27/05/2026
وہ مجھے کیوں نہ سمجھ سكا... شاید اس لیے کہ میں نے خود کو اس کی نظر میں بہت سستا کر دیا تھا۔
میں نے اسے چاہا بھی تو اس حد تک کہ اپنی ہی قدر مٹا بیٹھا، ... اپنی انا اپنی پہچان، سب کچھ اس کے قدموں میں رکھ دیا
میں ہر بار خود کو کم کرتا گیا اور وہ ہر بار خود کو بڑا سمجھتا گیا۔
میں نے اس کی ایک مسکراہٹ کے لیے اپنی راتوں کی نیند قربان کر دی، اور وہ میری آنکھوں میں چھپے درد کو محض ایک عادت ... سمجھتا رہا
قصور اس کا شاید کم تھا، میں ہی حد سے زیادہ سچا تھا، میں ... ہی حد سے زیادہ جھکا تھا
اور سچ تو یہ ہے کہ جہاں محبت حد سے بڑھ جائے، وہاں انسان خود سے کم اور دوسرے کے لیے صرف عام ہو جاتا ہے۔
آج جب وہ نہیں ہے، تو احساس ہوا... میں نے اسے کھویا نہیں میں نے خود کو کھو دیا تھا۔