AjTak Pk

AjTak Pk MBDN Networ is a pakistani urdu news channel and part of AjTak Media Group lunched in january 2018 media website

وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ : کیا میں آپ کی ریڈ لائن نہیں ہوں ؟؟؟ ڈیڑھ ماہ پہلے میرے ساتھ ایک بااثر ملزم نے ظلم اور زیا۔دت...
05/06/2026

وزیراعلیٰ مریم نواز صاحبہ : کیا میں آپ کی ریڈ لائن نہیں ہوں ؟؟؟ ڈیڑھ ماہ پہلے میرے ساتھ ایک بااثر ملزم نے ظلم اور زیا۔دتی کی، مجھے نوچا اور اپنے نیچے دبوچ کر مجھے بے عزت کیا ، میں کہیں کی نہیں رہی ، تھانے گئی پرچہ درج ہوا اور چند روز بعد ملزم ضمانت کنفرم کروا کے رہا ہو گیا ، تھانے جاؤں تو پولیس والے داد رسی کی بجائے مجھے سر سے پیر تک تاڑتے ہیں ، مجھے لگتا ہے میرا ایکسرے ہو رہا ہے ، ڈی پی او دفتر میں بھی داد رسی نہیں ہوئی ، آپ کی کھلی کچہری میں آئی تو بجائے مجھے انصاف دلوانے یا کوئی ایکشن لینے کے آپ کے سٹاف نے کہا ہم سے کرایہ لے لو اور واپس گاؤں چلی جاؤ ، میڈم وزیراعلیٰ مجھے بتائیے میں کیا کروں ؟ کیا مجھے عزت سے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ، میں کس کے پاس جاؤں اور کس سے فریاد کروں ، انتہائی اقدام کے علاوہ مجھے کوئی حل نظر نہیں آرہا ، اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے مجھے انصاف دے دیں میرے مجرم کو سخت سے سخت سزا دلوا دیں ۔۔۔۔۔ ساہیوال سے لاہور آکر انصاف کے لیے دھکے کھانے والی ایک بیٹی کی فریاد






























📢 مستحق خواتین تک یہ اہم اطلاع پہنچانے کے لیے پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو ٹیگ کریں۔       ...
05/06/2026

📢 مستحق خواتین تک یہ اہم اطلاع پہنچانے کے لیے پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں اور اپنے عزیز و اقارب کو ٹیگ کریں۔

📢 اہم اطلاع برائے مستحق خواتین
بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) کی والٹ/بائیومیٹرک سمز کی تقسیم پورے پاکستان میں جاری ہے۔

تمام مستحق خواتین کو مطلع کیا جاتا ہے کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی سمز کی ڈسٹری بیوشن ملک بھر کے تحصیل اور ضلعی دفاتر میں شروع ہو چکی ہے۔

✅ اپنی سم بروقت وصول کریں۔
✅ سم وصول کرتے وقت اصل شناختی کارڈ ساتھ لائیں۔
✅ سم کی حفاظت کریں اور کسی دوسرے شخص کو استعمال نہ کرنے دیں۔
✅ آئندہ ادائیگیوں اور پروگرام سے متعلق معلومات کے لیے یہ سم انتہائی اہم ہے۔

⚠️ جن خواتین نے ابھی تک اپنی سم وصول نہیں کی، وہ جلد از جلد اپنے قریبی BISP تحصیل یا ضلعی دفتر سے رابطہ کریں تاکہ آئندہ قسط کی وصولی میں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

📌 بروقت سم حاصل کریں، اپنی ادائیگی کو محفوظ بنائیں۔ 🌟👍💡👏💯




















پاکستان کے روپے کو کمزور کرنے کی پوری کوشش
05/06/2026

پاکستان کے روپے کو کمزور کرنے کی پوری کوشش

04/06/2026

Pakistan Rocket Force Commander Warns India

04/06/2026
منڈی بہاؤالدین ڈی ایچ کیو ہسپتال: غفلت یا بے حسی؟منڈی بہاؤالدین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال سے سامنے آنے والی یہ خبر دل دہلا دی...
04/06/2026

