08/10/2025
کالم
تحریر : ینگ جرنلسٹ ڈویژن گجرات ذیشان اسماعیل ،
صحافی بھی انسان ہوتے ہیں
صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں پر تنقید اور اختلاف رائے ضرور رکھی جائے مگر صحافیوں کو بھی انسان ہی سمجھنا چاہیے
صحافیوں کو اپنی زندگی داؤ پر لگا کر بھی دوسروں تک خبر پہنچانی ہوتی ہے۔
# MANDI BAHAUDDIN #
صحافی ایسا طبقہ ہے کہ جس کی نوکری ہی ایسی ہے کہ اسے سب برداشت کرکے، حتیٰ کہ اپنی زندگی داؤ پر لگا کر دوسروں تک خبر پہنچانی ہوتی ہے۔ اتنے مصائب برداشت کرنے کے باوجود بھی کوئی صحافیوں سے خوش نہیں ہوتا۔ حکومت وقت کو ہمیشہ یہی شکایت ہوتی ہے کہ صحافی حضرات اس پر بے جا تنقید کرتے رہتے ہیں اور اپوزیشن کو لگتا ہے کہ یہ حکومت کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ جبکہ عوام کو لگتا ہے کہ یہ لفافہ صحافی ہیں، اس لیے ان کو چند پیسے دے کر آسانی سے خریدا جاسکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر سب سے زیادہ تنقید صحافیوں پر کی جاتی ہے۔ فیس بک پوسٹ یا ٹویٹ کرنے پر لوگ ذاتیات پر اُتر آتے ہیں۔ حال ہی میں منڈی بہاؤالدین میں ڈی ایچ کیو ہسپتال کے مسائل کو ضلع بھر کے ورکر صحافیوں نے ہائ لائٹ کیا ہے روزنامہ مشرق لاہور نے بھی ضلعی مسائل پر خبریں لگائ عوامی مسائل کو ہائ لائٹ ہونے کے بعد ممبر صوبائ اسمبلی محترمہ حمیدہ وحیدالدین نے اسمبلی میں ہسپتال پر بات کرنے کیلئے تیاری کی تحریک جمع کروائ،
۔ اور سب سے بڑھ کر آج کل کے صحافیوں کے معاشی حالات کی وجہ سے ان کے اپنے گھر والے بھی خوش نہیں ہیں۔ گھر والوں کا بھی شکوہ جائز ہے کہ اتنی محنت کرتے ہیں مگر پھر بھی گھر کا چولہا ٹھنڈا کیوں رہتا ہے۔ اچھی خبر دینے یا پھر صحافی کے بڑے نام سے تو بچوں کی فیس ادا نہیں ہوتی اور نہ ہی اس نام سے گھر کا کرایہ ادا کیا جاتا ہے۔۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس کی سب سے بھاری قیمت میڈیا اور صحافیوں نے ہی چکائی ہے۔ 2025 میں صحافیوں کو سب سے زیادہ معاشی طور پر ہراساں کیا گیا۔ اسلام آباد وفاقی پریس کلبز پر حملہ کئے گے صحافیوں پر تشدد کیا گیا زدکوب کیا گیا حکومتیں آخر معافی مانگ لیتی معاملہ رفع دفع ہوجاتا وقت گزرتا نہیں فر وہی کام یہ کام روکنا ہوگا، صحافیوں کو پیکا ایکٹ کے تحت قانون میں جھوٹے مقدمات میں گھیسٹا جارہا
اور جو صحافیوں پر
ذلت آمیز رویہ اختیار کیا گیا، اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔
اس معاشی افراتفری نے صحافی کو بہت نقصان پہنچایا۔ صورت حال تب مزید گمبھیر ہوجاتی ہے جب خبر دینے والے خود خبر بن جاتے ہیں اور کوئی ان کو انصاف دینے والا نہیں ہوتا
پاکستان سمیت صوبہ پنجاب میں بھی صحافیوں پر جان لیوا حملے اور ہراساں کرنا دھمکیاں دینا بھی معمول بن چکا ہے ۔ کسی کو بھی ہمیشہ کیلئے چپ کروانے کا یہی بہترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہوا کہ اخبار سے منسلک صحافی پاکستان میں زیادہ غیر محفوظ ہیں۔ جن اداروں کےلیے صحافی کام کرتے ہیں ان میڈیا ہاؤسز کی جانب سے صحافیوں کے تحفظ کےلیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے جاتے۔ بم بلاسٹ ہوتا ہے جہاں زندگی کے بچاو کیلئے عوام بھاگتی ہے وہاں پر صحافی اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر پہنچتے ہیں تو لوگ اپنی جان بچانے کےلیے بھاگتے ہیں، مگر رپورٹرز پر سب سے پہلے خبر دینے کا دباؤ ہوتا ہے،
