Ehl-E-Qalam Publications

Ehl-E-Qalam Publications Publisher: We Publish All Types Of Books & Magazines In Urdu, Hindi, Gojri, Pahari & Punjabi. Give Us Your Writeups & Get Your Books.

Quality Work In Computer Composing, Graphic Designing, Title Covers, Book Style Sheet Setting etc Since July 2020. Ehl-E-Qalam Publications Is A Plateform That Publishes Your Books & Magazines. We Provide Best Computer Composing In 'Nasta'aleeq' (Shahmukhi) Gojri, Pahari, Punjabi, Urdu, Hindi & English. We Also Provide Graphic Designing For Books, Magazines & Newspapers.

”بابو نور محمد نورؔ کی وفات؛ گوجری ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان“تحریر: ڈاکٹر اشتیاق احمد مصباحؔبشکریہ: روزنامہ عمارت جموںپ...
08/05/2026

”بابو نور محمد نورؔ کی وفات؛ گوجری ادب کا ناقابلِ تلافی نقصان“
تحریر: ڈاکٹر اشتیاق احمد مصباحؔ
بشکریہ: روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

تحریر کو واضح پڑھنے کے لیے اِس ویب لنک سے استفادہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ⬇️
https://theimarat.com/577/?fbclid=IwdGRjcARqN_djbGNrBGo4F2V4dG4DYWVtAjExAHNydGMGYXBwX2lkDDM1MDY4NTUzMTcyOAABHpLHAIZNV5_TH63PqzDm70ad0PyqVlM71WEQ61groOBSaJAJosFd8DT7mBmJ_aem_UfuHjRIBHDpnimsus4kjNA

✍️دُکھ بَنڈائی⬇️
07/05/2026

✍️دُکھ بَنڈائی⬇️

خانہ بدوش کا تاج محل تحریر: شوکت نسیمؔبشکریہ روزنامہ عمارت جموںپیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔         ہوا میں ایک ان کہی اداس...
06/05/2026

خانہ بدوش کا تاج محل
تحریر: شوکت نسیمؔ
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

