04/11/2025
🔴😭😭 انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
💔😭💔
ایک بیالوجی کی کلاس میں “Respiratory System” یعنی نظامِ تنفس پڑھایا جا رہا تھا۔ ڈاکٹر بڑی وضاحت سے سمجھا رہی تھی کہ کس طرح آکسیجن (Oxygen) ہمارے جسم میں داخل ہوتی ہے اور کاربن ڈائی آکسائیڈ (Carbon dioxide) خارج ہوتی ہے۔
پھر بات آئی Rib Cage — یعنی پسلیوں کے پنجرے پر۔
ڈاکٹر نے بتایا کہ یہ پسلیاں انسان کے دل اور پھیپھڑوں کی حفاظت کے لیے اللّٰہ تعالیٰ کا بنایا ہوا حصار ہیں۔ اگر کبھی یہ پسلیاں ٹوٹ جائیں تو اُن پر پلاسٹر نہیں چڑھایا جا سکتا، یہ خود ہی آہستہ آہستہ جڑتی ہیں۔ مگر اُس دوران سانس لینا اذیت ناک ہو جاتا ہے، دل کی دھڑکن تک متاثر ہوتی ہے، اور ہر سانس جسم میں خنجر کی طرح چبھتی ہے۔
بات ختم ہوئی تو ایک شاگرد نے آہستگی سے ہاتھ اُٹھایا اور سوال کیا:
“ڈاکٹر صاحبہ... حضرت فاطمہ الزہراءؑ ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے ساتھ کیسے سانس لیتی رہیں؟”
ڈاکٹر کے لب خاموش ہو گئے... کلاس میں سکتہ چھا گیا...
کچھ لمحے بعد اُس کی آواز لرز گئی —
“بیٹا... آج سمجھ میں آیا کہ 18 برس کی عمر میں سیدۂ کائناتؑ نے کن دردوں میں دنیا کو الوداع کہا ہوگا...”
شاگرد نے روتے ہوئے کہا:
“ڈاکٹر صاحبہ! جب بھی وہ سانس لینے کی کوشش کرتی ہوں گی، تو ٹوٹی ہوئی پسلیاں اُن کے پھیپھڑوں میں چبھتی ہوں گی...”
ڈاکٹر نے آنسو ضبط کرتے ہوئے بس اتنا کہا:
“اب سمجھ آیا... وہ کیوں فاتحِ خیبر مولا علیؑ، جنہوں نے درِ خیبر دو انگلیوں سے اُٹھایا تھا، اپنی زوجہ فاطمہؑ کو دیکھ کر چیخ مار کر رو پڑے۔”
اس کے بعد وہ کلاس گویا مجلسِ فاطمیہ بن گئی —
ہر طالب علم کی آنکھ اشکوں سے لبریز تھی۔
دلوں میں صدا گونج رہی تھی:
💔 لبّیک یا مظلومہ یا فاطمہ زہراؑ 💔
😭 سلام ہو اُس بی بی پر، جس کی پسلیاں توڑ کر امت نے رسولؐ کے دل کو زخمی کیا...
اللّٰهم صلّ علی فاطمة و أبیها و بعلها و بنیها و السرّ المستودع فيها بعدد ما أحاط به علمك 🌹
Gz tv Nadeem Sarwar