Sufi Media Services

Sufi Media Services Manzoor Zahoor Shah Chishtiy
Founder & Owner
AJMER SHAREEF In the present day world Islam is being misrepresented and misconceived by the
vested interests.

SUFI MEDIA SERVICES Is a registered Social Media organization.Our mission is to promote Sufism, Interfaith Harmony, Universal Brotherhood, Peace and Prosperity through Social and Print Media. Sufi Media Service (SMS) is dedicated to Hazrat Khwaja Moin ud din Chishti (R.A) – the
great Sufi Saint of India, who propagated Islam in India and stood as a great
champion of tolerance, brotherhood, and

compassion. Islam-the religion which stands for brotherhood, equality,
tolerance, care for the needy and the deserving, peace, goodwill to all is being
ascribed to radicalism and terrorism. The revered prophet of Islam Hazrat
Muhammad (SAW) is known as Rehmatal-Lil-Aalameen (Compassionate to all
irrespective of their caste, creed and beliefs). It is by following the
true spirit and universal values of Islam that this religion reached the nook and
corner of the world. Sufi Media Service shall endeavour to present and highlight the universal values
and tenets of Islam as practised and presented by the Sufi luminaries. In the
present day world where conflict, tensions, race for material interests is being
given prominence, Sufi teachings have occupied all the more significance and relevance. In fact
the teachings of Sufis are regarded as a panacea for all the present day ills in the
society. We utilize all the three components of media-Print, electronic
and social for its objectives. The languages to be used for presentations
include Urdu, Hindi and English. It is an endeavour to solicit cooperation with
the other local, national and international media houses to promote the cause. It is a platform to
give space to the
by prominent writers on Sufism and Sufis. It shall highlight the teachings of the Sufi saints which have a great relevance in the
present times. Its coverage shall include the activities of all religious, social and
cultural organizations. It shall arrange features on the life and
achievements of the Sufi saints. We solicit your support and suggestions to make Sufi Media Services a service oriented organisation in real sense,it is service to mankind. SUFI MEDIA SERVICES Online Store is your ultimate destination for unique and thoughtful gifts, featuring an extensive collection tailored to every occasion. Whether you're on the hunt for the perfect gift for her, looking to surprise a newlywed couple, or seeking whimsical unicorn-themed treasures, our curated selection offers something for everyone. We also offer a beautiful range of Islamic gifts, including intricately designed prayer rugs, Qur'an covers, personalized Islamic calligraphy, and unique accessories that reflect faith and elegance. From these meaningful Islamic gifts to the cutest and most charming surprises, we make gifting easy, personal, and memorable. Explore our diverse categories and find the ideal present that speaks volumes – with style, love, and a touch of creativity. Plus, we offer shipping across India, ensuring that your special gift reaches your loved ones no matter where they are! Join our growing community of over 1,000+ followers on Facebook, Instagram, and YouTube, and stay connected for exciting updates and exclusive offers.

*اعتراض کیا داڑھی رکھنا شرعاً قطعی واجب ہے یا سننِ عادیہ میں سے ہے؟** #معترضین کا استدلال*بعض حضرات شدت کے ساتھ یہ موقف ...
13/09/2026

*اعتراض کیا داڑھی رکھنا شرعاً قطعی واجب ہے یا سننِ عادیہ میں سے ہے؟*
* #معترضین کا استدلال*
بعض حضرات شدت کے ساتھ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ داڑھی رکھنا شریعت میں واجب ہے، اور اسے منڈانا یا کتروانا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، وہ اسے دین کا بنیادی شعار قرار دیتے ہیں اور اسے نہ رکھنے والوں کو فاسق و فاجر سمجھتے ہیں۔

* #الجواب، وباللہ التوفیق*
یہ موقف شریعت کے مزاج، اصولِ فقہ اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں محلِ نظر ہے۔ داڑھی کو ”واجبِ شرعی“ (جس کا تارک گنہگار ہو) قرار دینے کے بجائے، محققین اور فقہاء کے اصولی قواعد کی رو سے یہ ”سننِ عادیہ“ اور ”سننِ زوائد“ کے قبیل سے ہے۔ اس دعوے کو ہم نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کرتے ہیں:

