26/06/2026
روزِ عاثور امام سجادً
اور حضرت على اكبرّ
کی گفتگو
حضرت امام زين العابد ين نے فرمایا
روزِ عاشور بس شديد بيمارتھا اچانک مجھ پے غشى طارى ہوئی ۔میں نے محسوس كياكه كولىآہستہ آہستہ میرے پاؤں کے بوسے لے رہا ہے ۔میں نے دیکھا کے یہ تو میرا بھائی علی اکبر ہے جو میرا بڑا اخترام بجا لاتے ھوئے میرے قدموں میں گرے ھوئے اپنے رخسار میرے پاؤں سے مس کر رہا ہے ۔میں نے کہا میرے بھائی تم کو کیا ہوا ہے تمھارا یہ حال کیا ہے اور آنکھوں میں آنسو کیو ہیں ؟ علی اکبر نے کہا : اے میرے بھائی ! میرا بابا تنہا رہ گیا ، سب یار او انصار مرے گئے اب میں نے میدان میں جانے کا ارادہ کیا ہے تا کے اپنی جان نثار کر سکوں ۔اس کے بعد علی اکبر نے اپنے بھائی کو اپنی ماں کو اور اپنی پھوفی کو الودع کیا اور اپنے بابا کی خدمت میں حاضر ھوئے ۔امام مظلوم نے اپنے ہاتھ سے اپنے جوان کو مرنے کے لیے تیار کیا ۔جسم پر اسلحہ سجایا ۔ اپنے پیغمبر کا عمامہ پہنایا اور جوان بیٹے کی طرف ایک نظر کی اور ایک آہ کی اور زمین کربلا پر بیٹھ گئے ۔