28/09/2026
مومنین کے عقائد کی مضبوطی اور شبہات دور کرنے کا اجر
فقیہ شیخ وحید خراسانی (دام ظلہ) فرماتے ہیں کہ جب تم تبلیغ اسلام کے سفر کے لیے اپنے گھروں سے نکلو تو تمہاری یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اس برحق مذہب کے عقائد کی اپنے دل کی گہرائیوں سے حفاظت کرو۔ اگر تم کسی محب کے دل میں پیدا کیا گیا کوئی شک دیکھو تو اسے دور کرو، اور اگر دیکھو کہ کوئی شبہ ڈالا گیا ہے تو اس کا ازالہ کرو۔
تب تمہارا اجر درہم و دینار کی حیثیت سے کہیں بڑھ کر ہوگا۔ تمہارا اجر وہ ہوگا جس کے بارے میں امیر المومنین علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ جو شخص دین میں کسی کمزور اور معرفت میں ناتواں انسان کو کسی ناصبی اور دشمن کے مقابلے میں اس قدر مضبوط کرے کہ وہ اسے لاجواب کر دے تو جس دن اسے قبر میں اتارا جائے گا، اللہ تعالیٰ اسے یہ تلقین فرمائے گا کہ وہ کہے کہ اللہ میرا رب ہے، محمد میرے نبی ہیں، علی میرے ولی ہیں، کعبہ میرا قبلہ ہے، قرآن میری خوشی اور میرا زادِ راہ ہے اور مومنین میرے بھائی ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم نے دلیل پیش کر دی، لہٰذا تمہارے لیے جنت کے اعلیٰ ترین درجات واجب ہو گئے۔ اس وقت اس کی قبر جنت کے پاکیزہ ترین باغوں میں سے ایک باغ میں تبدیل ہو جائے گی۔
اللہ تعالیٰ اسے تلقین فرمائے گا، یہ ایک ایسا جملہ ہے جس سے اعلیٰ کسی بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تمہارے لیے امیر المومنین کا وعدہ ہے کہ اگر تم نے دین کی معرفت میں کسی کمزور شخص کے عقیدے کو مضبوط کیا اور اس کے دل کو مذہبِ حق پر ثابت قدم رکھا، تو تمہارے اس عمل کا پہلا نتیجہ یہ ہوگا کہ قبر میں تمہیں تلقین کرنے والی ذات خود اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہوگی۔ پھر اس کا اگلا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ، بلکہ سب سے خوبصورت اور پاکیزہ باغ میں بدل جائے گی۔
یہ ایک ایسا اجر ہے جو ہماری توقع اور تصور سے بھی کہیں زیادہ بڑا ہے۔ لہٰذا، اس سفر میں اپنی تمام تر توانائیاں فضائل اہل بیت علیہم السلام کی نشر و اشاعت میں صرف کرو اور تمہاری کوشش لوگوں کے سامنے فقط قرآن اور سنت کو بیان کرنے کی ہونی چاہیے، اس راستے سے ہرگز نہ ہٹنا۔ یہ بات جان لو کہ لوگوں کے دلوں پر اثر انداز ہونے کا راستہ صرف قرآن، اور احادیثِ نبی اور ان کی عترت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک محدود ہے، اس کے علاوہ باقی تمام راستے غلط ہیں۔ پس انسانی کلام کو الہی کلام کے ساتھ خلط ملط نہ کرو، زمینی باتوں کا آسمانی باتوں سے موازنہ نہ کرو، اور وہم و گمان کو حقیقتوں کے برابر نہ سمجھو۔
ماخذ: الحقّ المبين