*اولاً: #جواب دلائلِ عقلیہ قرآن و سنت کی روشنی میں)*
*۱ خصالِ فطرت اور سنن کا تقابلی جائزہ:*
احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کا ذکر جن اعمال کے ساتھ آیا ہے، وہ تمام کے تمام بالاتفاق ”سنن“ یا ”مستحبات“ ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم کی حدیث ہے:
”عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ“
(دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کتروانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا اور استنجاء کرنا)۔

#اصولِ فقہ کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی حکم (امر) ایسے اعمال کے ساتھ ملا کر بیان کیا جائے جو بالاتفاق مستحب یا سنت ہوں (جیسے مسواک کرنا، ناخن کاٹنا)، تو یہ اس بات کا مضبوط قرینہ ہے کہ یہاں داڑھی بڑھانے کا حکم بھی ”استحباب“ اور ”سنت“ کے درجے میں ہے، نہ کہ فرض یا واجب کے درجے میں۔ اگر داڑھی کٹوانا حرام ہوتا، تو مسواک نہ کرنا یا ناخن نہ کاٹنا بھی حرام ہونا چاہیے تھا، حالانکہ کوئی فقیہ اس کا قائل نہیں۔

*🌻 #حکم کی علت اور اس کا مدار:*
احادیث میں داڑھی بڑھانے کی جو علت Reason بیان کی گئی ہے، وہ غیر مسلموں کی مخالفت ہے، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
”خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ؛ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى“
(مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ)۔

فقہ کا مشہور قاعدہ ہے: ”الْحُكْمُ يَدُورُ مَعَ عِلَّتِهِ وُجُوداً وَعَدَماً“ (حکم اپنی علت کے ساتھ گھومتا ہے، اگر علت پائی جائے تو حکم ہوگا، علت نہ ہو تو حکم نہیں ہوگا)۔
یہاں علت ”مشرکین کی مخالفت“ ہے۔ لباس، وضع قطع اور ظاہری ہیئت میں مخالفت کا تعلق اس دور کے معاشرتی رواج عرف سے تھا۔ آج کے دور میں جب سکھ، یہودی، عیسائی پادری اور دیگر غیر مسلم بھی لمبی داڑھیاں رکھتے ہیں، تو وہ علت (امتیاز اور مخالفت) اس شکل میں باقی نہیں رہی۔ لہٰذا اسے ایک ابدی اور قطعی واجب قرار دینا اصولِ شرع کے خلاف ہے۔

*🌻ثانیاً: #جواب دلائلِ عقلیہ اور اصولِ فقہ کی روشنی میں)*

*۱۔ سننِ ہدیٰ اور سننِ زوائد (عادیہ) کا فرق:*
فقہ حنفی کے محققین جیسے علامہ ابن الہمام وغیرہ نے سنت کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
* #سننِ ہدیٰ* وہ سنتیں جن کا تعلق براہِ راست دین کی تکمیل اور عبادات سے ہے (جیسے اذان، جماعت، نماز کے طریقے)۔ ان کا ترک کرنا گناہ ہے۔
* #سننِ زوائد (سننِ عادیہ) * وہ سنتیں جن کا تعلق حضور نبی کریم ﷺ کی بشری اور معاشرتی عادات سے ہے جیسے آپ ﷺ کا لباس، کھانے پینے کا انداز، چلنے کا طریقہ، اور ظاہری ہیئت۔

#داڑھی رکھنا عرب کا ایک قدیم معاشرتی رواج تھا۔ ابو جہل اور ابو لہب سمیت تمام مشرکینِ مکہ کی بھی لمبی داڑھیاں تھیں۔ اسلام نے آ کر کوئی نئی وضع قطع ایجاد نہیں کی، بلکہ اسی معاشرتی عادت (سننِ عادیہ) کو برقرار رکھا اور اس میں تہذیب پیدا کی، لہٰذا جو چیز معاشرتی عادت کے قبیل سے ہو، اسے ”واجبِ دینی“ بنا کر امت پر مسلط کرنا اور اس کے تارک کو دائرہِ عدالت سے خارج کر دینا عقل اور فقہی بصیرت کے خلاف ہے۔

