12/12/2025
سینئر ینگ جرنلسٹ ذیشان اسماعیل — ایک باکردار صحافی اور خدمتِ خلق کا استعارہ
آپ کا تعلق ضلع منڈی بہاوالدین کے اہم اور معروف مرکزی علاقے محلہ شفقت آباد سے ہے، جہاں کی عوام کے لیے انھوں نے کم عمری سے ہی اپنا وقت، صلاحیتیں اور توانائیاں وقف کر رکھی ہیں۔ محلے کے لوگوں کے مسائل ہوں یا ضلع بھر میں کسی بے سہارا شہری کی فریاد — ذیشان اسماعیل ہر جگہ متحرک اور ہر لمحہ عوام کے لیے دستیاب رہے ہیں۔
ذیشان اسماعیل نے صحافت کے شعبے میں بطور سینئر ینگ جرنلسٹ اپنی الگ شناخت بنائی ہے، لیکن ان کی اصل پہچان محض ایک رپورٹر کی نہیں، بلکہ ایک عوامی حقیقی میڈیا ورکر اور فعال سماجی خدمت گار کی ہے۔
انہوں نے ثابت کیا ہے کہ صحافت صرف خبر دینے کا پیشہ نہیں، بلکہ یہ عوامی مسائل کے حل، مظلوم کی آواز بننے اور معاشرتی اصلاح کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم بھی بن سکتا ہے۔
دنیا میں کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو کم عمری میں ہی مقبولیت حاصل کر لیتے ہیں، اور ذیشان اسماعیل ان گنے چنے لوگوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے اپنی محنت، کردار اور خلوص سے دلوں میں جگہ بنائی۔
ذیشان اسماعیل کے اندر خدمتِ خلق کا جذبہ ان کے والد محترم اسماعیل شاد (سینئر صحافی و صدر ڈسٹرکٹ اخبار فیڈریشن) کی تربیت اور مشن کا تسلسل ہے۔
ان کے والد نے ہمیشہ سچائی، دیانت اور عوامی خدمت کو مقدم رکھا — اور ذیشان اسی وراثت کو مضبوطی سے تھامے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
ذیشان اسماعیل روزانہ سینکڑوں فون کالز سنتے ہیں، پریشان شہریوں کو حوصلہ دیتے ہیں اور ان کی جائز رہنمائی کرتے ہیں۔
وہ ہمیشہ امید دلاتے ہوئے کہتے ہیں:
"انشاءاللہ اللہ پر چھوڑ دیں، ہمت نہ ہاریں۔ اگر آپ کا کام جائز ہوا تو منٹ نہیں لگے گا، اللہ مہربانی کرے گا۔"
ان کا ہر جملہ اعتماد، سچائی اور خدمت کے اس یقین سے بھرا ہوتا ہے کہ جو کام میرٹ پر ہو، وہ ضرور ہو کر رہتا ہے۔
اتنے حساس شعبے میں کام کرنے کے باوجود حیران کن طور پر آج تک نہ انھوں نے کسی سے دشمنی رکھی اور نہ کسی نے ان سے بدسلوکی کا رویہ اپنایا۔
ان کا نرم اخلاق، خالص نیت اور بے لوث خدمت ہی وہ وجہ ہے جس کی بدولت لوگ آج بھی ان کے لیے دل سے دعا کرتے ہیں اور ان کی کامیابی کے خواہاں رہتے ہیں۔
کم عمری میں ہی وہ بیرون ملک افریقہ میں مقیم ہو کر محنت کے ذریعے مالی خود مختاری قائم رکھے ہوئے ہیں تاکہ رشوت، سفارش یا غلط ذریعے سے بچتے ہوئے اپنے لیے حلال راستہ اختیار کر سکیں۔
وہاں رہنے کے باوجود وہ بول ٹی وی سمیت عالمی سطح کے کئی میڈیا پلیٹ فارمز سے وابستہ ہیں۔
اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل، ان کی مشکلات اور ان کی آواز کو اعلیٰ حکام تک پہنچانا ان کی اعلیٰ ترجیحات میں شامل ہے۔
ذیشان اسماعیل نے میڈیا پلیٹ فارم کو صرف خبر کی حد تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اسے عوامی مسائل کے حقیقی حل کا ذریعہ بنایا۔
انہوں نے بغیر کسی لالچ، مفاد یا فائدے کے سینکڑوں معاملات میں
رکاوٹیں دور کروائیں
لوگوں کی رہنمائی کی
“اپنی مدد آپ” کے تحت کئی جائز کام مکمل کروائے
ان کی شخصیت نوجوانوں کے لیے ایک روشن مثال ہے کہ دیانت، کردار اور خدمت کے ساتھ اگر صحافت کی جائے تو معاشرہ بدل سکتا ہے.