ہوا میں ایک ان کہی اداسی تحلیل ہو چکی تھی۔ دور، پہاڑوں کی اوٹ سے اترتی شام یوں محسوس ہوتی تھی جیسے کسی تھکے ماندے خانہ بدوش کی پلکوں پر نیند بوجھ بن کر ٹھہر گئی ہو۔ سنّاٹے سے لپٹا ہوا میدان، اور اس کے عین بیچ، گھاس، ٹہنیوں اور مٹی سے جڑی ایک کچی سی ک±لی ، بے در، بے نقش، مگر اپنے اندر ایک مکمل کائنات سموئے ہوئے۔ وہ کائنات، جو زمانہ ترقی کی چکاچوند سے کوسوں دور تھی، مگر اس میں ایک ایسا سکون رچا بسا تھا جیسے خالقِ کائنات نے ٹھہراو¿ کی ساری نعمتیں انہی خانہ بدوشوں کے حصے میں لکھ دی ہوں۔ اسی کُلی کے آغوش میں علی نے آنکھ کھولی تھی ماں باپ کی امید، ان کے کل کا خواب، اور ان کی تھکی ہوئی زندگی کا واحد سہارا۔ وہ ایک ایسے قافلے کا فرد تھا جس کے نصیب میں زمین نہیں، صرف راستے لکھے جاتے ہیں… اور راستوں پر بکھری ہوئی تھکن۔ علی نے نہ کبھی پختہ مکان دیکھے تھے، نہ بلند عمارتوں کے خواب سنے تھے۔ اس کی دنیا بس وہی ک±لی تھی، اور جب بھی وہ اسے دیکھتا، اس کی آنکھوں میں ایک معصوم سی چمک اتر آتی۔ “امّی… ہمارا گھر سب سے خوبصورت ہے نا؟”
ماں اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی، لبوں پر دھیمی مسکراہٹ سجا کر کہتی،
“ہاں بیٹا… یہ ہمارا تاج محل ہے… کیونکہ اس میں میرا راج دلہارا رہتا ہے۔”
یہ الفاظ شاید ایک ماں کی تسلی تھے، مگر ان میں ایک سچ بھی پوشیدہ تھا—ماں کا خواب بھی تو علی ہی تھا۔ اسی لیے علی ان باتوں کو سچ مان کر خوشی سے جھوم اٹھتا، اور اس کی معصوم مسکراہٹ ماں کے دل میں بہار لے آتی۔
کبھی وہ کُلی کے باہر بیٹھ کر آسمان کو تکتا رہتا—وہی پھیلا ہوا نیلا آسمان، جس پر شام کے رنگ اس طرح بکھرتے جیسے کسی نے خوابوں کی چادر تان دی ہو۔ وہ انہی رنگوں میں اپنا کل ڈھونڈتا، ایک ایسا کل جو شاید اس کے باپ کی تھکی آنکھوں میں کہیں دب کر رہ گیا تھا۔ اس کا باپ ایک خاموش انسان، جس کے ہاتھوں میں محنت کی سخت لکیریں تھیں اور آنکھوں میں ادھورے خوابوں کی دھند۔ وہ دن بھر مویشی چراتا، دودھ بیچتا، اور شام کو خالی جیب مگر بھرے دل کے ساتھ لوٹ آتا۔ علی کی ماں، اگرچہ اَن پڑھ تھی، مگر وہ جانتی تھی کہ علم ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں کو چیر سکتا ہے۔ شاید اسی احساس نے علی کے دل میں پڑھنے کی خواہش جگا دی تھی—ایسی خواہش جو اس کے حالات سے کہیں بڑی تھی۔
“ابّا… مجھے کتابیں لا دیں…”
وہ بار بار کہتا۔
باپ ہر بار خاموش ہو جاتا۔کیونکہ غربت کے پاس اکثر الفاظ نہیں ہوتے… صرف خاموشی ہوتی ہے۔
مگر ایک دن وہ دن بھی آیا۔
باپ کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا لفافہ تھا، اور اس کے قدموں میں ایک عجیب سی جلدی۔ علی نے دور سے ہی اسے دیکھ لیا۔ اس کی آنکھوں میں امید کی چمک جاگ اٹھی۔
“پاپا! پاپا! میری کتابیں…!”وہ دوڑتا ہوا باپ سے لپٹ گیا۔ باپ نے مسکراتے ہوئے اسے سینے سے لگایا اور لفافہ اس کے ہاتھ میں تھما دیا۔یہ محض کتابیں نہیں تھیں—یہ روشنی تھی، جو پہلی بار علی کے ہاتھوں میں آئی تھی۔
وہ خوشی سے لپکتا ہوا ماں کے پاس پہنچا،“امی! میری کتابیں آ گئیں! میرے لیے ایک تھیلا سی دو… میں انہیں سنبھال کر رکھوں گا!”
ماں نے اسے گلے لگا لیا۔ اس کی نظریں شوہر سے ملیں ان آنکھوں میں ہزاروں ان کہے خواب لرز رہے تھے۔ دونوں کچھ کہنا چاہتے تھے، مگر ایک خاموش مسکراہٹ نے سب کچھ کہہ دیا:
“ہمارا علی پڑھے گا… بڑا آدمی بنے گا… اور شاید ایک دن ہمارا بھی اپنا گھر ہوگا…”
جلد ہی ایک پرانے خاکی کپڑے سے ماں کے ہاتھوں سلا ہوا تھیلا تیار ہو گیا۔ علی نے کتابیں اس میں رکھیں اور کلی کی چھت سے لٹکا دیا جیسے اپنے خوابوں کو آسمان کے قریب ٹانگ دیا ہو۔
اب وہ جب بھی فرصت پاتا، تھیلا اتارتا، قاعدہ کھولتا، اور ہچکچاتی آواز میں پڑھنے لگتا:
“الف… بے… پے…
یہ محض حروف نہیں تھے،یہ اس کی دنیا کے دروازے تھے، جو آہستہ آہستہ کھل رہے تھے۔
مگر خانہ بدوشوں کی زندگی میں دروازے کم ہی کھلتے ہیں… علہ کے باہ کو اکثر یہ خیال ستاتا رہتا تھا ۔
ایک دن، کچھ لوگ آئے سخت چہرے، بے رحم آوازیں، اور ہاتھوں میں لاٹھیاں۔ مشینوں کی گرج نے فضا کو چیر دیا۔
“یہ زمین سرکار کی ہے… یہاں کوئی نہیں رہے گا!”
یہ الفاظ بجلی بن کر گرے۔منتیں ہوئیں، ہاتھ جوڑے گئے، بچوں کا واسطہ دیا گیا مگر زمین نے کب خانہ بدوشوں کو اپنا مانا تھا؟
مشینیں چل پڑیں۔چیخیں بلند ہوئیں۔اور ک±لیاں ایک ایک کر کے مٹی میں ملنے لگیں۔
علی سہم گیا۔ ماں کا دامن پکڑے، وہ لرزتی آواز میں پوچھ رہا تھا،
“امی… یہ لوگ ہمارا تاج محل کیوں توڑ رہے ہیں…؟”
اس کی آنکھوں کے سامنے اس کا خواب بکھر رہا تھا۔
“میرا گھر، ۔۔۔۔میری ماں کا تاج محل …” اس کے لب کپکپائے۔

