ (سورہ التوبہ: 102)
حضرت ام سلمہؓ نے لوگوں کو یہ خوشخبری سنائی، تو لوگ ان کا بندھن کھولنے کے لیے دوڑے، لیکن حضرت #ابو لبابہؓ نے کہا: "اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ کے سوا میرا یہ بندھن کوئی نہیں کھولے گا"۔
چنانچہ جب نبی کریم ﷺ نے صبح کی نماز پڑھائی، تو خود اپنے دستِ مبارک سے ابو لبابہ کا بندھن کھولا، اور اللہ عزوجل نے ان کی توبہ قبول فرمائی
#اللهم صل على محمد و على آل محمد
السیرۃ النبویۃ لبن ہشام