*۲ #اسلام کی آفاقیت اور مقامی ثقافت:*
عقلی طور پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اسلام ایک آفاقی (Universal) اور قیامت تک رہنے والا دین ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد انسان کے عقائد، اخلاق اور باطن کا تزکیہ ہے۔ اسلام دنیا کے ہر خطے چاہے وہ یورپ کے سرد علاقے ہوں یا افریقہ کے گرم صحرا کے لوگوں کو ساتویں صدی عیسوی کے عربوں کی ثقافتی ہیئت لباس اور بالوں کے مخصوص انداز کا پابند نہیں بناتا۔ اگر اسلام ظاہری شکل و صورت کو اتنا ہی حتمی واجب قرار دیتا، تو قرآنِ کریم میں اس کی صریح تاکید ہوتی اور اس کے ترک پر حدود یا تعزیرات مقرر کی جاتیں۔

*۳ #وعید کا نہ ہونا:*
شریعت میں جو چیز واجب یا فرض ہوتی ہے، اس کے چھوڑنے پر سخت وعید عذاب کی دھمکی وارد ہوتی ہے، جیسے نماز چھوڑنے، زکوٰۃ نہ دینے یا سود کھانے پر۔ لیکن پورے ذخیرہِ احادیث میں کوئی ایک بھی ایسی صحیح صریح حدیث موجود نہیں جس میں داڑھی کٹوانے والے کے لیے جہنم یا عذاب کی وعید سنائی گئی ہو۔ وعید کا نہ ہونا اس بات کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے کہ یہ عمل استحباب اور کمالِ حسن کے درجے میں ہے، وجوب کے درجے میں نہیں۔

* #خلاصہِ کلام*
نقلی اور عقلی دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ داڑھی کو حضور نبی کریم ﷺ کی ایک مبارک ” #سنتِ عادیہ“ اور ظاہری حسن و جمال کا حصہ سمجھا جائے۔ اس سے محبت کرنا اور اسے اپنانا یقیناً باعثِ اجر و ثواب اور کمالِ اتباع کی علامت ہے، لیکن اسے ”واجب“ کے کٹہرے میں کھڑا کر کے، اسے دین کا ایسا پیمانہ بنا دینا کہ جس کی بنیاد پر مسلمانوں کے ایمان و تقویٰ کو ماپا جانے لگے، یہ شریعت کے معتدل مزاج، فقہی قواعد اور اسلام کی آفاقیت کے سراسر خلاف ہے۔

#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين

#و الله #اعلم #بالصواب

کتاب : #احکام داڑھی

مصنف :
شیخ #صلاح محمد سالم ابو الحاج
مترجم:
مفتی #محمد مبشر راشد ندوی

13/09/2026
13/09/2026

AASTAN E AALIYA HAZRAT SAKHI BABA HANEEF UD DIN RESHI R.A RATHSUN

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم معروف امریکی خاتون محقق Kelly Pembertonنے سن 2006 میں رسالہ Women Mystics and Sufi Shrines in In...
13/09/2026

