13/08/2026
اللہ عزوجل نے سورۃ النحل میں "بطونھا" (ان کے پیٹوں) جمع کے صیغے کے ساتھ کیوں فرمایا، "بطنھا" (اس کے پیٹ) واحد کے ساتھ کیوں نہیں فرمایا؟
💮"يَخْرُجُ مِن بُطُونِهَا شَرَابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَانُهُ فِيهِ شِفَاءٌ لِّلنَّاسِ ۗ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (69)"💮
(ترجمہ: ان کے پیٹوں سے مختلف رنگوں کا مشروب نکلتا ہے جس میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والی قوم کے لیے ایک بڑی نشانی ہے۔)
⚜️ معلوم ہوا ہے کہ شہد کی مکھی کے تین پیٹ ہوتے ہیں:
وہ پھولوں کا رس چوساتی ہے تو یہ رس پہلے پیٹ میں کچھ دیر رہتا ہے، پھر ایک والو (valve) کھلتا ہے اور یہ دوسرے پیٹ میں چلا جاتا ہے، جہاں یہ رس شہد میں تبدیل ہوتا ہے۔
دوسرے پیٹ کے آخر میں ایک ایسا والو ہوتا ہے جو شہد کو تیسرے پیٹ میں جانے سے روکتا ہے، سوائے انتہائی ضرورت کے اور وہ بھی بہت معمولی مقدار میں۔
تیسرے پیٹ میں مکھی کی انتڑیاں ہوتی ہیں، اور وہ دورانِ پرواز اپنا سفر مکمل کرنے کے لیے اسی معمولی مقدار سے غذا حاصل کرتی ہے۔
جب شہد کی مکھی اپنے چھتے کی طرف واپس لوٹتی ہے، تو یہاں اصل معجزہ ظاہر ہوتا ہے: وہ اپنے دوسرے پیٹ میں موجود خالص شہد کو واپس نکال کر اپنے منہ کے ذریعے چھتے کے سوراخوں میں جمع کر دیتی ہے—نہ کہ اپنے آتڑیوں سے۔
💎 پاک ہے وہ ذات جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت عطا کی، پھر ہدایت دی۔ پاک ہے وہ ذات جس نے ہمیں آگاہ فرمایا کہ شہد کی مکھی کے متعدد پیٹ (بطون) ہیں، صرف ایک پیٹ (بطن) نہیں۔۔
یہ قرآن مجید کی سورة النحل (آیت 69) کی تفسیر اور سائنسی اعجاز سے متعلق عربی متن کا اردو ترجمہ ہے:
محمد جمال شادی ۔۔۔۔