Ehl-E-Qalam Publications

Ehl-E-Qalam Publications Publisher: We Publish All Types Of Books & Magazines In Urdu, Hindi, Gojri, Pahari & Punjabi. Give Us Your Writeups & Get Your Books.

Quality Work In Computer Composing, Graphic Designing, Title Covers, Book Style Sheet Setting etc Since July 2020. Ehl-E-Qalam Publications Is A Plateform That Publishes Your Books & Magazines. We Provide Best Computer Composing In 'Nasta'aleeq' (Shahmukhi) Gojri, Pahari, Punjabi, Urdu, Hindi & English. We Also Provide Graphic Designing For Books, Magazines & Newspapers.

’نوجوانوں میں سوشل میڈیا ریلز کا بھوت‘تحریر: ٭مشتاق خالدؔ چودھری۔         نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی کو کیا معلوم کہ وہ کب کسی...
25/09/2026

’نوجوانوں میں سوشل میڈیا ریلز کا بھوت‘
تحریر: ٭مشتاق خالدؔ چودھری۔
نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی کو کیا معلوم کہ وہ کب کسی کے کیمرے کی آنکھ سے ہوتا ہوا کسی کے فون یا کمپیوٹر میں محفوظ ہوچکا ہے۔ اور وہ تصویر یا ویڈیو کب سوشل میڈیا کی دیوار تک پہنچ جاۓ کسی کو نہیں معلوم، کئی لوگ اس دور میں اب بھی ہمیشہ اس سوشل میڈیا نمائش سے خود تو بظاہر بچتے ہیں، لیکن کسی دوسرے کے ذریعے نہ چاہتے ہوۓ بھی وہ سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ کل جموں سے سرینگر سفر کے دوران دو ایسی گاڑیاں گزریں جن میں ایک نوجوان اور ایک لڑکی نے ہماری مسافر گاڑی کی بھی عکس بندی کی اور لڑکی محترمہ نے تو ویڈیو کو زوم بھی کیا۔ میں یہ مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا اور سوچ میں پڑ گیا کہ موبائل فون کے اس بے ہنگم دور میں ہم ہر وقت کسی نہ کسی کیمرے کی تاک میں ہیں اور نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی نہ کسی کے موبائل کی گیلری میں محفوظ ہیں۔ اور اِس اے آئی کے دور میں کون کیسے استعمال کرے۔ ہم کبھی بازار یا سفر میں ہوتے ہیں، اور کبھی دوستوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے اردگرد موجود کسی شخص کے موبائل کا کیمرہ کب ہماری تصویر یا ویڈیو محفوظ کر رہا ہے۔ آج کل ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے اور ہر موبائل میں کیمرہ۔ نوجوانوں پر ریلز بنانے اور سوشل میڈیا کنٹینٹ کا بھوت سوار ہے۔ باوجود اس کے کہ بغیر اجازت کسی کی تصویر یا ویڈیو بنانا اخلاقی اور شرعی طور پر درست نہیں، لیکن اس کی پروا کسی کو نہیں ہے۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کو اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اس بھوت کی آڑ میں ایسا کرنے سے باز رہیں۔ اللّہ سُبحانہٗ و تعالیٰ ہمیں موبائل فون کے غلط استعمال اور اس کے فتنوں سے محفوظ فرماۓ، ہماری عزت و آبرو کی حفاظت فرماۓ، ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزت آبرو کی حفاظت فرماۓ۔ اور ہمیں دوسروں کی عزت و پردے کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے والدین کو اس بات کا ادراک ہے ہماری اولاد کی یہ بُری عادات کبھی اُن کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے؟ بغیر اجازت ہر کسی کی یہ عکس بندی ایسے لوگوں کے لیے کتنی خطرناک ہے۔ والدین کو چاہئیے کہ سائبر اداروں کی گائیڈ لائن سے بچوں کو آگاہ کریں اور بلا اجازت ایسی عکس بندی سے اجتناب کریں۔

”مدرس کا مرتبہ قوم و ملت کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے“ مضمون نگار: نیلوفر گُلؔبشکریہ روزنامہ عمارت جموںپیش...
05/09/2026

”مدرس کا مرتبہ قوم و ملت کی تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کرتا ہے“
مضمون نگار: نیلوفر گُلؔ
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

