AqsaUnique

AqsaUnique Religious and Media aqsaunique

07/03/2026

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

77واں یومِ جمہوریہ 26 جنوری ہندستان کی تاریخ کا وہ باوقار دن ہے جب ملک نے اپنا آئین نافذ کیا اور جمہوری اقدار کو عملی شک...
26/01/2026

77واں یومِ جمہوریہ

26 جنوری ہندستان کی تاریخ کا وہ باوقار دن ہے جب ملک نے اپنا آئین نافذ کیا اور جمہوری اقدار کو عملی شکل دی۔ یہ دن آزادی کے بعد قانون کی بالادستی، مساوات، انصاف اور شہری حقوق کے عزم کی تجدید کا پیغام دیتا ہے۔

یومِ جمہوریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں، اور آئین سب کے لیے یکساں تحفظ کی ضمانت ہے۔ یہ دن قربانیوں، اتحاد اور قومی وقار کی علامت ہے—جہاں تنوع میں وحدت ہماری پہچان بنتی ہے۔

آئیے اس 77ویں یومِ جمہوریہ پر آئین کی پاسداری، ذمہ دار شہری ہونے اور ملک کی تعمیر میں مثبت کردار ادا کرنے کا عہد کریں۔
جمہوریت مضبوط ہوگی تو قوم مضبوط ہوگی۔ 🇮🇳

25/01/2026

#جہیز: دایمی لعنت

جہیز وہ رسم ہے جو بظاہر خوشیوں کے موقع پر ادا کی جاتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ہماری معاشرتی رگوں میں زہر گھول چکی ہے۔ شادی جیسے پاکیزہ رشتے کو لین دین کی منڈی بنا دینا، عورت کی عزت و وقار کو قیمت کے ترازو میں تولنے کے مترادف ہے۔

جہیز کے نام پر والدین اپنی عمر بھر کی کمائی لٹا دیتے ہیں، قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں، اور بعض اوقات بیٹی کی شادی خوشی کے بجائے خوف اور اذیت بن جاتی ہے۔ یہ رسم نہ صرف معاشی استحصال ہے بلکہ ذہنی و نفسیاتی ظلم بھی ہے، جس کے نتیجے میں گھریلو جھگڑے، تشدد اور طلاق جیسے سانحات جنم لیتے ہیں۔

اسلام نے نکاح کو سادہ اور آسان بنایا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے جہیز کا حکم نہیں دیا، بلکہ حق مہر مرد پر فرض کیا۔ اس کے باوجود ہم نے معاشرتی دکھاوے اور نام نہاد عزت کے نام پر ایسی روایت کو زندہ رکھا جو سراسر ناانصافی ہے۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اجتماعی طور پر اس لعنت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ شادی کو نمود و نمائش کے بجائے محبت، احترام اور ذمہ داری کا بندھن سمجھیں۔ جب تک ہم سوچ نہیں بدلیں گے، تب تک یہ سماجی بیماری ہماری بیٹیوں کے مستقبل کو یرغمال بنائے رکھے گی۔

جہیز نہیں، شعور دیجیے — یہی اصل تحفہ ہے۔

, #شبِ معراج ہم معراج کا ذکر تو کرتے ہیںمگر نماز سے بھاگتے ہیں،ہم قربِ الٰہی کی بات تو سنتے ہیںمگر اپنی انا کی بلندی نہی...
16/01/2026

, #شبِ معراج
ہم معراج کا ذکر تو کرتے ہیں
مگر نماز سے بھاگتے ہیں،
ہم قربِ الٰہی کی بات تو سنتے ہیں
مگر اپنی انا کی بلندی نہیں چھوڑتے۔
معراج یہ نہیں کہ نبی ﷺ آسمانوں تک گئے،
اصل معراج یہ تھی
کہ بندے کو سجدے میں
رب سے ملنے کا راستہ دے دیا گیا۔
سوال یہ نہیں کہ
ہم نے معراج پر کتنا لکھا،
سوال یہ ہے کہ
ہم نے نماز میں
کتنا جیا؟
اللہ تعالٰی ہم سب کو نماز پنجگانہ پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے آمین
゚viralシ

 #سزا سے پہلے انصاف اور سبب کا ازالہ ضروری ہے۔عدل، رحم اور خدمتِ خلق کا درخشاں نمونہ #اسلامی تاریخ فلاحِ انسانیت کے ایسے...
14/01/2026