وہ اچانک وہ دوڑ پڑا۔ رک جاو¿!” باپ کی آواز گونجی ۔۔۔۔ مگر علی نہ رکا۔
وہ ٹوٹتی ہوئی ک±لی میں کود گیا۔ ہر طرف مٹی، شور اور شکستگی تھی، مگر اس کی نظر صرف ایک چیز پر تھی ۔ اس کی ماں کے ہاتھوں کا سلا ہوا تھیلا ۔ اس کے باپ کے مزدوری کے پیسوں سے خریدی ہوئی کتابیں ۔
چند لمحوں بعد، وہ باہر نکلا۔کپڑے گرد آلود، چہرہ مٹی سے اٹا ہوا، مگر ہاتھوں میں وہی پرانا بیگ ، جسے وہ سینے سے یوں لگائے ہوئے تھا جیسے کوئی اپنی آخری امید کو تھامے رکھتا ہے۔ ۔۔۔۔ پیچھے… اس کا “تاج محل” ملبے کا ڈھیر بن چکا تھا۔
ماں رو رہی تھی، باپ خاموش کھڑا تھا، اور قافلہ ایک بار پھر سفر کے لیے تیار تھا۔
علی نے ایک آخری نظر اپنے اجڑے ہوئے گھر پر ڈالی، پھر بیگ کو اور مضبوطی سے تھام لیا۔
“ابّا…” اس نے دھیمی آواز میں کہا،
“ہم پھر سے گھر بنائیں گے نا؟” ہمارا تاج محل پھر بنے گا نا ؟؟؟َ
باپ نے اس کی آنکھوں میں دیکھا وہی ضد، وہی چمک، وہی خواب۔
اس نے سر ہلایا… مگر الفاظ پھر بھی خاموش رہے۔
قافلہ چل پڑا۔ میدان پیچھے رہ گیا، شام رات میں ڈھل گئی، اور مٹی کے ذرے فضا میں بکھرتے رہے۔
علی… اپنے بیگ کو سینے سے لگائے، آسمان کی طرف دیکھتا ہوا، آہستہ آہستہ زیرِ لب دہراتا رہا:
“الف… بے… پے…ت ٹ ث
مگر اب ہر حرف کے ساتھ، وہ اپنے مستقبل کو آسمان کی وسعتوں میں تلاش کرتا ہوا، ایک نئے سفر پر گامزن تھا۔