“تیئیس صفحات کا خط”افسانہ نگار: طیب رضا جیلانیؔبشکریہ ماہنامہ اردو آنگن ممبئی۔ پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
02/09/2026

“تیئیس صفحات کا خط”
افسانہ نگار: طیب رضا جیلانیؔ
بشکریہ ماہنامہ اردو آنگن ممبئی۔
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

”قرآن عظیم کی فریاد“زیرِ نظر یہ کتاب جو ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔  مصنف: حضرت علامہ حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ مرتب: صاحب ...
01/09/2026

”قرآن عظیم کی فریاد“
زیرِ نظر یہ کتاب جو ضمیر کو جھنجھوڑتی ہے۔
مصنف: حضرت علامہ حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ
مرتب: صاحب زادہ مولانا حافظ محمد یونس چراغ القاسمی
مبصر: حافظ عبدالرحمٰن کالس الرحیمی۔ ناڑ سنگڑ کوکرناگ۔
کچھ کتابیں صرف پڑھی نہیں جاتیں، دل پر اترتی ہیں اور ضمیر کو جھنجھوڑتی ہیں۔ ’’قرآنِ عظیم کی فریاد‘‘ بھی ایسی ہی ایک مؤثر اور فکر انگیز تصنیف ہے، جسے حضرت علامہ حافظ محمد چراغ نصیر القاسمی علیہ الرحمۃ والرضوان بانیِ جامعہ اسلامیہ انوارالعلوم دندی پورہ، اننت ناگ نے اپنے دردِ دل اور فکرِ اصلاح کے ساتھ قلم بند فرمایا۔ یہ حضرت کی قدیم اور معروف تصنیف ہے، جس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ اس کی مقبولیت اس بات کی گواہ ہے کہ اس کے الفاظ نے قارئین کے دلوں میں جگہ بنائی اور قرآنِ کریم سے تعلق کی ایک نئی فکر پیدا کی۔ کتاب کا عنوان ہی اپنے اندر ایک پوری دنیا سموئے ہوئے ہے۔ ’’قرآنِ عظیم کی فریاد‘‘۔ یہ دراصل ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی دعوت دیتی ہے کہ ہم قرآن کو مانتے تو ہیں، پڑھتے بھی ہیں، مگر کیا اس کی تعلیمات کو اپنی زندگی کا حصہ بھی بناتے ہیں؟ مصنفؒ نے نہایت درد مندانہ اور اصلاحی انداز میں یہ احساس اجاگر کیا ہے کہ قرآن صرف تلاوت کی کتاب نہیں، بلکہ ہدایت، کردار سازی اور زندگی کی رہنمائی کا مکمل دستور ہے۔ اس کتاب کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ یہ قاری کو دوسروں کا احتساب کرنے سے پہلے اپنا محاسبہ کرنے پر آمادہ کرتی ہے۔ صفحات ختم ہوجاتے ہیں، مگر اس کے سوالات دل میں باقی رہتے ہیں۔ آج کے دور میں، جب قرآن ہمارے گھروں میں موجود ہے مگر اس کی تعلیمات ہماری عملی زندگی سے دور ہوتی جارہی ہیں، ’’قرآنِ عظیم کی فریاد‘‘ کی آواز پہلے سے زیادہ معنی خیز محسوس ہوتی ہے۔ یہ کتاب ایک تحریر نہیں، ایک پکار ہے۔ ایک پکار نہیں، ایک آئینہ ہے۔ اور ایسا آئینہ جس میں ہر مسلمان اپنے قرآن سے تعلق کی حقیقت دیکھ سکتا ہے۔
علمی ورثے کی تجدیدِ اشاعت
یہ امر بھی نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین ہے کہ حضرت علامہ حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ کی تمام مطبوعہ تصانیف ایک عرصے سے نایاب ہوچکی تھیں، جس کے باعث حضرت کے علمی و اصلاحی سرمایہ تک نئی نسل کی رسائی مشکل ہوگئی تھی۔ اب حضرت کے علمی جانشین اور صاحبزادۂ گرامی، حضرت مولانا و حافظ محمد یونس چراغ القاسمی صاحب، مہتمم جامعہ اسلامیہ انوارالعلوم نے اس علمی ورثے کی حفاظت اور اشاعتِ نو کا بیڑا اٹھایا ہے اور دوبارہ نئے سرے سے حضرت کی تصانیف کی اشاعت کا سلسلہ شروع فرمایا ہے۔ الحمدللہ! اس مبارک کاوش کے نتیجے میں حضرت کی قیمتی تصانیف ازسرِنو طبع ہوکر منظرِ عام پر آچکی ہیں، جو اہلِ علم، طلبہ، محققین اور عام قارئین کے لیے یقیناً ایک مسرت بخش خبر ہے۔یہ محض کتابوں کی دوبارہ اشاعت نہیں، بلکہ ایک بزرگ عالم کے علمی ورثے کو نئی نسل تک منتقل کرنے کی سعادت اور ایک روشن علمی امانت کی حفاظت ہے۔
اللّٰہ تعالیٰ حضرت مولانا و حافظ محمد یونس چراغ القاسمی صاحب کی اس علمی خدمت کو شرفِ قبول عطافرمائے، انہیں مزید توفیق بخشے، اور حضرت علامہ حافظ محمد چراغ نصیر القاسمیؒ کے اس علمی سرمایہ کو مدتوں تک امت کے لیے نفع بخش بنائے۔اور حضرت قبلہ حافظ صاحب علیہ الرحمۃ والرضوان کے قائم کردہ چمن جامعہ اسلامیہ انوارالعلوم دندی پورہ کو تاقیام قیامت قائم ودائم رکھے ۔آمین۔

