Urdunews24

Urdunews24 international news channel

‏‎انا للّٰہ وانا الیہ راجعون اعلان نماز جنازہ چوہدری بشارت مہدی نون آف سرہالی خورد  جو کہ  اٹلی کے شہر crotone میں وفات ...
26/11/2025

‏‎انا للّٰہ وانا الیہ راجعون
اعلان نماز جنازہ
چوہدری بشارت مہدی نون آف سرہالی خورد جو کہ اٹلی کے شہر crotone میں وفات پا گئے تھے ان کی نماز جنازہ۔ 27 نومبر بروز جمعرات بعد نماز عصر۔ 3:15 پر محمدیہ مسجد ناپولی میں ادا کی جائےگی۔ اللہ تبارک وتعالئ مرحوم کو جنت میں اعلئ مقام عطا فرمائےاور لوا حقین کو صبر جمیل عطا فرمائے
شرک غم
دانش مہندی (بیٹا)۔ علی چوہدری (بھتیجا)۔ شہباز مہدی۔ چوہدری زمان کھٹانہ۔
چوہدری احمد خان ڈوئ۔ ڈاکٹر سجاد احمد

23/11/2025
نجانے کیوں مگر  گونگا  لگا تھازباں کو  کیوں مگر  تالا لگا تھازمانے بھر کی رونق میں دیکھا جیسے خود کو میں تنہا لگا تھاکتن...
18/11/2025

نجانے کیوں مگر گونگا لگا تھا
زباں کو کیوں مگر تالا لگا تھا

زمانے بھر کی رونق میں دیکھا
جیسے خود کو میں تنہا لگا تھا

کتنا کرب تھا آسمان تیرے تلے
ہر شخص اندر سے ٹوٹا لگا تھا

درد کے جہاں میں بیتاب نظر
دیکھنے والا ہی اندھا لگا تھا

دور تھا میں اپنے آپ سے جو
پہاڑوں کیطرح اونچا لگا تھا

زندگی کی سزا تھی بس جینا
کیا انصاف ہی سستا لگا تھا

یہ میزان اور وہ ظالم طلعت
آج مطلق خدا مہنگا لگا تھا

کالم ::  **سیاسی استحکام ، خوشحال پاکستان کا ضامن*پانچ نومبر 1996 منگل کا دن پاکستان کے سیاسی تاریخ کا ایک اہم ترین دن ک...
04/11/2025