منڈی بہاؤالدین ڈی ایچ کیو ہسپتال: غفلت یا بے حسی؟

منڈی بہاؤالدین کے ڈی ایچ کیو ہسپتال سے سامنے آنے والی یہ خبر دل دہلا دینے والی ہے۔ ایک مریضہ زندگی کی آس لیے ایمرجنسی پہنچی، مگر مبینہ طور پر اسے "نارمل" قرار دے کر گھر بھیج دیا گیا۔ افسوس کہ گھر پہنچتے ہی اس کی حالت بگڑ گئی اور وہ دنیا سے رخصت ہو گئی۔ جب اہلِ خانہ دوبارہ اسے ہسپتال لے کر آئے تو اس بار ایمرجنسی میں ڈاکٹروں کی کمی نہ تھی، بلکہ متعدد ڈاکٹر جمع تھے، مگر اب علاج کے لیے نہیں بلکہ موت کی تصدیق کے لیے۔

یہ واقعہ کئی تلخ سوالات چھوڑ گیا ہے۔ کیا ہمارے سرکاری ہسپتالوں میں مریض کی تکلیف کو سنجیدگی سے لینے کا معیار ختم ہو چکا ہے؟ کیا ایک انسان کی جان اتنی سستی ہو گئی ہے کہ اس کی فریاد کو نظر انداز کر دیا جائے؟ اگر مریض واقعی تشویشناک حالت میں تھا تو بروقت توجہ کیوں نہ دی گئی؟ اور اگر طبی معائنے میں کوئی کوتاہی ہوئی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟

عوام سرکاری ہسپتالوں کا رخ اس امید کے ساتھ کرتے ہیں کہ وہاں انہیں زندگی ملے گی، مگر جب غفلت، لاپروائی اور بے حسی علاج کی جگہ لے لیں تو اعتماد بھی دم توڑ دیتا ہے۔ ایک ماں، بہن یا بیٹی کی موت محض ایک خبر نہیں بلکہ ایک خاندان کے لیے ناقابلِ تلافی سانحہ ہے۔

متعلقہ حکام، محکمہ صحت پنجاب اور ضلعی انتظامیہ کو اس واقعے کا فوری اور شفاف نوٹس لینا چاہیے۔ اگر کسی قسم کی غفلت ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داروں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے تاکہ آئندہ کسی اور خاندان کو اپنے پیارے کی لاش اٹھا کر یہ ثابت نہ کرنا پڑے کہ ان کا مریض واقعی سیریس تھا۔

انسانی جانوں کی حفاظت ریاست اور طبی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ غفلت اگر ایک جان لے لے تو یہ صرف ایک فرد کا نقصان نہیں بلکہ پورے نظامِ صحت پر ایک سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔

04/06/2026

ایس ایچ او تھانہ قادرآباد نے چوری کی اطلاح دینے والے پر ہی ایف آئی آر درج کر دی ۔۔پھالیہ کے علاقہ سیدا شریف میں محسن نامی گارڈ نے زاہد کو 2 ہزار مزدوری دے کر لکڑی چوری پر لگا رکھا تھا جس کو مقامی لوگوں نے دیکھ لیا اور پوچھنے پر مزدور نے بتایا کہ اس کو محسن گارڈ نے کہا ہے کہ لکڑی کاٹو جس پر متعلقہ آفیسر کو شکائت کی گئی جو کہ کچھ دیر تک موقع پر پہنچ گیا اور آتے ہی مزدور کے اوپر چڑھائی شروع کر دی کہ تم کو تھانہ لے جانا ہے پرچہ دینا ہے وغیرہ وغیرہ جس پر مقامی لوگوں نے کہا کہ جناب جس نے لکڑی چوری پر اسے لگایا ہے اس کے خلاف بھی کاروائی کریں اور یہاں اسے بھی بلائیں جب اس کو بلایا گیا تو وہ آتے ہی مزدور کے اوپر چھڑ گیا اور گالم گلوچ پر اتر جس پر قمر جاوید نے اس کو کہا کہ ایسا نا کرو پھر وہ محسن گارڈ مقامی لوگوں سے بھی تلخ کلامی پر اتر آیا اور بات ہاتھا پائی تک پہنچ گئی جس پر محکمہ جنگلات کے آفیسر پرویز نے 15 پر کال کر دی اور تھانہ قادرآباد پولیس موقع پر پہنچ گئی اور پولیس کے سامنے بھی مزدور نے وہی بیان دیا کہ اس کو محسن گارڈ نے کام پر لگایا ہوا تھا پولیس نے محسن اور مزدور کو ڈالہ میں بیٹھا کر تھانہ پہنچایا گیا جس تھا میں پہنچے تو دوبارہ مزدور کا بیان کیا گیا جس پر اس نے وہی بیان دیا جب دیکھا گیا کہ معاملہ حل ہو جائے گا یا صلح ہو جائے گی تو مقامی لوگ وہاں ے واپس آ گئے لیکن رات 1 بجے اطلاح دینے والے قمر جاوید پر جھوٹی ایف آئی آر درج کر دی گئی پتا چلنے پر بتایا گیا کہ مزدور جو لکڑی کاٹ رہا تھا اس نے بیان دیا ہے کہ مجھے محسن نے نہیں لگایا تھا لیکن پھر جب صبح آج اسی مزدور سے مقامی لوگوں کی طرف سے پوچھا گیا کہ تم نے ایسے بیان کیوں دیئے جس پر اس نے بتایا کہ مجھے وہاں بیٹھے مولوی صاحب مطلب ایس ایچ او ڈرایا دھمکایا تھا کہ اگر ہماری مرضی کا بیان نا دیا تو تم پر بھی پرچہ درج کیا جائے گا ایس ایچ او تھانہ قادرآباد اور محکمہ جنگلات کے آفیسر کے خلاف مقامی لوگوں نے کاروائی کا مطالبہ کیا اور ان کے خلاف سخت کارروائی کی اپیل کی ہے ۔۔۔۔۔۔