#سزا سے پہلے انصاف اور سبب کا ازالہ ضروری ہے۔

عدل، رحم اور خدمتِ خلق کا درخشاں نمونہ

#اسلامی تاریخ فلاحِ انسانیت کے ایسے بے شمار واقعات سے روشن ہے جو محض عبادات تک محدود نہیں بلکہ سماجی انصاف، انسانی وقار اور خدمتِ خلق کی عملی تصویر پیش کرتے ہیں۔ ان ہی درخشاں مثالوں میں عہدِ فاروقی میں قحط کے دوران حضرت عمر بن خطابؓ کا فلاحی کردار ایک ایسا واقعہ ہے جو اسلامی ریاست کے سماجی تصور، حکمران کی ذمہ داری اور انسان دوستی کو جامع انداز میں واضح کرتا ہے۔

قحطُ الرمادہ
ہجری 18 میں جزیرۂ عرب کے مختلف علاقوں کو شدید قحط نے اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ زمین بنجر ہو چکی تھی، بارشیں ناپید تھیں، مویشی ہلاک ہو رہے تھے اور خوراک کی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔ اس قحط کو تاریخ میں قحطُ الرمادہ کہا جاتا ہے، کیونکہ گرد و غبار اور بھوک نے زمین اور انسان دونوں کو راکھ کی مانند بے جان کر دیا تھا۔
یہ صرف معاشی بحران نہیں تھا بلکہ ایک ہمہ گیر انسانی المیہ تھا جس میں کمزور طبقات سب سے زیادہ متاثر ہو رہے تھے۔

خلیفۂ وقت کا احساسِ ذمہ داری
اس نازک وقت میں حضرت عمر بن خطابؓ نے خود کو محض حکمران نہیں بلکہ ہر بھوکے انسان کا جواب دہ سمجھا۔ آپؓ کا یہ مشہور قول اسی احساسِ ذمہ داری کی عکاسی کرتا ہے:
> “اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوک سے مر گیا تو عمر اس کا ذمہ دار ہوگا۔”

یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ اسلامی فلاحی ریاست کا نظریہ ہے، جہاں حکمران رعایا کی بنیادی ضروریات کا خود کو ضامن سمجھتا ہے۔

ذاتی طرزِ زندگی میں ایثار
قحط کے دنوں میں حضرت عمرؓ نے گوشت، گھی اور عمدہ کھانوں سے مکمل اجتناب کیا۔ آپؓ عام لوگوں کی طرح خشک روٹی اور زیتون کے تیل پر گزارا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ ایک مرتبہ پیٹ کی آواز آئی تو فرمایا:
> “اے پیٹ! گڑگڑاتا رہ، جب تک رعایا سیر نہ ہو جائے، عمر بھی سیر نہیں ہوگا۔”

یہ ایثار محض ہمدردی نہیں بلکہ قیادت بالعمل (Leadership by example) کی اعلیٰ ترین مثال تھی۔

حضرت عمرؓ نے قحط کے مقابلے کے لیے محض دعاؤں پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ٹھوس اور منظم اقدامات کیے:
مختلف علاقوں سے غلے اور راشن کی فراہمی
بیت المال کو عوام کے لیے مکمل طور پر کھول دینا
اجتماعی لنگر (کمیونٹی کچن) کا قیام
خود راتوں کو گشت کر کے بھوکے اور محتاج افراد کی خبرگیری

ایک روایت کے مطابق، آپؓ نے ایک خیمے میں بچوں کو بھوک سے روتے دیکھا تو فوراً بیت المال سے آٹا، گھی اور دیگر سامان خود اٹھا کر لائے اور کھانا پکا کر بچوں کو کھلایا۔
قحط کے دنوں میں حضرت عمرؓ نے سزاؤں کے نفاذ کو بھی وقتی طور پر روک دیا، کیونکہ بھوک میں کیے گئے جرائم کو آپؓ سماجی ناکامی سمجھتے تھے، فرد کی نہیں۔
یہ فیصلہ اسلامی عدل کے اس اصول کی عملی تعبیر تھا کہ:
> سزا سے پہلے انصاف اور سبب کا ازالہ ضروری ہے۔

اسلامی فلاحی تصور

قحطُ الرمادہ کے دوران حضرت عمرؓ کا کردار اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ اسلام میں فلاحی نظام کوئی ثانوی پہلو نہیں بلکہ ریاستی ذمہ داری ہے۔
اسلامی ریاست میں:
بھوک جرم نہیں
غربت فرد کی ناکامی نہیں
بلکہ معاشرے اور نظام کا امتحان ہے