کالم :: *
*سیاسی استحکام ، خوشحال پاکستان کا ضامن*

پانچ نومبر 1996 منگل کا دن پاکستان کے سیاسی تاریخ کا ایک اہم ترین دن کہلایا جاتا ہے ۔ اس دن صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری نے اپنی ہی پارٹی کی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت کو مختلف الزامات کے تحت برطرف کرتے ہوئے قومی اور صوبائی اسمبلیاں توڑ دیں ۔ اس اقدام سے جہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت ہکا بکا رہ گئی وہیں دیگر سیاسی جماعتوں کی قیادت نے بھی اپنی انگلیاں دانتوں تلے داب لیں ۔ پورے ملک کے سیاسی حلقے اس "انہونی" پہ حیران پریشان رہ گئے ۔ یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں تھا بلکہ اسے قومی سیاسی تاریخ کا "غیر متوقع دھماکہ" قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا ۔ صدر فاروق لغاری نے اپنی ہی جماعت کی قائم کردہ حکومت توڑنے کیلئے خصوصی صدارتی اختیارات کا استعمال کیا اور کرپشن ، بدامنی ، اختیارات کے ناجائز استعمال سمیت متعدد الزامات عائد کرتے ہوئے محترمہ بینظیر بھٹو کو ایوان وزیر اعظم سے دیس نکالا دیا ۔ انہوں نے آئین کی شق 58 بی 2 کے تحت یہ انتہائی اقدام اٹھایا ۔ توقع کے عین مطابق پیپلزپارٹی کی قیادت اور کارکنان کی جانب سےصدر فاروق لغاری کے اس اقدام کی سخت مذمت کی گئی انہیں احسان فراموش ، نظریاتی غدار سمیت پارٹی کیلئے میر جعفر قرار دیا گیا جس نے اپنی ہی محسنہ کی پشت پہ احسان فراموشی کا خنجر گھونپا ۔ اس زخم کے درد سے آج بھی پیپلزپارٹی کا نظریاتی کارکن تڑپ اٹھتا ہے ۔ اب ذرا "فلیش بیک" کی طرف جائیں تاکہ ان اسباب کا اندازہ ہوسکے کہ "پانچ نومبر" کے انتہائی اقدام کی ضرورت کیوں پیش آئی ۔ 1993 کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی نے مطلوبہ اکثریت حاصل کی اور حکومت بنائی ۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے دوسری بار وزارت عظمی کا حلف اٹھایا ۔ ان انتخابات سے قبل وزیر اعظم نواز شریف اور صدر غلام اسحاق کی باہمی چپقلش کے باعث سیاسی محاذ کافی گرم رہا تھا جس وجہ سے دونوں کو مستعفی ہوکر گھر جانا پڑا ۔ اس کے بعد انتخابات منعقد ہوئے اور پیپلزپارٹی کی حکومت قائم ہوئی ۔ عہدہ صدارت کیلئے وزیر اعظم بینظیر کی نگاہ انتخاب بلوچستان سے سردار فاروق احمد خان لغاری پہ پڑی جن کا شمار پیپلز پارٹی کے جانثار کارکنان میں ہوتا تھا اور انہوں نے پارٹی کے لیے بہت سی قربانیاں بھی دیں۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے فاروق احمد خان لغاری کے نام کی توثیق کی اور صدارتی انتخابات میں وہ اکثریتی ووٹوں سے صدر پاکستان منتخب ہو گئے ۔ غالب امکان یہ تھا کہ اس دفعہ قومی اور صوبائی اسمبلیاں اپنی پانچ سالہ مدت پوری کریں گی اور ملک سیاسی استحکام کی جانب گامزن ہوگا ۔ لیکن قارئین ! صدر مملکت کو کچھ عرصے بعد محسوس ہونے لگا کہ انہیں نظرانداز کیا جارہا ہے جبکہ اختیارات کا تمام تر جھکاؤ بھی ایوان وزیراعظم کی طرف ہے اور انہیں صرف "سگنیچر پریزیڈنٹ" بن کے رہنا ہوگا ۔ لہذا غیر محسوس طریقے سے ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے درمیان سرد مہری کی فضا قائم ہوتی گئی ۔ وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اسی خوش گمانی میں حکومت کرتی رہیں کہ ایوان صدر میں ان کا "منہ بولا بھائی" موجود ہے لہذا ان کی حکومت کو کوئی خطرہ نہیں اور یہ سچ تھا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو صدر مملکت کو "فاروق بھائی" کہہ کر پکارتی تھیں جو کہ اخلاقی و سیاسی اقدار سے بالکل مناسب اور خوش آئند بات تھی ۔ بد قسمتی سے پیپلز پارٹی کی حکومت انتخابات سے قبل عوام سے کیے گئے وعدوں کو پورا کرنے میں کافی حد تک ناکام رہی ۔ گو کہ اپنے دوسرے دور حکومت میں وزیر اعظم صاحبہ نے عوامی فلاح و بہبود اور خصوصاً خواتین کی سماجی ترقی کے انتہائی شاندار منصوبوں کا آغاز کیا جنہیں عالمی سطح پر بےحد پذیرائی ملی ۔ بہت کم وقت میں ان منصوبوں کے دوررس نتائج مرتب ہوئے مگر افسوس یہ تمام اقدامات ان الزامات کی دھند میں گم ہوگئے جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ۔ مبینہ طور پر اس دور میں کرپشن ، بدامنی ، اقربا پروری اور مالی بےضابطگیاں عروج پر پہنچ گئیں تھیں ۔ کراچی سمیت ملک کے متعدد شہروں میں امن و امان کی صورتحال بگڑتی جارہی تھی ۔ قتل و غارت سمیت سٹریٹ کرائمز عروج پہ تھے ۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ان دنوں پیپلز پارٹی کا ایک عام ورکر بھی اپنے آپ کو "طرم خان" سمجھتا تھا ۔ دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں حکومتی پالیسیوں سے نالاں تھیں ۔ سیاسی انتقام کے واقعات میں بےتحاشا اضافہ ہوچکا تھا ۔ مہنگائی روز بہ روز بڑھ رہی تھی مگر خوشامدی گروپ کی جانب سے وزیر اعظم صاحبہ کو "سب اچھا ہے" کی رپورٹ دی جاتی ۔ انہی موقع پرست عناصر کی وجہ سے محترمہ بینظیر بھٹو جیسی عظیم اور قابل رہنماء کو عوامی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑا ، ان کی حکومت کی مقبولیت کا گراف یکلخت گرنے لگا لیکن بدقسمتی سے وہ صورتحال کا ادراک نہ کرپائیں جس کا نتیجہ انہیں اقتدار سے بےدخلی کی صورت میں بھگتنا پڑا ۔ ۔ 1996 کے آغاز میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کی شروعات ہوئیں ۔ عوام اپنے مطالبات کی تکمیل کیلئے سڑکوں پہ نکل آئے ۔ مسلم لیگ ، جماعت اسلامی نے "تحریک نجات" کا آغاز کیا جس کا مقصد حکومت کی برطرفی اور نئے انتخابات کا اعلان تھا ۔ جماعت اسلامی کی جانب 19 اکتوبر کو لانگ مارچ کا آغاز کیا گیا تھا ۔ مظاہرین کی منزل اسلام آباد کی جانب تھی ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میرے ماموں راولپنڈی ہسپتال میں داخل تھے جن کی عیادت کیلئے میرے والد گرامی گوجرانوالہ سے راولپنڈی انیس گھنٹوں میں پہنچے تھے اور خود بیمار ہوگئے تھے ۔ بہرحال ان مظاہروں کی گونج ایوان صدر تک پہنچ گئی ۔ صدر مملکت نے وزیراعظم کو ان مسائل کے فوری حل اور اپوزیشن سے مذاکرات کا مشورہ دیا لیکن بات نہ بن سکی اور صدر اور وزیراعظم کے درمیان فاصلے مزید بڑھ گئے۔ انہی دنوں وزیر اعظم کے بھائی میر مرتضی بھٹو گولیوں کا نشانہ بن کر جاں بحق ہوگئے جس کے بعد ملک میں امن و امان کی فضا میں خوف و ہراس کی کیفیت پیدا ہوئی ۔ صورتحال یکلخت تبدیل ہوگئی اور فیصلہ کن پوزیشن پہ آگئی ۔ بالآخر پانچ نومبر 1996 کی درمیانی شب صدر مملکت نے درج بالا الزامات کے تحت اپنی ہی حکومت کو برطرف کرتے ہوئے نئے انتخابات کااعلان کیا اور پیپلزپارٹی کے سابق رہنماء ملک معراج خالد کو نگران وزیر اعظم مقرر کردیا ۔ صدر مملکت نے عوامی مطالبے کو تسلیم کرتے ہوئے پیپلزپارٹی کے تین سالہ دور حکومت کے تمام منصوبہ جات کے تخمینوں اور اخراجات سمیت دیگر مالی ، عدالتی اور سیاسی معاملات کی شفاف تحقیقات کا اعلان کردیا ۔ قارئین ! آپ چونکہ اوپر تمام واقعات پڑھ چکے ہیں لہذا ان واقعات سے چند سبق ملتے ہیں ، صدر مملکت ہمیشہ وفاق کی علامت ہوتا ہے وہ کسی ایک جماعت کا نمائندہ نہیں بن سکتا ، یہ آئینی پہلو ہے جس پہ کوئی دورائے نہیں ۔ دوسرا یہ کہ وہ نظام حکومت ہمیشہ ناکام ہوجاتا ہے جس میں اختیارات کا عدم توازن ہو اور ایک ہی فرد کو نواز دیا جائے جبکہ کامیاب نظام حکومت میں اختیارات آئینی حدود کے اندر رہ کر تقسیم کئے جاتے ہیں ، بصورت دیگر عدم توازن کی شکل میں "پانچ نومبر" والا واقعہ ہی پیش آتا ہے ۔ تیسرا سبق یہ ہے کہ پارٹی عہدے کی بات الگ ہے مگر ملکی عہدہ دیتے وقت متعلقہ فرد کی جماعتی وفاداری یا خدمات کی بجائے اس کی حب الوطنی ، قابلیت اور اہلیت کو مدنظر رکھا جانا چاہئے۔ قارئین ! بدقسمتی سے وطن عزیز میں اقتدار کی بھاری بھرکم ذمہ داری کو ہمیشہ "میوزیکل چئیر" بنایا گیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم نے 78 برسوں میں متعدد بار مستحکم سیاسی نظام سے محروم رہے ۔ موجودہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف سے قوی امید ہے کہ وہ اپنے وسیع تر تجربہ کی بنیاد پہ ملکی سیاسی استحکام پہ زور دیں گے اور موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی اور وطن عزیز کو خوشگوار سیاسی نظام میسر آئے گا ۔ واضع رہے کہ ایک مستحکم سیاسی نظام حکومت ہی ملک کی سماجی مضبوطی ، معاشی استحکام اور تعمیر و ترقی سے مزین روشن پاکستان کی علامت ہے ۔ پاکستان زندہ باد ، قائد اعظم پائندہ باد ۔

