25/09/2026
’نوجوانوں میں سوشل میڈیا ریلز کا بھوت‘
تحریر: ٭مشتاق خالدؔ چودھری۔
نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی کو کیا معلوم کہ وہ کب کسی کے کیمرے کی آنکھ سے ہوتا ہوا کسی کے فون یا کمپیوٹر میں محفوظ ہوچکا ہے۔ اور وہ تصویر یا ویڈیو کب سوشل میڈیا کی دیوار تک پہنچ جاۓ کسی کو نہیں معلوم، کئی لوگ اس دور میں اب بھی ہمیشہ اس سوشل میڈیا نمائش سے خود تو بظاہر بچتے ہیں، لیکن کسی دوسرے کے ذریعے نہ چاہتے ہوۓ بھی وہ سوشل میڈیا کی زینت بن جاتے ہیں۔ کل جموں سے سرینگر سفر کے دوران دو ایسی گاڑیاں گزریں جن میں ایک نوجوان اور ایک لڑکی نے ہماری مسافر گاڑی کی بھی عکس بندی کی اور لڑکی محترمہ نے تو ویڈیو کو زوم بھی کیا۔ میں یہ مناظر دیکھ کر حیران رہ گیا اور سوچ میں پڑ گیا کہ موبائل فون کے اس بے ہنگم دور میں ہم ہر وقت کسی نہ کسی کیمرے کی تاک میں ہیں اور نہ چاہتے ہوۓ بھی کسی نہ کسی کے موبائل کی گیلری میں محفوظ ہیں۔ اور اِس اے آئی کے دور میں کون کیسے استعمال کرے۔ ہم کبھی بازار یا سفر میں ہوتے ہیں، اور کبھی دوستوں کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوتے ہیں، مگر ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ہمارے اردگرد موجود کسی شخص کے موبائل کا کیمرہ کب ہماری تصویر یا ویڈیو محفوظ کر رہا ہے۔ آج کل ہر شخص کے ہاتھ میں موبائل ہے اور ہر موبائل میں کیمرہ۔ نوجوانوں پر ریلز بنانے اور سوشل میڈیا کنٹینٹ کا بھوت سوار ہے۔ باوجود اس کے کہ بغیر اجازت کسی کی تصویر یا ویڈیو بنانا اخلاقی اور شرعی طور پر درست نہیں، لیکن اس کی پروا کسی کو نہیں ہے۔ والدین سے گزارش ہے کہ اپنے بچوں اور بچیوں کو اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اس بھوت کی آڑ میں ایسا کرنے سے باز رہیں۔ اللّہ سُبحانہٗ و تعالیٰ ہمیں موبائل فون کے غلط استعمال اور اس کے فتنوں سے محفوظ فرماۓ، ہماری عزت و آبرو کی حفاظت فرماۓ، ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں کی عزت آبرو کی حفاظت فرماۓ۔ اور ہمیں دوسروں کی عزت و پردے کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرماۓ۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے والدین کو اس بات کا ادراک ہے ہماری اولاد کی یہ بُری عادات کبھی اُن کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے؟ بغیر اجازت ہر کسی کی یہ عکس بندی ایسے لوگوں کے لیے کتنی خطرناک ہے۔ والدین کو چاہئیے کہ سائبر اداروں کی گائیڈ لائن سے بچوں کو آگاہ کریں اور بلا اجازت ایسی عکس بندی سے اجتناب کریں۔