عصرِ حاضر کے لیے پیغام
آج کے دور میں، جب فلاحی ریاست کا نعرہ تو بلند ہے مگر عملی نمونے نایاب ہیں، حضرت عمر بن خطابؓ کا یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:
حقیقی قیادت قربانی مانگتی ہے
اقتدار سہولت نہیں، امانت ہے
اور انصاف نعروں سے نہیں، عمل سے قائم ہوتا ہے

قحطُ الرمادہ کے دوران حضرت عمر بن خطابؓ کا فلاحی کردار اسلامی تاریخ کا وہ درخشاں باب ہے جو ہر دور کے حکمرانوں، معاشروں اور انسانیت کے لیے رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ عدل، رحم اور خدمتِ خلق جب یکجا ہو جائیں تو ریاست محض حکومت نہیں رہتی بلکہ انسانیت کی محافظ بن جاتی ہے۔

14/01/2026

“عدل کے بغیر حکومت قائم نہیں رہ سکتی، چاہے وہ کفر ہی کیوں نہ ہو۔”
حضرت عمر فاروق

جیتے جی نہ کوئی قدر کرے، مر کے سب یاد کریںیہ زندگی بھی عجیب کھیل ہے، خوشی کم اور رنج زیادہ.😘Day and night view of the Ro...
14/01/2026

جیتے جی نہ کوئی قدر کرے، مر کے سب یاد کریں
یہ زندگی بھی عجیب کھیل ہے، خوشی کم اور رنج زیادہ.😘
Day and night view of the Royal clock Tower 🙌

 #ایک بڑی مصیبت ٹل گئیبہار کے ضلع گیا سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ نابالغ لڑکی اپنے چند دوستوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر دہلی جا...
13/01/2026

#ایک بڑی مصیبت ٹل گئی

بہار کے ضلع گیا سے تعلق رکھنے والی 14 سالہ نابالغ لڑکی اپنے چند دوستوں کے ساتھ گھر چھوڑ کر دہلی جانے کی کوشش کر رہی تھی، تاہم ریلوے پروٹیکشن فورس (RPF) کی مستعدی کے باعث اسے بروقت روک لیا گیا۔

قانونی کارروائی مکمل کرنے کے بعد لڑکی کو محفوظ طریقے سے اہلِ خانہ کے حوالے کر دیا گیا۔
یہ واقعہ نابالغ بچوں کے تحفظ اور سماجی ذمہ داری کی ایک اہم مثال ہے۔

🔴 والدین ہوشیار رہیں
🔴 بچوں پر نظر رکھیں
🔴 کسی بھی مشتبہ صورتِ حال میں چائلڈ ہیلپ لائن 1098 پر رابطہ کریں

✅ RPF کی چوکسی قابلِ تحسین

 #عجیب و غریب واقعہحضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہایک دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خانقاہ م...
12/01/2026

#عجیب و غریب واقعہ
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ

ایک دن حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے خانقاہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اچانک ایک غریب شخص دروازے پر آیا، جس کے کپڑے پھٹے ہوئے اور آنکھوں میں اشک بھرے ہوئے تھے۔ وہ شخص اپنی پریشانی اور فقر کی داستان بیان کرنے لگا۔

حضرت شیخ رحمۃ اللہ علیہ نے نہ صرف اس کی بات سنی بلکہ فوراً اپنی دُعا اور کرامت سے اس کی حالت بدل دی۔ وہ شخص حیرت زدہ رہ گیا کیونکہ چند لمحوں میں اس کے کپڑے صاف اور نئے ہو گئے، اور پیٹ بھرا ہوا محسوس ہونے لگا۔
لیکن سب سے عجیب بات یہ ہوئی کہ حضرت شیخ نے فرمایا:
"جو شخص دل سے اللہ کی محبت رکھتا ہے اور بندوں کی خدمت کرتا ہے، اللہ اس کے لیے عجائبات پیدا کر دیتا ہے۔"
یہ کرامت نہ صرف اس غریب کی زندگی بدل گئی بلکہ تمام خانقاہ میں حاضرین کے لیے عبرت اور ایمان کی تجدید کا سبب بنی۔ اس واقعے نے لوگوں کے دلوں میں یہ بات گہری کر دی کہ ولی اللہ صرف اللہ کی ذات کے قریب ہونے سے کرامات ظاہر کرتے ہیں، اور یہ کرامات دنیاوی دکھاوے کے لیے نہیں بلکہ لوگوں کی رہنمائی اور فلاح کے لیے ہوتی ہیں۔
(کتب تصوف و کرامات)

Address

Thane
400612

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when AqsaUnique posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to AqsaUnique:

Share