Rz Aadil Majeed

Rz Aadil Majeed A Kashmiri

11/08/2026

*فلسطین کے ایک سکول میں استانی نے بچوں سے ٹیسٹ میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والوں کو انعام کا وعدہ کیا کہ جو بھی فرسٹ آیا اس کو نیا جوتا ملے گا۔*

ٹیسٹ ہوا سب نے یکساں نمبر حاصل کیے اب ایک جوڑا سب کو دینا نا ممکن تھا اس لیے استانی نے کہا کہ چلیں قرعہ اندازی کرتے ہیں جس کا بھی نام نکل آیا اس کو یہ نیا جوتا دیں گے اور قرعہ اندازی کے لیے سب کو کاغذ پر اپنا نام لکھنے اور ڈبے میں ڈالنے کو کہا گیا۔

استانی نے ڈبے میں موجود کاغذ کے ٹکڑوں کو مکس کیا تاکہ کسی کی حق تلفی نہ ہوجاۓ اور پھر سب کے سامنے ایک ٹکڑا اٹھایا جونہی کھلا تو اس پر لکھا تھا وفا عبد الکریم سب نے تالیاں بجائیں وہ اشکبار آنکھوں سے اٹھی اور اپنا انعام وصول کیا۔ کیونکہ وہ پھٹے پرانے کپڑوں اور جوتے سے تنگ آچکی تھی۔ والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا تھا اور ماں لاچار تھی اس لیے جوتوں کا یہ انعام اس کے لیے بہت معنی رکھتا تھا۔

جب استانی گھر گئی تو روتی ہوئی یہ کہانی اپنے شوہر کو سنائی جس پر اس نے خوشی کا اظہار کیا اور ساتھ رونے کی وجہ دریافت کی تو استانی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی کہ مجھے رونا وفا عبد الکریم کے جوتوں سے زیادہ دیگر بچوں کے احساس اور اپنی بے حسی پر آتا ہے۔ جب میں نے ڈبے میں موجود دیگر کاغذ کے ٹکڑوں کو چیک کیا تو سب نے ایک ہی نام لکھ دیا تھا “وفا عبد الکریم” ان معصوم بچوں کو وفا عبد الکریم کے چہرے پر موجود لاچاری کے درد اور کرب محسوس ہوتا تھا لیکن ہمیں نہیں جس کا مجھے افسوس ہے۔

میرے ایک استاد بتایا کرتے تھے کہ بچوں کے اندر احساس پیدا کرنا اور عملاً سخاوت کا درس دینا سب سے بہترین تربیت ہے۔
ہمارے کئی اسلاف کے بارے میں کتابوں میں موجود ہے کہ وہ خیرات، صدقات اور زکوة اپنے ہاتھوں سے نہیں دیتے بلکہ بچوں کو دے کر ان سے تقسیم کرواتے تھے جب پوچھا گیا تو یہی وجہ بتائی کہ اس سے بچوں کے اندر بچپن سے انفاق کی صفت اور غریبوں و لاچاروں کا احساس پیدا ہوتا ہے۔“

02/08/2026
جو مینڈک ساری زندگی کنویں میں رہا ہو، اسے سمندر کی وسعت سمجھانا ممکن نہیں۔کچھ لوگ دنیا کو صرف اپنی محدود سوچ اور تجربے ک...
28/07/2026

جو مینڈک ساری زندگی کنویں میں رہا ہو، اسے سمندر کی وسعت سمجھانا ممکن نہیں۔
کچھ لوگ دنیا کو صرف اپنی محدود سوچ اور تجربے کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ آپ چاہے کتنی ہی خوبصورتی اور وضاحت سے کسی عظیم حقیقت، وسیع دنیا یا بڑے خواب کی بات کریں، وہ اسے پوری طرح نہیں سمجھ سکتے کیونکہ انہوں نے کبھی اپنی محدود دنیا سے باہر قدم ہی نہیں رکھا۔ مسئلہ ہمیشہ آپ کی بات میں نہیں ہوتا، بلکہ اکثر ان کی سوچ کی وسعت میں ہوتا ہے۔ اس لیے خود سیکھتے رہیں، اپنی نظر وسیع کریں، مگر اپنی توانائی ان لوگوں پر ضائع نہ کریں جو اپنی محدود دنیا سے باہر دیکھنا ہی نہیں چاہتے۔!!!

25/07/2026

احمد جاوید صاحب نے کہا تھا کہ "جو بڑا استاد ہوتا ہے وہ اپنے شاگرد کے اندر جذبۂ حصولِ علم پیدا کرتا ہے۔ اور شاگرد کو عالم نہیں بناتا، بلکہ ہمیشہ طالب علم رہنے کے لائق بنا دیتا ہے۔ "

24/07/2026



"اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ"
23/07/2026

"اللَّهُمَّ أَحْسِنْ عَاقِبَتَنَا فِي الْأُمُورِ كُلِّهَا وَأَجِرْنَا مِنْ خِزْيِ الدُّنْيَا وَعَذَابِ الْآخِرَةِ"

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جات...
19/07/2026

ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے اس کے مال کی وجہ سے اور اس کے خاندانی شرف کی وجہ سے اور اس کی خوبصورتی کی وجہ سے اور اس کے دین کی وجہ سے اور تو دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیابی حاصل کر، اگر ایسا نہ کرے تو تیرے ہاتھوں کو مٹی لگے گی (یعنی اخیر میں تجھ کو ندامت ہو گی)

Address

Kashmir
Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rz Aadil Majeed posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share