بسمہ اللہ الرحمن الرحیم

معروف امریکی خاتون محقق Kelly Pembertonنے سن 2006 میں رسالہ Women Mystics and Sufi Shrines in India لکھا اور اس رسالے میں انہوں نے انڈیا ہی نہیں پاکستان اور بنگلہ دیش میں صوفی مزارات پر عورتوں کے گدی نشین ہونے اور پیری مریدی کے طریقے کو بیان کیا ہے انڈیا میں گجرات بہار پاکستان میں پنجاب سندھ اور صوبہ سرحد (کے پی کے ) میں اور بنگلہ دیش میں سلہٹ میں رائج نظام پر انہوں نے بات کی ہے
اپنے رسالے میں عورت کی گدی نشینی اور پیری مریدی کے نظام پر جواز کے لیے انہوں نے کچھ دلیلیں صوفیا کے اقوال اور طریقوں سے دی ہیں عمومی طور پر ایک معروف دلیل حضرت رابعہ بصری کی دی جاتی ہے میں ان دلائل کے صحیح یا غلط ہونے پر بات نہیں کرنا چاہتا جو کچھ رائج ہے وہ ہی قلم بند کررہا ہوں محققہ نے 2006تک کہاں کہاں یہ نظام رائج ہے اس کو بیان کیا ہے انہوں نے کہا کہ ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ جس طرح عورتوں میں معلمہ ہوتی ہیں جو عورتوں کو اسلامی تعلیمات کی طرف رہنمائی کرتی ہیں اسی طرح گدی نشین اور پیرنی شیخہ روحانی علوم تصوف کی تعلیم دیتی ہیں لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ یہ تعلیم عورتوں تک محدود نہیں ہے بلکہ محققہ کے مطابق یہ سلسلہ بیعت مردوں تک بھی رہتا ہے ، عورت کی خلافت و اجازت کی ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ حضرت خواجہ غریب نواز نے اپنی صاحبزادی حافظہ جمال بی بی کو خلافت عطا کی تھی افغانستان میں اٹھارہویں صدی میں خواجہ صفی اللہ نقشبندی مجددی کی خلیفہ بی بی کلاں صاحبہ جن کا نام امتہ المعصومہ ہے کا ذکر بھی ملتا ہے ایک اور محقق ڈاکٹر ولید زیاد کے حوالے سے بھی بی بی کلاں کاذکر ان کے ہاں ملتا ہے ان خواتین کے علاوہ موزمبیق میں بی بی خدیجہ جمال جن کو مشہور صوفی سید باحسن نے خلافت دی اور بی بی شفا یوسفو کو بھی سید باحسن کی قادری سلسلے میں خلافت کا ذکر ملتا ہے
پیمبرٹین نے شمالی ہندوستان میں دو بڑی صوفی روایات پر ریسرچ کرتے ہوئے گدڑی شاہ چشتی کے حوالے سے بہار اور منیر (Maner) میں فردوسی سلسلہ جو چشتیہ کی شاخ ہے اس میں عورت خلفا پر تفصیل سے بات کی ہے ، ڈاکٹر ولید زیاد کی کتاب Hidden Caliphate Sufi Saints Beyond Oxus and Indusمیں افغانستان پاکستان انڈیا بنگلہ دیش کی ان صوفی خواتین کا ذکر کیا گیا ہے جنہوں نے سلسلہ طریقت کو جاری رکھا خاص طور پر بی بی کلاں کے روحانی تصرفات اور ان کی خلافت کو بیان کیا ہے
Liaazat jk Bonte
ایک افریقی خاتون ریسرچر نے
موزمبیق میں قادری سلسلے کے بزرگ حضرت سید عبدالرحمن المعروف سید باحسن کے خلفا میں خلیفہ خترہ خدیجہ جمال اور شفا یوسفو کا ذکر کیا ہے جنہوں نے قادری سلسلے کے لئے افریقہ میں بہت جدوجہد کی خاتون محقق Kelly Pemberton نے عرب اور ہندوپاک میں سہروردی بزرگوں کے مزارات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سہروردی بزرگوں کے اس خطے میں مزارات بہت ذیادہ ہیں حضرت شیخ شہاب الدین عمر سہروردی اور حضرت بہاؤالدین ذکریا سہروردی نے اس سلسلے کا بہت کام کیا لیکن کسی بھی سہروردی بزرگ کی کسی خاتون خلیفہ کا ذکر کہیں نہیں ملتا پیمبرٹن کا کہنا ہے کہ برصغیر میں مزارات کے معاشرتی رجحان کی وجہ سے خواتین گدی نشینوں کا ذکر موجود ہے اور ان کے حلقہ ارادت کو بھی بیان کیا جاتا ہے، تاریخ صوفیا میں تاجی سلسلہ جو چشتی سلسلے کی شاخ ہے اس میں خاتون خلفا کا ذکر ملتا ہے اور انہوں نے کسی نہ کسی شکل میں تاجی سلسلہ کو جاری رکھا تاجی سلسلہ حضرت بابا تاج الدین ناگپوری سے شروع ہوا
کیا خواتین مزارات کی سجادہ نشین یا گدی نشین ہوسکتی ہیں یا نہیں اور کیا خواتین خلفا سلسلے کو حلقہ ارادت سے جار ی و ساری رکھ سکتی ہیں یا نہیں یہ سوال صدیوں سے تشنہ طلب ہے

سید فصیح الدین سھروردی
11ستمبر 2026 نیو جرسی

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظرحضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، جنہیں محبت اور عقیدت کے...
12/09/2026

حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی ابتدائی زندگی اور خاندانی پس منظر

حضرت خواجہ معین الدین حسن چشتیؒ، جنہیں محبت اور عقیدت کے ساتھ خواجہ غریب نوازؒ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، برصغیر کی تاریخ کے سب سے بااثر صوفی بزرگوں میں شمار ہوتے ہیں۔ غریب نواز کا لقب عام طور پر ’’غریبوں کے محسن‘‘ کے معنی میں سمجھا جاتا ہے اور یہ لقب روایتی طور پر ان کی شفقت، سخاوت اور ضرورت مندوں کی خدمت سے وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