کشمیر میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری علیہ رحمہ (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) کے بعد اپنی نوعیت کا منفرد علمی کارنامہمفتی...
26/08/2026

کشمیر میں حضرت علامہ انور شاہ کشمیری علیہ رحمہ (شیخ الحدیث دارالعلوم دیوبند) کے بعد اپنی نوعیت کا منفرد علمی کارنامہ
مفتی شوکت احمد قاسمی نے صحیح البخاری حفظ کر لی، دارالعلوم بلالیہ میں تاریخ ساز مجلس کا انعقاد۔
بشکریہ روزنامہ کشمیر عظمیٰ
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

✍️دُکھ بَنڈائی⬇️
25/08/2026

✍️دُکھ بَنڈائی⬇️

ہرموتہ گورسائی مانھ علم تے امامت کی نوئیں شمع بل پئی؛ مولانا فیاض احمد مصباحی نانھ منصبِ امامت کی سعادت حاصلپیشڪش:اہلِ ق...
22/08/2026

ہرموتہ گورسائی مانھ علم تے امامت کی نوئیں شمع بل پئی؛ مولانا فیاض احمد مصباحی نانھ منصبِ امامت کی سعادت حاصل
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
21 اگست 2026// جامع مسجد ہرنی مانھ ایک روح پرور تے مُچ ہی باوقار دینی تقریب کو انعقاد ہویو، جِت مولانا فیاض احمد مصباحی نانھ ہرموتہ گورسائی کی امامت کی ذمہ داری دیتاں واں انھاں کی دستار بندی کی گئی۔ اس موقع پر فضا ذکرِ الٰہی، درود تے سلام ہور دعانواں نال معطر رہئی، جد جہ علماءِ کرام، دینی تے سماجی شخصیتاں، علاقہ کا معزز لوکاں ہور اہلِ محلہ نے خصیری تعداد مانھ شرکت کر کے اس خوشی آلا موقع کی رونق مانھ باہدو کیو۔مولانا فیاض احمد مصباحی کو چنأ صرف ایک انتظامی چنأ نیہں بلکن ایک چرکیری دینی روایت کا چلن کی علامت قرار دتو گیو۔ انھاں کو تعلق اِسا خاندان سنگ ہے جس نے لما چِر تیں مسجد تے محراب کی خدمت، دینی شعائر کی پاسداری ہور معاشرتی اصلاح نانھ اپنی زندگی کو مقصد بنہا رکھیو ہے۔ انھاں کا دادا مولوی حاکم دین نے لمی مدت توڑی امامت کا منصب پر فائز رہ کے علاقہ مانھ دینی خدمت انجام دِتیں ہیں، جد جہ انھاں کا والد ماسٹر عبداللطیف ہوراں نے وی سالاں توڑی امامت کی ذمہ داری سمھال کے اس خاندان کی مذہبی روایت نانھ پکیت کیو۔ نِیوں مولانا فیاض احمد مصباحی نانھ ملن آلی یاہ ذمہ داری ایک اِسی روشن روایت کو چلن ہے جس کی جڑ کئیں دہائیاں پر کِھنڈی دینی خدمتاں مانھ کُھبی ہیں۔تقریب کی صدارت حضرت مولانا قاری عبدالغنی صاحب نے فرمائی۔ اس بابرکت اجتماع مانھ حضرت مولانا مفتی افضال مصباحی، حضرت مولانا مفتی وسیم احمد منظری، حضرت مولانا عبدالغنی اشرفی، حضرت مولانا سید منظور حسین شاہ، حضرت مولانا محبوب صاحب، لمبردار شمشیر احمد خان، ڈی ایس پی رفیق احمد، سردار وسیم احمد خان، ماسٹر ایاز احمد خان، عبدالعزیز سمیت کئیں علماء، عمائداں، سماجی شخصیتاں ہور اہلِ علاقہ نے شرکت کی۔ مقررین نے مولانا فیاض احمد مصباحی نانھ منصبِ امامت کی ذمہ داری ملن پر مبارک باد پیش کرتاں واں اس توقع کو اظہار کیو جہ وہ اپنا اسلاف کی دینی وراثت نانھ مُچ ہی اخلاص، بردباری، بصیرت ہور حسنِ کردار نال اَگے بَدھانویں گا۔ علماءِ کرام نے اس گل پر وی زور دِتو جہ مسجد محض عبادت گاہ نیہں بلکن اخلاقی تربیت، معاشرہ کی اصلاح، امت کا اتحاد ہور نوئیں نسل کی دینی رہنمائی کو اہم مرکز ہے، لہٰذا امام کو منصب علم کے نال نال کردار، حکمت ہور خدمتِ خلق کو وی تقاضو کرے۔ تقریب مانھ شریک ہون آلاں نے مولانا فیاض احمد مصباحی کی علمی تے دینی صلاحیتاں واسطے نیک خواہشاں کو اظہار کرتاں واں امید ظاہر کی جہ انھاں کی امامت علاقہ ہرموتہ گورسائی دینی سرگرمیاں، اصلاحی کاوشاں ہور آپسی اخوت تے محبت نانھ ہور اثر دار مرکز بنے گو۔ تقریب کا موکلن پر مولانا فیاض احمد مصباحی، انھاں کا والدین تے کَہر آلاں ہور تمام اہلِ علاقہ واسطے خصوصی دعا کی گئی۔ علماءِ کرام نے اللہ تعالیٰ تین دعا کی جہ ویہ مولانا موصوف نانھ منصبِ امامت کا تقاضا پورا کرن کی توفیق، علم مانھ پکیت، عمل مانھ استقامت، گفتار مانھ حکمت ہور کردار مانھ حسن عطا فرماوے ہور انھاں نانھ اپنا بزرگاں کی دینی خدمتاں کو شایانِ شان وارث بنہاوے۔ اہلِ علاقہ نے مولانا فیاض احمد مصباحی کی تقرری نانھ خوش آئند قرار دیتاں واں اس امید کو اظہار کیو جہ انھاں کی مجودگی سنگ علاقہ کی دینی تے اخلاقی فضا ہور مستحکم ہوۓ گی ہور ہرموتہ گورسائی آئندہ وی عبادت، تربیت، اصلاح ہور آپسی اخوت کو اثردار مرکز بنیو رہ گو۔