گوجری اَدبی میگزین کے تازہ شمارہ کی رسمِ رونمائی؛ ادبی حلقوں کا اِظہارِ مسرت۔ بشکریہ روزنامہ عمارت جموںپیشڪش:اہلِ قلم پب...
02/05/2026

گوجری اَدبی میگزین کے تازہ شمارہ کی رسمِ رونمائی؛ ادبی حلقوں کا اِظہارِ مسرت۔
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

گُرجر دیش ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی گوجری-اُردو ادبی ثقافتی کانفرنس کے انعقاد پر ڈاکٹر ثمریاب ثمرؔ چوہان صاحب، مح...
02/05/2026

گُرجر دیش ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام دو روزہ قومی گوجری-اُردو ادبی ثقافتی کانفرنس کے انعقاد پر ڈاکٹر ثمریاب ثمرؔ چوہان صاحب، محترمہ نکہت چودھری صاحبہ اور بلال زمزمؔ صاحب کے تاثرات۔
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

دو روزہ گوجری-اُردو نیشنل ادبی کانفرنس کا آنکھوں دیکھا حال۔ رپوتاژ نگاری: ڈاکٹر عرفان عارفؔ بشکریہ: روزنامہ عمارت، روزنا...
01/05/2026

دو روزہ گوجری-اُردو نیشنل ادبی کانفرنس کا آنکھوں دیکھا حال۔
رپوتاژ نگاری: ڈاکٹر عرفان عارفؔ
بشکریہ: روزنامہ عمارت، روزنامہ تسکین جموں۔
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

افسانہ”آئینہ اور خواب“افسانہ نگار: شوکت نسیمؔبشکریہ روزنامہ عمارت جموںپیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
30/04/2026

افسانہ
”آئینہ اور خواب“
افسانہ نگار: شوکت نسیمؔ
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔

پونچھ میں ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد لاروی کے مبارک ہاتھوں طارق ابرارؔ اور ڈاکٹر منظور حسین کی گوجری کتاب سجراخیال کا...
21/04/2026