روایتی روایات کے مطابق حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کی پیدائش چھٹی صدی ہجری میں تاریخی خطے سیستان، فارس میں ہوئی۔ ان کی پیدائش کی روایتی تاریخ تقریباً 1141ء سے 1143ء بیان کی جاتی ہے، اگرچہ مؤرخین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ان کی ابتدائی زندگی کی درست تفصیلات معاصر تاریخی ذرائع سے پوری طرح ثابت نہیں ہوتیں۔

روایتی سوانح میں انہیں رسول اللہ ﷺ کی نسل سے منسوب کیا جاتا ہے۔ ان کے والد کا نام عموماً خواجہ غیاث الدین حسن اور والدہ کا نام بی بی ماہِ نور بیان کیا جاتا ہے۔ ان کے بچپن کے بارے میں روایتی تذکروں میں انہیں ایک غوروفکر کرنے والا اور روحانی رجحان رکھنے والا نوجوان بتایا گیا ہے۔

ان کی ابتدائی زندگی عالمِ اسلام کے مشرقی علاقوں میں گزری، جہاں انہوں نے دینی اور علمی تعلیم حاصل کی۔ روایتی سوانح ان کی تعلیم کو وسیع خطۂ خراسان سے جوڑتی ہیں، جبکہ بعد کے تذکروں میں بخارا اور سمرقند جیسے اہم اسلامی علمی مراکز کا بھی ذکر ملتا ہے۔

ان کی ابتدائی زندگی میں ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب ان کے والد کا انتقال ہوا۔ روایتی روایات کے مطابق انہیں ایک باغ اور ایک چکی وراثت میں ملی، جس کی وجہ سے انہیں دنیاوی اعتبار سے ایک آرام دہ زندگی میسر تھی۔ تاہم صوفی روایات کے مطابق وہ رفتہ رفتہ ایسی زندگی سے بے رغبت ہونے لگے جو مادی چیزوں کے گرد گھومتی ہو، اور انہوں نے اللہ تعالیٰ کی معرفت اور گہری روحانی حقیقت کی تلاش شروع کر دی۔

ایک مشہور روایتی واقعے کے مطابق ان کی ملاقات ایک درویش صفت بزرگ ابراہیم قندوزی سے ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ اس ملاقات نے نوجوان معین الدین چشتیؒ کی زندگی پر گہرا اثر ڈالا اور انہیں دنیاوی وابستگیوں سے دور ہو کر اللہ تعالیٰ کی تلاش میں اپنی زندگی وقف کرنے کی ترغیب ملی۔

اس کے بعد انہوں نے علم، روحانی رہنمائی اور نیک لوگوں کی صحبت کی تلاش میں ایک طویل سفر شروع کیا۔ بالآخر ان کا سفر انہیں خواجہ عثمان ہارونیؒ کی خدمت میں لے گیا، جو ایک عظیم صوفی بزرگ تھے اور بعد میں ان کے روحانی مرشد اور استاد بنے۔

یہیں سے اس عظیم روحانی سفر کا آغاز ہوا جو بالآخر حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کو اجمیر لے گیا اور برصغیر میں تصوف کی تاریخ کے ساتھ ان کے نام کو ہمیشہ کے لیے جوڑ دیا

Muhabat Aman Tarqi Doosti ZINDABAD
11/09/2026

Muhabat Aman Tarqi Doosti
ZINDABAD

11/09/2026

*پاکستان کو ضرور پوچھنا چاہیے: پیسہ کہاں جا رہا ہے؟*

ایک سوال ہے جسے پاکستان اب مزید نظرانداز کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا: پیسہ کہاں جا رہا ہے؟

کئی دہائیوں سے، پاکستان جب بھی معاشی بحران کے قریب پہنچا ہے تو اس نے بین الاقوامی قرض دہندگان، دوست حکومتوں اور مالیاتی اداروں کی طرف دیکھا ہے۔ قرضوں پر مذاکرات ہوئے، بیل آؤٹ پیکجوں کا اعلان ہوا اور ہنگامی مالی امداد حاصل کی گئی۔ حکومتوں نے اصلاحات، استحکام اور ایک مختلف مستقبل کا وعدہ کیا۔

