14/06/2026
سعودی ہیریٹیج کمیشن نے مدینہ منورہ کے علاقے میں تقریباً 1700 قدیم نقوش اور تصویروں کی ایک اہم دریافت کا اعلان کیا ہے، جو نبی اکرم ﷺ (570 تا 632 عیسوی) اور حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ (وفات 644 عیسوی) کے دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان نقوش میں حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا نام بھی درج ہے، جو اسلام کے دوسرے خلیفہ ہیں
ان تحریروں میں ایک خوبصورت جملہ بھی شامل ہے: "اللہ اس دنیا اور آخرت میں عمر بن خطاب کا مددگار ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں"، اس کے ساتھ عربی شاعری کی آیات بھی پتھروں پر کندہ ہیں جو وقت کی سختیوں کے باوجود محفوظ ہیں۔ یہ دریافت اس مقام کی تاریخی اہمیت کو مزید بڑھاتی ہے اور اسے تہذیبی لحاظ سے نہایت اہم مقامات میں شامل کرتی ہے
یہ ابتدائی اسلامی تاریخ کے حوالے سے ایک نہایت اہم دریافت ہے۔ یہ نقوش حجازی رسم الخط میں تحریر ہیں، جو اسلام کے ابتدائی دور میں استعمال ہونے والے عربی خط کی قدیم ترین شکلوں میں سے ایک ہے۔ محققین کے مطابق اس طرح کی دریافتیں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد دیتی ہیں، جو 634 سے 644 عیسوی تک انصاف، مضبوط انتظام، عوام کی فلاح اور تجارتی و حج راستوں کی حفاظت کے لیے مشہور ہے