پونچھ میں ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد لاروی کے مبارک ہاتھوں طارق ابرارؔ اور ڈاکٹر منظور حسین کی گوجری کتاب سجراخیال کا اجراء
بشکریہ روزنامہ اُڑان و عمارت جموں
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
پونچھ// ڈگری کالج پونچھ میں احسن السبیل ٹرسٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ کتاب کے اجراء کی تقریب کے دوران معروف گوجری ادیب طارق ابرارؔ اور ڈاکٹر منظور حسین کی گوجری کتاب سجرا خیال کا اجراء ممبر پارلیمنٹ میاں الطاف احمد لاروی کے مبارک ہاتھوں سے عمل میں لایا گیا۔ کتاب کے مرتبین کی طرف سے فراہم کردہ جانکاری کے مطابق سجرا خیال عنوان سے شائع کی گئی کتاب گوجری نثر کے خزانے میں ایک نیا اضافہ ہے۔ اس کتاب کو ڈاکٹر منظور حسین اور طارق ابرارؔ نے مرتب کیا ہے۔ڈاکٹر منظور حسین کا تعلق پونچھ سے ہے اور موصوف فی الوقت بابا غلام شاہ بادشاہ یونی ورسٹی راجوری کے شعبہ گوجری و پہاڑی میں گزشتہ تین برسوں سے استاذ کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر منظور حسین کی اس سے قبل اردو میں دو اور گوجری میں پانچ کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں۔ جب کہ کتاب کے معاون مرتب کا نام طارق حسین ابرارؔ ہے۔ان کا تعلق جموں سے ہے۔طارق ابرارؔ ایک صحافی، ایک ترجمہ نگار، گوجری لکھاڑی، آکاش وانی جموں کے گوجری نیوز ریڈر اور گوجری ادبی میگزین کے ایڈیٹر ہیں۔ ان کی اب تک اردو اور گوجری میں چھ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔طارق ابرارؔ ایک طرف قاری عبد النبی باگڑی رحمتہ اللہ علیہ رانجھن والے کے داماد ہیں اور دوسری طرف جموں میں سروری کسانہ اور غلام رسول اصغرؔ کے مشن پر گامزن گوجری ادیب اور سماجی کارکن ہیں۔ سجرا خیال کتاب میں گجروں کی تاریخ و ثقافت، گوجر شخصیات اور گوجری تحقیق پر تجزیات سے متعلق اچھوتے موضوعات پر مبنی مقالات پر مشتمل ہے۔اس کتاب کے پہلے دو مقدمات مرتبین نے تحریر کیے ہیں جس میں کتاب کے مقاصد کی وضاحت کی ہے۔ سجرا خیال کتاب میں جہاں منشا خاکیؔ، سکندر حیات طارقؔ۔ عبدالمجید حسرتؔ، غلام سرورچوہان، تاج الدین تاجؔ جیسے کہنہ مشق گوجری ادیبوں کے مقالات شامل ہیں وہیں نئے ابھرتے ہوئے ادیبوں کے مقالات کو بھی جگہ دی گئی ہے۔ یہ کتاب گوجری ادب و ثقافت کی عکاسی کرنے کے ساتھ ساتھ میاں نظام الدین لاروی رحمتہ اللہ علیہ، چوہدری غلام حسین لسانوی، وزیرمحمدہکلہ، میاں بشیراحمدلاروری، سروری کسانہ، اسرائیل اثرؔ، اقبال عظیمؔ اور نسیمؔ پونچھی سمیت متعدد گوجر شخصیات کی اپنے قبیلے کی فلاح و بہبود کے لیے انجام دی گئی خدمات اور گوجری ادب کو ترقی دینے میں نبھائے گئے رول کی بھی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ کتاب کا سرسری جائزہ لینے سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ یہ کتاب گوجری ادب میں ایک اہم اضافہ اور نوجوان نسل کو گوجری زبان و ثقافت سے جوڑنے کے سلسلے میں اہمیت کی حامل ہے۔ اس کتاب کی اشاعت کے لیے تقریب کے دوران مقررین نے مرتبین ڈاکٹر منظور حسین اور طارق ابرارؔ کو اس قابل تحسین کاوش کے لیے مبارکباد پیش کی اور یہ امید ظاہر کی کہ یہ دونوں نوجوان گوجری ادیب گوجر بکروال قبیلہ کی بزرگ لکھاڑیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے گوجری زبان و ادب کو ترقی کی بلندیوں تک لے جانے کے لیے مستقبل میں بھی اپنی کاوشوں کو جاری رکھیں گے۔

گوجری زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار نور محمد نورؔ کی وفاتکئی ادبی، صحافتی اور سماجی اَنجمنوں، سیاسی و سم...
05/04/2026