پھر بھی بحران واپس آتا رہتا ہے۔

زرمبادلہ کے ذخائر گرتے ہیں۔ کرنسی دباؤ میں آتی ہے۔ مہنگائی بڑھتی ہے۔ قرضوں کی ادائیگی مشکل ہو جاتی ہے۔ ایک اور حکومت ایک اور قرض دہندہ کے پاس جاتی ہے۔

اقتدار میں رہنے والوں کے نام بدلتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں بدلتی ہیں۔ حالات بدلتے ہیں۔ لیکن یہ چکر وہی رہتا ہے۔

پاکستان کی معاشی مشکلات پیچیدہ ہیں، جو ساختی کمزوریوں، پالیسی کی ناکامیوں، سیاسی عدم استحکام اور بیرونی جھٹکوں سے بنی ہیں۔

لیکن پیچیدگی جوابدہی سے بچنے کا بہانہ نہیں بن سکتی۔

پاکستان 1950 کی دہائی کے آخر میں اپنے پہلے آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہوا اور مختلف حکومتوں کے تحت بار بار واپس آتا رہا ہے۔

لگاتار انتظامیہ کو مانوس مسائل کا سامنا رہا ہے: کمزور ریونیو کلیکشن، مستقل خسارہ، برآمدات میں کم اضافہ، درآمدات پر انحصار، بڑھتا ہوا قرضہ اور توانائی کے شعبے کی نااہلی۔

یہ مسائل ایک حکومت، پارٹی یا ادارے نے پیدا نہیں کیے۔ یہ کئی نسلوں کی قیادت تک زندہ رہے ہیں۔

اسی لیے مرکزی سوال زیادہ اہم ہو جاتا ہے: اگر لگاتار حکومتیں کئی دہائیوں سے ان کمزوریوں کو پہچانتی رہی ہیں، تو وہ حل کیوں نہیں ہوئیں؟

ہر بیل آؤٹ سانس لینے کی مہلت دے سکتا ہے۔ لیکن سانس لینے کی مہلت بحالی نہیں ہے۔ کوئی ملک اگلی ایمرجنسی سے بار بار بچ کر دیرپا معاشی سلامتی نہیں بنا سکتا۔ عوامی بحث اکثر دو یکساں طور پر غیر مددگار انتہاؤں میں گر جاتی ہے۔ _ایک فریق عوامی پیسے کے بارے میں سوالات کو ریاست کے خلاف دشمنی سمجھتا ہے۔ دوسرا یہ فرض کر لیتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والا ہر ڈالر چوری ہو گیا ہوگا۔_

_پاکستان میں آنے والا ہر ڈالر اسکولوں، ہسپتالوں یا ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب نہیں ہوتا۔_ قرضے پچھلے قرضوں کی ادائیگی، سود کی ادائیگی، زرمبادلہ کے ذخائر کو سہارا دینے یا حکومتی مالیات کو مستحکم کرنے میں جا سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ شفافیت اہم ہے۔ _سوال خود بخود یہ نہیں بننا چاہیے کہ "پیسہ کس نے چرایا؟"_، بلکہ یہ کہ پیسہ کیسے مختص کیا گیا، کہاں خرچ کیا گیا، یہ فیصلے کس نے کیے اور پاکستان کو بدلے میں کیا ملا؟

ہر بڑے مالیاتی پیکج کے پیچھے ایک واضح عوامی ریکارڈ چھوڑنا چاہیے۔

کتنا موصول ہوا؟ کیا یہ قرض، گرانٹ یا سرمایہ کاری تھی؟ کتنا قرض کی ادائیگی میں گیا؟ کتنا ترقی پر لگا؟ کون سے منصوبے مکمل ہوئے؟ کون سے ناکام ہوئے؟ آزاد آڈٹ میں کیا پایا گیا؟

یہ جوابدہ حکمرانی کی بنیادی ضروریات ہیں۔ عوام کو سوال پوچھنے کا خاص طور پر حق ہے کیونکہ معاشی بحران کے نتائج عام پاکستانی برداشت کرتے ہیں۔

مہنگائی کچن کے بجٹ کو متاثر کرتی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافہ گھروں کو متاثر کرتا ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی درآمدی لاگت بڑھاتی ہے اور قوت خرید کم کرتی ہے۔ جب حکومتوں کو آمدنی کی ضرورت ہوتی ہے تو شہریوں سے زیادہ ٹیکس دینے کو کہا جاتا ہے۔ جب اصلاحات سبسڈی کم کرتی ہیں تو خاندان اس کا اثر محسوس کرتے ہیں۔