16/08/2026

ضلع انتظامیہ سرینگر کی طرف سے 80 ویں یومِ آزادی کی تقریب کے موقع پر درّہ نامبلہ اُوڑی کے چودھری مَتوَلّی پوڑ کو توصیفی سند سے نوازا گیا۔
چودھری مَتوَلّی پوڑ جو کہ درّہ نامبلہ اُوڑی کے رہنے والے ہیں، جن کو 80 ویں یومِ آزادی کے موقع پر ضلع انتظامیہ سرینگر کی جانب سے عزت افزائی کی توصیفی سند سے نوازا گیا۔ چودھری مَتوَلّی پوڑ جموں و کشمیر پولیس میں ضلع پولیس لائن سرینگر میں شعبہ تحریر و اشاعت میں بطور ہیڈ کانسٹیبل محرّر (مُنشی) اپنا فرضِ منصبی انجام دے رہے ہیں۔ ضلع پولیس لائن سرینگر وادی کشمیر میں محکمہ پولیس کے کام کاج کا واحد ایسا مرکز ہے جہاں باریک بینی، تحریری مہارت اور پختہ عزم کو اہمیت دی جاتی ہے جس کی بنا پر اِس شعبہ میں کام کرنے والے کی قابلیت کو جانچا جاتا ہے۔ مَتوَلّی صاحب جو اپنی اَنتھک محنت، لگن، کام میں مہارت، ایمانداری اور قومی خدمت کے جذبے کے لیے جانے جاتے ہیں۔ انہیں ان کی شاندار خدمات کے صلے میں جموں و کشمیر پولیس محکمہ اور ضلع پولیس لائن سرینگر کی طرف سے پہلے بھی متعدد بار عزت افزائی سے نوازا جا چکا ہے۔ اُوڑی کے عوام کے لیے متولی پوڑ ایک درد مند، مددگار، مخلص اور عوام دوست شخصیت ہیں۔ ان کی یہ پذیرائی پوری اُوڑی سب ڈویژن کے لیے انتہائی فخر کا لمحہ ہے۔
تحریر: ٭مشتاق خالدؔ چودھری
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

پروفیسر ڈاکٹر غلام نبی پسوال، وادیٔ کرناہ سے عالمی طبی افق تک ایک درخشاں سفرتحریر: ارشاد فدائیؔلولاب، کپواڑہ، جموں و کشم...
29/05/2026

پروفیسر ڈاکٹر غلام نبی پسوال، وادیٔ کرناہ سے عالمی طبی افق تک ایک درخشاں سفر
تحریر: ارشاد فدائیؔ
لولاب، کپواڑہ، جموں و کشمیر
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
Email:- [email protected]

دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ عظیم شخصیات ہمیشہ بڑے شہروں، شاہانہ محلوں یا خوشحال خاندانوں سے جنم نہیں لیتیں، بلکہ اکثر وہ دشوار گزار پہاڑوں، محروم بستیوں اور خاموش وادیوں سے ابھرتی ہیں جہاں خواب تو بڑے ہوتے ہیں مگر وسائل نہ ہونے کے برابر۔ جموں و کشمیر کے سرحدی خطے وادیٔ کرناہ (ٹنگڈار)، ضلع کپواڑہ کی سرزمین نے بھی ایک ایسی ہی عظیم علمی و طبی شخصیت کو جنم دیا جس نے نہ صرف اپنی قوم اور کشمیر بلکہ پورے ہندوستان کا نام عالمی سطح پر روشن کیا۔ یہ شخصیت ہیں Professor Dr Ghulam Nabi Paswal ایک ایسا نام جو آج عالمی یورولوجی، سرجیکل یورو آنکولوجی، جدید میڈیکل امیجنگ اور طبی تحقیق کی دنیا میں انتہائی عزت و وقار کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب آج University of Dundee، اسکاٹ لینڈ میں چیئر آف سرجیکل یورو آنکولوجی اور ہیڈ آف ڈویژن آف امیجنگ سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جیسے عظیم عہدوں پر فائز ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ NHS Tayside میں بطور Honorary Consultant Urological Surgeon بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ایک دور افتادہ سرحدی علاقے سے تعلق رکھنے والا نوجوان عالمی طبی دنیا کا ایسا روشن ستارہ بن جائے گا، شاید کبھی کسی نے تصور بھی نہ کیا ہو، مگر محنت، عزم، علم سے محبت اور اللہ تعالیٰ کے فضل نے اس خواب کو حقیقت بنا دیا۔ڈاکٹر صاحب نے اپنی ابتدائی تعلیم کرناہ کے پسماندہ سرحدی ماحول میں حاصل کی۔ محدود وسائل، دشوار حالات اور تعلیمی سہولیات کی کمی کے باوجود ان کے اندر علم حاصل کرنے کا جذبہ غیر معمولی تھا۔ بعد ازاں انہوں نے Government Medical College Srinagar سے 1992 میں میڈیکل گریجویشن مکمل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے اعلیٰ طبی تعلیم اور تخصص کے لئے برطانیہ کا رخ کیا جہاں انہوں نے MCh، MD اور FRCS Urol جیسی نمایاں ڈگریاں حاصل کیں۔ سن 2001 میں انہوں نے All India Institute of Medical Sciences سے اوپن میرٹ میں MCh Urology مکمل کیا، جو اس وقت جموں و کشمیر کے کسی بھی ڈاکٹر کے لئے ایک غیر معمولی اور تاریخی کامیابی تصور کی جاتی ہے۔ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب کی زندگی کا ایک اور قابلِ فخر پہلو یہ ہے کہ وہ سری نگر کے معروف گوجر ہاسٹل کے پروردہ ہیں، جہاں انہیں 1978 میں چھٹی جماعت میں داخلہ ملا۔ طالب علمی کے زمانے سے ہی وہ غیر معمولی ذہانت اور علمی صلاحیتوں کے حامل تھے۔ دسویں جماعت میں وہ جموں و کشمیر کے ٹاپ سو طلبہ میں شامل رہے اور National Talent Scholarship حاصل کی۔ بعد ازاں Government Medical College Srinagar میں MBBS کے دوران بھی وہ نمایاں پوزیشن ہولڈرز میں شمار ہوتے رہے اور مختلف میڈلز اور امتیازی اسناد حاصل کیں۔سن 1994 میں انہیں بیک وقت Postgraduate Institute of Medical Education and Research اور All India Institute of Medical Sciences میں جنرل سرجری میں پوسٹ گریجویشن کے لئے منتخب کیا گیا، جو ان کی غیر معمولی علمی صلاحیتوں کا ثبوت تھا۔ دسمبر 1998 میں انہوں نے MCh Urology اوپن میرٹ میں ٹاپ کیا۔ سن 2000 میں جودھپور میں منعقدہ مقابلے میں انہیں North Indian Urology Society کی جانب سے “Best Trainee in Urology” ایوارڈ سے نوازا گیا۔سن 2002 میں انہوں نے برطانیہ کے اعلیٰ تخصصی سرجیکل پروگرام میں نمایاں کامیابی کے ساتھ داخلہ حاصل کیا اور وہاں بطور یورولوجسٹ تربیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ فرانس اور جرمنی میں انہیں جدید روبوٹک اور لیپروسکوپک سرجری کی خصوصی تربیت دی گئی۔ ان کی علمی خدمات کے اعتراف میں Royal College of Surgeons of Edinburgh کی جانب سے انہیں Sir James Travelling Fellowship سے بھی نوازا گیا، جبکہ وہ کئی برسوں تک اس ادارے کے یورولوجی اسپیشلٹی بورڈ کے رکن بھی رہے۔سن 2020 سے 2023 کے درمیان ڈاکٹر صاحب University of Dundee میں Centre of Medical Engineering and Technology کے ڈائریکٹر بھی رہے۔ انہوں نے برطانیہ اور چین کے درمیان Biomedical Engineering میں ایک اہم اشتراک قائم کیا، جس کے اعتراف میں Heriot-Watt University نے انہیں 2019 سے 2025 تک Honorary Professorship عطا کی۔ اسی طرح Mahatma Gandhi University of Medical Sciences and Technology نے بھی انہیں اعزازی پروفیسرشپ سے نوازا۔حالیہ برس 2026 میں سعودی عرب کی معروف Alfaisal University نے بھی انہیں پروفیسر آف یورولوجی مقرر کیا، جو ان کی عالمی علمی حیثیت کا ایک اور روشن اعتراف ہے۔ اسی سال وہ انڈور میں منعقدہ Urological Society of India کے سالانہ اجلاس میں بطور فیکلٹی مدعو کئے گئے، جہاں انہوں نے جدید یورولوجی اور سرجیکل تحقیق پر لیکچرز پیش کئے۔
ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب کی طبی مہارت خاص طور پر پروسٹیٹ، مثانہ اور گردے کے کینسر کے علاج، لیپروسکوپک سرجری اور جدید یورولوجیکل طریقۂ علاج میں مانی جاتی ہے۔ انہوں نے پروسٹیٹ کینسر کی تشخیص کے لئے جدید امیجنگ ٹیکنالوجی اور کم تکلیف دہ تشخیصی نظاموں پر بے مثال تحقیق کی ہے۔ ان کی سربراہی میں ہونے والی تحقیقات نے دنیا بھر میں پروسٹیٹ کینسر کی ابتدائی تشخیص اور علاج کے طریقوں میں انقلابی تبدیلیاں پیدا کی ہیں۔طبی تحقیق کے میدان میں ان کی خدمات غیر معمولی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب تقریباً 500 سے زائد تحقیقی مقالات، جرنلز اور کلینیکل اسٹڈیز کے مصنف ہیں۔ ان کے تحقیقی کام کو دنیا بھر کے سائنسدان، سرجن اور طبی ماہرین بطور حوالہ استعمال کرتے ہیں۔ ان کا h-index اور ہزاروں citations اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ عالمی طبی برادری ان کی تحقیق کو کس قدر اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے صرف سرجری ہی نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI)، مشین لرننگ اور امیجنگ سائنس کو بھی طب کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سن 2023 میں لندن میں Zenith International Awarding Committee کی جانب سے انہیں “Best in Surgical Practice” ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جو عالمی سطح پر ان کی طبی مہارت اور خدمات کا ایک اہم اعتراف سمجھا جاتا ہے۔
ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب کی شخصیت صرف ایک عظیم سرجن یا سائنسدان تک محدود نہیں بلکہ وہ انسانیت دوست، قوم دوست اور اپنی مٹی سے بے پناہ محبت رکھنے والی شخصیت بھی ہیں۔ انہوں نے کرناہ کے سرحدی گاؤں امروہی میں “خاتم نور میموریل چیریٹیبل ٹرسٹ” قائم کیا، جس کا مقصد سرحدی اور پسماندہ علاقوں کے لوگوں کو طبی و سماجی سہولیات فراہم کرنا ہے۔ عالمی سطح پر مصروفیات کے باوجود وہ اپنے آبائی علاقے اور کشمیر کے عوام کو کبھی نہیں بھولے۔ وہ وقتاً فوقتاً جموں و کشمیر آکر فری میڈیکل کیمپس منعقد کرتے ہیں، جہاں دور دراز اور غریب علاقوں کے لوگوں کو جدید طبی مشورے اور سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ ان کی یہی عاجزی، انسان دوستی اور اپنی قوم سے محبت انہیں ایک عظیم انسان بناتی ہے۔یہ بات بھی باعثِ فخر ہے کہ ڈاکٹر صاحب آج دنیا کی ممتاز جامعات اور طبی اداروں میں لیکچرز دیتے ہیں۔ وہ سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی علمی لیکچرز کے لئے مدعو کئے جاتے ہیں اور Alfaisal University میں بطور پروفیسر بھی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی علمی قابلیت اور عالمی سطح پر پذیرائی اس حقیقت کا ثبوت ہے کہ علم اور محنت انسان کو دنیا کے بلند ترین مقامات تک پہنچا سکتی ہے۔ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب کی کامیابی صرف ان کی ذاتی کامیابی نہیں بلکہ یہ پوری وادیٔ کشمیر، خصوصاً کرناہ، کپواڑہ اور گوجر برادری کے لئے باعثِ فخر ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب نوجوان نسل مایوسی، بے روزگاری اور محدود مواقع کا شکار ہے، ڈاکٹر صاحب کی زندگی امید، محنت، استقامت اور خوابوں کی تعبیر کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ اگر ارادے مضبوط ہوں تو سرحدی وادیوں سے نکل کر بھی عالمی اداروں کی قیادت کی جا سکتی ہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہماری نوجوان نسل ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب جیسی شخصیات سے سبق حاصل کرے۔ تعلیم کو اپنا ہتھیار بنائے، تحقیق اور علم کی راہ اختیار کرے اور اپنی صلاحیتوں کو مثبت سمت میں استعمال کرے۔ قومیں صرف نعروں سے نہیں بلکہ علم، تحقیق، کردار اور قربانیوں سے ترقی کرتی ہیں۔ڈاکٹر غلام نبی پسوال صاحب واقعی ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ، کشمیر کی شان اور عالمی طبی دنیا کا روشن ستارہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں مزید عزت، صحت، کامیابی اور خدمتِ انسانیت کی توفیق عطا فرمائے تاکہ وہ آنے والی نسلوں کے لئے اسی طرح مشعلِ راہ بنے رہیں۔

Address

Uri Baramulla J&K
Srinagar
193123

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ehl-E-Qalam Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ehl-E-Qalam Publications:

Shortcuts

Share

Category