گوجری زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار نور محمد نورؔ کی وفات
کئی ادبی، صحافتی اور سماجی اَنجمنوں، سیاسی و سماجی شخصیات نے کیا تعزیت کا اِظہار
مشتاق خالدؔ چودھری
پیشڪش:اہلِ قلم پبليڪيشنز۔
بشکریہ روزنامہ عمارت جموں
اُوڑی// گوجری زبان و ادب کے نامور مزاحیہ شاعر، ادیب اور ڈرامہ نگار نور محمد نورؔ سنیچروار 4 اپریل 2026 کو آبائی گاؤں چنڈک ضلع پونچھ میں مختصر علالت کے بعد انتقال کر گئے۔ مرحوم کی نمازِ جنازہ سہ پہر 4 بجے آبائی علاقہ میں ادا کی گئی اور چنڈک پونچھ میں تدفین کی گئی۔ نور محمد نورؔ نے گوجری زبان و ادب کی بہت خدمت کی، موصوف گوجری کے علاوہ پنچابی، پہاڑی اور اُردو زبان میں بھی لکھتے تھے لیکن زیادہ تر ادبی کام مادری زبان گوجری میں ہی کیا۔ موصوف نے نظم و نثر پر یکساں کام کیا، گوجری شعری صنف میں مزاحیہ شاعری میں انہیں کافی شہرت ملی، اس کے علاوہ موصوف نے ڈرامہ نگاری میں بھی کافی کام کیا، گوجری زبان و ادب کے شروعاتی دور میں موصوف نے گوجری ڈراموں کے ذریعے معاشرے کی خوب عکاسی کی۔ نور محمد نورؔ گوجری زبان و ادب کے نامور شاعر، ادیب، محقق، دانشور کلچرل اکیڈیمی کے شعبہ گوجری کے چیف ایڈیٹر، ڈویژنل ہیڈ، اور کلا کیندر جموں کے سکریٹری ڈاکٹر جاوید راہیؔ کے والد تھے۔ جوں ہی موصوف کے انتقال کی خبر آئی تو سماجی رابطہ گاہوں پر کئی تعزیتی پیغامات پیش کئے گئے۔ اُن کی وفات پر کئی ادبی، صحافتی اور سماجی انجمنوں جن میں اَدبی سَنگت کشمیر، ادارہ گوجری اَدبی میگزین جموں، اہلِ قلم پبلی کیشنز جموں و کشمیر، بزمِ وادی اَنس گوجری ادب مہور ریاسی، انجمنِ گوجری زبان و ادب اثر آباد دھرمسال کالا کوٹ راجوری، ادارہ رودادِقوم، جموں و کشمیر انجمنِ ترقی گوجری ادب، گوجری ادبی محفل چناراں کی چھاں و کئی دیگر نے آن لائن تعزیتی مجالس کا انعقاد کیا، جن میں موصوف کی ادبی اور سماجی خدمات کو یاد کیا گیا۔ اِن انجمنوں نے اپنے الگ الگ بیانات میں موصوف کے انتقال کو ایک سانحہ قرار دیا جس سے ایک خلا پیدا ہوا ہے، جس سے گوجری زبان و ادب کو نا تلافی نقصان ہوا ہے۔ اِن مختلف آن لائن تعزیتی مجالس میں مرحوم کی ادبی خدمات کو یاد کرتے ہوۓ ادبی سَنگت کشمیر کے صدر چودھری گلاب الدین طاہرؔ نے کہا کہ موصوف گوجری ادبی مالا نے ایک انمول ہیرے کی حیثیت رکھتے تھے جن کے چلے جانے سے گوجری ادب کو کافی نقصان ہوا ہے۔ جس کی بھرپائی ناممکن ہے۔ گوجری اَدبی میگزین کے بانی ایڈیٹر اور نامور نوجوان صحافی طارق ابرارؔ نے کہا کہ گوجری زبان و ادب کے ایسے مایہ ناز مزاحیہ شاعر ادیب کے چلے جانے سے گوجری ادب ایک تجربہ کار ادبی سپاہی سے محروم ہو گیا ہے۔ اپنےالگ الگ بیانات میں سب نے ڈاکٹر جاوید راہیؔ اور دیگر اہلِ خانہ سے دلی تعزیت کرتے ہوۓ ایصال و ثواب کی دعا کی اور اپنی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوۓ کہا کہ اِس دُکھ کی گھڑی میں ہم سب سوگوار کنبہ کے ساتھ ہیں۔

Address

Uri Baramulla J&K
Srinagar
193123

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ehl-E-Qalam Publications posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Ehl-E-Qalam Publications:

Share

Category