کچھ اصلاحات ضروری ہو سکتی ہیں۔ لیکن عوامی قربانی کے ساتھ عوامی جانچ بھی ہونی چاہیے۔

یہ کون فیصلہ کرتا ہے کہ بڑے فنڈز کہاں خرچ ہوں گے؟ سرکاری ٹھیکے کسے ملتے ہیں؟ کن منصوبوں کو ترجیح ملتی ہے؟ ناکامیوں کو کیسے ماپا جاتا ہے؟ اور جب عوامی پیسہ ضائع ہوتا ہے تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

ایک شہری جو یہ پوچھ رہا ہے کہ قرض کا پیسہ کہاں گیا، وہ پاکستان پر حملہ نہیں کر رہا۔ ایک صحافی جو اخراجات کی تحقیقات کر رہا ہے، وہ ریاست کو کمزور نہیں کر رہا۔ ایک ماہر معاشیات جو پالیسی پر سوال اٹھا رہا ہے، وہ قومی مفادات کے خلاف کام نہیں کر رہا۔

وہ اس وقت مضبوط ہوتے ہیں جب ادارے مشکل سوالات کا جواب دے سکیں۔

_پاکستان کو کم سوالات کی نہیں، بہتر سوالات اور واضح جوابات کی ضرورت ہے۔_

اگر پیسہ مؤثر طریقے سے خرچ کیا جاتا ہے تو عوام کو معلوم ہونا چاہیے۔ اگر منصوبے کامیاب ہوتے ہیں تو نتائج کو ماپا جانا چاہیے۔ اگر ضیاع یا غلط استعمال ثابت ہوتا ہے تو اثر و رسوخ یا تعلقات سے قطع نظر ذمہ داری طے ہونی چاہیے۔

لیکن اسٹریٹجک طاقت اور معاشی طاقت ایک جیسی نہیں ہیں۔

_ایٹمی ہتھیار مہنگائی کم نہیں کر سکتے۔ میزائل نوکریاں نہیں بنا سکتے۔ فوجی صلاحیت مؤثر اسکولوں اور ہسپتالوں کی جگہ نہیں لے سکتی۔ جغرافیائی سیاسی اہمیت پیداواری معیشت کا متبادل نہیں بن سکتی۔_

قومی طاقت کا اصل پیمانہ یہ ہے کہ کیا شہری محفوظ زندگیاں بنا سکتے ہیں۔

کیا نوجوانوں کو نوکریاں مل سکتی ہیں؟ کیا خاندان ضروریات پوری کر سکتے ہیں؟ کیا ملک ہنگامی مدد مانگے بغیر معاشی جھٹکوں کا مقابلہ کر سکتا ہے؟

مسئلہ خود قرض لینا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ قرض لینے کے بعد کیا حاصل ہوتا ہے۔

کیا یہ دیرپا استحکام کے لیے حالات پیدا کرتا ہے؟ یا صرف اگلی ایمرجنسی کو مؤخر کرتا ہے؟

پاکستان کی تاریخ ایک ایماندارانہ گفتگو کا تقاضا کرتی ہے، نہ کہ سازشی نظریات، سیاسی پروپیگنڈا یا نسلوں سے جمع شدہ مسائل کا الزام ایک حکومت پر ڈالنے کی کوشش۔

پیسے کا پیچھا کریں۔ فیصلوں کا جائزہ لیں۔ نتائج کو ماپیں۔ ناکامیوں کی نشاندہی کریں۔ جوابدہی کا مطالبہ کریں۔

کیونکہ ہر قرض بالآخر واجب الادا ہوتا ہے۔

اور جب بل آتا ہے تو سب سے پہلے طاقتور لوگ اسے محسوس نہیں کرتے۔

_لہٰذا پاکستان دنیا سے اگلے بیل آؤٹ کے لیے پوچھنے سے پہلے، اسے اس سوال کا جواب دینا چاہیے_ جس کا پوچھنے کا اس کے شہریوں کو پورا حق ہے:

_پچھلے والے کا پیسہ کہاں گیا؟_

Address

Ajmer Shareef
Srinagar

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sufi Media Services posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Sufi Media Services:

Shortcuts

Share