13/09/2026
*اعتراض کیا داڑھی رکھنا شرعاً قطعی واجب ہے یا سننِ عادیہ میں سے ہے؟*
* #معترضین کا استدلال*
بعض حضرات شدت کے ساتھ یہ موقف اختیار کرتے ہیں کہ داڑھی رکھنا شریعت میں واجب ہے، اور اسے منڈانا یا کتروانا حرام اور گناہِ کبیرہ ہے، وہ اسے دین کا بنیادی شعار قرار دیتے ہیں اور اسے نہ رکھنے والوں کو فاسق و فاجر سمجھتے ہیں۔
* #الجواب، وباللہ التوفیق*
یہ موقف شریعت کے مزاج، اصولِ فقہ اور عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں محلِ نظر ہے۔ داڑھی کو ”واجبِ شرعی“ (جس کا تارک گنہگار ہو) قرار دینے کے بجائے، محققین اور فقہاء کے اصولی قواعد کی رو سے یہ ”سننِ عادیہ“ اور ”سننِ زوائد“ کے قبیل سے ہے۔ اس دعوے کو ہم نقلی اور عقلی دلائل سے ثابت کرتے ہیں:
*اولاً: #جواب دلائلِ عقلیہ قرآن و سنت کی روشنی میں)*
*۱ خصالِ فطرت اور سنن کا تقابلی جائزہ:*
احادیثِ مبارکہ میں داڑھی بڑھانے کا ذکر جن اعمال کے ساتھ آیا ہے، وہ تمام کے تمام بالاتفاق ”سنن“ یا ”مستحبات“ ہیں۔ مثلاً صحیح مسلم کی حدیث ہے:
”عَشْرٌ مِنَ الْفِطْرَةِ: قَصُّ الشَّارِبِ، وَإِعْفَاءُ اللِّحْيَةِ، وَالسِّوَاكُ، وَاسْتِنْشَاقُ الْمَاءِ، وَقَصُّ الأَظْفَارِ، وَغَسْلُ الْبَرَاجِمِ، وَنَتْفُ الإِبْطِ، وَحَلْقُ الْعَانَةِ، وَانْتِقَاصُ الْمَاءِ“
(دس چیزیں فطرت میں سے ہیں: مونچھیں کتروانا، داڑھی بڑھانا، مسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن کاٹنا، انگلیوں کے جوڑ دھونا، بغل کے بال اکھاڑنا، زیرِ ناف بال صاف کرنا اور استنجاء کرنا)۔
#اصولِ فقہ کا قاعدہ ہے کہ جب کوئی حکم (امر) ایسے اعمال کے ساتھ ملا کر بیان کیا جائے جو بالاتفاق مستحب یا سنت ہوں (جیسے مسواک کرنا، ناخن کاٹنا)، تو یہ اس بات کا مضبوط قرینہ ہے کہ یہاں داڑھی بڑھانے کا حکم بھی ”استحباب“ اور ”سنت“ کے درجے میں ہے، نہ کہ فرض یا واجب کے درجے میں۔ اگر داڑھی کٹوانا حرام ہوتا، تو مسواک نہ کرنا یا ناخن نہ کاٹنا بھی حرام ہونا چاہیے تھا، حالانکہ کوئی فقیہ اس کا قائل نہیں۔
*🌻 #حکم کی علت اور اس کا مدار:*
احادیث میں داڑھی بڑھانے کی جو علت Reason بیان کی گئی ہے، وہ غیر مسلموں کی مخالفت ہے، حضور نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:
”خَالِفُوا الْمُشْرِكِينَ؛ أَحْفُوا الشَّوَارِبَ، وَأَوْفُوا اللِّحَى“
(مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں پست کرو اور داڑھیاں بڑھاؤ)۔
فقہ کا مشہور قاعدہ ہے: ”الْحُكْمُ يَدُورُ مَعَ عِلَّتِهِ وُجُوداً وَعَدَماً“ (حکم اپنی علت کے ساتھ گھومتا ہے، اگر علت پائی جائے تو حکم ہوگا، علت نہ ہو تو حکم نہیں ہوگا)۔
یہاں علت ”مشرکین کی مخالفت“ ہے۔ لباس، وضع قطع اور ظاہری ہیئت میں مخالفت کا تعلق اس دور کے معاشرتی رواج عرف سے تھا۔ آج کے دور میں جب سکھ، یہودی، عیسائی پادری اور دیگر غیر مسلم بھی لمبی داڑھیاں رکھتے ہیں، تو وہ علت (امتیاز اور مخالفت) اس شکل میں باقی نہیں رہی۔ لہٰذا اسے ایک ابدی اور قطعی واجب قرار دینا اصولِ شرع کے خلاف ہے۔