دل چاہا  آج  جی  بھر کے  رونے کیلئے اشک بچا  رکھے تھے تیرے گانے کیلئےکتنی  تلخ  ہیں یہ زندگی کی خوشیاں زہر بھی تو دستیاب...
30/10/2025

دل چاہا آج جی بھر کے رونے کیلئے
اشک بچا رکھے تھے تیرے گانے کیلئے

کتنی تلخ ہیں یہ زندگی کی خوشیاں
زہر بھی تو دستیاب نہیں پینے کیلئے

لاش جیسی حیات میں لپٹے ہوئے لوگ
زندگی برباد کر دی ایسا جینے کیلئے

کیسے دل یہ بیچارے کہ دھڑکتے نہیں
حلق میں زباں نہیں کچھ کہنے کیلئے

کیا سنسار ہے کہ پیاسے تڑپ رہے ہیں
کون سا جبر باقی بچا ہے سہنے کیلئے

کفن بھی چھین لیا ظالم لٹیروں نے
کون جینا چاہے گا ایسے مرنے کیلئے

تلخ سسکتی زندگی اور افلاس طلعت
قلم بھی درکار نہیں لکھنے لکھنے کیلئے

گوجرانوالہ ()  بیورو چیف روزنامہ خبریں چوہدری یاسر علی جٹ صاحب کے ساتھ بیورو آفس میں طویل عرصے بعد محبت بھری ملاقات ہوئی...
16/10/2025

گوجرانوالہ () بیورو چیف روزنامہ خبریں چوہدری یاسر علی جٹ صاحب کے ساتھ بیورو آفس میں طویل عرصے بعد محبت بھری ملاقات ہوئی ۔ ملاقات میں صحافتی امور اور تنظیمی امور پہ مفصل گفتگو ہوئی ۔
چویدری صاحب نے شعبہ صحافت اور سے متعلق اسرار و رموز کے حوالے سے میری کافی رہنمائی کی ۔ اور گلوبل یونین کی قیادت کرنے پہ مجھے نہ صرف سراہا بلکہ مجھے ورکر صحافیوں کی فلاح و بہبود کیلئے ویلفئیر پراجیکٹ شروع کرنے کی تجویز پیش کی اور اس نیک مقصد کیلئے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا ۔ جس پہ میں ان کا تہہ دل سے ممنون ہوں۔

Indirizzo

Viale Delle Vittoria 41
Alba Adriatica
64011

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando Urdunews24 pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Contatta L'azienda

Invia un messaggio a Urdunews24:

Condividi