اس تمام تر صورت حال کے بعد دیکھی اور ان دیکھی سنسر شپ نے نہ صرف آزادیٔ اظہار کو نقصان پہنچایا بلکہ صحافیوں کےلیے بہت مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ایک خبر حاصل کرنے کے بعد اس کو مختلف فلٹرز سے گزارا جاتا ہے اور اس سارے عمل میں خبر میں سچائی اور غیر جانبداری کا عنصر مر جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ صحافت ریاست کا چوتھا ستون ہے، تو اس صحافی کو بھی عزت و احترام دینا چاہیے جو اپنی جان کو مشکلات میں ڈال کر اپنی پیشہ ورانہ ذمے داریاں خوش اسلوبی سے ادا کرتا ہے۔ ذیشان اسماعیل نے مزید کہا کہ
صحافیوں کی پیشہ ورانہ ذمے داریوں پر تنقید اور اختلاف رائے ضرور اختیار کرنا چاہیے، مگر صحافیوں کو بھی انسان سمجھنا چاہیے۔ ان کو ایسی ہی عزت، احترام اور مقام دینا چاہیے جو معاشرے میں ڈاکٹرز، انجینئرز اور دوسرے پیشوں سے منسلک لوگوں کو ملتا ہے۔
افسوس ناک بات یہ ہے کہ پاکستان میں آزادی صحافت کےلیے حکومت، اپوزیشن، سیاسی جماعتیں، غیر سیاسی تنظمیں، ریاستی اور غیر ریاستی عناصر، سب ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں۔ یہ نہیں چاہتے کہ صحافت یا پھر صحافی کو اظہار کی آزادی ملے، کیونکہ اس سے خود ان کےلیے ہی مشکلات کھڑی ہوجائیں گی۔ اس لیے صحافی اور صحافت کو اس کا اصل مقام دلوانے کےلیے صحافی تنظیموں کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ کیونکہ اگر صحافی اور صحافت کے پاؤں کو ان بیڑیوں سے آزاد نہ کروایا گیا تو سب سے زیادہ نقصان ریاست کا ہی ہوگا۔ضلع منڈی بہاؤ الدین میں صحافیوں میں اضافہ ہوا ہے آج ہر ایک کہتا میں چینل کا نمائندہ ہوں، نئے صحافیوں کو پرانے ورکر صحافیوں کو چاہئے کہ انکو ٹریننگ دی جائے اداروں میں رپورٹنگ کے بارے سکھایا جائے اور اپنے ارد گرد اگر کسی کو بلیک میلر صحافی نظر اتا ہے جو عوام کو لوٹ مار کرنے کے سوا کچھ نہیں کررہا اسکے خلاف بھر پور اواز اٹھائں تاکہ مسائل پر اج منڈی بہاوالدین میں دیکھا جائے تو دو لوگ عوامی مسائل پر بات کرتے ہیں خبر بناتے ہیں اور پندرہ کاپی پیسٹ ہوتے ہیں، دو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں دس سرکاری اداروں کے اندر موجود مسائل پر بات کرنے کی بجائے اداروں کی ترجمانی کرتے ہیں خدارا میری ضلع بھر لے صحافیوں سے پرزور اپیل ہے آپس میں اختلافات بھلاکر ایک ہوکر ضلع کی عوام کی ترجمانی کریں اور اپکا ہریشر ہونا چاہئے ادارو پر کہ ادارے اج مسائل اجاگر کرنے اور عوامی نمائندگی کرنے والوں کیخلاف کھڑی ہے مسائل کو صحافیوں ست چھپایا جارہا ہے صحافیوں کو دھکے دئے جارہے ہیں ہراسمنٹ کے کیسز سامنے آرہے ہیں ان سب کی بڑی وجہ ہم میں دس فیصد لوگ جانتے نہیں کہ صحافت کا مطلب کیا ہے نئے آنے والے صحافی ورکر ہیں لیکن انکی ٹریننگ کوئ نہیں کہ انکو صحافت کے بارے مثبت رپورٹنگ کرنے بارے سکھایا جائے، اپس میں مل جل جائیں سب صحافی گروپ بندی ختم کرکے تو کسی کی جرات نہیں کہ صحافیوں کو صحافتی امور کی ادائیگی سے روک سکے اللہ پاک ہم سب کا حامی ناصر ہو آمین ثم آمین یا رب العالمین
دعا گو
تحریر ینگ جرنلسٹ ذیشان اسماعیل ڈویژن گجرات /