*🌻ثانیاً: #جواب دلائلِ عقلیہ اور اصولِ فقہ کی روشنی میں)*
*۱۔ سننِ ہدیٰ اور سننِ زوائد (عادیہ) کا فرق:*
فقہ حنفی کے محققین جیسے علامہ ابن الہمام وغیرہ نے سنت کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
* #سننِ ہدیٰ* وہ سنتیں جن کا تعلق براہِ راست دین کی تکمیل اور عبادات سے ہے (جیسے اذان، جماعت، نماز کے طریقے)۔ ان کا ترک کرنا گناہ ہے۔
* #سننِ زوائد (سننِ عادیہ) * وہ سنتیں جن کا تعلق حضور نبی کریم ﷺ کی بشری اور معاشرتی عادات سے ہے جیسے آپ ﷺ کا لباس، کھانے پینے کا انداز، چلنے کا طریقہ، اور ظاہری ہیئت۔
#داڑھی رکھنا عرب کا ایک قدیم معاشرتی رواج تھا۔ ابو جہل اور ابو لہب سمیت تمام مشرکینِ مکہ کی بھی لمبی داڑھیاں تھیں۔ اسلام نے آ کر کوئی نئی وضع قطع ایجاد نہیں کی، بلکہ اسی معاشرتی عادت (سننِ عادیہ) کو برقرار رکھا اور اس میں تہذیب پیدا کی، لہٰذا جو چیز معاشرتی عادت کے قبیل سے ہو، اسے ”واجبِ دینی“ بنا کر امت پر مسلط کرنا اور اس کے تارک کو دائرہِ عدالت سے خارج کر دینا عقل اور فقہی بصیرت کے خلاف ہے۔
*۲ #اسلام کی آفاقیت اور مقامی ثقافت:*
عقلی طور پر یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اسلام ایک آفاقی (Universal) اور قیامت تک رہنے والا دین ہے۔ اسلام کا بنیادی مقصد انسان کے عقائد، اخلاق اور باطن کا تزکیہ ہے۔ اسلام دنیا کے ہر خطے چاہے وہ یورپ کے سرد علاقے ہوں یا افریقہ کے گرم صحرا کے لوگوں کو ساتویں صدی عیسوی کے عربوں کی ثقافتی ہیئت لباس اور بالوں کے مخصوص انداز کا پابند نہیں بناتا۔ اگر اسلام ظاہری شکل و صورت کو اتنا ہی حتمی واجب قرار دیتا، تو قرآنِ کریم میں اس کی صریح تاکید ہوتی اور اس کے ترک پر حدود یا تعزیرات مقرر کی جاتیں۔
*۳ #وعید کا نہ ہونا:*
شریعت میں جو چیز واجب یا فرض ہوتی ہے، اس کے چھوڑنے پر سخت وعید عذاب کی دھمکی وارد ہوتی ہے، جیسے نماز چھوڑنے، زکوٰۃ نہ دینے یا سود کھانے پر۔ لیکن پورے ذخیرہِ احادیث میں کوئی ایک بھی ایسی صحیح صریح حدیث موجود نہیں جس میں داڑھی کٹوانے والے کے لیے جہنم یا عذاب کی وعید سنائی گئی ہو۔ وعید کا نہ ہونا اس بات کی سب سے بڑی عقلی دلیل ہے کہ یہ عمل استحباب اور کمالِ حسن کے درجے میں ہے، وجوب کے درجے میں نہیں۔
* #خلاصہِ کلام*
نقلی اور عقلی دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ داڑھی کو حضور نبی کریم ﷺ کی ایک مبارک ” #سنتِ عادیہ“ اور ظاہری حسن و جمال کا حصہ سمجھا جائے۔ اس سے محبت کرنا اور اسے اپنانا یقیناً باعثِ اجر و ثواب اور کمالِ اتباع کی علامت ہے، لیکن اسے ”واجب“ کے کٹہرے میں کھڑا کر کے، اسے دین کا ایسا پیمانہ بنا دینا کہ جس کی بنیاد پر مسلمانوں کے ایمان و تقویٰ کو ماپا جانے لگے، یہ شریعت کے معتدل مزاج، فقہی قواعد اور اسلام کی آفاقیت کے سراسر خلاف ہے۔
#اللهم صل و سلم و بارك على سيدنا و حبيبنا محمد و على آله و صحبه اجمعين
#و الله #اعلم #بالصواب
کتاب : #احکام داڑھی
مصنف :
شیخ #صلاح محمد سالم ابو الحاج
مترجم:
مفتی #محمد مبشر راشد ندوی