وہاڑی میں عید کے تیسرے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر گھر میں راشن نہ ہونے اور اپنی بچی ک...
04/06/2026

وہاڑی میں عید کے تیسرے روز ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک خاتون نے مبینہ طور پر گھر میں راشن نہ ہونے اور اپنی بچی کی بھوک سے مجبور ہو کر خودکشی کی کوشش کی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس ہیلپ لائن 15 پر کال کی گئی، جس کے بعد تھانہ میران پور کی پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور بروقت کارروائی کرتے ہوئے خاتون کو بچا لیا۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کو راشن بھی فراہم کیا، جس پر خاتون نے پولیس کا شکریہ ادا کیا۔ مقامی لوگوں سے بھی اپیل کی جا رہی ہے کہ وہ اس ضرورت مند خاندان کی مدد کریں۔

وہاڑی کا یہ واقعہ محض ایک خبر نہیں بلکہ ہمارے معاشرے کے لیے ایک لمحۂ فکریہ ہے۔ جب ایک ماں اپنے بچے کی بھوک اور فاقہ کشی سے اس قدر بے بس ہو جائے کہ زندگی ختم کرنے کا سوچنے لگے تو یہ صرف ایک خاندان کا نہیں بلکہ پورے معاشرے کا المیہ بن جاتا ہے۔ غربت، بے روزگاری اور مہنگائی نے بہت سے خاندانوں کو شدید مشکلات میں مبتلا کر دیا ہے، مگر اکثر ایسے حالات منظرِ عام پر نہیں آتے۔
اس واقعے میں پولیس کا بروقت پہنچنا اور خاتون کی جان بچانا قابلِ تعریف اقدام ہے۔ اس کے ساتھ راشن فراہم کرنا بھی ایک مثبت اور انسانی ہمدردی پر مبنی مثال ہے۔ تاہم اصل سوال یہ ہے کہ کیا صرف ایک وقت کا راشن اس مسئلے کا مستقل حل ہے؟ ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے خاندانوں کی مستقل بنیادوں پر نشاندہی کی جائے اور سرکاری و فلاحی ادارے انہیں باعزت روزگار، مالی معاونت اور سماجی تحفظ فراہم کریں۔
یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ معاشرے کی اصل طاقت صرف حکومتی ادارے نہیں بلکہ عام لوگ بھی ہیں۔ اگر ہر صاحبِ استطاعت شخص اپنے اردگرد موجود ضرورت مند خاندانوں کا خیال رکھے تو شاید کوئی ماں اپنے بچے کی بھوک سے مجبور ہو کر ایسا انتہائی قدم اٹھانے کا نہ سوچے۔ انسانیت کا تقاضا ہے کہ ہم صرف افسوس نہ کریں بلکہ عملی طور پر بھی مدد کے لیے آگے بڑھیں۔

Indirizzo

Carpi
41012

Sito Web

Notifiche

Lasciando la tua email puoi essere il primo a sapere quando AjTak Pk pubblica notizie e promozioni. Il tuo indirizzo email non verrà utilizzato per nessun altro scopo e potrai annullare l'iscrizione in qualsiasi momento.

Condividi